نظریہ ولا یت فقیہ

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دین اسلام انسان کی تمام فطری ضروریات کا مکمل حل پیش کرتا ہے۔ احکام اسلام فطرت انسانی سے پوری طرح ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ اسلام صرف انسان کی روحانی و اخروی زندگی کیلئے راہنمائی نہیں کرتا بلکہ انسان کی مادی اور دنیاوی زندگی کیلئے بھی ایک واضح نظام پیش کرتا ہے۔بعثت انبیاء کا مقصد ہی معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام ہے۔

”ولقد ارسلنا رسلنابا البینات وانزلنا معھم الکتاب و المیزان لیقوم الناس باالقسط”

] بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا ہے تاکہ لوگ عدل قائم کریں[١

.اس آیہ مجیدہ میں نزول کتاب کا مقصد قسط و عدالت کا قیام بتایا گیا ہے۔ خاتم الانبیاء حضرت محمد ۖ نے بعثت کے ساتھ ہی انسانی معاشرہ کی ہدایت کا کام شروع کیا اور اسے چند عرصہ ہی میں معراج و کمال کی منزل تک پہنچادیا۔

انسانی معاشرہ کیلئے یہ ایسا جامع اور زیبا ترین موقع تھا جو ہر میدان میں انسانی ضرورتوں کی تکمیل کی صورت میں اسے حاصل ہوا۔ لیکن افسوس کہ موقع پرست اور ابن الوقت قسم کے افراد نے انسانی ترقی کی اس راہ میں رکاوٹیں کھڑی کردیں اور انسانوں کو الہی حاکمیت کے سائے سے محروم رکھکر ظلم و جہالت کی تاریکیوں میں رکھنے کی کوشش کی لیکن ہادیان بر حق نے ہر دور میں انسانوں تک نور الہی کی شعاعیں پہنچانے کا فریضہ انجام دیا ۔ آج ہم آخری معصوم کی الہی ہدایت کے زمانے میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔

حضرت حجة کی غیبت کبری کے دور میں بھی انسان کو ہدایت سے محروم نہیں رکھا گیا بلکہ اس دور میںبھی حضرت حجت کے جانشین فقہاء کی ولایت کے ذریعے کمال انسان تک پہنچنے کا انتظام موجود ہے۔ دور حاضر میں نظریہ ”ولایت فقیہ” اسلامی موضوعات میں نہایت اہم شمار ہوتا ہے ۔ کیونکہ اس میں اسلامی معاشرے کی قیادت اور رہبری کے بارے بحث کی جاتی ہے ۔ ”ولایت فقیہ” کے قائلین اس بات کے معتقد ہیں کہ یہ ولایت حقیقت میں ولایت پیغمبر اکرم ۖ اور ائمہ اطہار کے بعد ہے۔ لہذا اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ ایک فقیہ اسلامی معاشرے کا زعیم اور راہبر ہوتا ہے اور لوگوں کے مال و جان پر بھی ”ولایت ” یعنی حق اولویت رکھتا ہے کیونکہ ولایت پیغمبر ۖ و ائمہ اطہار کے تحت الہی اختیارات کے ساتھ حکومت اسلامی کو تشکیل دینے کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔

اصل ولایت فقیہ، شیعہ علماء و دانشمندان کے نزدیک مورد اتفاق ہے کیونکہ اصل ولایت پیغمبر ۖ اور آئمہ اطہار میں تمام علماء شیعہ کا اتفاق ہے ۔اختلاف صرف اس مسئلہ میں ہے کہ ولایت معصومین اسی عمومیت کے ساتھ فقہاء کو بھی حاصل ہے یا نہیں ؟ اس مقالہ میں ”نظریہ ولایت فقیہ”کی وضاحت اور اس کے اثبات پر بحث کی جائیگی لیکن اس نظریہ کے اثبات سے قبل دو اہم مطالب کی وضاحت کرنا بھی ضروری ہے ایک” انسان شناسی” دوسرا” دین اور سیاست” کا رابطہ ۔لہذا ان مطالب کی مختصر وضاحت بھی ضروری ہے۔

١۔ انسان کی حقیقت

حقیقت انسان کے بارے میں مختلف نظریات موجود ہیں ہر مذہب ایک خاص زاویہ سے اانسان کے متعلق بحث کرتا ہے ۔جن کا ذکر کرنا اس مقالہ میں ضروری نہیں ۔ قرآن کی نظر میں انسان ایک ایسا موجود ہے جو ایک طرف فطرت الہی کا حامل ہے تو دوسری طرف طبیعت مادی کا بھی مالک ہے۔”فطرت” سے اعلی معارف ،معنویات اور نیکی و سعادت کی طرف دعوت دیتی ہے جبکہ طبیعت اسے مادیات ، شہوات، نفسانی خواہشات اور پستیوں کی جانب بلاتی ہے۔

نتیجہ میں انسانی زندگی طبیعت اور فطرت کے درمیان مسلسل جنگ کا ایک میدان ہے ۔ اگر اس پیکار میں انسانی طبیعت نے فطرت پر قابو پالیا اور فطرت کو طبیعت کے ماتحت کر لیا تو قرآن مجید کی نظر میں یہ انسان ایک منحرف اور گمراہ انسان بن جاتا ہے۔جو نہ صرف اشرف المخلوقات نہیں رہتا بلکہ حیوانات سے بھی پست تر ہو جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حیوانات کی غرض خلقت انسان کیلئے مسخر ہوناہے اور انسان کی غرض خلقت علم و معرفت کے سائے میں معبود حقیقی کے سامنے خاضع ہوناہے لیکن جب یہ انسان اس فطرت کو دبا کر غرض خلقت کی خلاف عمل کرتا ہے تو پھر حیوانات سے بھی پست تر ہو جاتا ہے ۔ارشاد رب العزت ہے:

”ام تحسب ان اکثرہم یسمعون او یعقلون ان ہم الا کالانعام بل ہم اضل سبیلا”

]کیا اپ کا خیال یہ ہے کہ ان کی اکثریت کچھ سنتی اور سمجھتی ہے ہر گز نہیں یہ سب جانوروں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں ۔٢

اکثریت دلیل ہے کہ بعض افراد کسی نہ کسی وقت بات سن لیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں اور اس طرح راہ راست پر آجاتے ہیں لیکن انسان صاحب عقل ہونے کے باوجود راہ حق سے بہک جاتاہے اور پھر جانور خود ہی بہکتا ہے دوسروں کو گمراہ نہیں کرتا جبکہ انسان دونوں کام انجام دیتا ہے۔اگر فطرت فاتح ہوئی اور طبیعت اس کی فطرت کے تابع ہوگئی تو اس صورت میں انسان ہدایت پاجاتا ہے اور حق کی راہ پر گامزن ہو کر کمال کی اس چوٹی تک پہنچ جاتا ہے کہ ملائکہ بھی اسے سجدہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔

پس انسان کا اشرف المخلوقات ہونا در حقیقت اس روح و جان کے باعث ہے جس کا قرآن میں واضح ذکر موجود ہے ۔ارشاد رب العزت ہے :

”واذقال ربک للملائکہ انی خالق بشرا من صلصال من حماء مسنون فاذا سویتہ و نفخت فیہ من روحی فقعو الہ ساجدین”

]اور اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے ملائکہ سے کہا تھا کہ میںسیاہی مائل نرم کھنکھناتی ہوئی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔پھر جب میں مکمل کر لوں اور اس میں اپنی روح حیات پھونک دوںتو سب کے سب سجدہ میں گر پڑنا۔[٣

اسی روح کی وجہ سے انسان غور و فکر کرتا ہے یعنی ”قوت عاقلہ”کی وجہ سے حیوان ناطق بن کر دیگر حیوانات سے ممتاز ہو جاتاہے۔قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے

”ثم سواہ ونفخ فیہ من روحہ وجعل لکم السمع والابصار والافئدہ قلیلا ماتشکرون”

]پھر اسے معتدل بنایا اور اسمیںاپنی روح پھونکدی اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل نبائے مگر تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو[٤

انسان ایسا عجوبہ روزگار ہے کہ جس نفس و روح کی وجہ سے خلیفةاللہ کی منزل پر فائز ہوتا ہے اسی نفس کے باعث ہی مختلف قسم کی خواہشات اورجبلتوںکا مجموعہ ہے ۔”ونفس وماسواھا فالھمھا فجورھا وتقواھا”

]اور نفس کی قسم اور اس کی جس نے اسے معتدل کیا پھر بدی اور تقوی کی ہدایت دی [٥

خالق کائنات سورہ شمس میں ،شمس و قمر ،لیل و نہار اور ارض وسما کے ساتھ قسم کھانے کے بعد اس نفس کی قسم کھائی ہے جس کی تخلیق کے بعد اللہ نے اس میں ،خیرو شر ،پاکیزگی و پلیدی ،فسق وفجور اور تقوی کی سمجھ ، ودیعت فرمائی ۔لیکن کامیاب ہوا وہ جس نے اس نفس کو پاک رکھا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس نفس کے شعور کو دبائے رکھایعنی فطرت کی آواز کو دبایا۔

مذکورہ آیات کے علاوہ دیگر بہت سی آیات سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ انسان کو روحانی اور مادی زندگی کا سفر طے کرنے کیلئے ایسے قوانین کی ضرورت ہے جو اس کی تمام مادی و معنوی احتیاجات کو پورا کر سکے ۔ اگر کوئی قانونی مجموعہ اس کی صرف ایک طرف کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر بنایا گیاتو یہ ناقص ہوگا جس کے تحت پرورش پانے والا انسان نامکمل بلکہ غیر حقیقی انسان ہوگا۔

آج کا انسان علم، ثقافت رہن و سہن اور بہت سے آداب و رسوم کے مطابق ماضی کے انسان سے اختلافات رکھتا ہے لیکن انسا ن کے فطری اور طبیعی رجحانات مشابہ اور یکسان ہونے کی ایک مثال ہنر کی طرف اس کا رجحان ہے۔انسان حسن و زیبائی کا دلدادہ ہے خواہ یہ حسن فطرت کے مناظر میں ہو یا ظاہری ہنری زیبائی ،انسان ان سے لذت محسوس کرتا ہے ۔

علاوہ ازین، انسان ایک موجود اجتماعی اور معاشرتی ہے ۔ اس میں یہ بحث ہے کہ انسان جبری طور پر معاشرتی زندگی گزارنے پر خلق ہوا ہے یعنی طبیعت انسانی کا تقاضا ہے کہ انسان خود بخود ایسی زندگی گزارتا ہے یا کوئی عقلانی عامل اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ انسان کو اپنے مقاصد کے حصول کیلئے اجتماعی زندگی اختیار کرنا چاہیے اور اپنے مفادات کے پیش نظر اجتماعی ہونے کو ترجیح دیتا ہے حقیقت جو بھی ہو لیکن یہ مسلم ہے کہ انسان کی زندگی اجتماعی اور معاشرتی قسم کی ہے۔

