آج کی دنیا میں مسلمانوں کی حالت

0 0

 

اس مقالہ میں،”عالم اسلام“کی عملی تین تعریفوں میں سے ایک کی بیناد پر حال اور مستقبل میں جمعیتی معیاروں کے لحاظ سے دوسرے ادیان کی نسبت دنیا کے مسلمانوں کے حالات کا

اس کی افزائش اور بعض ادیان کے مقابلہ اس کے اسباب کا جائیزہ لیا گیا ہے ۔ اور اسی طرح دوسری ادیان سے مقائسہ کیا گیا ہے ۔

مضمون نگار نے دکھایا ہے کہ مستقبل کے پچاس برسوں کے دوران عیسائی اوربدھسٹ روبہ زوال ہیں اور مسلمانوں میں افزائش پیدا ہو نے والی ہے البتہ یہ افزائش ترقی اور پسماندگی کے ہمراہ ہو گی ۔اس بناپر مقالہ نگار نے ان کے بعض اسباب و علل کی طرف توجہ کی ہے اور مندرجہ ذیل مظاہر کے میزان کے پیش نظر عالم اسلام کا دوسرے ادیان سے موازنہ کیا ہے :انسانی ترقی(hid)اور اس کے مظہر کے جزئیات(زندگی کی امید،شرح تعلیم،تعلیمی مقام،فی کس ناخالص پیداوار)،ذریغ ابلاغ(mci)اور اس کے خزئیات (مطبوعات،ریڈیو اور ٹی وی )تک دسترس کی شرح ،انفارمیشن ٹیکنا لوجی اور ارتبات(icti)اور اس کے جزئیات (انٹر نیٹ،کامپیوٹر ،موبائل اور ٹیلیفون تک دسترس کی شرح اور ذرائع ابلاغ(pfi)جہان اسلام اور دوسرے ادیان میں ان کی آزادی کاموازنہ کیاگیا ہے ۔

عالم اسلام کی سر گر میوں سے متعلق تین تعریفیں

پہلی تعریف:

عالم اسلام کی سب سے زیادہ قانونی تعریف عبارت ہے:”۵۴ممالک پر مشتمل اسلامی کانفرنس کے اراکین۔“

اسلامی کانفرنس کے اراکین ممالک کی آبادی ایک ارب۲۳ کروڑ اور ۸۳لاکھ ہے جو دنیا کی کل آبادی کاتقریباً ۹/۲۰ فیصد ہے ۔لیکن یہ پوری آبادی دنیا کے مسلمانوں کی نمائندہ نہیں ہے،کیونکہ ایک طرف ۵۴ ممالک میں سے ۱۱ممالک میں مسلمانوں کی آبادی ۵۰ فیصد سے کم ہے اور دوسری طرف کچھ ایسے ممالک ہیں جن کا اس کانفرنس میں رکنیت حاصل کر نا بہت مشکل ہے ۔مثال کے طور پر اس کانفرنس کے اراکین ممالک میں سے ایک افریقی ملک گابون ہے کہ عالمی جغرافیہ کے دائرة المعارف نے اس ملک کی بارہ لاکھ آبادی میں ۸۴فیصدی عیسائی اور باقی آبادی کو ”انیمیسٹ“ذکر کیا گیا ہے ۔ ۱اور بعض منابع نے گابون میںمسلمانوں کی آبادی صرف دو فیصد

ذکر کی ہے ۔۲

حقیقت میں یہ کہنا صحیح ہو گا کہ اسلامی کانفرنس کی تنظیم عالم اسلام کی مظہرہونے کے بجائے زیادہ تر ایک سیاسی ،مذہبی اجتماع ہے ۔

———————————————-

۱۔ 1,new york mcgrow hill inc world geographical ency clopedia, 1994

۲ ۔عالم اسلام کا نقشہ (۱۹۷۸ء)،دنیا میں ایک ارب سے زیادہ مسلمان کا پھیلاؤ،موسسہ جغرافیائی سحاب

دوسری تعریف:

