نماز جمعہ میں ملکی اور علاقائی حالات پر بصیرت افروز خطاب

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تہران کی مرکزی نماز جمعہ میں مؤمن و انقلابی عوام کے عظیم الشان اجتماع میں امسال اسلامی انقلاب کی سالگرہ کو گذشتہ برسوں سے مختلف قرار دیا اور اسلامی انقلاب کے نتیجے میں انجام پانے والی بنیادی اور گہری تبدیلیوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ قوم کی پائيداری کی برکت سے یہ تبدیلیاں ان پورے بتیس برسوں کے دوران جاری رہیں اور آج ملت ایران شمالی افریقہ کے تازہ واقعات اور خاص طور پر مصر اور تیونس کے عوام میں اسلامی بیداری کی شکل میں اپنی برسوں کی جدوجہد کے کے دوران اپنی مظلومانہ مگر مقتدرانہ صدا کی بازگشت کا مشاہدہ کر رہی ہے۔

نماز جمعہ میں ملکی اور علاقائی حالات پر بصیرت افروز خطاب

ابنا: رہبر انقلاب اسلامی نے نماز جمعہ کے پہلے خطبے میں تہران یونیورسٹی میں اور تمام ملحقہ سڑکوں پر صف نماز میں بیٹھے بے شمار نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے اسلامی انقلاب سے قبل کے حالات اور دنیا کے سیاسی امور پر اس انقلاب کے اثرات کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا کی استبدادی اور استکباری طاقتوں نے مشرق وسطی کے انتہائی اہم اور سوق الجیشی اہمیت کے حامل علاقے میں اپنے مفادات کے حصول کے لئے بڑی باریک بینی سے منصوبے تیار کئے تھے اور برسوں انہوں نے اس منصوبے پر کامیابی سے عملدرآمد بھی کیا لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی نے ان کے سارے منصوبوں کو درہم برہم کر دیا۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلامی انقلاب سے قبل مشرق وسطی کے لئے سامراج کے منصوبے کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ کمزور اور ایک دوسرے کے دشمن ممالک جن کے حکام مغرب کے مہرے ہوں، ایسے ممالک جو اقتصادی لحاظ سے محض صارف اور علمی میدان میں پسماندہ، ثقافتی میدان میں مغرب کے نقش قدم پر چلنے والے، فوجی لحاظ سے ناتواں، اخلاقی لحاظ سے بے راہرو اور انحطاط کا شکار اور مذہبی اعتبار سے بالکل سطحی فکر والے اور مذہب کو افراد کی ذاتی حد تک محدود رکھنے والے ہوں، یہ وہ خصوصیات ہیں جو سامراج نے مشرق وسطی کے ملکوں کے لئے معین کی تھیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ان حالات میں اسلامی انقلاب کی شکل میں ہونے والے عظیم دھماکے اور امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی شکل میں عدیم المثال، مدبر، فقیہ، مجاہد، شجاع، جوکھم اٹھانے والے، گہرا اثر رکھنے والے عالم دین کے ظہور کو اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل مشرق وسطی کے علاقے میں مغرب کے تمام اندازوں اور منصوبوں کے درہم برہم ہو جانے کا باعث قرار دیا اور فرمایا کہ اس عظیم انسان کا ظہور، موجودگی اور تربیت حقیقت میں کار خدا تھا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے ملت ایران کی بیداری، آمادگی اور ان کی جانب سے امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی بے دریغ حمایت کو اسلامی انقلاب کی فتح کا مقدمہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی فتح اور اس کی بقاء کے سلسلے میں امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) اور عوام کہسار کی مانند پامردی سے کھڑے ہو گئے۔ پھر دشمن نے لاکھ کوشش کی لیکن اس عظیم اسلامی انقلاب کو منحرف یا شکست سے دوچار نہیں کر سکا۔ آپ نے انقلاب کو شکست سے دوچار کرنے کی دشمن کی سازشوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے گزشتہ بتیس برسوں کے دوران کی جھڑپوں، قومیتی جنگوں، بغاوت، آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ، اقتصادی پابندیوں اور بلا وقفہ جاری نفسیاتی جنگ کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ ان تمام اقدامات کے ذریعے دشمن نے تین بنیادی ہدف حاصل کرنے کی کوشش کی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے انقلاب کا سقوط اور اسلامی جمہوری نظام کی سرنگونی کو گزشتہ بتیس برسوں کے دوران دشمن کا سب سے اہم ہدف قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ نظام کے خاتمے میں ناکامی کی صورت میں امریکا کا دوسرا ہدف انقلاب کی ماہیت کو تبدیل کر دینا تھا۔ یعنی انقلاب کا پیکر اور ظاہری شکل تو باقی رہے لیکن اس کی روح اور اس کا باطن ضائع ہو جائے۔ آپ نے سنہ دو ہزار نو کے فتنوں کو انقلاب کو دگرگوں کر دینے کی دشمن کی تازہ ترین سازش قرار دیا اور فرمایا کہ اس فتنے کے منصوبہ ساز، پالیسی ساز اور ہدایت کار سرحدوں کے باہر تھے اور اب بھی ہیں جبکہ کچھ لوگ مفاد پرستی اور مقام و منصب کے لالچ میں ان کی سازشوں کے اسیر بن گئے اور دانستہ یا نادانستہ طور پر انہوں نے تعاون بھی کیا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے استکباری طاقتوں کے تیسرے ہدف کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ان کی تمام کوششوں کے باوجود بھی اگر اسلامی نظام باقی رہ جائے تو کمزور قوت ارادی والے افراد کو جن پر آسانی سے اثر انداز ہوا جا سکتا ہے ملک کے بنیادی امور میں اصلی فریق کی حیثیت سے پیش کریں اور ایسا نظام تشکیل دیں جو کمزور اور فرماں بردار ہو اور امریکا کے سامنے سر اٹھانے کی ہمت نہ رکھتا ہو۔
آپ نے ایران کے بیدار عوام، ملک میں ممتاز ہستیوں اور اچھے حکام کے وجود کو تمام اہداف و مقاصد میں دشمن کی شکست کا باعث قرار دیا اور فرمایا کہ انقلاب نے اپنی گہرائی اور خاص ماہیت کی بنیاد پر ملک میں بڑی بنیادی تبدیلیاں کیں اور امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) اور عوام نے اتنے مضبوط ستون قائم کر دئے کہ یہ عظیم تحریک جاری رہی اور آئندہ بھی جاری رہے گی۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایران میں اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد رونما ہونے والے گہرے اور اساسی تغیرات کی وضاحت کرتے ہوئے آمر پہلوی حکومت کی اسلام دشمنی کا ذکر کیا اور فرمایا کہ انقلاب نے اس پالیسی کو یکسر تبدیل کرکے اسلام کو ملک اور معاشرے کے نظم و نسق کا محور بنا دیا۔
امریکا اور برطانیہ سے پہلوی حکومت کی شدید وابستگی اور ان پر انحصار کا خاتمہ اور دنیا میں ایران کو سیاسی آزادی کے مکمل نمونے میں تبدیل کرنا بھی رہبر انقلاب اسلامی کے بقول اسلامی انقلاب کا اہم ثمرہ تھا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ یہ خود مختاری اور سیاسی وقار قوموں کے لئے بہت جاذب نظر ہے، چنانچہ اسلامی انقلاب کے تئیں قوموں کے خاص احترام کی ایک بڑی وجہ یہی اہم حقیقت ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے پہلوی دور میں سلطنتی نظام اور عوام کے کسی بھی طرح کے کردار کے فقدان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انقلاب کے بعد دینی جمہوریت، حکومت کی بنیاد قرار پائی اور انقلاب سے قبل کے دور کے برخلاف جب حکومت موروثی ہوا کرتا تھا، عوام کی رائے حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔
آپ نے انقلاب سے قبل کی آمرانہ حکومت کی یاددہانی کراتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی انقلاب نے تنقید، اصلاح، انتباہ بلکہ مخالفت اور اعتراض کا دروازہ عوام کے لئے کھول دیا اور یہ سلسلہ گزشتہ بتیس برسوں میں بدستور جاری رہا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے علمی صلاحیتوں کے تیقن اور قومی خود مختاری کو اسلامی انقلاب کے دیگر اہم ثمرات میں شمار کیا اور فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی فتح سے قبل ملک سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں پوری طرح مغرب پر منحصر تھا لیکن اب سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں حیرت انگیز ترقی کے ساتھ ساتھ ملک کے پاس مختلف شعبوں میں ایسے عظیم اور ممتاز نوجوان سائنسداں موجود ہیں جو عالمی سطح پر کم نظیر ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی کے مطابق اسلامی انقلاب کی فتح کا ایک اور ثمرہ علاقائی اورعالمی مسائل میں ایران کی موثر پوزیشن ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس وقت ملت ایران کی عزت و عظمت اور عالمی و علاقائی امور میں اس کے اثر و رسوخ نے دشمنوں کو مبہوت کر دیا ہے اور وہ بھی اب ہمیشہ ایران کے اثر و نفوذ کی باتیں کرتے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ثقافتی میدان میں (مغرب کی) کورانہ تقلید سے نجات کو بھی اسلامی انقلاب کا اہم ثمرہ قرار دیا اور فرمایا کہ ملک ان خصوصیات اور بنیادوں کے ساتھ دنیا میں نئی تہذیب کا بانی بن سکتا ہے۔
آپ نے دنیا کی دیگر قوموں کے لئے اسلامی جمہوریہ کے پیشرفتہ عوامی آئین کی نمونہ عمل قرار پانے کی صلاحیت اور اسلامی جمہوریہ کی علمی، سیاسی، معاشی اور فوجی کامیابیوں کے پرکشش ریکارڈ کے بارے میں ایک مغربی عہدہ دار کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ قوم کے دشمنوں کی خلاف ورزیوں کے باوجود یہ چیز وقوع پذیر ہوئی اور ملت ایران مختلف میدانوں میں قوموں کے لئے نمونہ عمل بن گئی۔ آپ نے دوسروں کے لئے ملت ایران اور اسلامی جمہوریہ کے نمونہ عمل قرار پانے میں مغرب کی بعض غلطیوں کو بھی موثر بتاتے ہوئے فرمایا کہ ملت ایران کے ایٹمی حقوق سلب کرنے پر ان کے اصرار کے نتیجے میں قوم اور اسلامی نظام کے حکام کی پائیداری اور بڑھ گئی اور ساری دنیا کو معلوم ہو گیا کہ ایران ایٹمی شعبے میں غیر متوقع کامیابیاں حاصل کر چکا ہے اور کوئی بھی دباؤ ملت ایران کو پسپائی پر مجبور نہیں کر سکتا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کو پیٹرول کی فروخت پر مغرب کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی کے بارے میں فرمایا کہ اس کے نتیجے میں ملک کے حکام نے اور بھی سنجیدگی سے پیٹرول کی پیداوار میں خود انحصاری کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا، چنانچہ حکام کی رپورٹوں کے مطابق ملک اس سال نو فروری (اسلامی انقلاب کی فتح کی سالگرہ) تک پیٹرول درآمد کرنے سے مکمل طور پر بے نیاز ہو جائے گا بلکہ پیٹرول برآمد کرنے پر بھی قادر ہوگا۔
رہبر انقلاب اسلامی کے مطابق مغرب کی ایک اور بڑی غلطی ایران پر فوجی ساز و سامان کی پابندی عائد کرنا اور ایران کے ہمسایہ ملکوں میں انتہا پسند اسلامی تنظیموں کی تشکیل تھی۔ کیونکہ یہ اقدامات آخرکار ایران کی تقویت پر منتج ہوئے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ سنہ دو ہزار نو کے فتنے میں بھی انہوں نے اتنا ہنگامہ مچایا کہ ملت ایران میدان میں اتر پڑی اور تیس دسمبر کو (اسلامی نظام کی حمایت میں ملک بھر میں نکلنے والی ریلیوں کے ذریعے) ایک نئی تاریخ رقم کر دی گئی۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی بھی انقلاب دوسروں پر اسی وقت اثر انداز ہوتا ہے جب اس میں کچھ انفرادی خصوصیات ہوں اور ان میں بھی سب سے خاص استقامت و پائيداری ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اسلامی انقلاب کی خصوصیات اور