اجتماعی زندگی کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے مفادات میں ٹکراو کی کیفیت پیدا ہو جس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انسان کو ایسا طرز معاشرت اپنانا ہے کہ جس میں ممکنہ حد تک اس ٹکراو کو ختم کرتے ہوئے دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی فضا پیدا ہو لہذا ہر انسان اپنے معاملات کو اسطرح منظم کرے کہ دوسروں کے حقوق ضایع نہ ہونے پائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عقل انسانی حکم کرتی ہے کہ کچھ حدود و قیود کا ہونا ضروری ہے جن کی رعایت و پاسداری کرنا ہر انسان پر لازم ہو وگرنہ جنگ و جدل کی کیفیت پیدا ہونے کی وجہ سے کوئی شخص بھی اپنے حقوق حاصل نہ کر سکے گا اور اسطرح معاشرہ ہی تشکیل نہ پاسکے گا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ حدود کیسی ہوں ؟اور ان حدود کو متعین کون کرے ؟

اس کا جواب جو بھی ہو لیکن معاشرہ کے استمرار کیلئے ایک ”قانون”کا ہونا ضروری ہے۔ مختصر طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ دینی نقطہ نظر سے یہ حدود ، الہی حدود ہونی چاہیں اور ان حدودیا ”قانون ” کا تعین صرف خالق انسان کر سکتا ہے اس کی دلیل بعد میں بیان کی جائے گی۔

٢۔دین اور سیاست

خالق کائنات نے انسانی معاشرہ کی بقاء کی خاطر ایک جامع نظام زندگی عطا کیا ہے جسے ”دین ”کہا جاتا ہے۔قرآن مجید اور تاریخ کے مطابق ادیان کی تاریخی حقیقت اس بات پر گواہ ہے کہ ادیان مر سل کی تعداد خدا کے رسولوں کی تعداد کے برابر ہے ۔یہاں پر رسول سے مراد صاحب شریعت نبی ہے جس پر خدا کی طرف سے لوگوں تک شریعت پہنچانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔٦

گذشتہ بحث میں یہ گزر چکا کہ انسان متمدن ہونے کی بناپر ایک قانون کا محتاج ہے اور اسلامی نقطہ نظر سے یہ قانون خداوند متعال کی جانب سے متعین ہونا چاہیے علاوہ از ین قرآن و حدیث کی رو سے خداوند متعال نے ایسے قوانین نازل فرمائے ہیں جو انسانی معاشرہ میں تعادل اور عدالت اجتماعی کو بر قرار کرنے کے ذمہ دار ہیں ۔ سورہ حدید کی آیت ٢٥ میںجو ”کتاب و میزان ”کا ذکر آیا ہے اس سے مراد ”قانون” ہی ہے ۔

قانون کے الہی ہونے پر مختصر طور سے یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ قانون کا اصل مقصد معاشرہ میں عدل و انصاف بر قرار کرناہے اور یہ اس وقت ممکن ہو سکتا ہے جب معاشرہ کے اندر ایسے قوانین نافذ ہوں جن میں انسان کی تمام جہات کو ملحوظ رکھا گیا ہو کیونکہ قوانین پر عمل کر کے انسان مادی و معنوی ترقی حاصل کرنا چاہتا ہے لہذا کامل ترین قانون وہ ہو گا جو انسان کو مادی و روحانی کمالات تک پہچانے میں معاون و مددگار ہو لیکن اگر قانون میں صرف ایک جہت کو مد نظر رکھا گیا ہو تو یہ کامل قانون نہیں ہوگا اور انسان کیلئے نہ صرف مفید نہیں ہو سکتا بلکہ نہایت درجہ نقصان دہ ہو گا چونکہ ایسے قانون سے انسان اپنا توازن بر قرار نہ رکھ سکے گا اور انسان کا غیر متوازن ہونا معاشرے کے غیر متعادل ہونے کا موجب ہے جس کی بنا پر معاشرہ میںبہت بڑا بگاڑپیدا ہو سکتا ہے جو انسانی مقصد کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

ایسا جامع قانون صرف وہی ہستی پیش کر سکتی ہے جو خالق انسان ہو ااور اس کی تمام ضروریات و احتیاجات سے مکمل آگاہی رکھتا ہو یہ صرف اللہ تعالی کی ذات اقدس ہے ۔علاوہ برین قانون وضع کرنے والی ہستی کو ہر قسم کی خود غرضی اور خود پسندی سے پاک ہونا چاہیے تاکہ کسی کا حق پامال نہ ہو ۔اسلامی نقطہ نظر سے ”ربوبیت تشریعی”کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان احکام الہی کے سامنے سر تسلیم خم رہے اور خدا کے علاوہ کسی کے دستور و قانون کو قبول نہ کرے ۔٧

خداوند متعال قرآن مجید میں اہل کتاب کے متعلق فرماتاہے

”اتخذوا احبارھم و رھبانھم اربابا من دون اللہ”

]ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں کو رب بنالیاہے ۔[٨

رب بنالینے کا مطلب یہ نہ تھا کہ وہ ان علماء کی پرستش و عبادت کرتے تھے بلکہ روایات میں اس کی تفسیر یہ بیان ہوئی ہے کہ لوگ خدا کے مقابلے میں اپنے علماء کی بات کو قانون کا درجہ دیتے اور قانون الہی کی طرح اس پر کار بند ہو جاتے۔

حضرت امام باقر ـ اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں:

”واللہ ماصلو الھم ولہ صاموا ولکن اطاعوھم فی معصیةاللہ”

]یعنی یہ لوگ اپنے علماء کیلئے نہ روزے رکھتے اور نہ نماز پڑھتے تھے بلکہ اللہ کی مخالفت میں ان علماء کی اطاعت و پیروی کرتے۔[

دشمن اسلام بالخصوص استعمار نے مسلمانوں کو سیاست سے دور رکھنے اور ان پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کی خاطر یہ پروپیگنڈا کیاکہ دین کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ،یہ دین زندگی کا دین نہیں ،معاشرے کیلئے اس کے پاس نہ کوئی قانون ہے اور نہ نظام بلکہ دین صرف انسان کی روحانی تربیت کیلئے چند عبادی احکام پیش کرتا ہے۔قابل افسوس بات یہ ہے کہ بعض سادہ لوح متدین طبقہ نے بھی یقین کرلیا کہ اسلام صرف خالق و مخلوق کے درمیان رابطے کا نام ہے۔

حضرت امام خمینی فرماتے ہیں :آپ حضرات جو جوان ہیں اپنی زندگی میں اسلام کے قوانین و نظام کا تعارف کروانے میں سنجیدگی اختیار کریں ،ایسا نہ ہو کہ اسلام کی حقیقت مخفی رہ جائے ۔اور لوگ یہ سوچنے لگیں کہ عیسائیت کی طرح اسلام بھی چند ایسے احکام کا نام ہے جو خالق اور مخلوق کے درمیان رابطہ ہوتے ہیں اور یہ کہ مسجد اور کلیسا میں کوئی فرق نہیں (حالانکہ)جب مغرب میں کوئی خبر نہ تھی ،وہاں کے باشندے وحشی تھے امریکہ نیم وحشی اور سرخ پوست باشندوں کی زمین تھی ،اس وقت دو وسیع سلطنتیں ایران اور روم اپنے حکمرانوں کے ظلم و استبد اد اور عدم مساوات کا شکار تھیں لوگوں کو حکومت اور قانون کا دور دور تک پتہ نہ تھا خداوند عالم نے اپنے رسول ۖ کے واسطے سے ایسے قوانین نازل فرمائے جن کی عظمت سے انسان تعجب میں پڑجائے ۔تمام امور کے لیے اسلام ،قانون و آداب لیکر آیا ہے۔٩

یہ بات کس طرح قابل تصور ہے کہ وہ دین جو انسان کو کمال و سعادت کی طرف ہدایت و رہنمائی کرنے کیلئے آیا ہے ۔حکو مت جیسے امور ]جن کی تمام انسانی معاشروں کو ضرورت ہے[کے سلسلے میں خاموش اور لاتعلق رہے ۔ متون اسلامی کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ احکام کی ساخت و ترکیب ایسی ہے جو حکومت کے وجود کی متقاضی ہے ۔ جیسے احکام جہاد و قصاص و تعزیرات اور مالیات ]خمس و زکوة[وغیرہ کے احکام حضر ت امام رضا اسلامی حکومت کے وجود کی علت کے سلسلے میں فرماتے ہیں ”ہم کسی ایسے گروہ یا امت کا سراغ نہیں پاتے کہ جس نے حاکم اور سر پرست کے بغیر زندگی بسر کی ہو ۔کیونکہ لوگوں کے دینی اور دنیوی امور کے نظم و ضبط کیلئے ایک عاقل و مدبر حاکم کی ضرورت ہوتی ہے۔

لہذا یہ امر، حکمت الہی کے شایان شان نہیں کہ اپنی مخلوق کو کسی قائد و حاکم کے بغیر یوں ہی چھوڑ دے جبکہ خالق کائنات بخوبی جانتاہے کہ لوگوں کو بہر حال ایک حاکم کی ضرورت ہوتی ہے جو معاشرے کو استحکام ، نظم و انتظام اور دوام بخشے ،دشمنوں کے ساتھ جنگ کے وقت لوگوں کی قیادت و راہبری کرے ،عمومی مال و ثروت کو لوگوں کے درمیاں تقسیم کرے ، ان کیلئے نماز جمعہ و جماعت قائم کرے اور ظالموں کو مظلوموں پر ظلم کرنے سے روکے۔١٠.

