مرجع تقلید کے ہوتے ہوئے ولی فقیہ کی ضرورت کیوں؟

بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہر انسان کا اپنا مرجع ولی فقیہ بھی ہے اور دوسری طرف سے یہ سوال عالم طور پر اٹھتا ہے کہ جب مرجع تقلید موجود ہے تو ولی فقیہ کی کیا ضرورت ہے؟ یہاں اسی موضوع کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ترجمہ: ف۔ح۔مہدوی

مرجع تقلید کے ہوتے ہوئے ولی فقیہ کی ضرورت کیوں؟

بے شک ولایت ف‍قیہ کی کارکردگیاں بہت وسیع ہیں جبکہ مرجعیت کی کارکردگیاں محدود ہیں۔ مرجع کا کام بیان احکام ہے جبکہ تبلیغ دین اور دینی احکام بیان کرنے کے علاوہ ولی فقیہ کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں ان احکام کے عملی نفاذ کی ذمہ داری بھی نبھائے۔

یہاں ہم ابتداء میں معاشرے میں ولایت فقیہ کی ضرورت، ولایت فقیہ کے فلسفے اور اس کے فرائض (اور Function) کا جائزہ لیتے ہیں اور پھر مرجعیت اور ولایت فقیہ کے فرائض کے درمیان فرق کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

پہلا سوال: معاشرے کو سیاسی ‌زعامت اور ولایت کی ضرورت کیوں ہے؟
دوسرا سوال: اسلامی معاشرے میں یہ سیاسی زعامت جامع الشرائظ فقیہ کے لئے کیوں قرار دی گئی ہے؟

انسانی معاشرہ مختلف افراد سے تشکیل پاتا ہے؛ ہر فرد کے الگ الگ مفادات، دلچسپیاں اور ذائقے اور سلائق ہیں جو ایک دوسرے سے بالکل مختلف، متعارض اور بعض مواقع پر متضاد ہوتے ہیں چنانچہ اس کے لئے حکومت کی ضرورت ہے۔ انسانی معاشرہ ـ چاہے بہت مختصر اور ایک قبیلے یا ایک گاؤں میں رہنے والے افراد کی حد تک ہی محدود کیوں نہ ہو ـ نظام اور حاکمیت کا محتاج ہے۔ مفادات کا تصادم، افراد کے درمیان اختلافات اور نظم و امن میں خلل، ایسے مسائل ہیں جن کو حل کرنے اور نظم و امن بحال کرنے کے لئے مقتدر اور معتبر اداروں کی ضرورت ہے؛ چنانچہ اگر معاشرے میں سیاسی قوت، فیصلہ سازی، نفاذ قوانین اور امر و نہی کی طاقت کی حامل حکومت نہ ہو تو وہ معاشرہ ناقص ہوگا اور اپنی بقاء کی صلاحیت کھودے گا۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ـ لا حکم الا للہ کا نعرہ لگانے والے اور حکومت و امارت کی نفی پر اصرار کرنے والے اور انسانوں پر اللہ تعالی کی براہ راست حاکمیت کا دعوی کرنے والے ـ خوارج کے جواب میں فرمایا:

“كَلِمة حَق یُرادُ بِهَا باطِلٌ! نَعَم اِنَّهُ لا حُكمَ اِلا لِلّهِ، وَ لكِنَّ هؤلأِء یَقوُلوُنَ لا اِمرََْة اِلا لِلّهِ. وَ اِنَّهُ لابُدَّ لِلنّاسِ مِن اَمیرً بَر اَو فاجِرً یَعمَلُ فِى اِمرَتِهِ المؤمِنُ، وَ یَستَمتِعُ فیِهَا الكافِرُ، وَ یُبَلِّغُ اللهُ فیِهَا الاَجَلَ وَ یُجمَعُ بِهِ الفى ُ وَ یُقاتَلُ بِهِ العَدُوُّ، وَ تَأمَنُ بِهِ السُّبُلُ وَ یُوخَذُ بِهِ لِلضَّعیفِ مِن القَوىِّ، حَتّى یَستَریحَ بَرُّ وَ یُستَراحُ مِن فاجِرً. حُكمَ الله اَنتَظِرُ فیِكُم. اَمَّا الامرَُْة البَرَُّْ فَیَعمَلُ فیِهَا التَّقىُّ وَ اَمّا الامرَُْة الفاجِرَُْ فَیَتَمَتَّعُ فیِهَا الشَّقِى اِلى اَن تَنقَطِعَ مُدَّتُهُ وَ تُدرِكَهُ مَنِیَّتُهُ”۔

(نهج البلاغه ، خطبه 40) .

کلمۂ حق ہے جس سے باطل مطلب لیا گیا ہے۔ بے شک کوئی حکم اور کوئی فیصلہ فرمان خدا اور اللہ کے فیصلے کے سوا کچھ نہيں ہے جبکہ لوگوں کے لئے ایک حاکم کی ضرورت ہے چاہے وہ نیک ہو یا بد؛ تا کہ مؤمنین حکومت کے سائے میں اپنے کام میں مصروف ہوں اور کافر بھی ہہرہ مند ہوں اور لوگ حکومت کے سائے میں زندگی بسر کریں، حکومت کے وسیلے سے بیت المال جمع ہوتا ہے اور اس کی مدد سے دشمنوں کے خلاف لڑا جاتا ہے، اور راستوں کو محفوظ بنایا جاتا ہے، طاقتوروں سے کمزوروں کا حق لیا جاسکتا ہے، اور حکومت کے وسیلے سے نیک انسان امن و امان سے اور بدکاروں کے ہاتھوں سے محفوظ ہیں؛ لیکن نیک حکمرانوں کی حکومت میں پرہیزگار لوگ اپنے فرائض بہتر انداز سے انجام دیتے ہيں جبکہ بدکاروں کی حکومت سے ناپاک لوگ بہرہ مند ہوتے ہیں حتی کہ اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے اور اس کی موت آن پہنچے۔

