ولايت کي اطاعت و پيروي

ايک طرف سے واقعہ عاشورا ميں اطاعت و پيروي اور وعدہ کي وفاداري جيسے نماياں اور بہترين منظروں کا مشاہدہ کرتے ہيں اور دوسري طرف سے ، سرکشي ، عھد شکني اور بے وفائي کے نمونے ديکھنے کو ملتے ہيں – عھد شکن کوفيوں نے ، فرزند پيغبر(ع) کو شھادت تک پہنچايا (20) ، جبکہ امام عالي مقام کے باوفا يار و دوستوں نے ، ولايت کي اطاعت و پيروي کا منظر سامنے پيش کيا – اس کے باوجود کہ امام عالي مقام اپنے اصحاب سے اپني بيعت واپس لي تھي ، ليکن وہ وعدہ وفائي نبھاتے ہوئے ميدان ميں باقي رہيں اور اپنا عھد نہيں توڑا – شهداے كرب

ايک طرف سے واقعہ عاشورا ميں اطاعت و پيروي اور وعدہ کي وفاداري جيسے نماياں اور بہترين منظروں کا مشاہدہ کرتے ہيں اور دوسري طرف سے ، سرکشي ، عھد شکني اور بے وفائي کے نمونے ديکھنے کو ملتے ہيں – عھد شکن کوفيوں نے ، فرزند پيغبر(ع) کو شھادت تک پہنچايا (20) ، جبکہ امام عالي مقام کے باوفا يار و دوستوں نے ، ولايت کي اطاعت و پيروي کا منظر سامنے پيش کيا – اس کے باوجود کہ امام عالي مقام اپنے اصحاب سے اپني بيعت واپس لي تھي ، ليکن وہ وعدہ وفائي نبھاتے ہوئے ميدان ميں باقي رہيں اور اپنا عھد نہيں توڑا – شهداے كربلا ، امام کے رکاب ميں جانبازي دکھانے کو ، اپنے عھد کي وفا جانتے تھے اور اس پر اپني جان کي خون سے لبريزمھر لگاتے تھے –

 ” عمرو بن قرظه ” نے اپنے آپ کو دشمن کي تلواروں اور تيروں کے سامنے قرار ديا تا کہ امام کو کوئي گزند نہ پہنچے اور اتنے زخم اس کے بدن پر لگ گئے يہاں تک کہ وہ بے تاب و قدرت ہوگيا – اسوقت اپنا رخ امام کي طرف کيا اور پوچھا :

اے فرزند ِ پيغمبر ! کيا ميں نے وعدہ نبھايا ؟ ، امام نے فرمايا : ہاں ، تو جنت ميں ميرے پاس ہي ہوگا اور جلد ہي بہشت ميں داخل ہوجاؤ گے ، ميرا سلام پيغمبر(ص) کو پہنچاننا ” –

جب حضرت حبيب بن مظاہر ، حضرت مسلم بن عوسجه کے سرہانے پر آگئے اور اسے جنت کي بشارت دي ، اس نے مرتے وقت جناب حبيب ابن مظاہر سے وصيت کي ؛ ” امام سے (وفا کرنے کا ) اپنا ہاتھ نہيں اٹھانا اور اس کي راہ ميں فوت ہوجانا ” –

امام عالي مقام کے يار و دوستوں کي اسي اطاعت و وعدہ وفائي کي وجہ سے حضرت مسلم بن عقيل (ع) کے زيارت نامہ ميں ہم پڑھتے ہيں :

 ” وَ اَشهَدُ اَنَّكَ وَفَيتَ بِعَهدِاللهِ ؛ اورميں گواہي ديتا ہوں کہ بيشک تم نے خداوند کے ( ساتھ کئے ہوئے ) وعدے کي وفاداري نبھائي ” –

يہ اشارہ ہے خداوند متعال کے ساتھ وعدہ اور زمين پرحجّت ِخداوندعالم کي نصرت ميں جان قربان کرنے کي طرف – حضرت عباس بن علي (ع) کي زيارت ميں بھي اس طرح آيا يے :

 ” اَشهَدُ لَكَ بِالتَسلِيمِ وَ التَصدِيقِ وَ الوَفاء وَ النَصيحَه لِخَلَفِ النَّبي ” ؛  جو فرزند پيغمبر(ص) کے بہ نسبت حضرت ابوالفضل (ع) کي اطاعت کرنے ، تسليم ہونے اور اس کي تصديق و تائيد کرنے کي واضح دليل ہے –

حضرت ابوالفضل (ع) کي وفاداري اتني بلندي پر پرواز کررہي ہے کہ وہ حضرت شب عاشورا امام حسين (ع) سے مخاطب ہوکر کہتے ہيں :