مذکورہ حدیث کی رو سے خداوند عالم کا یہ ارادہ ہے کہ انسان امور سیاست میں اپنی ذمہ دایاں انجام دے تو پھر کیسے یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ خدا ایسا دین نازل کرے جو سیاست سے خالی ہو ۔

حقیقت یہ ہے کہ دین و سیاست کا منکر ہونا انسان کے وجود کے منکر ہونے کے مترادف ہے کیونکہ دین یعنی ایسا جامع نظام جو وجود انسانی کو کمال تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے ،واضح ہے فقط نظام کا موجود ہونا اس مقصد کے حصول کیلئے کافی نہیں جب تک یہ نظام عملی طور پر نافذ نہ ہو ۔نظام کے نفاذ کا دوسرا نام” حکومت یا سیاست ”ہے پس کس طرح ممکن ہے کہ خدائے علیم و حکیم ایک طرف انسان کو کمال کی منازل طے کرنے کا حکم دے لیکن دوسری طرف اس نظام ]دین[ کو انسانی اصلاح کیلئے ممنوع قرار دے۔ بے شک اصل اولی یہ ہے کہ صرف اللہ تعالی جو ہمارا خلق و مالک ہے وہی ہمارے تمام امور کا والی بھی ہے: ” الالہ الخلق و الامر” ]آگاہ رہو فیصلہ کرنے کا حق صرف اسی (اللہ)کو حاصل ہے[١١

خلق بھی وہی کرتا ہے اور پھر اپنی مخلوق کی مصلحت کے مطابق احکام صادر کرنا یا مفسدہ کے پیش نظر کچھ امور سے نہی ]منع [ کرنا بھی اسی سے مختص ہے ۔

”مالھم من دونہ من ولی ولا یشرک فی حکمہ احدا”

] ان لوگوں کیلئے اس اللہ کے سوا کوئی سر پرست نہیں ہے اور نہ وہ کسی کو اپنی حکومت میں شریک کرتا ہے [۔١٢

یہ حاکم اصلی و حقیقی اپنے قوانین کو ہم تک وحی و نبوت کے ذریعے پہنچا تا ہے اور اپنے انبیاء اور معصوم نما یندوں کے ذریعے ان احکام کو نافذ کرتا ہے ۔پس جو احکام اللہ تعالی کی جانب سے بذریعہ وحی ہم تک پہنچتے ہیں ان پر عمل کرنا واجب ہے۔عقل بھی اسی بات کا حکم لگاتی ہے کہ ہر اس مرشد و ہادی کی اطاعت واجب ہے جس کے بارے میں انسان کو یقین ہو جائے کہ اس کا تعلق ہدایت انسانی اور مصلحت اجتماعی کے ساتھ قائم ہے۔

عقل شکر منعم اور تعظیم خالق کو بھی واجب قرار دیتی ہے اور اس کے ترک کرنے کو مذموم وقبیح قرار دیتی ہے مخصوصا اگر ترک کرنا باعث نافرمانی ہو تو عقل اس کی مذمت کرتی ہے شاید الہی ملاک کے تحت عقل حکم کرتی ہے کہ اطاعت الہی بھی واجب ہے بلکہ والدین کی اطاعت بھی اسی قسم سے ہے۔شرعی حکم سے قطع نظر ،عقل والدین کی اطاعت کو حسن اورنافرمانی کو قبیح قرار دیتی ہے۔١٣.

دین سے سیاست کو جدا کرنے کا مطلب یہ ہو گاکہ اصلاً دین نہیں ہے جبکہ دین کے احکام چونکہ انسان کیلئے آئے ہیںاور گذشتہ بحث کے مطابق انسان مدنی با لطبع ہے یعنی اس کی زندگی معاشرتی تعلقات اور لین دین پر موقوف ہے ۔نیز معاشرتی زندگی گزارنے میں غالبا مختلف اورمتضاد خواہشات کے زیر اثر قرار پاتا ہے تو کیسے ممکن ہے اسطرح کے انسان کیلئے خدا وہ قانون نازل نہ کرے جو اس کی معاشرتی زندگی کی بقا میں موثر ہوں اور اس کی متضاد خواہشات کو کنٹرول نہ کرے اس مطلب سے انکار کرنا انسان کو شتربے مہار سمجھنے کے مترادف ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ دین صرف روحانی ہدایت کیلئے احکام صادر کرتا ہے اور باقی احکام خود انسان وضع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ انسان پھر خالق ہے مخلوق نہیں کیونکہ تمام احتیاجات سے آگاہی صرف خالق کو ہوسکتی ہے۔

پس ثابت ہوا کہ تمام احکام اجتماعی و سیاسی و عبادی کے وضع کرنے کا حق صرف اللہ تعالی کو ہے جو دین کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہیں ۔پھر ان قوانین کو نافذ و اجرا کرنا بھی اللہ تعالی کا حق ہے تاکہ جس مقصد کیلئے قوانین وضع کیے ہیں وہ ضائع نہ ہو ،اور مقصد، انسانی خواہشات کو تعادل میں لانا اور ہر ایک کو اس کی اپنی حدود میں رکھنا ہے تاکہ ایک دوسرے پر ظلم نہ ہونے پائے اور کسی کا حق ضائع نہ ہوجائے۔

اگر احکام الہی کو نافذ کرنے والا حاکم عادل ، موجود نہ ہو تو الہی قوانین بدل جائیں اور دین میں بد عتوں کا رواج بڑھ جائے گا۔اسی دلیل کی بنا پر مسلمانوںحتی غیر مسلموں کے درمیاں بھی اس بارے میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں تھی اور نہ ہے کہ اسلام ایک خاص نظام حکومت کا حامل دین ہے اور مدینہ منورہ میں پیغمبر اسلام ۖ کے ذریعے حکومت کی تشکیل اس نظام کا ایک مصداق ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ جب”علی عبد الرزاق”نے١٣٤٣ھ میں مملکت مصر میں”الاسلام و اصول الحکم”کتاب لکھ کر حکومت نبوی ۖ کا انکار کرتے ہوئے ادعا کیا کہ آنحضرت ۖ صرف خدا کے پیغمبر تھے اور انہوں نے کبھی حکومت کی تشکیل کیلئے کسی قسم کا اقدام نہیں کیا ،تو تمام دنیا کے سنی علماء نے اس کے خلاف کفر کا فتوی ٰصادر کر دیا۔١٤. کیونکہ پیغمبر اکرم ۖ کے ذریعہ معاشرے کی ولایت و حکومت کیلئے کیے گئے علمی اقدامات کے بارے میں ایسے دلائل و برہاں موجود ہیں جن کا انکار صاحبان عقل و دانش کیلئے ناممکن ہے ۔

شیعہ عقیدے کے مطابق پیغمبر اکرم ۖ نے نہ صرف حکومت اسلامی تشکیل دی بلکہ اس حکومت کے استمرار کیلئے اپنا خلیفہ بھی معین فرمایا ۔یہ استعمار کا پروپکنڈہ ہے کہ اسلام میں حکومت و سیاست کا کوئی عمل دخل نہیں تاکہ اسطرح مسلمانوں کا استحصال کر سکیں ۔

حضرت امام خمینی اس سلسلے میں فرماتے ہیں :”استعماری طاقتوں نے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اسلام، حکومت کا حامل نہیں ہے حکومتی نظام اس کے پاس نہیں ہے اور اگر ہم مان بھی لیں کہ اس کے پاس کچھ احکام ہیں تو قوة مجریہ نہیں ہے ۔

مختصر یہ کہ اسلام صرف قانون بنا سکتاہے ۔ظاہر ہے اس قسم کے پروپیگنڈے ان کی سیاست کا ایک جزء ہیں اور یہ اس لیے ہیں کہ مسلمان ، سیاست اور سیاست کی بنیاد سے الگ رہیں اور یہی چیز ہمارے سیاسی عقیدہ کے خلاف ہے ۔ہم ولایت پر عقیدہ رکھتے ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت رسول اکرم ۖ کو اپنا خلیفہ معین کرنا چاہیے اور انہوں نے معین بھی کیا۔١٥.

ولایت فقیہ

گذشتہ ابحاث میں بیان ہوا کہ اسلامی تہذیب و ثقافت میں معاشرے کیلئے ایک حاکم کی کتنی ضرورت ہے اور خدا کے علاوہ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ حاکمیت کا حق رکھتا ہو ۔ انسان کی پوری ہستی خداوند عالم کی مرہون منت ہے اس لیے یہی سزاوار ہے کہ وہ خدا کے اوامر و نواہی کا بے چون و چرا مطیع و فرمانبردارہو۔١٦

اب اگر خدائے تعالی ہم سے کسی خاص شخص یا گروہ کی اطاعت کا مطالبہ کرے تو ہم بھی اس کے حکم کی اطاعت کریں گے یا اگر اس نے حاکم کیلئے کچھ شرائط بیان فرمائے اور اس شخص کے تعین کیلئے واجد شرائط افراد میں سے مناسب ترین فرد کے انتخاب کا اختیار ہم کو دیدیا تو اس صورت میں بھی ہم خدا کے مطیع ہوں گے۔

حقیقی اور بالذات ولایت ، اللہ کیلئے ثابت ہے اور عقل حکم کرتی ہے کہ اس کی اطاعت واجب اور مخالفت حرام ہے اور اس میں کوئی شریک نہیں :

”اللہ ولی الذین امنوا یخرجھم من الظلمات الی النور”

] صاحبان ایمان کاولی صرف اللہ ہے وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آتا ہے[ ١٧

البتہ خود اللہ تعالی نے اس ولایت کاایک درجہ اپنے رسول ۖ یا بعض انبیاء کو نیز شیعہ مکتب فکر کے نزدیک ائمہ معصومین کو بھی تفویض کیا ہے۔

لہذا یہ حضرات بھی اس ولایت اعطائی ]خدادادی [ کی بنا پر واجب الاطاعت ہیں ۔پس بالذات ولی اللہ ہے لیکن ایک طولی سلسلہ کے تحت رسول ۖ و نائبین رسول ۖ بھی ولایت کے حامل ہو سکتے ہیں۔

ارشاد رب العزت ہے :”ومن یتولی اللہ ورسولہ والذین امنوا فان حزب اللہ ھم الغالبون”

]اور جو بھی اللہ ،رسول اور صاحبان ایمان کو اپنا ولی (سرپرست)بنائے گا تو (اللہ کی جماعت میں شامل ہو جائگا اور )بے شک اللہ ہی کی جماعت غالب آنے والی ہے [١٨

اس آیہ مجیدہ کی رو سے ”ولایت الہی”کے طول میں خدا کے علاوہ اسی کے اذن سے جہاں اس کا رسول ۖ ولایت رکھتا ہے وہیں صاحبان ایمان کو بھی ولایت حاصل ہے۔البتہ ”الذین امنوا”کا بارز مصداق آئمہ معصومین ہیں ۔لیکن معصومین کی غیبت میں ان کے نائبین بھی ”امنوا” کا ادنی مصداق قرار پاتے ہوئے ولایت کے حامل ہو سکتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ حزب اللہ میں شمولیت کیلئے جہاں اللہ کی ولایت پر ایمان ضروری ہے وہیں اس کے رسول اور صاحبان ایمان کی ولایت پر ایمان بھی لازمی ہے۔

شیعہ مذہب کے اصول میں کلی طور پر جو خاص اہمیت امامت کو حاصل تھی اور ہے وہ اس امر پر مبنی ہے کہ یہ حکومت جو رسول ۖ خدا کے ذمہ تھی ،آپۖ نے اپنے بعد اسے ائمہ اہل بیت کو سونپی اس لحاظ سے شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ رسول خدا ۖ مقام نبوت و رسالت کے علاوہ منصب امامت پر بھی فائز تھے ۔ منصب نبوت ،عالم تکوینی و تشریعی میںاسرار الہی سے آگاہی کا منصب ہے اور منصب رسالت ، خداکی طرف سے ایسے پیغمبر کو حاصل ہوتا ہے جو اس پر مامور ہو کہ جو کچھ وہ جانتا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دے اور ان کی ہدایت کرے، منصب امامت کے معنی حکومت اور معاشرے میں نظم بر قرار کرنے کے ہیں ۔١٩