عالم اسلام کی دوسری تعریف میں وہ ممالک ہیں ،جن کی اکثر آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے ۔یہ مظہر اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ مستقبل میں اکثر یتی رائے پر مبنی جمہوری نظاموں کی تشکیل وسعت پارہی ہے ۔یہ وسعت اس قدر ہے کہ ”فوکو یامہ“اس کے نتیجہ کو” تاریخ کا خاتمہ“ کہتے ہوئے لکھتا ہے:”گزشتہ چند برسوں کے دوران ،لیبرل ڈیمو کریسی کا نظام پر اپنے آئیڈیا لوجک رقیبوں جیسے :وراثتی سلطنت ،فاشیزم اور ان میں سب سے جدید رقیب کمیو نزم پر دنیا بھر میں کامیابی پانے کے ساتھ ساتھ تنہا کامیاب حکو متی نظام کے عنوان سے لیبرل ڈیمو کریسی کی قانونی حیثیت کے سلسلہ میں ایک اہم اتفاق نظر وجود میں آیا ہے ۔ممکن ہے لیبرل ڈیمو کریسی ،انسان کی آیئڈیا لوجی کا ارتقائی اور اختتامی نقطہ اور انسان کی حکومت کی آخری شکل ہو اور اس مقام پر ”انتہائے تاریخ “ کو تشکیل دے ۔لیکن حقیقت میں کمیو نزم کی ناکامی ،مغربی لیبرل ازم کی قدروں کی کامیابی اور آئید یا لو جی کے تصادم کے خاتمہ کی دلیل ہے ۔“۱

دنیا میں ۴۵ ایسے ممالک ہیں جن میں مسلمانوں کی آبادی ۱۰۰ فیصد سے ۵۰ فیصد تک ہے ۔مذکورہ ۴۵ ممالک میں ۲۰۰۰ءء کی مردم شماری کے مطابق، کل آبادی ایک ارب ۱۶ کروڑ اور ۴۴لاکھ ہے اور ان میں سے ایک ارب ۷۸ لاکھ اور ۹۹ ہزار مسلمان ،میں (۵۶/۸۵فیصد)۔مذکورہ ۴۵ ممالک میں سے ۴۲ ممالک اسلامی کانفرنس تنظیم کے اراکین ہیں اور قزاقستان ،ازبکستان اور اریترہ اس خصو صیات کے حامل ہو نے کے باوجود اسلامی کانفرنس تنظیم کے رکن نہیں ہیں ۔گوشوارہ نمبر (۱)کے مطابق ۲۰۰۰ءء میں دنیا کے ممالک کی ۶۴/۱۹ فیصد آبادی مذکورہ ۴۵ ممالک میں تھی اور ان کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی اور یہ ممالک بے دین عیسائیوں کی آبادی والے ممالک کے بعد تیسرے نمبرپر تھے ۔ ۲

———————————————-

۱ ۔مجتبیٰ امیری(۱۹۶۸ء)تمدنوں کے تصادم کا نظریہ ہانٹنگٹن اور اس کی تنقید کر نے والے ۔ترجمہ:مجتبیٰ امیری،تہران دفتر مطالعات سیاسی وبین الاقوامی۔

۲ ۔ اس مقالہ کے اعداد و شمار اور گوشوارے درج ذیل منابع سے حاصل کئے گئے ہیں:human development report, 1999, published for the united nations development programme new york oxford university press,”عالمی ثقافت کی رپورٹ“ثقافت خلاقیت وبازار۔عالمی ثقافت کی رپورٹ(۱۹۹۸)تہران،نیشنیل کمیشن یونیسکو تہرانthe world factbook 2002 http www,odic fields2119 html ۔علامہ طباطبائی یونیورسٹی ،علوم ارتباطات کے ڈاکٹریٹ کے دروس کا خلاصہ اور امام صادق یونیورسٹی کے ڈاکٹریٹ کے ثقافت و ارتباطات کے دروس

مزید  پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله) اور اسلام میں حکومت کی ضرورت

گوشوارہ نمبر(۱):دنیا کے مختلف ممالک میں ادیان کا رتبہ ،آبادی اور شرح۲۰۰۰ئئمیں

رتبہ

آبادی (لاکھوںمیں)

