ابوطالب عقلمندى اور ايمان كا پيكر

0 1

 

عہد نامے كى منسوخي

تقريبا تين سال بعد رسول(ص) خدا نے اپنے چچا حضرت ابوطالب كو بتايا كہ ديمك نے مشركين كے عہدنامے ميں ظلم اور قطع رحمىسے متعلق الفاظ كو كھاليا ہے اور سوائے اسماء الہى كے كوئي چيز باقى نہيں رہي_ ايك اور روايت كے مطابق ديمك نے الله كےتمام ناموں كو كھاليا ليكن ظلم وشر اور قطع رحمى سے متعلق حصّے كو چھوڑ ديا_ (1)

چنانچہ حضرت ابوطالب بنى ہاشم كے ہمراہ اس درے سے خارج ہوئے اور شہر مكہ لوٹ آئے_

يہ ديكھ كر مشركين نے كہا كہ بھوك نے ان كو نكلنے پر مجبور كرديا ہے_ قريش نے كہا:”” اے ابوطالب اب وقت آگيا ہے كہ اپنى قومكے ساتھ مصالحت كرلو”” _حضرت ابوطالب نے فرمايا:”” ميں تمہارے پاس ايك اچھى تجويز ليكر آياہوں ،اپنا عہدنامہ منگواؤ شايد اسميں ہمارے اور تمہارے درميان صلح كى كوئي راہ موجود ہو””_ قريش اسے لے آئے اور ديكھا كہ اس پر ان كى مہريں اب بھى موجودہيں حضرت ابوطالب نے كہا:”” كيا اس معاہدہ پر تمہيں كوئي اعتراض ہے؟”” بولے نہيں_

ابوطالب(ع) نے كہا:”” ميرے بھتيجے نے (جس نے مجھ سے كبھى جھوٹ نہيں بولا) مجھے خبر دى ہے كہ خدا كے 

حكم سے ديمك نے اس عہدنامے سے گناہ اور قطع رحمى سے مربوط الفاظ كو كھا ليا ہے اور فقط الله كے ناموں كو باقى چھوڑا ہے_اگر اس كى بات صحيح نكلے تو تمہيں ہمارے اوپر ظلم كرنے سے دست بردار ہونا چاہيئے اور اگر جھوٹ نكلے تو ہم اسے تمہارےحوالے كرديں گے تاكہ تم اسے قتل كرسكو””_

يہ سن كر لوگ پكار اٹھے:”” اے ابوطالب بتحقيق آپ نے ہمارے ساتھ انصاف والى بات كي””_ اس كے بعد وہ عہدنامہ كولائے تو اسےويساہى پايا جيسارسول(ص) خدا نے خبر دى تھي_ يہ ديكھ كر مسلمانوں نے تكبير كى آواز بلند كى اور كفار كے چہروں كارنگ فقہوگيا_حضرت ابوطالب بولے:”” ديكھ ليا كہ ہم ميں سے كون ساحر يا كاہن كہلانے كا حقدار ہے؟” 

اس دن ان كے بہت سے افراد نے اسلام قبول كرليا ليكن مشركين پھر بھى قانع نہ ہوئے اور انہوں نے عہدنامے كے مضمون كےمطابق سابقہ روش جارى ركھي،يہاں تك كہ بعض مشركين اس عہدنامے كو توڑنے كے درپے ہوئے ان لوگوں ميں ان افراد كا ذكر ہواہے_ ہشام بن عمروبن ربيعہ، زہير بن اميہ بن مغيرہ، مطعم بن عدي، ابوالبخترى بن ہشام، زمعۃ بن اسود_

يہ سارے حضرات بنى ہاشم اور بنى مطلب سے كوئي نہ كوئي قرابت ركھتے تھے_ ابوجہل نے ان كى مخالفت كي، ليكن انہوں نےاس كى پروا نہ كى چنانچہ وہ عہدنامہ پھاڑ ديا گيا اور اس پر عمل درآمدختم ہوگيا _يوں بنى ہاشم شعب ابوطالب سے نكل آئے۔ (2)

ابوطالب عقلمندى اور ايمان كا پيكر

ہجرت سے قبل كے واقعات كا مطالعہ كرنے والا شخص دسيوں مقامات پر حضرت ابوطالب كى ہوشيارى وتجربہ كارى كا مشاہدہ كرتاہے