خداوند متعال جب کسی کو ولایت دیتا ہے تو اسکی اطاعت کو بھی واجب قرار دیتا ہے البتہ بالذات واجب الاطاعت، صرف خداکی ذات اقدس ہے لیکن اگر کسی کی اطاعت کو خدا واجب قرار دے تو اذن الہی کی وجہ سے وہ بھی واجب الاطاعت قرار پائے گا۔ارشاد رب العزت ہے :

”اطیعو اللہ و اطیعو الرسول و اولی الامرمنکم”

]ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تمیں سے ہیں[٢٠

اس آیت کے ضمن میں امام خمینی فرماتے ہیں کہ خدا نے اس آیت میںقیامت تک حکومت اسلام کی تشکیل کا حکم صادرفرمایاہے،اور واضح ہے کی ان تین کے علاوہ کسی کی اطاعت کو واجب قرار نہیں دیا نیز امت اسلامی پر اولو الامر کی اطاعت کو واجب قرار دیا ہے جس کا معنی یہ ہے کہ ہر زمانے میں ایک حکومت اسلامی ہو تاکہ ہرج و مرج لازم نہ آئے۔٢١

”ولایت ”کے لغوی و اصطلاحی معانی پر ایک نظر

ولایت عربی زبان میں مادة”ول ی” سے ہے اور عربی زبان کے ماہرین لغت کے بیان کے مطابق یہ مادہ یکتا اور ایک معنی کا حامل ہے ۔ ولی کے اصل معنی ”نزدیکی ”اور ”قریب ”کے ہیں ۔لفظ”مولی ” اسی ”ولی”سے مشتق ہے بعض نے اس کے ٢٧ معانی ذکر کیے ہیں لیکن وضع ایک کیلئے ہوا ہے باقی معانی میں اسی اصل مناسبت ]قرب [کی وجہ سے استعمال ہوتا ہے۔

لغت کے لحاظ سے یہ ”قربت” دو طرفہ ہے یعنی جب کہا جائے ”ولیہ”]وہ اس کے قریب ہے [

تو اس کا مطلب لغوی طور پر یہ ہو سکتا ہے کہ اگر یہ اس کے نزدیک ہے تو وہ بھی اس کے نزدیک ہے ،لیکن قرآن کی نظر میں”ولایت ”سے مراد ایک خاص قسم کا قرب ہے ممکن ہے کہ ایک طرف سے قربت حاصل ہو لیکن دوسری طرف سے حاصل نہ ہو مثلا خدا مومن اور کافر دونوں کے قریب ہے لیکن مومن اپنے اعمال صالحہ کی بدولت خدا کے قریب ہے جبکہ کافر اپنے برے اعمال کی بنا پر خدا سے دور ہے ۔٢٢

”اولئک ینادون من مکان بعید” ]ان لوگوںکو بہت دور سے پکارا جائیگا[٢٣

لفظ ”ولی” کے تین معانی ذکر ہوئے ہیں۔١.دوست ٢.دوستدار ]خیر خواہ[ ٣.یاور ]مددگار[ ۔

ان کے علاوہ ” ولایت ” کے دو اور معنی بھی ذکر ہوئے ہیں ۔١.سلطنت وقہر و غلبہ ٢.قیادت و حکومت۔٢٤

اصطلاحی معنی

فقہی اصطلاح میں لفظ ولایت دو جگہوں پر استعمال ہوا ہے :

١.وہ مواقع جہاں پر مولّیٰ علیہ ]جس پر ولایت ہو[ اپنے امور کو چلانے کی قدرت نہ رکھتا ہو جیسے میت ،نادان،دیوانہ، نابالغ وغیرہ ایسے مواقع پر ولایت سر پر ستی کے معنی میں ہے۔

٢. وہ مواقع جہاں مولّیٰ ]جس پر ولایت ہو [ اپنے امور کو چلانے کی قدرت رکھتا ہے اس کے باوجود کچھ ایسے امور ہیں جن میں کسی دوسرے شخص کی سر پرستی اور ولایت کی بھی ضرورت ہے ۔یہاں پر ”ولایت ” معاشرے کے مسائل اور امور کو ادارہ کرنے اور نظم قائم کرنے کے معنی میں ہے جو کہ وہی سیاسی ”ولایت”ہے ۔

اگرچہ فقیہ ولایت کے مذکورہ دونوں معنی کامالک ہوتا ہے لیکن اس بحث میں ولایت فقیہ سے مراد مذکور دوسری اصطلاح ہے کیونکہ جو فقیہ معاشرے کی ولایت کا حامل ہوتا ہے در حقیقت وہ اس معاشرے کے تمام افراد حتی تمام فقہاء اور خود اپنی ذات پر بھی ولایت رکھتا ہے۔٢٥

ولایت از نظر قرآن

لفظ ”ولی ”قرآن میں کئی مقامات پر استعمال ہوا ہے ۔بعض آیات میںواضح طور پر لفظ ”ولایت” حاکم و سر پرست کے معنی میںاستعمال ہواہے اور سیاق و سباق آیات سے بھی یہی معنی سمجھاجاتاہے مزید براں ان آیات کی تفسیر میں جو روایات وارد ہوئی ہیں ان میں بھی اسی مطلب کو بیان کیا گیا ہے ۔ذیل میں چند آیات کو ذکر کرتے ہیں

ِآیت اوّل۔

”النبی اولی بالمومنین من انفسھم وازواجہ امھاتھم”

] بیشک نبی مومنین کی جانوں پر خود ان سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہے اور نبی کی ازواج ان کی مائیں ہیں [٢٦

اس آیت میں استعمال شدہ لفظ ”اولی ”،”ولی” سے ہی مشتق ہے جس کے معانی زیادہ صاحب اختیار کے ہیں یعنی نبی اپنی امت کے ہر فرد سے زیادہ اولی باالتصرف ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اختیارات مومنین کو خود اپنے اوپر حاصل نہیں وہ نبی کو حاصل ہیں قانونی طور پر نبی من جانب اللہ تمام انسانوں کی جان و مال میں تعرف کا زیادہ حق دار ہے اسی وجہ سے اگر نبی کا حکم ہو تو جان خطرے میں ڈالنا بلکہ قتل ہو جانا بھی واجب ہے جبکہ یہ اختیار از خود نہیں ہے۔

معاشرتی نظام ،تزاحمات کا مجموعہ ہے بہت سے امور کا دوسرے امور سے ٹکراو کا امکان موجود رہتا ہے اس تزاحم اور ٹکراو کی کیفیت کے خاتمہ کیلئے معاشرے کے حاکم و سر پرست کو خدا نے یہ حق دیا ہے کہ وہ اجتماعی مصلحت کو ملحوظ رکھتے ہو ئے ایک ایسا حکم صادر کرسکتا ہے جو بعض شخصی مفادات کے ضائع ہونے کا موجب ہی کیوں نہ ہوتا کہ مصلحت بالاتر کو محفوظ رکھ سکے۔بعض اس حق اور ولایت کو چار قسم کے امور پر مشتمل سمجھتے ہیں ۔

١۔ نفس و جان پر حق تصرف

٢۔ مومنین کی مصلحتوں میں زیادہ حق تصرف رکھنا

٣۔ امور اجتماعی اور معاشرتی مسائل میں اولی بالتصرف ہوتا

٤۔ معاشرہ میں موجود ولایتوں پر بھی اولی بالتصرف ہونا ۔٢٧

 آیت دوم:

”انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا الذین یقیمون الصلاة ویوتون الزکاةوھم راکعون”

]تمہارا ولی تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں [٢٨.

اس آیہ کے ذیل میں”در منثور ”میں روایت نقل ہوئی ہے کہ ”ابن مردویہ ”نے عمار یاسر سے نقل کیا کہ علی نماز میں رکوع کی حالت میں تھے کہ ایک سائل نے سوال کیا تو حضرت علی نے اپنی انگوٹھی اتار کر اسے دیدی رسول اکرم ۖکو یہ خبر ملی تو یہ آیت نازل ہوئی (انماولیکم اللہ…..) حضرت رسول ۖ نے اپنے اصحاب کے سامنے یہ آیہ مجیدہ پڑھ کر سنائی پھر فرمایا :

من کنت مولاہ فعلی مولاہ اللّھم وال من والاہ وعاد من عادہ”٢٩

البتہ یہ روایت مختلف اصحاب رسول ۖ سے نقل ہوئی ہے جو معتبر کتب میں درج ہے۔بعض نے اس ”ولی” کے معنی میں بحث کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ مفہوم آیہ میں زیادہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف یہ دیکھا جانا چاہیے کہ عصر نزول قرآن میں لوگ اس آیہ سے کیا سمجھتے تھے چنانچہ شاعر رسول اللہ ۖ حسان بن ثابت کے اشعار آیت کے مفہوم کو سمجھانے کیلئے کافی ہیں ۔

علاوہ برین حضرت علی ـ انہی معنوں میں ولی ہیں جن معنوں میں اللہ اور اس کا رسول ۖ ولی ہیں کیونکہ ایک ہی استعمال میں لفظ کے دو معنی مراد لینا صحیح نہیں ہے۔ چنانچہ یہاں ولایت سے مراد حاکمیت اور سر پرستی ہے ،جو اللہ، رسول اور رکوع میں زکواةدینے والے سے مختص ہے ۔

اصول کافی میں حضرت امام جعفر صادق ـسے اس آیہ کے معنی میں ایک حدیث ذکر ہوئی ہے ،

”انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنوا……..قال :انما یعنی (اولی بکم)ای احق بکم و یامورکم وانفسکم واموالکم اللہ ورسولہ والذین امنوا ۔ ٣٠

ِآیت ٣

”من یتولی اللہ ورسولہ والذین امنوا فان حزب اللہ ھم الغالبون”

]اور جو اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کو اپنا ولی بنائے گا تو (وہ اللہ کی جماعت میں شامل ہوگااور) اللہ کی جماعت غالب آنے والی ہے[٣١

یہاں بھی ولایت سے مراد حاکمیت ہے کیونکہ ”حزب اللہ ”کے ذکر سے یہ قرینہ موجود ہے کہ اللہ کی حاکمیت اور ان نمایندوں کی ولایت و حاکمیت کے تحت انسان اللہ کی جماعت میں شامل ہو کر غلبہ حاصل کرسکتا ہے ۔ حکومت کا مقصد ہی معاشرتی اصلاحات کو نافذکر کے ایک عادلانہ نظام کا قیام ہے جس میں ہر قسم کے ظالم طاغوت کی نابودی کے انتظامات موجود ہوں لہذا ایسی حکومت ظالموں پر غالب آسکتی ہے جو الہی نظام کونافذ کرنے والی ہو۔