شرح

عیسائیوں کی آبادی

۴/۱۹۰۹لاکھ

۲/۳۳ ٪

بے دینوں کی آبادی

۵/۱۲۷۱لاکھ

۲۴/۲۱ ٪

مسلمانوں کی آبادی

۴/۱۱۶۴لاکھ

۶۴/۱۹ ٪

ہندوؤں کی آبادی

۴/۱۰۱۶لاکھ

۴/۱۷ ٪

بدھسٹوں کی آبادی

۶/۴۰۰لاکھ

۷۵/۶ ٪

کفار کی آبادی

۵/۱۶۰لاکھ

۷۰/۲ ٪

یہودیوں کی آبادی

۹/۵لاکھ

۱/۰ ٪

تیسری تعریف:

عالم اسلام کی سب سے حقیقی عملی تعریف عبارت ہے:”مسلمانوں کی جائے رہائش کو مد نظر رکھے بغیر ان کا اجماع ۔“اس تعریف کی یہ خصوصیت ہے کہ بڑی آبادی والے ممالک میں مسلمانوں کی اقلیت بھی اس میں شامل ہو تی ہے ۔(جیسے ھندوستان میں رہائش پذیر ۱۱کروڑ مسلمان یا چین میں رہنے والے دوکروڑ اور تیس لاکھ مسلمان)

تحقیقات بتاتے ہیں کہ مسلمان دنیا کے ۹۹ممالک میں پھیلے ہو ئے ہیں ۔حقیقت میں دنیائے معاصر کی یہ حالت ہے کہ اس کے ۴۱ فیصد ممالک میں مسلمانوں کی ممکنہ آبادی تقریباً صفر ہے اور ۵۱ فیصدممالک میں،کہ وہی ۹۹ممالک ہیں ،ان میں مسلمانوں کی آبادی ایک ارب ،۲کروڑ،۳۷ لاکھ ۲۵ ہزار افراد پر مشتمل ہے ۔رتبہ کے لحاظ سے یہ آبادی ،عیسائیوں اور بے دینوں کی آبادی کے بعد تیسرے نمبر پر ہے ۔(بے دینوی کے بارے میں بعد میں وضاحت کی جائے گی)

گوشوارہ نمبر( ۲) ،۲۰۰۰ئئمیں مختلف ادیان کارتبہ اور ان کا پھیلاؤ

رتبہ

ملکوں میں پھیلے ہیں

ملین افراد

شرح

۱۔عیسائی

۱۵۱

۹۶/۱۷۹۱

۱/۳۰٪

۲۔بے دین

۱۰

۱۴/۱۲۵۷

۱/۲۱٪

۳۔مسلمان

۹۹

۲۵/۱۲۳۷

۸/۲۰٪

۴۔ھندو

۲۲

۹۹/۶

۳۹۰/۱۵٪

۵۔بودھائی،کنفیو شس اورشینتو

۲۱

۱۹/۵۰۵

۵/۸٪

۶۔کفار

۵۵

۲۱/۲۱۳

۶/۳٪

۷۔یہودی

۲۶

۹۶/۲۶

۵/۰٪

۸۔زرتشی

۳

۰۹/۶

۱/۰٪

جیسا کہ گوشوارہ نمبر۲ میں مشاہدہ ہو تا ہے کہ عیسائی ،مسلمانوں کی نسبت زیادہ ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں(مسلمان ۹۹ممالک میں اور عیسائی ۱۵۱ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں)۔شاید اس امر کا سبب ،بر اعظم افریقہ ،ایشیا اورجنوبی امریکہ میں آج کل رونما ہو نے والے واقعات ہیں ۔