بہترين مثال مذكورہ بالا واقعہ ہے_ ہم نے مشاہدہ كياكہ حضرت ابوطالب نے كفار سے عہدنامہ لانے كا مطالبہ كيا اورساتھ ہى يہاشارہ بھى كيا كہ شايد اس ميں صلح كيلئے كوئي راہ نكل آئے_

ايسا كہنے كى وجہ يہ تھى كہ وہ عہدنامہ سب لوگوں كے سامنے كھولاجائے تاكہ سب اسے ديكھ ليں اور آئندہ پيش آنے والےعظيم واقعے كيلئے آمادہ ہوسكيں _نيز ايك منطقى حل پيش كرنے كيلئے فضا ہموار ہوجائے تاكہ بعد ميں قريش كيلئے اس كو قبولكرنا اور اس پر قائم رہنا شاق نہ ہو، بالخصوص اس صورت ميں جب وہ ان سے كوئي وعدہ لينے يا ان كو عرب معاشرے ميں رائجاخلاقى اقدار كے مطابق قول و قرار، شرافت و نجابت اور احترام ذات وغيرہ كے پابند بنانے ميں كامياب ہوتے_ انہيں اس ميں بڑىحدتك كاميابى ہوئي يہاں تك كہ لوگ پكار اٹھے “”اے ابوطالب تو نے ہمارے ساتھ منصفانہ بات كى ہے _””

مذكورہ عبارات سے ايك اور حقيقت كى نشاندہى بھى ہوتى ہے جو بجائے خود اہميت اور نتائج كى حامل ہے اور جو يہ بتاتى ہے كہحضرت ابوطالب كو رسول(ص) الله كى سچائي، آپ(ص) كے مشن كى درستى اور آپ(ص) كے پيغام كى حقانيت پركس قدر اعتمادتھا اور يہ كہ جب دوسرے لوگ حضور اكرم(ص) كو ساحر اور كاہن كہہ كر پكارتے تھے تو انہيں دكھ ہوتا تھا_ ان كى نظر ميں يہ ايككھلم كھلا بہتان تھا_ اسى لئے انہوں نے اس فرصت كو غنيمت سمجھا تاكہ اس سے فائدہ اٹھاكر كفار كے خيالات و نظريات كو باطلقرار ديں چنانچہ انہوں نے كہا:”” كيا تم ديكھتے نہيں ہوكہ ہم ميں سے كون ساحر يا كاہن كہلانے كا زيادہ حقدار ہے؟ “”اس كا نتيجہ يہہوا كہ عہد نامے والا معجزہ ديكھنے كے بعد مكہ كے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول كرليا

حوالہ جات:

1_ كبھى كہا جاتا ہے كہ معاہدے كى منسوخى تك قريش كا اپنى عداوت پر باقى رہنا اس بات كى دليل ہے كہ ديمك نے صرف الله كےنام كو مٹايا تھا اور قطع رحمى كى مانند ديگر مواد كو باقى ركھا تھا ليكن اس كا يہ جواب ديا گيا ہے كہ ديمك كا خدا كے نام كو كھا جانابہت بعيد بات ہے شايد مشركين عہدنامے كے محو ہوچكنے كے باوجود بھى اس كے مضمون پر عمل كرتے رہے ہوں اور يہ بھى ممكنہے كہ انہوں نے اسے دوبارہ لكھا ہو_ اس پر يہ اشكال كيا گيا ہے كہ ديمك نے خدا كا نام اس كى حرمت باقى ركھنے كيلئے چاٹا ہوتاكہ اس ظالمانہ عہدنامے ميں اس كا پاك نام باقى نہ رہے_ اور يہ اظہار حق كيلئے مطلوب ايك مثبت معجزہ تھا_ اس سے كسىقسم كى اہانت كا پہلو نہيں نكلتا_

2_ اس بارے ميں ملاحظہ ہو : السيرۃ النبويہ ( ابن كثير) ج2 ص 44 ، السيرۃ النبويہ (ابن ہشام) ج 2 ص 16 ، دلائل النبوۃ مطبوعہ دار الكتب ج 2 ص 312، الكامل فى التاريخ ج 2 ص 88 السيرۃ النبويہ (دحلان) ج1ص 137 و 138 مطبوعہ دار المعرفۃ ، تاريخ يعقوبى ج 2 ص 31 اور البدايۃ والنہايۃ ج3 ص 85 و 86_

 

مزید  روزہ ٬احادیث کی روشنی میں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.