ابدی خو شبختی یا بد بختی میں ایمان کا دخل

0 4

ایک اور مسئلہ جو پیش آتا ہے وہ یہ ہے کہ آیا ایمان اور عمل صالح میں سے ہر ایک (الگ الگ)مستقل طور سے ابدی سعادت کا سبب ہیں،یا دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سعادت کا سبب بنتے ہیں؟اور اسی طرح کیا کفر اور عصیان(گناہ) میں سے ہر ایک مستقل طور سے عذاب ابدی کا باعث  ہیں یا دونوں باہم ایک ساتھ یہ اثر رکھتے ہیں؟اگر ان دونوں مسئلوں میں ہم دوسری حالت کو مان لیں(یعنی دونوں مل کر سعادت یا شقاوت کا سبب ہیں) تو ایسی صورت میں اگر کوئی شخص صرف ایک چیز ایمان یا عمل صالح رکھتا ہو تو اس کا انجام کیا ہوگا؟اسی کے مانند اگر کوئی انسان صرف کفر اختیار کرے یا صرف کسی گناہ کا مرتکب ہوا ہو، تو اس کی عاقبت کا کیا ہوگا؟اور اگر ایک با ایمان شخص حد سے زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرے،یا ایک کافر انسان بے شمار کا ر خیر انجام دے تو کیا ا اس کی عاقبت بخیر ہوگی یا اس کے بھی برُے انجام ہوں گے ؟اور کسی بھی صورت میں اگر کوئی انسان اپنی زندگی کے کچھ حصے ایمان اور عمل صالح کے ساتھ گذارے، اور زندگی کے کچھ حصّہ کفر اور گناہ سے آلودہ بسر کرے تو ایسے شخص کا کیا حشر ہوگا؟

یہ وہ مسائل ہیں جن کے سلسلے میں اسلام کے ظہور کی پہلی صدی سے بحث ہوتی چلی آ رہی ہے،اور خوارج جیسے گروہ کے افراد کا عقیدہ یہ ہے کہ صرف گناہ کا ارتکاب ابدی شقاوت کا ایک مستقل سبب ہے اور صرف یہی نہیں، بلکہ کفر اور ارتداد کا باعث بھی ہے،اور دوسرا گروہ جیسے مُرحبئہ کہتے ہیں ، اس گروہ کے افراد کا عقیدہ یہ ہے کہ صرف ایمان کا پایا جانا ابدی نجات کے لئے کافی ہے،اور گناہوں کا ارتکاب مومن کی سعادت کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا،

لیکن حق بات یہ ہے کہ ہر گناہ ابدی شقاوت(بد بختی)کا سبب نہیں ہوتا، اگرچہ ممکن ہے گناہوں کی زیادتی ایمان کے سلب ہونے کی وجہ بن جائے،اور دوسری طرف ایسا بھی نہیں کہ ایمان رکھنے کی صورت میں سارے گناہ بخش دئے جا ئیں، اور کوئی گناہ اپنا  برُا اثر نہ رکھے۔

اس درس میں ہم سب سے پہلے ایمان اور کفر کی وضاحت کریںگے اور پھر یہ بیان کریں گے کہ ابدی سعادت اور بد بختی میں ایمان و کفر کا کیا دخل ہے اور دوسرے مسائل کو انشاء اللہ آئندہ ،درسوں میں بیان کریںگے۔

ایمان اور کفر کی حقیقت

ایمان ایک قلبی اور نفسیاتی حالت کا نام ہے جو کسی ایک مفہوم کو جاننے اور اس کی طرف میلان کے اثر سے پیدا ہوتی ہے،اور انہیں دونوں اسباب میں شدت اور ضعف کی بنا پر کمال یا نقص پیدا ہوتاہے، اور اگر انسان کسی شی کے وجود سے ،چاہے وہ غیریقینی ہی کیوں نہ ہو،آگاہ نہ ہو تو اس پر ایمان بھی نہیں لاسکتا ،لیکن فقط آگاہ ہونا ،یا اطلاع حا صل کر لینا کافی نہیں ہے، اس لئے کہ ممکن ہے جس سے آگاہی حا صل ہوئی ہے یا وہ اس کے بعض لوازمات انسان کی خواہش کے خلاف ہوں اور وہ اس کے برخلاف رجحان رکھتا ہو، اس بناء پر وہ اس کے لوازمات پر عمل کرنے کا فیصلہ نہ کرے، بلکہ اس کے  خلاف عمل کرنے کا فیصلہ کرلے،جیساکہ قرآن کریم فرعونیوں کے بارے میں فرما رہا ہے،