دنیائے معاصر میں ،تین ابراھیمی دینوں کے علاوہ ،جو مجموعی طور پر کرہ زمین کی تقریباًنصف آبادی پر مشتمل ہیں،۸/۲۳فیصد آبادی کو ان ادیان کا اعتقاد رکھنے والے تشکیل دیتے ہیں،جودین شناسوں کی تقسیم بندی میں ،فلسفی ادیان کے نام سے مشہور ہیں۔(ھندو مت ،بدھ مت،کنفیو شیزم اور شینتوازم ازم) ۱ ۶/۳فیصد آبادی کافروں پر مشتمل ہے( کافروں کے لئے دین کی اصطلاح کا استعمال سورہ کافرون کی آیت نمبر ۱ اور ۶ میں ہواہے) جو دنیا کے ۵۵ ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں اور حقیقت میں یہ لوگ ابتدائی ادیان کے پیرو شمار ہوتے ہیں۔ زرتشتی ، دنیا کی آبادی میں صرف۱/۰ فیصد پر مشتمل ہیں اور یہ تین ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان ادیان کے پیروؤں کے علاوہ کرہ زمین پر ۱/۲ فیصدان لوگوں کی آبادی ہی، جن کے بارے میں کہاجاسکتاہے کہ یہ لوگ مذکورہ ادیان کے دوگروہوں یعنی ابراھیمی (خاص کر عیسائی) اور فلسفی ادیان سے تعلق رکھتے ہیں اور بیسویں صدی کی دنیا میں، اجتماعی، سیاسی تبدیلوں سے متاثر ہوکر سیکولر یا بے دین شمار ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کی آبادی عیسائیوں کے بعد دوسرے نمبر پر ہے اور ایک ارب ۲۵ کروڑ اکتھر لاکھ اور چالیس ہزار افراد پر مشتمل ہیں۔ لیکن ۷۱/۱۲۵ ملین افراد کی متوسط تعداد کے پیش نظر پہلے نمبر پر ہیں اور دنیا کے دس ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان ممالک میں سرفہرست ۔چین ہے کہ اس کے باشندوں کی ۴/۸۶ فیصد آبادی بے دین کہی گئی ہے ۔ امریکہ ۲/ ۴۱ فی صد ، جرمنی ۳ / ۲۶ فی صد اور ہا لینڈ۷ / ۳۶ فی صد والے وہ ممالک ہیں جن میں ۵ ملین سے ایک ارب اور ۹۲ ملین تک افراد بے دین شمار ہوتے ہیں۔

تیسری تعریف میں اہم نکتہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی یہ آبادی کس قدر دینی اکثریت کی مہمان اور اقلیت کی میزبان ہے ۔ دوسرے الفاظ میں ان کی اقلیت میں نہ ہونے کی کیا کیفیت ہے؟

․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․

۱ ۔ حسین توفیقی(۲۰۰۲ء)”آشنائی با ادیان بزرگ“تہران،سازمان مطالعہ وتدوین کتب علوم انسانی دانشگاہ ہا۔

۲۰۰۰ء ء میں ۲۸/۸۱ فیصد مسلمان ایسے ممالک میں زندگی بسر کرتے تھے، جن کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ حقیقت میں دنیا کے ۵۲/۱۸ فیصد مسلمان ایسے علاقوں میں زندگی بسر کرتے ہیں جہاں پر وہ دینی اقلیت شمار ہوتے ہیں۔ ان میں سے ۸۹/۸ فیصد مسلمان ہندو اکثریت میں ہیں، ۲۵/۵ فیصد عیسائی اکثریت میں،۸۵/۱ فیصد بے دینوں کی اکثریت میں اور ۷۲/۱ فیصد مسلمان کفار کی اکثریت میں زندگی بسر کرتے ہیں۔

دوسرے ادیان کے حالات کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ھندوؤں کے دوسرے ادیان کی نسبت بہتر حالت میں ہونے اور اقلیت میں قرار نہ پانے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ان کے ۱۵/۹۵ فیصد لوگ ایسے ملک میں زندگی کرتے ہیں جس کی اکثریت ہندوؤں پر مشتمل ہے ۔

گوشوارہ نمبر۳ ۲۰۰۰ء ء میں مختلف ادیان کے اقلیت میں قرار نہ پانے کے مظاہر

ادیان

اقلیت میں نہ ہونے کی شرح

اکثریت

اکثریت میں ان کے ہم دین

۱۔ ہندو

۱۵/۹۵

مزید  حضرت امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے سلسلہ میں چالیس احادیث