اس موضوع پر آیات کثیر تعداد میں موجود ہیں ملاحظہ ہو سورة احزاب (٣٣)آیت ٣٦ نیز سورہ نساء (٤)آیت ٦٥ جو کہ ولایت الٰہی کو پیغمر اکرم ۖکے لیے واضح طور پر ثابت کرتی ہیں ۔

مراتب ولایت

گذشتہ بحث میں معانی ولایت میںایک معنی ”حق تصرف”بیان ہوا لیکن حقیقت میں اس ”ولایت”کے بھی مراتب و درجات ہیں مرتبہ کامل واکمل صرف اللہ تعالی کی ذات کو حاصل ہے اس کے بعد بعض انبیاء مخصوصا آنحضرت ئۖ اور ائمہ معصومین کا مرتبہ آتا ہے ۔ معصوم کے زمانہ غیبت میں فقیہ عادل بھی ولایت کے مرتبے پر فائز ہوتا ، جس کے اثبات کیلئے آئندہ بحث میں دلائل پیش کریں گے . کچھ مراتب ایسے ہیں جو واقع میں متحقق ہوتے ہیں جس میں پہلا مرتبہ ذاتی کمالات و صفات ہے جو کسی جعل و اعتبار کرنے سے حاصل نہیں ہوتے دوسرا مرتبہ وہ ہے جن کو کوئی جعل کرتا ہے ایسے شخص کیلئے جن میں یہ صفات پائی جاتی ہوں جیسے حضرت پیغمبر ۖ اور ائمہ معصومین خدا کی جانب سے ولایت کی صفات کے مالک ہونے کی بنا پر والیان بر حق بنائے گئے۔تیسرا مرتبہ وہ ہے کہ ایک شخص کو عوام اور امت بھی اس منصب ولایت پر قبول کرے جیسے حضرت امیر کو حضرت عثمان کے بعد ولایت و خلافت وامامت کے عہدے پر قبول کیا گیا۔٣٢

لہذا ہر دور میں کوئی نہ کوئی ولی من جانب اللہ ضرور موجود ہوتا ہے جو صفات ولایت کا حامل ہوتا ہے لیکن بعض اوقات نہ پہچاننے کی وجہ سے یا مادی اغراض و مفاصد کی بنا پر امت قبول نہیں کرتی جس کے نتیجے میں معاشرہ الہی ولایت و حاکمیت سے محروم ہو جاتا ہے ۔معاشرہ کی اصلاح کیلئے صرف قانونی مجموعہ کافی نہیں ہوتا بلکہ قانون اسی وقت اصلاح معاشرہ اور انسانی سعادت کا ضامن ہوسکتا ہے۔

جب قوت مجریہ و ہیئت حاکمہ اس کی پشت پناہی کر رہی ہو،اس لیے خداوند عالم نے قانون بھیجنے کے ساتھ اسے اجرا کرنے کا مرکزی ادارہ ”حکومت ”لازمی قرار دیا۔

ابتداء میں اسلامی معاشرے کے اجرائی نظام کے سر براہ خود رسول اکرم ۖ تھے آپ جہاںچور، زانی کی سزا کا قانون بیان فرماتے وہیں اس چور کا ہاتھ بھی کاٹتے اور زانی پر حد جاری کرتے تھے ،یہی احکام کا اجرا اور نظام کی برقراری کا فریضہ تھا کہ آپ ۖ نے خلیفہ کے تعین کو اتنا اہم بنا دیا تھا کہ اس کے بغیر خدا کے نزدیک رسول ۖ نے کار رسالت ہی انجام نہ دیا ہوتا۔٣٣.نظام ،اسلام کو معاشرے میں باقی رکھتاہے تاکہ مسلمانوں کو دنیا و آخرت کی سعادت نصیب ہو جائے ۔

”ولایت فقیہ ”شیعہ فقہاکی نظر میں

”ولایت فقیہ ”کا مسئلہ اس مفہوم میں کہ اسلامی معاشرے کی حاکمیت و سر پرستی ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہو جو فقہ میں اجتھاد کے مرتبہ پر فائز ہو ، بعض لوگوں کے مطابق ، اسلامی تفکر کی تاریخ میں یہ ایک جدید مسئلہ ہے اور اس کا تاریخی سابقہ دو صدی سے بھی کم ہے ،لیکن یہ حقیقت کے خلاف کے ہے اس سلسلے میں ضروری ہے کہ اسلامی تفکر کی تاریخ پر ایک سرسری نظر کی جائے تاکہ حقیقت تک پہنچنا اسان ہو سکے ۔ شیعہ تاریخ تفکر میںنگاہ کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ اس مسئلہ کا سابقہ ابتداء اسلام سے ہے ۔

١۔مرحوم شیخ مفید(٣٣٣۔٤١٣ ھ)

چوتھی اور پانچویں صدی ہجری میں تاریخ شیعہ کے عظیم فقہاء میں سے ہیں وہ اپنی کتاب ”المقنعہ”کے باب امر باالمعروف و نہی از منکر میں جب امر بہ معروف و نہی از منکر کے مراتب بیان کرتے ہوئے اس کے عالی ترین مرحلہ یعنی قتل اور زخمی کرنے کے مرحلہ پر پہنچتے ہیں تو یوں بیان کرتے ہیں ۔

”ولیس لہ القتل و الجرح الا باذن سلطان الزمان المنصوب لتدبیر الانام”

”امربہ معروف و نہی از منکر کے سلسے میں شخص مکلف قتل کرنے یا زخمی کرنے کا حق نہیں رکھتا مگر یہ کہ اس کام کیلئے اسے لوگوں کے امور و مسائل کی تدبیر اور نظم کو برقرار کرنے کے لیئے منصوب شدہ سلطان و وقت کا حاکم اس کی اجازت دے۔” اس کے بعد مزید فرماتے ہیں :” اور حدود الہی کو نافذ کرنے کا مسئلہ خدا کی طرف سے منصوب شدہ اسلامی حاکم سے مربوط ہے، یہ آل محمد ۖمیں سے ائمہ ہدایت ہیں یا ان اماموںکی طرف سے مقرر و معین امیر یا حاکم ہیں اور ائمہ اطہار نے بصورت امکان اس سلسلے میں اظہار نظر کا اختیار شیعہ فقہا پر چھوڑا ہے۔ ٣٤

بظاہر شیخ مفید نے اس ولایت کو نواب خاص کے ساتھ مربوط کیا ہے جو امام کی جانب سے مشخص و معین صورت میں سیاسی امور کی انجام دہی کے لئے منصوب ہوتے تھے جیسے امام علی کے زمانہ میں مالک اشتر یا امام زمان کی غیبت صغری ٰمیں چار نواب خاص لیکن اگر غور کیا جائے تو شیخ مفید کی عبارت نائبین عام کو بھی شامل ہے۔

مرحوم شیخ مفید کے علاوہ سید مرتضی اور شیخ طوسی کے شاگرد ابو الصلاح حلبی (م٤٤٧ھ) اور ابن اوریس حلی (م٥٩٨ھ) نے مسئلہ ولایت فقیہ کے سلسلے میں ایک ایک فصل مخصوص کی ہے۔

٢. شیخ ابوا لصلاح حلبی

آپ رہبر کی صفات و شرائط کے ضمن میں لکھتے ہیں (امام کی نیابت کے شرائط یہ ہیں)

١۔ اس کو جو حکم دیا گیا ہو اس کا صحیح علم رکھتا ہو۔

٢۔ حکم کی نفاذ کی شائستہ طور پر طاقت رکھتا ہو۔

٣۔ عقل و غور و فکر اور حلیم و بردباری کا مالک ہو۔

٤۔ حالات پر گہری نظر رکھتا ہو۔

٥۔ حکم صادر کرنے میں انصاف ، عصمت اور دیانت کا مالک ہو۔

٦۔ حکم قائم کرنے اور اسے عملی جام پہنانے کی طاقت رکھتا ہو۔٣٥

ان کے علاوہ محقق حلی ، محقق کرکی، مقدس اردبیلی، ملا احمد نراقی، صا حب جواہر اور شیخ مرتضی انصاری وغیرہ جیسے عظیم فقہا ء شیعہ نے اس مسئلے کوواضح طور پر بیان کیا ہے۔ بلکہ صاحب جواہر تو اس مسئلہ کو بدیہیات و ضروریات میں شمار کرتے ہیں۔ صاحب جواہر فرماتے ہیں ابواب فقہ میں فقہا کے فتوے اور ان پر عمل سے ولایت فقیہ کی عمومیت کا استفادہ ہوتا ہے بلکہ ممکن ہے ان کی نظر میں یہ مطلب مسلمات اور ضروریات و بدیہات میں سے ہو۔٣٦

٣۔مرحوم صاحب جواہر

شیخ محمد حسن صاحب جواہر، ولایت فقیہ کے دائرہ اختیار کے بارے میں لکھتے ہیں، ” امام ـکا ظاہر قول جو آپ نے عمومی طور سے فقیہ جامع شرائط کے بارے میں فرمایا ہے (میں نے اسے تم لوگوں پر حاکم مقرر کیا ہے) ایسا ہے جیسے خاص مواقع پر امام کسی معین شخص کو نصب کرتے وقت فرماتے ہیں”۔مزید لکھتے ہیں سماجی اور سیاسی امور میں فقیہ کی وہی حیثیت ہے جو ان امور میں امام معصوم کو حاصل ہے۔اس لحاظ سے امام اور فقیہ میں کوئی فرق نہیں ۔ اگر فقیہ، معصوم کی نیابت عامہ کے حامل نہ ہوئے تو شیعوں کے تمام امور معطل ہو جاتے اس لیے جو فقیہ کی ولایت عامہ کے بارے میں وسوسہ انگیز باتیں کرتا ہے وہ ایسا ہے جیسے اس نے فقہ کو نہیں سمجھا۔ پھر فرماتے ہیں کہ ”مختصر یہ ہے کہ فقیہ کی ولایت عامہ کا مسئلہ اتنا واضح اور روشن ہے کہ کسی دلیل کا محتاج نہیں۔٣٧

٤۔شیخ مرتضی انصاری(م ١٢٨١ ھ)

مرحوم شیخ انصاری کتاب ”قضا” میں امام سے مربوط امور کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔

١۔ وہ امور جو خود اما م کا فریضہ ہے

٢۔ وہ امور جن میں امام ولایت رکھتا ہے۔

اس کے بعد فرماتے ہیں”پہلی قسم امام کے اپنے زمانے سے مربوط ہے لیکن دوسری قسم تمام زمانوں سے مربوط ہے اس کے بعد فقہا کے نصب کیے جانے کو دوسری قسم میں شمار کرتے ہیں اور فقہا کی ولایت کو غیبت کے زمانے میں ان کی حکومت کے طور پر ذکر کر تے ہیں ۔٣٨

٥۔امام خمینی( م ١٣٢١ھ ش)