 

(وَ جَحَدُوا  بِھَا وَاستَقَینَتہَا اَنفُسُہُم ظُلمًا و عُلُواً)(١)ظلم اور منزلت طلبی کے نشہ میں آیات الٰہی کا انکار کردیا باوجودیکہ اس کا یقین کرچکے تھے اور جناب موسیٰ نے فرعون کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا،(لَقَد عَلِمتَ مَا اَنزَلَ ہٰوُلائِ اِلَّا رَبُّ السَّمواتِ وَالا َرضِ)(٢) بے شک تم جانتے ہو کہ ان آیات اور معجزات کو سوائے زمین وآسمان کے پروردگار کے کسی اور نے نہیں نازل کیا۔

باوجودیکہ وہ (فرعون)ایمان نہیں لایا تھا لوگوں سے کہتا تھا،(  مَاعَلِمتُ لَکُم مِن اِلہ غَیرِ) (٣)میں تمہارے لئے اپنے علاوہ کسی کو خدا نہیں جانتا،اور صرف اس وقت جب ڈوبنے لگا ،تب اس نے کہا،(  آمَنتُ اُنَّہُ لَااِلَہَ اِلَّا الَّذِی آمَنَت بِہِ بَنُواِسرائیلَ) (٤)میں ایمان لایا اس خدا پر جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں جس پر بنی اسرا ئیل ایمان لائے

مزید  امام موسی کاظم علیہ السلام

اور اس سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ مجبوری میں ایمان لانا قابل قبول نہیں ہے(٥)اگرچہ اس کو ایمان کا نام دیا جائے۔

پس ایمان کا دارو مدار قلبی رجحان اور اختیار پر ہے ،علم وآگاہی کے بر خلاف کہ جو بے اختیار بھی حاصل ہوجاتا ہے،اس بناء پر ایمان ایک قلبی اور اختیاری عمل تصور کیا جا سکتا ہے، یعنی عمل کے مفہوم کو وسعت دے کر ایمان کو بھی عمل ہی کے مقولے میں شمار کیا جاسکتا ہے،لیکن لفظ،،کفر،، کبھی عدم ایمان کے عنوان سے تعبیر ہوتا ہے اور ایمان کا نہ ہونا، چاہے شک اور جہل بسیط کی وجہ سے ہو، یا جہل مرکب کے سبب ، مخالف رجحان کی وجہ سے ہو، یا عمداً انکار اور دشمنی کی وجہ سے، بہر حال کفر کہا جائے گا،اور کبھی صرف آخری قسم یعنی( انکارخدا) اور دشمنی سے مخصوص ہوجاتا ہے کہ جو ایک وجود ی امر ہے اور ایمان کی ضد شمار کیا جاتا ہے۔

………………………………

١۔نمل  ١٤،                ٢۔ اسراء  ١٠٢،

٣۔ قصص ٣٨،           ٤ ۔ یو نس  ٩٠،          ٥۔درس نمبر ٩ نو کا ،مطا لعہ کریں

ایمان اور کفر کی حد(نصاب)

قرآنی آیات کریمہ اور روایات سے جو مطلب نکلتا ہے اس کی روشنی میں کم سے کم ایمان جو ابد ی سعادت کے لئے درکار ہے وہ خدا کی وحدانیت اور اسکی اخروی جزا وسزا پر ایمان اور انبیاء علیہم السلام پر جو کچھ  نازل ہوا اُس کی صحت پر ایمان لانا ہے اور پھر اس کا لازمہ یہ ہے کہ خدا وند عالم کے احکام پر عمل کرنے کا اجمالی ارادہ ہے، اور کم سے کم کفر جو ابدی بدبختی کے لئے کافی ہے وہ توحید میں شک یانبوت، قیامت ،میں شک کرنا ہے یا ان چیزوں کا انکار کرنا جن کے بارے میں جانتا ہو کہ یہ انبیاء  ٪پر نازل ہوئی ہیں۔

