آداب دعا

0 0

١۔بِسْم اللہ پڑھنا :

قال رسول اللہ ۖ:لَا یَرُدُّ دُعَائ: اَوَّلُہُ بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔رسول اللہ ۖ فرماتے ہیں: وہ دعا رد نہیں ہوتی جس کے شروع میں بسم اللہ پڑھ لیا جائے 

٢۔تمجید 

قال رسول اللہ ۖ:اِنَّ کُلُّ دُعَائٍ لَا ےَکُونَ قَبْلَہُ تَمْجَِیْد فَھُوَاَبْتَرْ۔رسول اکرم ۖ:ہر وہ دعا کہ جس سے پہلے اللہ تبارک و تعالیٰ کی تعریف و تمجید اور حمد و ثنا نہ ہو وہ ابتر ہے اور اسکا کوئی نتیجہ نہیں ہو گا 

٣۔صلوات بر محمد و آل محمد 

قال رسول اللہ ۖ:صَلَاتُکُمْ عَلَّی اِجَابَة لِدُعَائِکُمْ وَزَکاة لاَِعْمَالِکُمْ۔رسول اکرم ۖفرماتے ہیں :تمہارا مجھ پر درود و صلوات بھیجنا تمہاری دعاؤں کی قبولیت کا سبب ہے اور تمہارے اعمال کی زکاة ہے 

امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں :لَا ےَزَالُ الدُّ عَاء محجُوباً حَتّٰی یُصَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ:دعا اس وقت تک پردوں میں چھپی رہتی ہے جب تک محمد ۖ وآل محمدۖ پر صلوات نہ بھیجی جائے 

حضرت امام جعفر صادق ـ ایک اور روایت میں فرماتے ہیں جوشخص خدا سے اپنی حاجت طلب کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ پہلے محمد و آل محمد پر صلوات بھیجے پھر دعا کے ذریعہ اپنی حاجت طلب کرے اس کے بعد آخرمیں درود پڑھ کر اپنی دعا کو ختم، کرے (تو اس کی دعا قبول ہو گی ) کیونکہ خدا وند کریم کی ذات اس سے بالاتر ہے کہ وہ دعا کے اول و آواخر (یعنی محمد و آل محمد پر درود و صلواة )کو قبول کرے اور دعا کے درمیانی حصے(یعنی اس بندے کی حاجت )کو قبول نہ فرمائے

٤۔آ ئمہ معصومین کی امامت ولایت کا اعتقاد رکھنا اور انہیں واسطہ اور شفیع قرار دینا 

مزید  حضرت خدیجہ تاریخ کے آئینہ میں عورت کے مال سے مھر کی ادائیگی کرے

قال اللہ تعالیٰ : فَمَنْ سَأَلَنِیْ بِھِمْ عَارِفَاً بِحَقِّھِمْ وَمَقَامِھِمْ اَوْجَبْتَ لَہ مِنِّی اَلْاِجَابَةَ۔خدا فرماتا ہے کہ جو شخص پیغمبر اکرم ۖ اور آئمہ معصومین کا واسطہ دے کر مجھ سے سوال کرے اور دعا مانگے جبکہ وہ ان کے حق اور مقام کو پہچانتا ہوتو مجھ پر لازم ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں

امام محمدباقر ـ فرماتے ہیں :مَنْ دَعَا اﷲ بِنَا اَفْلَحَ :یعنی جو شخص ہم اہلبیت کا واسطہ دے کر دعا کرے تو وہ شخص کامیاب و کامران ہے 

جناب یوسف کے واقعہ میں بیان ہوا ہے کہ جناب جبرائیل حضرت یعقوب کے پاس آئے اور عر ض کی کیا میں آپ کو ایسی دعا بتاؤں کہ جس کی وجہ سے خدا آپ کی بینائی اور آپ کے دونوں بیٹے (یوسف وبنیامین )آپکو واپس لوٹا دے حضرت یعقوب نے کہا وہ کون سی دعا ہے ۔

فقال جبرائیل :قُلْ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ عَلِّیٍ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسنِ وَالْحُسَےْنِ اَنْ تَأتِیْنیْ بِےُوْسُفَ وَبُنْےَامِیْنَ جَمِیاً وَتُرَدُّ عَلیَّ عَیْنیِ۔حضرت جبرائیل نے حضرت یعقوب سے کہا کہ یوں دعا مانگوخدا یا میں تجھے محمد ۖ ،علی ،فاطمہ، حسن و حسین کے حق کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میرے دونوں بیٹوں (یوسف اور بنیا مین )کو اور میری بینائی کو واپس لوٹا دے جناب یعقوب کی یہ دعا ابھی تمام ہی ہوئی تھی کہ قاصد (بشیر)نے آکر جناب یوسف کی قمیص حضرت یعقوب پر ڈال دی تو آپ کی آنکھیں بینا ہو گئیں

