ائمہ طاہرين عليہم السلام سے منسوب دن کے اوقات کي دعائيں

0 0

ظہر سے لے کر عصر سے پہلے چاررکعت کي ادائيگي کے وقت تک:

يہ ساتويں ساعت ہے جو امام موسيٰ کاظم سے منسوب ہے۔ اس ساعت کي دعا يہ ہے:

اے وہ ذات جس کي صورت وہم و گمان ميں آنے سے بلند تر ہے، اے وہ جس کا نور صفات سے بالاتر ہے، اے وہ جو اپني مخلوق کي دعاوں کے قريب ہے!

اے وہ ہستي جسے بيچارے پکارتے ہيں، ڈرے ہوئے جس کي پناہ ليتے ہيں، ايمان والے جس سے مانگتے ہيں، شکر کرنے والے جس کي عبادت کرتے ہيں اور مخلص لوگ جس کي حمد کرتے ہيں!

ميں تيرے چمکتے ہوئے نور کے واسطے سے اور موسيٰ بن جعفرٴ کے تجھ پر حق کے ذريعے سوال کرتا ہوں، ان کے وسيلے سے تيرا تقرب چاہتا ہوں اور ان کو اپني حاجتوں ميں وسيلہ بناتا ہوں کہ تو محمد۰ و آلِ محمد۰ پر رحمت نازل فرما اور ميري يہ حاجات ۔۔۔ پوري فرما۔

بعدِ ظہر آخري چار رکعت کي ادائيگي کے وقت سے عصر تک:

يہ آٹھويں ساعت ہے جو امام علي رضا سے منسوب ہے، اور اس کي دعا يہ ہے:

اے بہترين پکارے جانے والے، اے بہترين عطاکرنے والے، اے بہترين سوال کئے جانے والے!

اے وہ جس کے نام سے دن کي روشني چمکتي ہے اور رات کي تاريکي کو سياہي ملتي ہے، جس کے نام سے سيلابوں کو رواني ملتي ہے اور جس نے اپنے دوستوں کو ہر بھلائي دي!

اے وہ جس کا نور آسمانوں سے بلند ہے جس کي روشني زمين سے بالا ہے جس کي رحمت شرق و غرب پر چھائي ہوئي ہے، اے بہت دينے والے!

مزید  گیارھویں پارے کا مختصر جائزه

ميں تجھ سے عليٴ بن موسيٰ کے حق کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اور حاجتوں ميں ان کو وسيلہ بناتا ہوں کہ تو رحمت فرما محمد۰ و آلِ محمد۰ پر اور ميري يہ حاجات۔۔۔ پوري فرما۔

نمازِ عصر سے دو گھنٹے بعد تک:

يہ نويںساعت ہے جو امام محمد تقي سے منسوب ہے اور اس کي دعا يہ ہے:

اے وہ جسے بے چارے پکارتے ہيں تو جواب ديتا ہے، خوف زدہ پناہ مانگتے ہيں تو انہيں امان ديتا ہے، فرماں بردار عبادت کرتے ہيں تو قبول کرتا ہے اور ايماندار جس کا شکر کرتے ہيں تو انہيں اور ديتا ہے، اطاعت کرتے ہيں تو انہيں بچاتا ہے، مانگتے ہيں تو انہيں ديتا ہے!

وہ نعمتوں کو بھول جائيں تو ان کے دلوں کو شکر سے خالي نہيں ہونے ديتا، ان پر احسان کيا تو ان کو اپنا نام نہيں بھولنے ديا!

تجھ سے سوال کرتا ہوں بواسطہ محمدٴ بن عليٴ کے جو تيري کامل حجت، تيري مکمل نعمت اور تيرا واضح راستہ ہيں، ميں اپني حاجتوں ميں ان کو وسيلہ بناتا ہوں کہ تو محمد۰ و آلِ محمد۰ پر رحمت نازل کر اور ميري يہ حاجات ۔۔۔ پوري فرما۔

نمازِ عصر کے دو گھنٹے بعد سے سوج کے زرد ہونے سے پہلے تک:

يہ دسويں ساعت ہے جو امام علي نقي ٴ سے منسوب ہے۔ اور اس کي دعا يہ ہے:

اے وہ جو بلند ہے تو بزرگ بھي ہے، اے وہ جو حاوي ہے تو غالب بھي ہے اور غالب ہے تو حاوي بھي ہے، اے وہ جو معزز ہے تو عزت ميں بڑا بھي ہے، اے وہ جس کا سايہ ساري مخلوق پر ہے، اے وہ جس نے اپنے بندوں پر نيکيوں سے احسان کيا!