حضرت امام خمینی کا اعتقاد یہ ہے کہ فقیہ، ولایت مطلقہ کا مالک ہے اس معنی میں کہ امام معصوم کی تمام ذمہ داریاں اور اختیارات، غیبت کے زمانے میں فقیہ جامع الشرائط کے عہدہ پر ہیں لہذا فرماتے ہیں ” جو کچھ بیان ہوا اس سے ہم یہ نتیجہ لیتے ہیں کی فقہاء ، ائمہ کی طرف سے ان تمام امور میں ولایت رکھتے ہیں جن میں آئمہ ولایت رکھتے ہیں۔٣٩

حضرت امام خمینی ایسے فقیہ ہیں جنہوں نے نہ صرف ولایت فقیہ کے مسئلہ پر مستقل دروس دیے بلکہ عملی طور پر اس نظریہ کے مطابق حکومت اسلامی کو قائم کر دیا جو ٣٠ سال سے استعماری طاقتوں کی سازشوں اور دشمنیوں کے باوجود متحکم انداز میں برقرار ہے۔

حضرت امام خمینی ، الفقہا حکام علی السلاطین کے جملے کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں بادشاہ اگر اسلام کے پابند ہو ں تو ان کو فقہا کی پیروی کرنی چاہیے اور قوانین و احکام کو فقہا سے پوچھنا چاہیے پھر اجرا کرنا چاہیے اس صورت میں حقیقی حاکم یہی فقہا ہوں گے لہذا ضروری ہے کہ حاکمیت باقاعدہ فقہاء سے مربوط ہو۔٤٠

ایک جگہ امام فرماتے ہیں اگر کوئی لایق فرد جس میں یہ دونوں صفتیں (علم و عدالت) ہوں اور اٹھ کھڑا ہو اور حکومت تشکیل دے تو یہ وہی ولایت ہو گی جس کے رسول اللہ، نظام معاشرہ چلانے کے سلسلے میں حامل تھے اور تمام لوگوں پر اس کی اطاعت لازم ہو گی۔٤١

ولایت فقیہ کے دلائل

گزشتہ ابحاث میں بیان ہو چکا ہے کہ ولایت و حاکمیت کا حق صرف اللہ تعالی کو حاصل ہے لیکن انسان کی محدودیت کی وجہ سے خدا وند اعالم اپنے احکامات اور قوانین کو ایسے شخص کے ذریعے سے معاشرہ تک پہنچائے گا جو یہ صلاحیت رکھتا ہو کہ ایک طرف سے اللہ تعالی سے پیغام وصول کر سکے اور دوسری طرف بغیر کمی بیشی کے (معصومانہ انداز میں) اس پیغام کوعوام الناس تک پہنچائے لہذا انبیا اور ائمہ معصومین اللہ کی جانب سے وہ معصوم نمائندے ہیں جو امت پر ولایت کا حق رکھتے ہیں اب سوال یہ ہے کہ عصر غیبت امام میں یہ حق کس کو حاصل ہے ؟دعوی ٰیہ ہے کہ یہ حق فقیہ عادل کو حاصل ہے جس پر عقلی اور نقلی ادلہ پیش کرتے ہیں۔

دلیل عقلی

جب یہ مسلّم ہے کہ معاشرے کو ایک حاکم اور قائد کی ضرورت ہے جونظم و ضبط برقرار رکھے وگرنہ مال و جان انسان خطرے میں ہے۔ پس ایک طرف حاکم اور رہبر کی ضرورت سے انکار نہیں اور دوسری طرف حکومت کے مسائل ایسے نہیں جو دین کے دائرے سے خارج ہوں بلکہ دین اسلام ایک جامع اور کامل نظام حکومت پیش کرتا ہے اور عقل نہ فقط یہ کہ حکومتی مسائل میں دین کے عمل دخل میں کوئی مشکل نہیں پاتی بلکہ حکمت کے تقاضے کے تحت اس کی ضرورت پر تاکید کرتی ہے۔اب اگرحکومت کو دین کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو عقل حکم کرتی ہے کہ ایسی حکومت کی قیادت و سرپرستی ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہو جو الہی احکام اور دینی فرائض سے آگاہ ہو اور لوگوں کی قیادت کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔

اگر لوگوں میں معصوم موجود ہو تو عقل اس منصب کیلئے اسی کو سزا وار جانتی ہے لیکن اگر معصوم لوگوںکے درمیان موجود نہ ہو تو عقل ایسے عادل اور فقیہ شخص کو معاشرے کی باگ دوڑ سبھالنے کیلئے حقدار سمجھتی ہے جس میں اس مقام کو سبھالنے کی لیاقت و صلاحیت موجود ہو دوسرے لفظوں میںعقل حکم کرتی ہے کہ ایک اعتقادی اور نصب العین پر مشتمل حکومت کی سر پرستی ایسے شخص کے ہاتھ میں ہونی چاہیے جو نصب العین سے آگاہ ہو نیز بغیر ذاتی خواہشات کی ملاوٹ کے اسے نافذ کرنے کا ذمہ دار ہو۔ اسلامی اصطلاح میں ایسے شخص کو فقیہ کہا جاتا ہے۔٤٢

بعض علماء نے اس دلیل کی یوں وضاحت کی ہے کہ ” فرض یہ ہے کہ خداوند متعال نے خکومت کو اصل میں پیغمبراور ائمہ معصومین کے لئے قرار دیا ہے لیکن زمانہ غیبت میں جب معصوم تک دسترس نہیں ہے (اورا س غیبت کا قصور وار بھی اسلامی معاشرہ ہے کہ جو امام معصوم کی قدر نہ کر نے کی وجہ سے اس مصیبت میں مبتلا ہوا) ایسی صورت میں نہ دین خدا کو تعطیل کیا جا سکتا ہے اور نہ حکومت کے بغیر کوئی چارہ ہے پس ایسے حالات و شرائط میں کہ جب حکومت کے لئے شائستہ فرد خدا کی جانب سے منصوب ہے لیکن عوام الناس اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تو اس کا کیا حل ہو ؟٤٣

لہذا ایسی صور ت میں عقل ہی حکم لگاتی ہے کہ مقام عصمت پر فائز شخص کی عدم موجودگی میں عصمت پر فائز شخص کے نچلے درجہ پر اکتفا کیا جاسکتا ہے نیز اگر عالم منصوص من اللہ تک رسائی نہ ہو پھر اس سے نچلے درجہ کے علم پر فائز شخص پر اکتفا کیا جاسکتا ہے۔ عصمت سے نچلہ درجہ عدالت اور علم منصوص سے نچلہ درجہ فقاہت ہے۔ پس ایک ”عادل فقیہ” اسلامی حکومت کا سربراہ ہو گا۔

دلیل نقلی

ولایت فقیہ کے ثبوت میں بہت سی روایات سے استفادہ کیا گیا ہے لیکن یہاں صرف دو کا ذکر کرتے ہیںجن روایات کی دلالت میں کوئی اشکال نہیں ہے ان میں سے ایک روایت یہ ہے:

روایت اوّل:

”قال امیرالمومنین: قال رسول اللہ اللھم ارحم خلفائی (ثلاث مرات) قیل یا رسول اللہ ومن خلفائک؟ قال: الذین یا تون من بعدی، یروون حدیثی و سنتی فیعلمو نھا الناس من بعدی۔٤٤

حضرت علی ـ نے فرمایا: رسول ۖ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا: خداو ندا!میرے خلفاء پر رحم فرما۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ آپ کے خلقاء کون ہیں؟ فرمایا: وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے میری سنت اور میری حدیث بیان کریں گے پھر میرے بعد لوگوں کو اس کی تعلیم دیں گے۔

امام خمینی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد اس کی تشریخ کی ہے جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ یہ جملہ (”فیعلمو نھا۔”)حدیث میں ہے ۔٤٥

تو جو لوگ صرف نقل حدیث کرتے ہیں اور اپنا فتوی نہیں دیتے وہ قطعا اس حدیث میں شامل نہیں ہیں حدیث صرف ان فقہاء کو شامل ہے جو علوم اسلامی کو وسعت دیتے ہیں، احکام اسلامی کو بیان کرتے ہیں تاکہ دوسروں کو تعلیم دیں ” یعلمو نھا الناس” کا یہی مطلب ہے کہ اسلامی احکام لوگوںکو تعلیم دیںاور ہم قائل ہوں کہ جملہ ”یعلمو نھا الناس” حدیث کے ذ یل میں نہیں تھا تو پھر دیکھنا ہو گا کہ رسول خد ا ۖ کے اس قول

”اللھم ارحم خلفائی۔۔۔ الذین یاتون من بعدی یروون حدیثی سنتی”

کا کیا مطلب ہے؟ اس صورت میں بھی روایت ان راویوں کو ہر گز شامل نہیں ہے جو فقیہ نہیں ہیں ،

کیونکہ سنن الہی تمام احکام سے عبارت ہے پس جو شخص سنن رسول ۖ کو عام کرے اس کیلئے تمام احکام الہی کا جاننا ضروری ہے وہ صحیح و غیر صحیح کی تشخیص کر سکتا ہو اطلاق و تقیید، عام و خاص اور جمع عقلائی کو جانتا ہو۔

ان کیلئے جو میزان معین کیا گیا ہے اس کو جانتاہو اور یہ چیز صرف مجتھد و فقیہ ہی کیلئے ممکن ہے جو تمام جوانب و قضایائے احکام کو تولے اور اس میزان کے مطابق جو اسلام اور ائمہ نے معین کیا ہے اسلام کے واقعی احکام کو حاصل کرے یہ لوگ رسول خدا کے خلیفہ میں اور پیغمبر اکر م ۖ نے ان کے حق میں دعا کی ہے

”اللھم ارحم خلفائی”۔

اس لیے اس میں کوئی شک نہیں کی روایت، ان روایان حدیث کو ہر گز شامل نہیں جو حکم کاتب میں ہیں۔

ایک کاتب، لکھنے والا خلیفہ رسول نہیں ہو سکتا۔

خلفاء سے مراد فقہائے عادل ہیں کیونکہ اگر عادل نہ ہوں تو ان قضات کی طرح ہوں گے جو اسلام کے خلاف روایات گھڑتے تھے اگر وہ لوگ فقیہ نہ ہوئے تو یہی نہ سمجھ پائیں گے کی فقہ کیا ہے اور حکم اسلام کیا ہے؟ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایسی روایات کو عام کردیں جو ظالموں کے عملہ، درباری ملائوںاور بادشاہوں کی تعریف میں وضع کی گئی ہوںاگر یہ لوگ اہل روایت اور دین شناس ہوتے تو ان کثیر روایات پر عمل کرتے جوظالموں کے خلاف آئی ہیں اور اگر مان لیا جائے کہ اہل روایت ہیں تو پھر عادل نہیں ۔