حدیث قدسی میں ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے چالیس شب عبادت کرنے کے بعد دعا کی لیکن اس کی دعا قبول نہیں ہوئی تواس نے حضرت عیسیٰ ـ کے پاس شکایت کی حضرت عیسیٰ ـ نے بارگاہ خداوندی سے سوال کیا تو جواب ملا کہ اس نے دعا کا صحیح راستہ اختیار نہیں کیا :اِنَّہُ دُعَانِیْ وَفِیْ قَلْبِہ شَک مِنْکَ۔کیوں کہ وہ مجھ سے تو دعا کرتا ہے اور حاجت طلب کرتا ہے لیکن اسکے دل میں تیری نبوت کے بارے میں شک ہے (یعنی تیری نبوت کا معتقد نہیں ہے 

مزید  دین ودنیا کا فرق

لہذا وہ اگر اس (شک اور عدم اعتقاد کی )حالت میں اتنا دعا کرے کہ اس کا سانس ختم ہو جائے اور اس کی انگلیاں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں تب بھی میں اس کی دعا قبول نہیں کروں گا ۔

٥۔: گناہوںکا اقرار کرنا 

قال الامام الصادق ـ :انَّمَا ھِیَ اَلْمِدْحَةُ ثُمَّ الْاِقْرَارُ بِا الّذُنُبِ ثُمَّ الْمَسْئَلَة۔امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں کہ دعا کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے خدا کی حمد و تعریف کرو پھر گناہوںکا اقرار اور پھر اپنی حاجت طلب کرو 

٦۔خشوع و خضوع کے ساتھ اور غمگین حالت میں دعا مانگنا

قال اللہ :ےَا عِیْسیٰ اَدْعُوْنِیْ دُعَائَ الْحَزِیْنِ الْغَریِقِْ اَلَّذِیْ لَیْسَ لَہُ مُغِےْث۔خدا فرماتا ہے اے عیسیٰ مجھ سے اس غرق ہونے والے غمگین انسان کی طرح دعا مانگو جس کا کوئی فریادرس نہ ہو 

٧۔دو رکعت نماز پڑھنا 

امام جعفر صادق ـ فرماتے جو شخص دو رکعت نماز بجا لانے کے بعد دعا کرے تو خدا اسکی دعا قبول فرمائے گا 

٨۔ اپنی حاجت اور مطلوب کو زیادہ نہ سمجھو

رسول اکرم ۖسے روایت ہے خدا فرماتا ہے کہ اگر ساتوں آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والے مل کر مجھ سے دعا مانگیں اور میں ان سب کی دعاؤں کو قبول کر لوں اور ان کی حاجات پوری کر دوں تو میری ملکیت میں مچھر کے پر کے برابر بھی فرق نہیں آئے گا

٩۔ دعا کو عمومیت دینا 

قال رسول اللہ ۖ: اِذادَعَا اَحَدَکُمْ فَلْےُعِمَّ فَاِنَّہُ اَوْجَبَ لِلدُّعَائِ۔پیغمبر اکرم ۖفرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی دعا مانگے تو اسے چاہیے کہ کہ اپنی دعا کو عمومیت دے یعنی دوسروں کو بھی دعا میں شریک کرے کیونکہ ایسی دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہے

مزید  سیاہ پوش منبر»اشعار

قال الامام الصادق ـ :مَنْ قَدَّمَ اَرْبَعِیْنَ مِنَ الْمُوْمِنِیْنَ ثُمَّ دَعَاہ اَسْتُجِیبُ لَہُ۔جو شخص پہلے چالیس مومنین کے لئے دعا کرے اور پھر اپنے لئے دعا مانگے تو اس کی دعا قبول ہوگی 

١٠۔قبولیت دعا کے بارے میں حسن ظن رکھنا 

مخصوص اوقات وحالات اور مقامات میں دعا کرنا ۔

دعا کیلئے بعض اوقات حالات اور مقامات کو افضل قرار دینا اس کا معنی ہر گز یہ نہیں ہے کہ باقی اوقات اور مقامات میں دعا قبول نہیں ہوتی اور ان میں رحمت خدا کے دروازے بند ہیں کیونکہ تمام اوقات اور مقامات خدا سے متعلق ہیں اور اس کی مخلوق ہیں جس وقت جس مقام اور جس حالت میں بھی خدا کو پکارا جائے تووہ سنتا ہے اور اپنے بندے کو جواب دیتا ہے لیکن جس طرح خدا نے اپنے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی ہے اسی طرح بعض اوقات ومقامات کو بھی بعض پر فضیلت حاصل ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم دعا کے لئے افضل ترین کو انتخاب کریں ۔

مفاتیح الجنان اور دیگر کتب دعا میں مفصل طور پر دعا کے مخصوص اوقات اور حالات اور مقامات کو بیان کیا گیا ہے ہم اجمالاً بعض کو ذکر کرتے ہیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.