منکرین مہدی (عج) کی ضعیف دلیلیں

اہل مطالعہ و تحقیق جانتے ہیں کہ کتب اہل سنت میں احادیث ظہور حضرت مہدی(عج) اتنی زیادہ ہیں کہ جو بھی غیر جانب دارانہ اورانصاف کے ساتھ ان کی طرف رجوع کرے گا اسے اس بات کا یقین حاصل ہوجائے گا کہ ان سب کی دلالت اس بات پر ہے کہ وجود مہدی(عج) اسلام ومسلمین کے ان مسلم عقاید وموضوعات میں ہے کہ جن کا بیچ خود حضور پاک(ص) نے بویا، اورآئمہ علیہم ا

ہل مطالعہ و تحقیق جانتے ہیں کہ کتب اہل سنت میں احادیث ظہور حضرت مہدی(عج) اتنی زیادہ ہیں کہ جو بھی غیر جانب دارانہ اورانصاف کے ساتھ ان کی طرف رجوع کرے گا اسے اس بات کا یقین حاصل ہوجائے گا کہ ان سب کی دلالت اس بات پر ہے کہ وجود مہدی(عج) اسلام ومسلمین کے ان مسلم عقاید وموضوعات میں ہے کہ جن کا بیچ خود حضور پاک(ص) نے بویا، اورآئمہ علیہم السلام اور اصحاب کرام نے ان کی آبیاری کی ہے ، لہذا یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ وجود ظہور حضرت امام مہدی(عج) کے بارے میں متون اسلامی میں جتنی حدیثیں وارد ہوئیں ہیں اتنی احادیث کسی اورموضوع کے بارے میں وارد نہیں ہوئیں ہیں ، واضح رہے ابتداءبعثت سے حجة الوادع تک پیغمبر اکرم(ص) نے سینکڑوں مرتبہ حضرت مہدی (عج) کے بارے میں گفتگو کی ہے ، اورعہد رسول اکرم(عج) سے ہی لوگ ان کے انتظار میں دن گنتے تھے یہاں تک کہ کبھی تو بعض لوگ کسی کو اس کا حقیقی مصداق سمجھ بیٹھے تھے، ان سے متعلق شیعہ وسنی دونوں راویوں نے احادیث نقل کی ہے، ان کے رایوں میں عرب، عجم ، مکی ومدنی ،کوفی بغدادی، بصری، قمی ، کرخی، بلخی ، خراسانی ، وغیرہم شامل ہیں ، کیا ان ہزاروں سے زائد احادیث کے باوجود کوئی مسلمان وجود مہدی(عج) کے بارے میں شک کرے گا اوریہ کہے گا کہ یہ احادیث متعصب شیعوں نے جعل کر کے پیغمبراکرم(عج) کی طرف منسوب کردیں ہیں ؟؟

ان واضح حقائق کے مقابلے میںحضرت مہدی(عج) کی شخصیت کے بارے میں شکوک وشبہات ایجاد کرنا اور آپ کی شخصیت کو کسی ایک فرقے سے منسوب کرنے کی کوشش واقعیت پر پردہ ڈالنا ہے، اسلام کے ایک بنیادی عقیدہ کو دبانا اوراسلام کو ضعیف کرنا ہے ، اورآج کی حالت کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے ، یہ منفی پڑوپیگینڈہ یقینا ، جہل کی بنیاد پر نہیں علم کی بنیاد پر کیا جارہا ہے ، اس مذموم پروپیگینڈے کا اصل مرکز دنیا کے کسی اورگوشے میں ہے، جسے برصغیر بالخصوص وطنِ عزیز پاکستان میں بھی پھلانا چاہتے ہیں جس سے غافل نہیں رہا جاسکتا، اس سلسلے میں کچھ توضیحات دیں گے تاکہ جوانان اسلام زیادہ سے زیادہ اسلام دشمن عناصر کی حقیقت اوران کے ناپاک عزائم سے آشنا ہوسکیں ۔ ہم یہا ں امام مہدی (عج) کے منکرین کی کچھ ضعیف دلیلوں کو بیان کرتے ہیں تاکہ قارءین پر واضح ہو کہ امام زمانہ کے منکر کیسی ناپاک سازشوں میں مصروف ہیں: منکرین عقیدہ مہدویت کی دلیل : پہلا سبب عبداللہ بن سبا کچھ اہل سنت کے نام نہاد لوگوں نے اپنی معتبر حدیثوں کی کتب میں امام مہدی (عج) پر سینکڑوں احا دیث اور باب المہدی یا کتاب المہدی جیسے عناوین کو نظر انداز کرتے ہویے ڈھٹایی سے یہ کہنا شروع کر دیا کہ عقیدہ مہدویت صرف شیعہ عقاید میں سے ہے اور انہوں نے اس عقیدے کو دوسرے مذاہب خصوصاً یہودیوں سے لیا ہے، یعنی صدر اسلام میں مادی فوائد کے حصول اوراسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی غرض سے یہودیوں کی ایک جماعت نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنے مخصوص مکر وفریب سے مسلمانوں کے درمیان مقام بنالیا تھا، جس کا مقصد مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اندازی اپنے عقاید کی اشاعت اورمسلمانوں کے استحصال کے علاوہ کچھ اورنہ تھا ، ان ہی میں سے ایک ” عبداللہ بن سبا“ ہے جس کوان کا نمایاں فرد تصور کرنا چاہے ،پس اس عقیدے کی ترقی کے دو سبب ہیں ۔ ۱۔ بیرونی سبب ۲۔ اندرونی سبب ۔ چنانچہ المہدی فی الاسلام کے مصنف لکھتے ہیں : ” کانت الشیعہ الفرق الاسلامیہ الی التعلیق بہٰذہ الاسطورة الّتی ترتکز فی وجود ہا عاملین ، خارجیّ یہودی وقد دخل ہذا العامل الیہودی البیئة الاسلامیہ علی ید عبداللہ بن سبا“( المہدیہ فی الاسلام سعد حسن ، ص ۴۸۔ ۶۰ الشیعہ والتشیع احسان ظہیر الہی، ص ۳۷۸ کے بعد) ہمارا جواب ان کے اس دعوی کی صرف ایک ہی دلیل ہے اوروہ ایک ضعیف تاریخی روایت ہے جس کو جناب” طبری “نے سب سے پہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More