اب رہی حدیث تو ولایت فقیہ پر اس کی دلالت بغیر کسی شک کے واضح ہے، اس لیے کہ خلافت کا معنی کوئی امرمجہول نہیں تھا جس کے بیا ن کی ضرورت ہوتی اور خود سائل نے بھی خلافت کا مطلب نہیں پوچھاتھا بلکہ اس کا مطلب، اشخاص (مصادیق خلافت) کو پہچاننا تھا اور رسولۖ نے اس کا صفت کے ساتھ تعارف کرا دیا۔٤٦

اس روایت کے ”ولایت فقیہ” پر دلالت کی وضاحت میںاس نکتہ پر غور کرنا ضروری ہے کہ نبی اکرم ۖ تین مقام و منزلت کے مالک تھے:

١۔ رسالت:آیات الہی کی تبلیغ، شرعی احکام کو لوگوں تک پہنچانا اور لوگوں کی راہنمائی کرنا۔

٢۔قضاوت: اختلاف کی صورت میں فیصلہ کرنا اور دشمنی کو دور کرنا۔

٣۔ اسلامی معاشرے کی قیادت و حکومت اور اس کی تدبیر۔

اس وضاحت کے تناظر میں فقہا ئ،مذکورہ بالا تمام حیثیتوں میں پیغمبر کے جانشین نہیں جن کے پیغمبر مالک تھے۔٤٧

روایت دوّم:

یہ روایت ایک توقیع٤٨شریف ہے جس سے استدلال کیا جاتا ہے ۔

مرحوم صدوق نے اسحاق بن یعقوب سے نقل کیا ہے کہ اس کے مطابق حضرت ولی عصر نے اسحاق بن یعقوب کے سوالات کے جواب میں اپنے دست مبارک سے تحریر فرمایا:

”اما الحوادث الواقعہ فار جعوا فیھا الی رواةحدیثنا فانھم حجتی علیکم وانا حجةاللہ علیھم”

سند کے لحاظ سے یہ روایت اسحاق بن یعقوب تک قطعی ہے ۔اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیسے معلوم ہوا کہ اسحاق بن یعقوب نے کوئی توقیع حاصل کی ہے شاید اس سلسلے میں جھوٹ بولا ہو تو ہم جواب میں کہیں گے :

کلینی نے جو یہ توقیع نقل کی ہے ، وہ ضرور اسے مورد اعتماد جانتے تھے ۔ورنہ ہر گز ایسا قدم نہ اٹھاتے اس روایت سے استدلال کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ حضرت امام زمان نے ان دو جملوں

”فانھم حجتی علیکم”و ”انا حجةاللہ”

کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ آپ کی حدیث کے راویوں کی حجیت امام کی اپنی حجیت کے مانندہے۔یعنی فقہائ، لوگوں میں امام زمان کے نائب و جانشین ہیں اب اگر توقیع کے صادر ہونے کے زمانہ (غیبت صغری) کو ہم مد نظر رکھیں اور اس امر پر غور کریں کہ آپ اس دوران شیعوں کو غیبت کبری کیلئے آمادہ کر رہے تھے اور حقیقت میں اپنی آخری فرمائشیں اور احکام صادر فرما رہے تھے تو ہمیں واضح طور پر معلوم ہو جائیگا کہ یہ روایت زمانہ غیبت کیلئے ہے اور یہ روایت شیعہ فقہاء کو تمام امور ، من جملہ اسلامی معاشرے کی حکومت میں امام زمانہ کا جانشین قرار دیتی ہے۔٤٩.روایت کا مفہوم یہ ہے کہ ”جب تمہیںحوادثات زمانہ پیش آجائیںتو ہمارے راویان حدیث کی طرف رجوع کرنا کیونکہ یہ میری طرف سے تمہارے لیے حجت ہیںاور میں اللہ کی طرف سے ان پر حجت ہوں،لفظ ”حوادث”سے پتا چلتا ہے کہ یہ معمولی مسائل نہیں جن کیلئے صاحب فتوی کی طرف رجو ع کرنا ہوتا ہے بلکہ ”حوادث”ان بڑے پیچیدہ مسائل کو کہا جاتا ہے۔

جن کے حل کیلئے ایک فقیہ اور مدبر شخص کی ضرورت ہوتی ہے یعنی امام کی نظر میں حکومتی سطح کے مسائل میں فقیہ عادل مرجع اور راہبر ہوگا۔ اس روایت میں ”حجت” سے مراد دیگر تمام موارد کی طرح ایسی چیز ہے جس سے احتجاج واستدلال کیا جاسکتا ہے امام حجت خدا ہیں اب اگر وہ کچھ فرمائیں اور لوگ اس پر عمل نہ کریں تو خداوند متعال امام کے ارشاد کے ذریعہ اس کی مخالفت کرنے والوں پراحتجاج کرے گا اور وہ لوگ اس مخالفت کے مقابلہ میں کوئی عذر و بہانہ پیش نہیں کر سکتے ۔ اسی طرح اس حکم کی اطاعت کرنے والے اپنے عمل کی توجیہ میں استدلال کرسکتے ہیں ۔

…………………………………………………………………………….

حوالہ جات

١۔الحدید (٥٧)/٢٥

٢۔الفرقان(٢٥)/٤٤

٣۔الحجر(١٥)/٢٨،٢٩

٤۔السجدہ(٣٢)/٩

٥۔الشمس(٩١)/٧،٨

٦۔ہادوی تہرانی، مہدی/ولایت و دیانت. ص١٩

٧۔مصباح یزدی،محمد تقی /حکومت اسلامی و ولایت فقیہ، ص٣٩

٨۔التوبہ (٩)/٣١

٩۔امام خمینی ،روح اللہ/حکومت اسلامی . ص٢٠،٢١ (تلخیص)

١٠۔علامہ مجلسی،محمد باقر /بحار الانوار. ج٤ ص٦٠

١١۔الانعام(٦)/٦٢

١٢۔الکھف(١٨)/٢٦

١٣۔منتظری،حسین علی/ولایت الفقیہ. ج١ ص٢٨

١٤۔ہادوی تہرانی، مہدی/ولایت و دیانت. ص٣٣

١٥۔امام خمینی،روح اللہ/حکومت اسلامی.ص٢٧،٢٨

١٦۔جوادی آملی،عبد اللہ/ولایت الفقیہ.ص٢٩

١٧۔البقرہ(٢)/٢٥٧

١٨۔المائدہ(٥)/٥٦

١٩۔ہادوی تہرانی،مہدی/ولایت و دیانت.ص٤١

٢٠۔النسائ(٤)/٥٩.

٢١۔امام خمینی،روح اللہ/کشف اسرار.ص١٠٩.

٢٢۔جوادی آملی، عبد اللہ/ولایت فقیہ.ص

٢٣۔الصف(٤١)/٤٤

٢٤۔ ہادوی تہرانی،مہدی/ولایت و دیانت .ص٦٦

٢٥۔ایضاً ص٦٧

٢٦۔الاحزاب(٣٣)/٦

٢٧۔منتظری،حسین علی/ولایت الفقیہ.ج١ ص٣٨ (تلخیص)

٢٨۔المائدہ(٥)/٥٥

٢٩۔الدر المنثور/ج٢ ص٢٩٣(نقل از ولایت الفقیہ /منتظری.ج١ ص٦٣)

٣٠۔کلینی، محمد بن یعقوب/ج١ ص٢٨٨(کتاب الحجہ، باب مانص اللہ و رسولہ علی الائمہ حدیث٣)

٣١۔المائدہ(٥)/٥٦

٣٢۔منتظری،حسین علی /ولایت الفقیہ.ج١ ص٧٨

٣٣۔امام خمینی،روح اللہ/حکومت اسلامی ص٣٣.

٣٤۔ہادوی تہرانی،مہدی/ولایت و دیانت ص٧١.

٣٥۔ابو الصلاح حلبی/الکافی فی الفقہ ص٤٢٣(نقل از ولایت و دیانت ص٧٩)

٣٦۔نجفی،محمد حسن/جواہر الکلام.ج١٤ ص١٧٨

٣٧۔ایضاً ج٢١ ص٣٩٥۔٣٩٧(تلخیص)

٣٨۔شیخ انصاری،مرتضے/کتاب القضاء والشہادات ص٣٤٣،نقل از ولایت و دیانت ص٨٩

٣٩۔امام خمینی،روح اللہ/کتاب البیع.ج٢ ص٣٨٨،نقل از ولایت و دیانت ص٩٣

٤٠۔امام خمینی، روح اللہ/حکومت اسلامی ص٥١

٤١۔ایضاً ص٥٣

٤٢۔ہادوی تہرانی،مہدی/ولایت و دیانت ص٩٨

٤٣۔مصباح یزدی،محمد تقی/حکومت اسلامی و ولایت فقیہ ص١٥٦

٤٤۔الحر العاملی، وسائل الشیعہ.ج١٨ ص٦٥

٤٥۔کیونکہ یہ روایت کئی ایک راویوں سے نقل ہوئی ہے اور بعض نے اس جملہ کو نقل نہیں کیا.

٤٦۔امام خمینی،روح اللہ/حکومت اسلامی ص٦٢۔٦٦.

٤٧۔ہادوی تہرانی،مہدی/ولایت و دیانت ص١٠٠.

٤٨۔توقیع کے معنی لغت نامہ کے اوپر نشان لگانے کے ہیں ۔کسی فرمان یا نامہ پر نشان لگانے یا بادشاہ کے دستخط کرنے کو بھی توقیع کہتے ہیں معصومین کے ہر نامہ کو خاص کروہ خطوط جو امام زمانہ کی طرف سے صادر ہوں اور نواب اربعہ میں سے کسی ایک نے اس کو حضرت حجت تک پہنچایا ہو وہ حدیث و تاریخ کی کتابوں میں توقیع کے نام سے مشہور ہیں۔

٤٩۔ہادوی تہرانی،مہدی/ولایت و دیانت ص١٠٤،١٠٥.