” خدا کي قسم ! ، ہزگز تم سے جدا نہيں ہوجائے گے ! ، ہماري جان تمہاري جان پر فدا ہوں ! ، اپنے

خون آلود نرخروں ، حلقوں ، ہاتھوں اور چہروں سے تمہاري حمايت کرے گے اگر چہ مرجائے گے ، اپنے وعدے کي اور جو بھي ہمارے ذمہ ہے ، (اس کے ساتھ ) وفا کريں گے –  ” فَاِذا نَحنُ قَتَلنَا بَينَ يَدَيكَ نَكونُ قَد وَفَينا لِرَبِّنا وَ قَضَينا مَا عَلَينا ” –

امام حسين (ع) روزعاشورا جب حضرت مسلم بن عوسجه کے سرہانے پر آگئے ، يہ آيت شريف قرائت فرمائي جو امام عالي مقام کے يار و دوستوں کي وفاداري کي عکاسي کرتي  ہے :

” مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَي نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً ”  ؛     ” مومنين ميں ايسے بھي مرد ِميدان ہيں جنہوں نے اللہ سے کئے وعدہ کو سچ کر دکھايا ہے ان ميں بعض اپنا وقت پورا کرچکے ہيں اور بعض اپنے وقت کا انتظار کررہے ہيں اور ان لوگوں نے اپني بات ميں کوئي تبديلي نہيں پيدا کي ہے – “

حضرت مھدي (عج) کے حقيقي يار و دوست اپنے مولا کے عاشق ہيں اور اس کي راہ کے فداکار و پيروکار –  وہ غلاموں کي طرح (مجبوري سے ) اپنے مالک کا تابع ہونے (اوراس سے حکم لينے اور انجام دينے ) کے بجائے ، کہيں بہترصالح فرزندوں کي طرح ( جوش و شوق کے ساتھ ) امام عالي مقام سے امر و حکم ليتے ہيں ، اس کي اطاعت کرتے ہيں اور اس کے فرمانوں کو انجام دينے ميں ايک دوسرے پر سبقت ليتے ہيں –  جناب رسول اکرم (ص) کي فرمائش کے مطابق ، وہ اس کي پيروي کرنے ميں سعي و تلاش کرنے والے ہيں –  حضرت وليعصر (عج) کے تئييں ان کا قلبي عشق و محبت ، انہيں فرمانبرداري کرنے پر اکساتا ہے اور وہ پروانے کي طرح ، اس حضرت کے شمع جيسے وجود کے اطراف ميں گردش کرتے رہتے ہيں – روايت ميں وارد ہوا ہے : (مفھوم)

” ايسے سوارافراد بھي ہيں جو نشاني اور پرچم لئے ہوئے ، امام کے مرکب کي زين سے تبرک لينے کے لئے اس پر ہاتھ پھيرتے ہيں ، اور امام کے گرد چکر لگاتے ہيں – جنگوں ميں جان و دل سے اس کي نصرت کرے گے اور جو بھي وہ (ان سے) طلب کرے ، وہ اسے انجام دے گے !- “

حضرت امام حسن عسكري (ع) ، امام مهدي (عج) کے يار و دوستوں کے متعلق فرماتے ہيں :

” … ميں وہ دن ديکھ رہا ہوں کہ جس ميں زرد اور سفيد پرچم‌  كعبہ کے كنارے ميں بلند ہوچکے ہے اور تمہاري ( حضرت مھدي (عج) کي ) بيعت کے لئے ، مسلسل ہاتھوں کے صف بن چکے ہے – پاکيزہ يار و دوست نے ، اس طرح نظم و نسق سے امور انجام دئے ہے کہ قيمتي موتي کے دانوں کي طرح ، تمہارے شمع جيسے وجود کو احاطہ کئے ہوئے ہيں اور ان کے ہاتھ تمہاري بيعت کے لئے حجرالاسود کے کنارے ايک دوسرے سے ٹکرا رہے ہے – وہ ديني احکام کے سامنے سرخم ہيں ، ان کے دل ، کينہ اور دشمني سے پاک اور ان کے رخسار، حق قبول کرنے کے لئے تيار ہے — !-

امام زمان (عج) کے يار و دوستوں کا ان کے تئييں عشق و محبت اس حد تک زيادہ ہے کہ اس کے گھوڑے کي زين کو برکت اور نعمت کا باعث سمجھتے ہيں اور اس سے تبرک حاصل کرتے ہيں – حضرت امام صادق(ع) اس بارے ميں فرماتے ہيں :

” يَمسَحونَ بِسِرجِ الاِمامِ يَطلُبونَ بِذلِكَ البَرَكه ” –

اس طرح کے عشق و محبت کا نتيجہ ، ان کي اپنے امام کي ، بے چون و چرا اطاعت اور پيروي ہے ! –

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More