۸۳

مسلمان

۲۔ عیسائی

۶۰/۸۹

۸۹

مسلمان

۳۔بے دین

۳۸/۸۷

۲

عیسائی

۴۔ مسلمان

۸۴/۸۱

۴۵

ہندو

۵۔بدھسٹ

۵۹/۶۶

۱۰

بے دین

۶۔کافر

۵۲/۴۶

۱۶

عیسائی

۷۔یہودی

۹۲/۱۷

۱

عیسائی

یہ گوشوارہ اس امر کی حکایت کرتا ہے کہ نسبت کے لحاظ سے اقلیت میں نہ ہونے کی نظر سے ایک طرف تقریبا ۸۷ فیصد دنیا کے عیسائی ایسے ممالک میں زندگی کرتے ہیں جن کی اکثریت عیسائیوں پر مشتمل ہے اور دوسری طرف اکثریہودی، کفار اور بے دین بھی ایسے ممالک میںزندگی کرتے ہیں جن کی اکثریت عیسائیوں پر مشتمل ہے ۔ نیز عیسائیوں کی سب سے زیادہ اقلیت ایسے ممالک میں زندگی بسر کرتی ہے جن کی زیادہ اکثریت مسلمانوں کی ہے ۔

مختلف ادیان کی آبادی کا مستقبل

تحقیقات کے نتائج سے معلوم ہوتاہے کہ ، مستقبل میں دنیا میں مسلمانوں کی آبادی ( گوشوارہ نمبر ۳ کے مطابق) میں، دوسرے ادیان کی نسبت زیادہ تبدیلیاں رونما ہوں گی۔

۲۰۰۰ء ء کی تحقیقات کے مطابق دنیا کی آبادی ۵ ارب ۹۴ کروڑ ۴۰ لاکھ ہے ۔ توقع کی جاتی ہے کہ ۲۰۲۵ءء میں یہ آبادی ۷ ارب ۷۷ کروڑ ۲۰ لاکھ (یعنی ۲۰۰۰ء ء کے ۳/۱ گنا) تک اور ۲۰۵۰ءء میں ۹ ارب ۲ کرور اور ۶۰ لاکھ ( یعنی ۲۰۰۰ءء کے ۵/۱ گنا) تک پہنچ جائے گی۔

اگر ہم دنیا کے مختلف ممالک میں ادیان کا حصہ ۲۰۰۰ءء کی تحقیق کو بنیادپر قرار دیں اور ہر ملک کی آبادی میں تبدیلی کو اس ملک کے مختلف پیروان ادیان کی آبادی کے مشابہ اور ثابت فرض کریں تو گوشوراہ نمبرہ ۴ کے مطابق، توقع کی جاسکتی ہے کہ آئندہ پچاس سال کے دوران آبادی میں مسلمانوں کا حصہ دوسرے ادیان کی نسبت

زیادہ ہوگا۔

گوشوارہ نمبر۴: ۱۹۷۵ءء سے ۲۰۵۰ء ء تک مختلف ادیان کی آبادی میں متوقع تبدیلیاں

ادیان/سال

۱۹۷۵

۲۰۰۰

۲۰۱۵

۲۰۲۵

۲۰۵۰

عیسائی

۳۳

۱/۳۰

۱/۲۹

۱/۲۹

۳/۲۹

مسلمان

بدھیسٹ

۹/۱۶

۱/۹

۸/۲۰

۵/۸

۲۳

۸/۷

۲۴

۴/۷

۵/۲۶

۴/۶

یہودی

۵/۰

۵/۰

۴/۰

۵/۰

۴/۰

کافر

۸/۲

۶/۳

۶/۳

۲/۴

۵

ھندو

۲/۱۴

۳/۱۵

۳/۱۵

۱۶

۵/۱۶

بے دین

۴/۲۳

۱/۲۱

۱/۲۱

۷/۱۸

۸/۱۵

زرتشتی

۱/۰

۱/۰

۱/۰

۱/۰

۱/۰

ادیان کی آبادی میں ماضی اور مستقبل کے اندر جمعیت کی تبدیلی میں جو عدم مشابہت پائی جاتی ہے اس کے دو جبری اور اختیاری عوامل ہیں۔ شاید بدھسٹوں کی بے دینی میں تبدیل ہونا جبری تبدیلی کے دائرہ میں آتا ہے (ماؤزے تنگ کے زمانہ میں کمیونسٹوں کی حکمرانی کی حالت کی وجہ سے)اور مسیحیوں کا بے دینوں میں تبدیل ہو نا اختیاری تبدیلی کے دائرہ میں آتا ہے (لیبرل سرمایہ دارانہ نظام میں سیکو لرزم کے پھیلاؤ پر منتہی ہو نے کی وجہ سے)