 

برصغیر کے شیعہ علماء وفقہا ئ

کے بارے میں لکھی جا نے والی کتب کی فہرست

سید حسین عارف نقوی اسلام آباد

ذیل میں اُن کتابوں کی فہرست ہے جن میں شیعہ اثنا عشری علما ء و فقہا ء بر صغیر پاک و ہند کا تذکرہ ہے

ان کتب کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

حصہ اول :۔اُن غیر شیعہ مصنفین کی کتب جن میں ضمنا ً شیعہ علماء کا بھی تذکرہ موجود ہے

حصہ دوم:۔برصغیر کے علاوہ دیگر ممالک ایران ،عراق اور لبنان کے شیعہ مصنفین کی کتب جن میں

برصغیر کے شیعہ علما ء کا تذکرہ موجود ہے

حصہ سوم :۔بر صغیر کے شیعہ مصنفین کی شیعہ علما ء کے سوانح اور احوال و آثار پر کتب

حصہ چہارم :۔برصغیر کے شیعہ مصنفین کی کتب جو شیعہ علماء کے تذکرے پر مشتل ہیں

حصہ اول

١۔تذکرہ علمای ہند (فارسی ):رحمان علی

ڈاکٹر محمد ایوب قادری (م١٩٨٣ئ)نے اس کا اردو میں ترجمہ کیا اور حواشی میں اور کتنے ہی علما ء کا تذکرہ کر دیا

جن کا ذکر متن کتاب میں نہ آسکا تھا ۔مطبوعہ کراچی

٢۔نزہتہ الخواطر (عربی ):سید عبد الحی حسنی ،مطبوعہ حیدر آباد، دکن

٣۔تذکرہ علمائے پنجاب (جلد اول و دوم ):ڈاکٹر سفیر اختر ،مطبوعہ لاہور ١٩٨١ئ

٤۔فقہای ہند :مولانا محمد اسحاق بھٹی لاہور : ادار ہ ثقافت اسلامیہ

٥۔اردو نثر کے ارتقا ء میں علماء کا حصہ ۔شمالی ہند میں ١٨٥٧ء تک :ڈاکٹر محمد ایوب قادری

ڈاکٹر صاحب کا Ph.D. کا مقالہ، لاہور :ادارہ ثقافت اسلامیہ

٦۔وفیات ناموران پاکستان :پروفیسر محمد اسلم طبع اسلام آباد :مقتد رہ قومی زبان

٧۔خفتگان خاک گجرات :ڈاکٹر منیر احمد سلیج (ایم بی بی ایس )گجرات

٨۔رودِکوثر :ڈاکٹر شیخ محمد اکرام ،فیروز سنز لاہور،١٩٧٠ئ

زیر عنوان :شیعہ فرقے کا فروغ ۔اٹھارویں صدی میں شیعیت کا فروغ

دکن ،مرشد آباد ،عظیم آباد اور لکھنو کے اکا بر شیعہ علما ء

٩۔وفیات ناموران پاکستان :ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیج ،لاہور :اردو سائنس بورڈ

١٠۔وفیات اہل قلم۔ رخصت ہو جا نے والے پاکستانی اہل قلم کے کوائف و تواریخ وفات ،

١٥اگست ١٩٤٧ء تا اگست ٢٠٠٧ء اکادمی ادبیا ت پاکستان :ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیج

(١١۔١٢)خفتگانِ خا ک لاہور ،خفتگانِ کراچی :پروفیسر محمد اسلم ،طبع لاہور

حصہ دوم

١۔طبقات اعلام الشیعہ (عربی ):شیخ محمد محسن المعروف بہ آقائی بزرگ طہرانی طبع نجف اشرف و ایران

٢۔ریحانة الادب (فارسی ):محمد علی مدرس

٣۔تراجم الرجال(عزلی):السید احمد الحسینی مدظلہ

چار جلدیں ،٢٩٣٥ علما ء کا تذکرہ ،جن کا تذکرہ اس موضوع پر لکھی جا نے والی کسی بھی کتاب میں نہ آسکا تھا ،

مصنف نے جن علماء کاشیخیتکی طرف رحجان تھا ،اس حوالے سے ذکر کر دیا ہے ،طبع قم (ایران )،١٤٢٢ھ

٤۔مستد رکا ت ِ اعیان الشیعہ (عزلی ):حسن امینی مطبوعہ بیروت

٥۔معرفی صاحبان آثار حوزوی (حوزہ علمیہ قم )فارسی :عبد الحسین خُرو پناہ

٦۔دائرة المعارف التشیع (فارسی): قم ایران ١٣٨١ ھ ش

 

حصہ سوم

١۔بیسویں صدی کا مجدد اعظم ۔ناصر الملت مولانا سید ناصر حسین لکھنوی (م ١٣٦١ھ):محمد اصغر

٢۔ تاریخ سلطان العلما ء ۔مولا نا سید محمد بن سید دلدار علی: مولانا سید آغامہدی

٣۔تذکرہ ناصر الملت : مرزا احمد حسن (م ١٩٦٤ء )

٤۔سرکار سعید الملت ابن ناصر الملت :شہید صفی پوری

مولانا محمد سعید (م ١٣٨٧ھ )کے احوال و آثار

٥۔سوانح حیات غفر انما ب ۔مولا نا سید دلدار علی (م ١٨٢٠ء ):مولانا سید آغا مہدی

٦۔شمس التواریخ حصہ دوم : حکیم نواب علی خان

مصنف کے خاندانی حالا ت کے ساتھ ساتھ بیسیوں شیعہ علما ء وحفاظ کا تذکرہ بھی آگیا ہے ۔

٧۔نیرّین ۔شہید ثالث و ناصر الملّت : حافظ علی صابر

٨۔تجلیات۔ تاریخ مفتی محمد عباس (م ١٣٠٦ھ): مرزا محمد ہادی رسوا(م ١٣٥٠ھ )

٩۔جناب رضوان مآ ب ۔سلطان العلما ء مولانا سید محمد (م ١٢٨٤ھ ): علامہ سید علی نقی نقوی (م١٩٨٨ء )

١٠۔حیات فردوس مکان ۔مولانا سید محمد ابرا ہیم (م ١٣٠٧ھ ): مولانا سید احمد علامہ ہندی (م١٣٦٦ھ )

١١۔مرگ با شرف : ڈاکٹر عسکری بن احمد

مولانا مرزا احمد علی امر تسری (م ١٩٧٠ء )کے احوال وآثار

١٢۔ورثة الا نبیا ء : مولانا سید احمد علامہ ہندی

مولانا سید دلدار علی (م ١٢٣٥ھ )اور اُ ن کے اہل علم اخلاف کے حالات

١٣۔فاضل لکھنوی ۔احوال وآثار : سید حسین عارف نقوی

مو لانا سید مرتضی حسین (م ١٩٨٧ء )کے احوال و آثار ،طبع کراچی

١٤۔شیعیت ۔گلگت میں :۔ استاد غلام حسین انجم

ضمنا ً بعض ممتاز شیعہ علما ء کا تذکرہ بھی ہے

گلگت : خیر الناس ویلفیر ٹرسٹ، دنیور ،٢٠٠٦،٢٥٦ص

 

حصہ چہارم

١۔تذکرة الا تقیا ء فی تاریخ العلما ء (حصہ دوم )سید سلمان حیدر عابدی ،سید قرة العین مجتبیٰ:

مصنفین کے دادا مولانا سید محمد حسین نو گانوی (م ١٩٤٣ھ )صاحب تصانیف تھے

اُن کتابوں میں سے ایک انتہائی اہم کتاب

” تذکرہ بے بہا فی تاریخ العلماء ” ہے یہ کتاب برصغیر کے شیعہ علماء کے تذکرے پر مشتمل ہے

جن علما ء کے حالات زندگی اس کتاب میں نہ آسکے تھے اور اُن کی وفات کے بعد کے علما ء کے حالات زندگی کو

اس کتاب کی مجلّدات میں جمع کیا گیا ہے ۔اس حصے میںمولانا آزاد حسین تا مولا نا احفاد الحسنین کا تذکرہ ہے

یعنی کل ٥٠ علماء کا تذکرہ ہے کہ اس کے اور حصے بھی چھپ چکے ہیں لیکن میری نگاہ سے ابھی نہیں گزرے ۔

نو گانواں (ضلع مراد آباد ):دائرة الا شاعة جامعة المنتظر ،١٩٩٢ء ،٢٠٠ص

٢۔تذکرہ بے بہا فی تاریخ العلماء : مولانا محمد حسین نو گانوی

ہندو پاک کے ٢٩٠ شیعہ فقہا ء و علما کا تذکرہ، قطعات تاریخ وفات بھی اکثر علما ء کے درج کیے گئے ہیں

دھلی : کاظم بک ڈپو ،٤٥٠ص

٣۔تذکرہ علمائے امامیہ پاکستان: سید حسین عارف نقوی

٤٦٢علماء کا تذکرہ اس کتاب کا فارسی ترجمہ اسی نام سے ڈاکٹر محمد ہاشم نے کیا جسے آستانہ قد س مشہد ایران نے ١٩٩١ء میں شائع کیا ترجمہ نگار نے کئی اہم پیرا گراف کا ترجمہ چھوڑ دیا ہے ۔

اسلام آباد :مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان ،١٤٠٤ھ/١٩٨٤ء ،(٤٤+٦١٦)ص

٤۔تذکرہ علمائے امامیہ پاکستان (شمالی علاقہ جات ):سید حسین عارف نقوی

بلتستان ،گلگت اور استور کے ٣٦٧ علمائے شیعہ ،٣٦ علمائے نور بخشیہ اور ١٢ علمائے اسماعیلیہ کا تذکرہ،

اُن کی تصانیف کا ذکر اور شاعر ہونے کی صورت میںنمونہ کلام

اسلام آباد :امامیہ دارالتبلیغ ،’١٤١٥ھ/١٩٩٤ء ‘٢٢٣ص

٥۔خورشید خاور۔ تذکرہ علمائے ہندوپاک : علامہ سید سعید اختر رضوی

٣٧٦ علمائے ہندو پاک کاتذکرہ

گوپال پور : معارف پبلی کیشنز ضلع سیوان بہار (ہند )،١٤٢٢ھ/٢٠٠٢ء ،٣٤٨ص

٤۔مطلع انوار :مولانا سید مرتضیٰ حسین فاضل(م ١٩٨٧ئ)

٩٠٠ سے زیادہ علماء کا تذکرہ،اس کا فارسی ترجمہ اسی نام سے آستانہ قد س مشہد سے ١٤٠٧ھ میں چھپا ترجمہ

ڈاکٹر محمد ہاشم نے کیا تر جمے میں مستدرکات مطلع انوار جو مولانا سید سعید اختر رضوی مرحوم نے لکھا شامل ہے

کراچی : خراسان اسلامک سنٹر ،١٤٠٢ھ /١٩٨١/ء ٧٧٢ص

٧۔نجوم السما ء فی تراجم العلمائ(فارسی) : مرزا محمد علی کشمیری (م١٣٠٩ھ )

یہ کتاب پہلی مرتبہ ١٣٠٣ھ میںمطبع جعفریہ لکھنونے شائع کی اشاعت حاضر آیت اللہ سید شہاب الدین مرعشی کے مقدمہ بعنوان ”نبراس النور و الضیاء ” کے ساتھ شائع ہوئی ۔

قم: مکتبہ بصیرتی (ایران)’١٣٩٤ھ’ (١٤+٤٢٤) ص

٨۔نجوم السماء تکملہ (فارسی)حصہ اول:مرزا محمدمہدی لکھنوی کشمیری

سینکڑوں فقہاء پرمشتمل آیت اللہ سید شہاب الدین مرعشی کے مقدمے کے ساتھ پہلی مرتبہ شائع ہو ئی

قم :مکتبہ بصیرتی ،’١٣٩٧ھ’ ٤٧٧ص

٩۔نجوم السما ء تکملہ حصہ دوم : مرزا محمد مہدی لکھنوی کشمیری

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More