اور کفر کا بدترین مرتبہ اور آخری حد از روئے دشمنی تمام مذکورہ حقائق کا انکار کردینا با وجودیکہ اس کی صحت کا علم رکھتا ہو اور دین حق سے جنگ وجدال کرنا ہے۔

اسی طرح شرک(توحید کا انکار) بھی کفر کے مصادیق میں ایک مصداق ہے،اور نفاق جو کفر باطنی کا نام ہے جس میں ہمیشہ دھوکا بازی پائی جاتی ہے اور اسلام کا اظہار کیا جاتا ہے،اور منافقین(نقاب پوش کافر) کا انجام سارے کفار سے برا ہوگا جیسا خود قرآن کریم کا ارشاد ہے،                       (  اِنَّ المُنافِقِینَ فِی الدَّرکِ الاَسفَلِ مِنَ النَّارِ)(١)ترجمہ :اس میں تو شک ہی نہیں کہ منافقین جہنّم کے سب سے نیچے طبقے میں ہونگے۔

ایک خاص نکتہ جس کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اسلام اور کفر فقہی مسائل جیسے طہارت، حلیت ذبیحہ کا حلال ہونانکاح کا جائز ہونا ، میراث وارث ہونا یا نہ ہونا ایمان کے ملازم ہے ، لیکن یہ ایمان اس ایمان اور کفر سے جو اصول دین میں موضوع  بحث واقع ہوتے ہیں کوئی نسبت اور ملازمت نہیں ر کھتے اس لئے کہ ممکن ہے کہ کوئی شخص شھاد تین پڑھے(خود پیغمبر کی گواہی دے) ……………………………

١۔ نساء  ١٤٥،

اورفقہی مسائل اس کے لئے ثابت ہو ں در آن حالیکہ قلبی طور سے اس کے مضامین اور لوازم توحید اور نبوت پر ایمان نہ رکھتا ہو۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر کوئی انسان اصول دین کو پہنچاننے پر قادر نہ ہو اور بعنوان مثال وہ دیوانہ اور بے عقل ہو یا سماج کے ماحول کی وجہ سے دین حق کو نہ پہچان سکے تو وہ اپنی کوتاہی کے لحاظ سے معذور مانا جائے گا، لیکن اگر کوئی شخص تمام امکانات اور شناخت کی تمام سہولتوں کے باوجود کوتاہی کرے اور شک کی حالت میں باقی رہ جائے یا بغیر کسی دلیل کے اصول اور ضروریات دین کا انکار کردے تو ایسا شخص معذور نہیں سمجھا جائے گا(اس کا عذر قبول نہ ہوگا)اور ابدی عذاب میں مبتلا ہو جائے گا۔