اہم اصولوں کے سلسلے میں قوم اور نظام کی ثابت قدمی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ انقلاب کے آغاز سے ہی امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) اور ملت ایران نے اس انقلاب کے اسلامی ہونے پر زور دیا لیکن عالمی سطح پر کچھ لوگوں نے یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ اسلامیت، جمہوریت کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی تاہم امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) اور عوام ان ہنگامہ آرائیوں پر توجہ دئے بغیر اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور اعلان کر دیا کہ ہمارا انقلاب اسلامی ہے اور اسلامی ہی رہے گا۔ آپ نے معاشرے میں اسلامی فضا اور ماحول کی بقاء کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت اسلامی ماحول اگر انقلاب کے وقت کی نسبت زیادہ نہیں ہے تو کم از کم اس دور کی مانند ضرور ہے اور آج ہمارے قابل تعریف نوجوان اس سلسلے میں انقلاب کے دور کے بعض لوگوں سے بہت آگے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے گزشتہ بتیس برسوں کے دوران معاشرے کو اسلامی ماحول سے دور کرنے کی بعض حلقوں کی ناکام کوششوں کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ عوام اور عہدہ دار اسلام پر ثابت قدم ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے جمہوریت کے سلسلے میں ثابت قدمی کو بھی انقلاب کی خصوصیات کے محفوظ رہنے کی ایک دلیل قرار دیا اور فرمایا کہ امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) نے انقلاب کی کامیابی کے پہلے دن سے ہی تاکید فرمائی کہ عوام اپنی رائے کا اظہار کریں اور يہ چیز تمام امور اور انتخابات میں آج تک جاری ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے گزشتہ بتیس برسوں میں ملک میں تیس انتخابات کے انعقاد کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ جنگ کے دوران بموں اور میزائلوں کی بارش میں بھی انتخابات ایک دن بھی موخر نہیں ہوئے اور یہ جمہوریت کے سلسلے میں ثابت قدمی کا حقیقی مفہوم ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے الگ الگ دور کے صدارتی انتخابات میں الگ الگ سیاسی فکر کے افراد کی کامیابی کا ذکر کیا اور قوم کی رائے کے گہرے اثر و رسوخ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ رہبر انقلاب کو منصوب یا معزول کرنے کا اختیار رکھنے والی ماہرین کی کونسل کے انتخابات سے لیکر صدارتی، پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات تک سب کچھ عوام کی رائے پر منحصر ہے۔
سماجی انصاف کے سلسلے میں بھی استقامت و پائیداری کا ذکر کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی نے سماجی انصاف کے قیام کو دوسرے تمام امور سے زیادہ مشکل قرار دیا اور فرمایا کہ ملک اس وقت جس مقام پر ہے وہ اس انصاف سے بہت پیچھے ہے جس کا حکم اسلام نے دیا ہے تاہم اہم بات یہ ہے کہ سماجی انصاف کی جانب پیشروی بدستور جاری ہے اور اس میں استحکام بھی پیدا ہوا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ملک میں روز مرہ کی زندگی کے وسائل اور مواقع کی مناسب تقسیم، حکام کے صوبائی دوروں، سبسڈی کو با مقصد بنانے کے منصوبے کو سماجی انصاف قائم کرنے کے لئے جاری اسلامی نظام کی کوششوں کا نمونہ قرار دیا اور فرمایا کہ اگر حکام اور عوام کے تعاون اور بلند ہمتی کے نتیجے میں سبسڈی کو با مقاصد بنانے کے منصوبے پر عملدرآمد صحیح طور پر مکمل ہو جائے تو سماجی انصاف کے قیام کے عمل میں تیزی آ جائے گی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ہماری اور دیگر حکام کی زندگی معاشرے کے سب سے کمزور طبقے جیسی ہونا چاہئے جو نہیں ہے، لیکن حکام کی زندگی متوسط طبقے کی مانند ضرور ہے۔ یہ بھی بہت بڑی بات ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ظلم کی مخالفت اور دنیا کی سامراجی طاقتوں کے مقابلے کو بھی اسلامی انقلاب کی اہم خصوصیات میں شمار کیا جو گزشتہ بتیس برسوں میں عوام اور حکام کی ہمت و حوصلے کے نتیجے میں آج تک جاری ہے۔ آپ نے ظلم کی مخالفت کو انقلاب کے اوائل میں اور گزشتہ تین عشروں کو دوران کمزور کرنے کی بعض حلقوں کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ پہلے ان کی خواہش یہ تھی کہ انقلابی نعروں کو طاق نسیاں کی زینت بناکر امریکہ سے تعلقات بحال کئے جائیں اور پھر رفتہ رفتہ ملک کو امریکی پالیسیوں کا تابع بنا دیا جائے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ملت ایران اور اسلامی جمہوریہ کی بتیس برسوں سے جاری استقامت و پائیداری کو قوموں کی نگاہ میں ایران کی عظمت کے بڑھنے کا باعث قرار دیا اور فرمایا کہ اس پرمشقت عمل کا نتیجہ برکت و رحمت الہی کی صورت میں ملا اور اس کے اثرات رفتہ رفتہ سامنے آئے اور ایرانی قوم دوسری قوموں کے لئے پرکشش نمونہ عمل بن گئی
آپ نے مزید فرمایا کہ ان باتوں اور حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ اس سال عشرہ فجر (امام خمینی کی وطن واپسی سے لیکر اسلامی انقلاب کی فتح تک کے دس دن) کو زیادہ پرجوش طریقے سے منایا جائے گا اور نو فروری ( اسلامی انقلاب کی فتح کی سالگرہ) کے جلوسوں سے گزشتہ بتیس سال کے افتخارات میں ایک اور سنہری باب کا اضافہ ہوگا۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے نماز جمعہ کے دوسرے خطبے میں شمالی افریقہ کے تازہ واقعات خاص طور پر تیونس اور مصر کے تغیرات کو انتہائی اہمیت کا حامل اور حقیقی معنی میں ایک زلزلہ قرار دیا اور فرمایا کہ اگر مصری قوم توفیق الہی سے اپنی تحریک کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہو جائے تو وہ علاقے میں امریکا اور اسرائیل کو نا قابل تلافی شسکت سے دوچار کر دیگی۔
آپ نے مصر کے واقعات پر صیہونی حکومت کی روز افزوں تشویش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ صیہونی دوسروں سے زیادہ بہتر اندازمیں سمجھتے ہیں کہ اگر مصر ان کا حلیف نہ رہا تو علاقے میں کتنی عظیم تبدیلی آ جائے گی اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عظیم الشان امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) کی پیشین گوئی رو بہ عمل آ جائے گی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے تیونس اور مصر کے حالیہ واقعات کے علل و اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے مغربی ممالک کی جانب سے اس سلسلے میں پیش کئے جانے والے گمراہ کن تجزیوں کا حوالہ دیا اور فرمایا کہ عالمی تجزیوں میں یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ تیونس اور مصر کے عوام کے قیام کی واحد وجہ کی حیثیت سے اقتصادی مسائل کو پیش کیا جائے جبکہ اصلی وجہ وہ احساس تحقیر و توہین ہے جو تیونس اور مصر کے حکام کے کرتوتوں کی وجہ سے عوام کے اندر پیدا ہوا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے تیونس میں اقتدار کے دوران زین العابدین بن علی کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے فرمایا کہ بن علی پوری طرح امریکا پر منحصر تھا، یہاں تک کہ بعض رپورٹوں سے تو ایسا لگتا ہے کہ اس کا تعلق امریکا کی خفیہ ایجنسی سے تھا۔ آپ نے فرمایا کہ کسی بھی قوم کے لئے(یہ برداشت کر پانا) بہت دشوار ہے کہ اس کا حکمراں امریکی اداروں کا با ضابطہ خدمت گار ہو۔ یہ حقیقت تیونس کے عوام کے قیام کی ایک اہم وجہ ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے تیونس میں دینی امور کی انجام دہی اور عوامی مقامات پر حجاب پر پابندی سمیت بن علی کی دین مخالف کارروائیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تیونس کے عوام کے قیام کا ایک اہم ترین جذبہ، جذبہ اسلام نوازی ہے جسے مغربی تجزیہ نگار چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اس وقت تیونس میں ایک سطحی تبدیلی ہوئی ہے لہذا تیونس کے عوام کو چاہئے کہ ہوشیاری اور دانشمندی کے ساتھ اپنے مفادات اور منفعت کی تشخیص کریں اور دشمن کے فریب میں نہ پڑیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے دوسرے خطبے میں مصرکے غیر معمولی تغیرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس ملک کے درخشاں علمی، سیاسی اور دینی ماضی کا ذکر کیا اور فرمایا کہ مصر پہلا اسلامی ملک تھا جو اٹھارہویں صدی میں مغربی ثقافت سے آشنا ہوا اور پہلا اسلامی ملک تھا جو اس ثقافت کے سامنے پائیداری سے ڈٹ گیا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے مصرکو پوری تاریخ میں اسلام نوازوں اور اسلامی دانشوروں کا اہم مرکز قرار دیا اور فرمایا کہ سرزمین مصر شجاع اور عظیم اسلام نواز سید جمال الدین اسد آبادی اور ان کے شاگردوں منجملہ محمد عبدہ کی یاد دلاتی ہے۔
آپ نے مصر کے سیاسی و فکری مقام و منزلت کی تشریح کرتے ہوئے مصر کی خود مختاری کی تحریکوں اور اسرائیلی فوج سے مصری فوج کی جنگ کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ ایسے درخشاں ماضی والا ملک مصر تیس سال تک ایسے شخص کے ہاتھوں میں رہا جو نہ صرف حریت پسند نہیں تھا اور صیہونیوں کا دشمن نہیں تھا بلکہ حریت پسندی کا دشمن اور صیہونیوں کا معاون و خدمت گار تھا۔ آپ نے فرمایا کہ “نا مبارک” کی حکومت کے دوران مصر کی یہ حالت ہو گئی کہ عالم عرب اور دنیائے اسلام کے لئے نمونہ ملک کے درجے سے گرکر فلسطینیوں کے دشمن اور صیہونیوں کے مددگار ملک میں تبدیل ہو گیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اسی ضمن میں بائیس روزہ جنگ غزہ کے دوران حسنی مبارک کی غزہ کے عوام کے خلاف کارروائیوں اور غزہ کے عوام کے محاصرے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کارکردگی سے مصری عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا کیونکہ مصر کی حکومت اسرائیل کی حامی و مددگار حکومت اور امریکا کی بندہ بے دام حکومت بن گئی تھی جس پر عوام کو شدت سے توہین کا احساس ہوا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے مصر کے عوام کے اسلامی ماضی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مصر کے عوام کی تحریک کا ایک بنیادی سبب ان کے دینی جذبات کو قرار دیا اور فرمایا کہ مصر کے عوام نے اپنی تحریک کا آغاز مساجد اور نماز جمعہ سے کیا، دینی نعرے بالخصوص اللہ اکبر کا نعرہ ان کی زبانوں پر ہے اور مصر کی سب سے طاقتور تنظیم بھی ایک اسلامی تنظیم ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ مغرب کو مصر کے عوام کے قیام کے پیچھے کارفرما اسلام نوازی کے جذبات کو علاقے کی قوموں کے درمیان آشکارا ہو جانے کی بابت گہری تشویش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی اس تحریک کے لئے وہ صرف اقتصادی و معاشی علل و اسباب کی بات کر رہے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ یہی معاشی بدحالی بھی، (مصری عوام کی تحریک میں) جس کے اثر کا انکار نہیں کیا جا سکتا، مبارک کے امریکا پر مکمل انحصار اور نوکری کا نتیجہ ہے اور اسی وجہ سے مصر کوئی ترقی نہیں کر سکا اور حالت یہ ہو گئی کہ قاہرہ کے کئی لاکھ لوگ غربت و افلاس کی وجہ سے قبرستانوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ امریکیوں نے مبارک جیسے بندہ بے دام کو مالی محنتانہ بھی نہیں دیا اور آج بھی اسے وہ کوئی صلہ دینے والے نہیں ہیں۔ حاکم مصر جس وقت بھی فرار ہوگا یقینی طور پر سب سے پہلے اس کے لئے جو دروازہ بند ہوگا وہ امریکا کا دروازہ ہوگا، جیسے (تیونس کے مفرور صدر) زین العابدین بن علی اور (ایران کے مفرور شاہ) محمد رضا کے لئے بند ہو گیا تھا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ یہ واقعات ان کے لئے عبرت ہیں جن کے دل امریکہ سے دوستی کے لئے بے چین ہیں۔ ان افراد کو غور کرنا چاہئے کہ امریکی اپنے نوکروں سے کیسے منہ پھیر لیتے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مصری عوام کے انقلاب کے مقابلے میں امریکہ اور اسرائیل کی سراسیمگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اب موجودہ حالات سے نکلنے کے لئے کسی راہ فرار کی تلاش میں ہیں اور انہوں نے فریب دہی کا عمل شروع کر دیا ہے تاہم امریکا اور مغرب کے اس ڈرامے کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار مصری عوام کی کارکردگی اور ان کے فیصلوں پر ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے خطبے کے آخری حصے میں عربی زبان میں علاقے کے عوام کو مخاطب کیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے اس خطاب میں مصر کے موجودہ حالات کو مصری عوام اور ان کے دشمنوں کے درمیان جاری ارادوں کی جنگ قرار دیا اور فرمایا کہ اس جنگ میں جو فریق بھی زیادہ مضبوط ارادے کا مالک ہوگا فتحیاب ہوگا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے مصر کے موجودہ تغیرات کو اپنے قابو میں کرنے اور مصر کے عوام کے انقلاب کو شکست سے دوچار کرنے کے لئے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کا انکشاف کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ عوام کو اہداف و مقاصد کی تکمیل کی بابت مایوس کر دینے کے لئے کوشاں ہیں۔ لہذا مصری عوام کو چاہئے کہ اللہ تعالی پر توکل کریں اور نصرت و مدد کے وعدہ الہی کے سلسلے میں ایک لمحے کے لئے بھی کسی شک کو اپنے دل میں راہ نہ دیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے مصری عوام کے اتحاد و یکجہتی کو دشمنوں کے خلاف ان کا سب سے اہم ہتھیار قرار دیا اور فرمایا کہ مصری عوام دشمن کے تفرقہ پیدا کرنے والے نیرنگ و فریب کی بابت ہوشیار رہیں اور اپنے غیور نوجوانوں پر بھروسہ اور اللہ تعالی کی ذات پر توکل کرتے ہوئے ثابت قدمی اور پائيداری کے ساتھ اپنے انقلاب کو آگے بڑھائیں۔ آپ نے امریکہ کے سیاسی ڈرامے اور بیان بازی کے سلسلے میں مصری عوام کو ہوشیار رہنے کی تلقین کی اور فرمایا کہ امریکی، جو چند روز قبل تک مبارک کے اتنے بڑے حامی تھے، اب اس کی طرف سے مایوس ہو جانے کے بعد خود کو مصری عوام کا ہمنوا اور ہمدرد ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اپنی پسند کے شخص کو اقتدار میں پہنچا دیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے موجودہ نازک حالات میں مصر کے علمائے کرام خاص طور پر جامعۃ الازہر کے علماء کے کردار کو بہت اہم قرار دیا اور تاکید کے ساتھ فرمایا کہ مصر کے علمائے کرام عوام کے اس انقلاب میں اپنا تاریخی کردار ادا کریں۔ آپ نے صیہونی فوج سے مصری فوج کی دو جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ مصری فوج موجودہ تغیرات میں اپنا تاریخی کردار ادا کرے اور عوام کے ساتھ ہو جائے۔
…….

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

6 − 1 =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More