آپ (ص) کے رخصتی اور دوسروں کو پکارنے کے وقت اخلاق

0 0

مؤمنين كو رخصت كرتے وقت رسول خدا (ص) ان كے لئے دعائے خير كيا كرتے تھے; ان كو خير و نيكى كے مركب پر بٹھاتے اور تقوى كا توشہ ان كے ساتھ كرتے تھے۔ ايك صحابى كو رخصت كرتے وقت فرمايا: ” زودك اللہ التقوى و غفرذنبك و لقاك الخير حيث كنت ” (1)

مؤمنين كو رخصت كرتے وقت رسول خدا (ص) ان كے لئے دعائے خير كيا كرتے تھے; ان كو خير و نيكى كے مركب پر بٹھاتے اور تقوى كا توشہ ان كے ساتھ كرتے تھے۔

ايك صحابى كو رخصت كرتے وقت فرمايا:

” زودك اللہ التقوى و غفرذنبك و لقاك الخير حيث كنت ” (1)
خداوند عالم خداوند عالم تمہارا توشہ سفر تقوي قرار دے، تمہارے گناہ معاف كردے اور تم جہاں كہيں بھى رہو تم تك خير پہنچاتارہے.

پكارتے وقت

اصحاب كو پكارنے ميں آپكا انداز نہايت محترمانہ ہوتا تھا آنحضرت(ص) اپنے اصحاب كے احترام اور ان كے قلبى لگاؤ كيلئے ان كو كنيت سے پكارتے تھے اور اگر كسى كى كوئي كنيت نہيں ہوتى تھى تو اس كيلئے معين كرديتے تھے پھر تو دوسرے لوگ بھى اسى كنيت سے ان كو پكارنے لگتے تھے اس طرح آپ صاحب اولاد اور بے اولاد عورتوں، يہاں تك كہ بچوں كيلئے كنيت معين فرماتے تھے اور اس طرح سب كا دل موہ لے ليتے تھے (2)

پكار كا جواب

آنحضرت (ص) جس طرح كسى كو پكارنے ميں احترام ملحوظ نظر ركھتے تھے ويسے ہى آپ (ص) كے كسى كى آواز پر لبيك كہنے ميں بھى كسر نفسى اور احترام كے جذبات ملے جلے ہوتے تھے_

مزید  قرآن ایک آسمانی کتاب

روايت ہوئي ہے كہ :

”لا يدعوہ احد من الصحابہ و غيرہم الا قال لبيك” (3)

رسول خدا (ص) كو جب بھى ان كے اصحاب ميں سے كسى نے يا كسى غير نے پكارا تو آپ نے اس كے جواب ميں لبيك كہا ۔

اميرالمؤمنين سے روايت ہے كہ جب رسول خدا (ص) سے كوئي شخص كسى چيز كى خواہش كرتا تھا اور آپ (ص) بھى اسے انجام دينا چاہتے تھے تو فرماتے تھے كہ ” ہاں” اور اگر اسكو انجام دينا نہيں چاہتے تھے تو خاموش رہ جاتے تھے اور ہرگز ” نہيں” زبان پر جارى نہيں كرتے تھے (4)

حوالہ جات :

1)مكارم الاخلاق ص 249

2)سنن النبى ص53

3)سنن النبى ص53

4)سنن النبى ص

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.