مزید  پچیسویں پارے کا مختصر جائزه

ابدی خوشبختی یا بد بختی میں ایمان اور کفر کا دخل

اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ انسان کا حقیقی کمال تقرب الٰہی کے زیر سایہ متحقق ہوتا ہے ،اس کے برخلاف انسان کی بد بختی خدا سے دوری کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے،لہذا،خدا وند عالم پر ایمان اور اس کی تکوینی و تشریعی ربوبیت پر ایمان ر کھنا کہ جس کا لازمہ قیامت اور نبوت پر عقیدہ رکھناہے، انسان کے حقیقی کمال کا شجر جانا جا سکتا ہے کہ جس کے شاخ و برگ خدا کے پسندیدہ اعمال ہیں اور ابدی سعادت اس کا پھل ہے جو آخرت میں ظاہر ہوگا،پس اگر کوئی انسان اپنے دل میں ایمان کے بیج کو نہ بوئے اور اس بابرکت پودے کو نہ لگائے اور اس کی پرورش نہ کرے ،بلکہ اس کے بجائے کفر اور گناہ کے زہریلے بیج کو اپنے دل کی کھیتی میں چھڑک دے تو گویا اس نے خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کو ضائع کردیا اور اس نے ایک ایسے درخت کو پروان چڑھایا جس کا پھل(زقّوم) دوزخی پھل ہوگا،ایسا شخص  ہر گز ابدی سعا دت سے ہمکنا ر نہیں ہو سکتا ، اوراس کے نیک اعمال کا اثر اس دنیا سے آگے نہیں جا سکتا، اور اس کا راز یہ ہے کہ انسان کا ہرا ختیا ری فعل اس کی روح کو مقصد اور ہدف تک پہنچنے کے لئے ایک فاعل کا لحاظ کرنا ضروری ہے اور وہ شخص جو عالم ابدی اور تقر ب الہٰی پراعتقا د نہیں رکھتا، وہ کیسے اپنے لئے ہد ف اور مقصد معین کر سکتا ہے اور اپنی رفتا ر کو یکسوئی عطا کر سکتا ہے زیا دہ سے زیا دہ جو چیز کا فروں کے نیک اعما ل کے لئے معین کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے عذاب میں کچھ کمی کر دی جا ئے گی کیونکہ ایسے کا م خو د پر ستی اور دشمنی کی رو ح کو ضعیف وکمزور بنا دیتے ہیں ۔

قر آنی دلیلیں

قر آن کر یم نے ایک طرف انسان کی ابدی خو شبختی کے لئے ایمان کو بنیا دی حیثیت دی ہے اور دسیوں آیتوں میں عمل صا لح کو ایمان کے سا تھ ذکر کر نے کے علا وہ بعض آیتوں میں ایمان کو    اخر وی سعا دت کے سلسلہ میں ، عمل خیر میں موثر ہونے کے اعتبار سے شرط کی حیثیت سے جانا ہے جیسا کہ ارشاد ہو رہا ہے (  وَ مَن یعَمَل مِنَ الصّا لِحَا تِ مِن ذَکَرٍ اَواُنثیٰ وَہُوَ مُؤ مِن فَاُ ولِئکَ یَدخُلوُن الجَنَّة) (١) مر د اور عو رت میں جو بھی نیک عمل انجام دے اور ایما ن بھی رکھے وہ جنت میں وا رد ہو گا ۔

دوسری طرف سے کا فروں کے لئے دوزخ اور جہنم کے عذا ب کو معین کیا ہے اور ان کے  اعما ل کو تبا ہ  و برباداور بے نتیجہ جا نا ہے اور ایک مقام پر ان لو گو ں کو ایسی راکھ سے تشبیہ دی ہے جس کو تندو تیز ہوا منتشر کر دیتی ہے اور اس کا کچھ اثر با قی نہیں رہتا ۔

( مَثَلُ الَّذِینَ کَفَرُوا  بِرَ بِّہِم اَعمَالُہُم کَرَمَادٍ اُشتَدَّت بِہِ الریحُ فِ یَو مٍ عَاصِفٍ          لَا یَقّدِرُونَ مِمَّا کَسَبُوا عَلی شَئٍ ذلِکَ ہُوَ الضَّلا لُ البَعِیدُ )(٢)

کا فر وں کے اعما ل کی مثا ل اس راکھ کے ما نند ہے کہ جس پر ایک طو فا نی روز کی تند ہوا کا جھو کا پڑے اور اسے اڑا لے جا ئے ،کہ وہ اپنے حا صل کئے ہو ئے پر بھی کو ئی اختیا ر نہ رکھیں گے اور یہ بہت دور تک پھیلی ہوئی گمر ا ہی ہے ۔

مزید  امام خميني رح کے بارے ميں ايک رپورٹ

…………………………………

١۔نساء  ١٢٤ ، اور نحل  ٩٧ ، اسرا ء ١٩، طہٰ ١١٢، انبیا ء  ٩٤ ، غا فر  ٤٠ کی طرف رجو ع کر یں ۔

٢۔ ابرا ہیم  ١٨

اور دوسری جگہ ارشا د  فر ما رہا ہے کہ کا فرو ں کے اعما ل کو غبا ر کی طر ح ہوا  میں اڑا  گے:

(وَ قَدِمنَا اِلیٰ ما عَمِلُوا مِن عَمَلٍ فَجَعلنا ہُ ہَبا ئً مَنثُو راً)(١)