چین میں ماؤازم کے خاتمہ اور مستقبل کی تبدیلیوں کے پیش نظر کم ازکم اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دین کی طرف پلٹنا ۔حتی اسی حد تک کہ سنٹرل ایشیاء کے مسلمان ممالک میں بعض اسلامی احکام کے نفاذ کے سلسلہ رو نما ہوا۔قابل توقع ہے ۔دوسری جانب سے عیسائیت کے دائرہ میں بھی دین کی طرف رجحان کے سلسلہ میں بعض تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور یہ وہی چیز ہے جسے ”ہنٹنگٹن“نے”تمدنوں کے تصادم“میں پیش کیا ہے اور ”جارج ویگل“جیسے دانشوروں نے دنیا کے غیر مادی ہو نے کے سلسلہ میں کہا ہے کہ دنیا کا غیر مادی (یعنی مذہبی)ہونا ،بیسویں صدی کی زندگی کے آواخر کے نمایاں حقائق میں سے ہے ۔۱

ہنٹگٹن معتقد ہے کہ سوویت یونین کے زوال اور سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد انسان کی ماھیت میں ایک قسم کا خلاء پیدا ہوا ہے کہ ،اس خلاء کو پر کر نے کے سلسلہ میں تمدنی خود آگاہی اور حیات مذہبی کے تجدد نے ایک وسیلہ کے عنوان سے رشد و بالید گی اختیار کی ہے ۔۲

”ہنٹنگٹن“اور ”فوکو یاما“کے نظریات کے مجموعہ سے یہ نکتہ حاصل ہو سکتا ہے کہ ادیان کی آبادی کے لحاظ سے تبدیلیاں آئندہ ۵۰ سال کے دوران قابل توجہ مظہر ہے ۔

معلوم ہو تا ہے کہ گزشتہ تین تعریفوں میں سے تیسری تعریف (مسلمان اکثریت والے ممالک)مختلف ادیان کے در میان موازنہ کر نے کے لئے زیادہ منطقی معیار ہے ۔مستقبل کے ۵۰ سال کے دوران اکثریت کے حصہ کے ثابت رہنے کے فرض کے پیش نظر،دنیا کے ممالک میں آبادی کی تبدیلیوں کا جائزہ میں اکثریت کے دین کی بنیاد پر گوشوارہ نمبر ۵ میں لیا جاسکتا ہے ۔

گوشوارہ نمبر ۵:مختلف ادیان کی اکثریت والے دنیا کے ممالک کی آبادی میں ۱۹۷۵ءء سے۲۰۵۰ءء تک رونما ہونے والی تبدیلیاں