مزید  شہادت امام کے بعد جناب زینب (ع) کا کردار

اے انتقام لينے والے غالب، اے اپنے غلبے کے ساتھ مشرکوں سے انتقام لينے والے!

ميں تجھ سے عليٴ بن محمدٴ کے حق کے ساتھ سوال کرتا ہوں اور انہيں اپني حاجتوں ميں وسيلہ بناتا ہوں کہ تو محمد۰ و آلِ محمد۰ پر رحمت نازل کر اور ميري يہ حاجات ۔۔۔ پوري فرما۔

آفتاب کے زرد ہونے سے پہلے سے لے کر اس کے مکمل زرد ہونے تک:

يہ گيارہويں ساعت ہے جو امام حسن عسکري سے منسوب ہے اور اس کي دعا يہ ہے:

اے اول جس سے پہلے کوئي نہيں، اے آخر جس کے بعد کوئي نہيں، اے وہ قائم جس کي قدامت کي کوئي حد نہيں، اے غالب جس کي عزت ختم نہيں ہوتي، اے وہ حکمران جس کي حکومت ميں کمزوري نہيں ہے، اے وہ عطا کرنے والے جس کي نعمت دائمي ہے!

اے جبروت والے اور اپنے اوليائ کو عزت دينے والے، اے علم کے ساتھ باخبر، اے قدرت کے ساتھ عالم، اے ذاتي قدرت والے! ميں تجھ سے سوال کرتا ہوں حسنٴ بن عليٴ کے حق کے ذريعے اور اپني حاجتوں ميں انہيں وسيلہ بناتا ہوں کہ تو رحمت نازل کر محمد۰ و آلِ محمد۰ پر اور ميري يہ حاجات۔۔۔ پوري فرما۔

آفتاب کے زرد ہونے سے لے کر اس کے غروب تک:

يہ بارہويں ساعت ہے جو امام العصر سے منسوب ہے اور اس کي دعا يہ ہے:

اے وہ جو اَز خود اپني مخلوق سے يگانہ ہے، اے وہ جو اپنے کام ميں مخلوق سے بے نياز ہے، اے وہ جس نے مہرباني سے مخلوق کو اپنا تعارف کرايا، اے وہ جو فرمانبرداروں کو اپني رضا کي طرف لے جاتا ہے، اے وہ جو ادائے شکر ميں اپنے محبوں کي مدد کرتا ہے، اے وہ جس نے اپنے دين سے ان پر احسان کيا اور اپنے کرم سے انہيں نوازا!

مزید  دشمن کا عمومي حملہ

ميں خلفِ صالح (مہديٴ) کے تجھ پر حق کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں، تيري بارگاہ ميںفرياد کرتا ہوں اور اپني حاجتوں ميں ان کو وسيلہ بناتاہوں کہ تو محمد۰ و آلِ محمد۰ پر رحمت نازل کر اور ميري يہ حاجات ۔۔۔ پوري فرما!

اے معبود! محمد۰ و آلِ محمد۰ پر رحمت نازل فرما کہ وہ صاحبانِ امر ہيں جن کي اطاعت کا تو نے حکم ديا ہے۔ وہ پيغمبر کے ايسے رشتہ دار ہيں جن سے وابستگي کا تو نے حکم ديا اور وہ آنحضرت۰ کے ايسے قرابت دار ہيں جن کي مودت کا تو نے حکم ديا، وہ ايسے موليٰ ہيں جن کا حق پہچاننے کا تو نے حکم ديا اور ايسے اہلِ بيت ہيں جن سے تو نے پليدي کو دور رکھا اور انہيں پاک رکھا جو پاک رکھنے کا حق ہے، يہ کہ تو محمد۰ و آلِ محمد۰ پر رحمت نازل فرما اور ميري يہ حاجات ۔۔۔ پوري فرما۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.