( کا فروں نے جو بھی عمل انجام دیا ) ہم نے آکر ہر اس عمل کو فضا میں غبار کی طر ح منشر کر دیا

اور ایک دوسری آیت میں کافروں کے اعمال کو اس سراب سے تشبیہ د ی ہے کہ جس کو دیکھ کر پیا سا انسان اس کی طرف دوڑ تا ہے لیکن جیسے ہی وہاں پہنچتا ہے وہ پا نی نہیں ہو تا :

(وَالَّذِینَ کَفَرُوا أَعمَا لُہُم کَسَرابٍ بِقِیعَةٍ یَحسَبُہُ الظّمانُ مائً حَتّی اِذَاجا ئَ ہُ لَم یَجِد ہُ شَیئًا وَّوَجَدَ اللّہَ عِندَہُ فَوَ فَّا ہُ حِسابَہُ وَاللّہُ سَریعُ الحِسَابِ )(٢)

اور جن لو گو ں نے کفر اختیار کر لیا ان کے اعما ل اس ریت کے ما نند ہیں جو چٹیل میدان میں ہو اور پیاسا اسے دیکھ کر پا نی تصو ر کرے اور جب اس کے قریب پہنچے تو کچھ نہ پا ئے بلکہ اس خدا کو

پا ئے جو اس کا پو را حسا ب کر دے کہ اللہ بہت جلد حسا ب کر نے والا ہے ۔                         (اَوکَظُلُمَاتٍ فِ بَحرٍ لُجّ یَغشَاہُ مَوج مِن فَو قِہ سَحَابظُلُما ت بَعضُہَا فَوقَ بَعضٍ اِذَا أَخرَ جَ یَدَہُ لَم یَکَد  یَراہَا وَ مَن لَم یَجعَلِ اللَّہُ لَہُ نُوراً  فَمَالَہُ مِن نُورٍ )(٣)

یا ان کے اعما ل کی مثا ل اس گہرے در یا کی تا ریکیوں کی سی ہے کہ جس کو لہروں نے ڈھانپ رکھا ہو اور اس کے اُوپر تہ بہ  تہ با دل بھی ہو ں کہ جب وہ اپنے ہا تھ کو نکا لے تو تا ریکی کی بنا پر کچھ نظر نہ آئے اور جن کے لئے خدا نور نہ قر ار دے اس کے لئے کو ئی نور نہیں ( کنا یہ ہے اس با ت سے کہ کا فرو ں کی حر کت تا ریکی میں ہے اور وہ کہیں نہیں پہنچ سکتے )اور دوسری آیت میں خدا کا ارشاد ہے کہ دنیا پر ستوں کے عمل کے نتیجے ،اسی دنیا میں ان کو د ے د ے جائیں گے اور آخر ت میں  ان کے لئے کو ئی حق نہ ہو گا

………………………………

١۔ فر قان  ٢٣،

٢۔ نور  ٣٩،        ٣۔ نور ٤٠

جیسے یہ آیت شر یفہ ۔

( مَن کَانَ یُرِیدُ الحَیا ةَ الدُّنیَا وَ زِینَتَہَا نُوَفِّ اِلَیہِم أَعمَا لَہُم فِیہَا وَ ہُم فِیہَا

لَا یُبخَسُونَ ٭اُولِئکَ الَّذِینَ لَیسَ لَہُم فِی الا خِرَةِ اِلَّا النَّارُ  وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوا فِیہَا وَبَاطِل مَا کَانُو ا یَعمَلُو نَ )(١) جو شخص زندگا نی دنیا اور اس کی زینت  کے طلب ہیں ہم اسکے اعما ل کا پورا پورا حسا ب یہیں کر دیتے ہیں اور کسی طر ح کی کمی نہیں کر تے اور یہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں جہنم کے علا وہ کچھ نہیں ہے اور ان کے سا رے کا رو با ر بر با د ہو گئے ہیں اور سا رے  اعما ل با طل و بے اثر ہو گئے ہیں ۔

 ……………………………………………………

١۔ ھو د  ١٥ ،١٦ ،

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.