———————————————

۱ ۔ امیری،۱۳۷۴،ص۵۱

۲۔امیری،۱۳۷۴،ص۲۲

ادیان/سال

۱۹۷۵

۲۰۰۰

۲۰۱۵

۲۰۲۵

۲۰۵۰

عیسائی اکثریت

۳۳

۲/۳۳

۷۶/۳۰

۸۸/۳۰

۱۷/۳۱

بے دین اکثریت

۳۸/۲۳

۴۴/۲۱

۸۳/۱۹

۸۲/۱۸

۵۳/۱۵

مسلمان اکثریت

۵۹/۱۵

۶۴/۱۹

۰۸/۲۲

۲۰/۲۳

۹۷/۲۵

ھندواکثریت

۹۱/۱۵

۴/۱۷

۶۷/۱۷

۰۱/۱۸

۵۳/۱۷

بدھسٹ اکثریت

۳۳/۷

۷۵/۶

۳۴/۶

۹۴/۵

۲۰/۵

کفار اکثریت

۰۲/۲

۷/۲

۱۷/۳

۳

۴۶/۳

یہودی اکثریت

۰۹/۰

۱/۰

۱/۰

۱۲/۰

۱۲/۰

اس گوشوارہ میں واضح طورپر عیاںہے کہ اگلے پچاس برسوں کے دوران مسلمان اکثریت والے ممالک کی آبادی ،عالم مسیحت کے بر خلاف،جو کمی سے دو چار ہے،شدّت کے ساتھ بڑھ رہی ہے ۔حقیقت میں اگر مذکورہ ممالک کے بارے میں ۲۰۰۰ءء میں۱۰۰فرض کریں ،تو یہ مظہر عیسائی اکثریت والے ممالک میں ۲۰۵۰ئئمیں ۱۴۵ اور مسلمان اکثریت والے ممالک میں ۲۰۱میں تبدیل ہو گا۔

مزید  دوسری شب قدر کے اعمال

تمدّنوں میں دین کا حصہ اور اسلام کا مقام

”سیمیوئل ہنٹنگٹن“امریکہ کی ہارورڈ یونیور سٹی کا پروفیسر ہے ۔وہ تمدن کے تشکیل دینے کے عناصر میں سے دین کے لئے ایک خاص مقام کا قائل ہے اور لکھتا ہے :تہذبیں،تاریخ،زبان،ثقافت،سنت اور سب سے اہم مذہب کے ذریعہ ایک دوسرے سے متماز ہو تی ہیں۔مختلف تمدنوںسے وابستہ انسان ،خدااور انسان ،فردوگروہ،عوام اور حکومت،والدین اور فرزندوںاور میاں بیوی کے در میان روابط کے بارے میں میں مختلف نظریات رکھتے ہیں ۔اسی طرح،حقوق اور ذمہ داریوں ،آزادی و اختیار ،مساوات اور سلسلہ مراتب کی نسبی اہمیت کے بارے میں ان کے نظریہ میں فرق ہے ۔یہ تفاوت صدیوں کے دوران پیدا ہوئے ہیں اور جلدی ختم ہو نے والے نہیں ہیں ۔یہ اختلافات سیاسی نظریات اور سیاسی نظاموں کے اختلافات کی نسبت زیادہ بنیادی ہیں۔“ ۱

———————————————-

۱ ۔ امیری ۱۳۴۷،ص۴۹

”ہنٹنگٹن“دوسرے ثقافتی عناصر کے مقابل میں مذہب کی محکم وآہنی خصلت کے بارے میں ایک دلچسپ مثال پیش کر کے آئیڈیالوجی کے مقابل انعطاف کو اس مثال کے ذریعہ بیان کر تا ہے کہ گزشتہ کل کا ایک کمیو نسٹ آج کا ڈیمو کریٹ بن سکتا ہے اور اقتصادی لحاظ سے ایک دولتمند ایک مفلس اور فقیر میں تبدیل ہو سکتا ہے ۔لیکن ایک آذری ،ارمنی نہیں بن سکتا ہے ۔وہ مزید کہتا ہے کہ آئیڈیولوجی اور طبقاتی جنگوں میں ،بنیادی مسئلہ یہ تھاکہ آپ کس طرف ہیں ؟جبکہ تمدنوں کے ٹکراؤ میں سوال یہ ہے کہ تم کون ہو؟پہلے سوال کے جواب میں جہت کو منتخب کیا جاسکتا ہے اور یہاں تک اس کو تبدیل کیا جاسکتا ہے ،جبکہ دوسرے سوال کا جواب ناقابل تغیر ہے ۔مذہب،قومیت سے بھی زیادہ افراد کو متماز کر تا ہے ۔ایک آدمی نصف فرانسوی اور نصف عرب ہو سکتا ہے یہاں تک کہ ڈبل نیشنلٹی کا مالک بن سکتا ہے ،لیکن نصف عیسائی اور نصف مسلمان ہو نا بہت مشکل ہے ۔ ۱

”ہنٹنگٹن“عالم اسلام کی ایک شگفتہ عالم کی حیثیت سے توصیف کر تا ہے اور اس شگفتگی کو دنیا میں ناپائداری کے عوامل میں سے ایک عامل اور تمدنوں کے تصادم کا مقدمہ جانتا ہے ۔وہ تمدنوں کے تصادم کے سلسلہ میں تشکیل پانے والے مسائل میں سے ایک کے بارے میں لکھتا ہے:”ناپائداری کے عوامل میں سے ایک اور عامل کا سر چشمہ عالم اسلام کی شگفتگی ہے ۔۱۹۷۰ء کی دہانی کے آغاز میں اسلام کی تجدید حیات کا آغاز ہوا اور اس نے تمام اسلامی ممالک کو متاثر کیا۔اسلامی تجدید حیات نے سیاستوں میں تبدیلی،حکومتوں کے برتاؤ،رسو مات اور لو گوں کے نظریات میں خود کو نمایاں کیا۔“

”ہنٹنگٹن“اسلام کے احیاء کو ناکامیوں،جدید یت سے پیدا ہو نے والے مشکلوں، جمعیت کی افزائش سے پیدا ہو نے والے سماجی تغیر،شہریت اور اسی طرح (اپنی بنیادی اصالتوں سے رابطہ ٹوٹ جانے کی وجہ سے )اپنے آپ سے بے خبری کا رد عمل سمجھتا ہے ۔وہ احیائے اسلام میں اصول پرستی کے رول کو بہت چھوٹا رول جانتا ہے اور اس کی توجہ زیادہ تر اسلام کی تجدید حیات کی کلی ماہیت سے مربوط ہے ۔وہ اس سلسلہ میں لکھتا ہے :”میرے اعتقاد کے مطابق ،مشکل،چند اصول پرست حکو متوں کا وجود نہیں ہے ،بلکہ مشکل وہ اصول پرست افراد ہیں جو تمام اسلامی معاشروں میں عملی طور پر حکومت مخالف طاقت کو تشکیل دیتے ہیں ،یہ حکو متیں جو اکثر مطلق العنان،ظالم ،فاسد اور بہت سے مواقع پر غیر قانونی بھی ہیں ۔“ ۔۲

———————————————-

۱ ۔امیری،۱۳۴۷،ص۵۲۔۵۳

۲ ۔امیری،۱۳۷۴،ص۱۱۵

”ہنٹنگٹن“کا نظریہ اکیسویں صدی کے آغاز میں دین کی طرف توجہ بڑھنے کے ایک عامل میں تبدیل ہو چکا ہے ۔اس کی تمدن کی تعریف میں ،دین کا ایک خصوصی مقام ہے جبکہ دوسروں کی نظروں میں یہ تعبیر اس مفہوم میں کم تر مشاہدہ ہو تی ہے ۔جیسا کہ ”الوین ٹیفلر “نظریہ ”ہنٹنگٹن“کو مسترد کرتے ہوئے تمدن کی تعریف میں لکھتا ہے:”تمدن زندگی کے اس طریقہ پر اطلاق ہو تا ہے جو ایک خاص نظام کے تحت ثروت پیدا کر نے سے مربوط ہے،جیسے کھیتی باڑی ،صنعت اور آج کل کا اطلاعات پر مبنی نظام۔۱

سید حسین نصر،امریکہ میں اسلام شناسی کے پروفیسر ہیں۔انھوں نے ”ہنٹنگٹن“کے مقالہ کی غیر عربی معاشرے میں ایک تقدیر ساز اقدام کے طور پر توصیف کی ہے ،اور اس سلسلہ میں لکھتے ہیں :”مذکورہ مقالہ مستقبل کے دنیا کے بارے میں صرف ایک علمی نظریہ نہیں ہے بلکہ ایک حکمت عملی ہے ۔“۲

اس کا اعتقاد ہے کہ اگر چہ عصر جدید کی مغربی دنیا میں علوم سیاسی کی بحثوں میں تمدنی مفہوم کی کو ئی خاص اہمیت نہیں تھی لیکن ہنٹنگٹن کے مقالہ نے اسے علوم سیاسی کے جدید مفاہیم کے قالب میں زندہ کردیا ہے ۔۳

 

 

 

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.