سیاسی ولایت کی ضرورت انسان کی ذاتی کمزوریوں میں مضمر نہیں ہے بلکہ انسانی اجتماع کے نقائص اور کمزوریوں میں مضمر ہے چنانچہ اگر ایک معاشرہ نیک انسانوں سے تشکیل پایا ہو اور اس کے سارے افراد نیک و صالح، شائستہ اور قابل انسان ہوں پھر بھی اس کے لئے سیاسی ولایت یا حکومت کی ضرورت ہے، کیونکہ ایسے بہت سے امور و معاملات ہیں جو فردی نہيں ہیں بلکہ ان کا تعلق معاشرے اور اجتماع سے ہے اور ان کے لئے اجتماعی فیصلہ سازی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کو معاشرتی سطح پر نافذ کیا جاتا ہے؛ اور ایک فرد، اس لئے کہ ایک فرد ہے، ان امور میں فیصلہ ساز نہیں ہوسکتا۔

سیاسی نظامات کے مابین ـ “اقتدار کی تقسیم کی کیفیت و نوعیت”، “صاحبان قدرت کی حالت”، “سیاسی اقتدار سنبھالنے کی کیفیت و نوعیت”، “سیاسی اقتدار واگذار کرنے میں عوام کے کردار” وغیرہ کے سلسلے میں ـ اختلاف، پایا جاتا ہے ورنہ اس بات میں کوئی اختلاف نہيں ہے کہ انسانی معاشرے کو سیاسی ولایت و زعامت کی ضرورت ہے اور تمام نظام ہائے حکومت اس بات پر متفق ہیں اور اس کے مخالفین صرف وہ انارکسٹ (Anarchist، نراجی یا افراتفری کے خواہاں) لوگ ہیں جن کی نہ تو تعداد بہت زیادہ ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی قابل قبول دلیل ہے۔

اب سوال یہ کہ تشیع کے سیاسی تفکر میں عصر غیبت میں سیاسی زعامت و ولایت جامع الشرائط فقیہ کے سپرد کیوں کی گئی ہے؟ اور جواب بھی یہ ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کے امور و معاملات کو شریعت کی تعلیمات پر منطبق کرلے اور عوام کی زندگی کو شریعت کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھائے۔

یعنی یہ کہ دینی حکومت کی ذمہ داری ہر قیمت پر امن و امان برقرار کرنا اور لوگوں کو خوشحال زندگی فراہم کرنا ہی نہيں ہے بلکہ اس کو معاشرے کے تمام معاملات اور تمام روابط کو دین کے احکام، اصولوں اور اقدار کے مطابق کرنا چاہئے اور اس مہم کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی معاشرے کے مدیر و منتظم کو اگر ایک طرف سے زبردست انتظامی صلاحیتوں سے بہرہ مند ہونا چاہئے تو دوسری طرف سے اس کو ان امور و معاملات میں اللہ کے احکام سے سب سے زیادہ آگہی حاصل ہونی چاہئے اور سماجی و سیاسی معاملات میں فقاہت لازمہ کا مالک و حامل ہونا چاہئے۔
امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا:

“أيها الناس ان احق الناس بهذا الامر أقواهم عليه و أعلمهم بأمر الله فيه”۔

ترجمہ: اے لوگو! امامت و خلافت کا سب سے زیادہ اہل اور حقدار وہ شخص ہے جو اس کا انتظام چلانے کی سب سے زيادہ قوت رکھتا ہو اور حکومت کے معاملے میں اللہ کے فرامین کا سب سے بڑا عالم ہوتا ہے۔ (نہج البلاغہ خطبہ 173)

چنانچہ اسلامی معاشرے کے لئے سیاسی ولایت و زعامت کی ضرورت ہے جیسا کہ غیراسلامی معاشروں کو بھی بعض نقائص برطرف کرنے اور معاشرتی مسائل حل کرنے اور امن اور نظم و ضبط کے قیام کے لئے حکومت کی ضرورت ہے۔

اسلامی معاشرے میں امام معصوم علیہ السلام کی غیبت کے دور میں یہ سیاسی ولایت و زعامت ایسے جامع الشرائط فقیہ کو دی گئی ہے جو علمی، اخلاقی اور انتظامی حوالے سے سب سے زیادہ قابلیت اور اہلیت کا مالک ہو اور مرتبے کے لحاظ سے امام معصوم علیہ السلام سے سب سے زیادہ قریب ہو کیونکہ اسلامی معاشرے کے انتظام و انصرام کے لئے انتظامی اہلیت سے بھی زیادہ اسلامی شناسی اور فقہ شناسی کی ضرورت ہے۔

مختصر یہ کہ اسلامی معاشرے میں دین کا نفاذ پہلی ترجیح ہے اور دین کا نفاذ ایک فقیہ سے بہتر کوئي اور نہيں کرسکتا چنانچہ ایسے معاشرے کو فقیہ کی حکومت ہی درکار ہوتی ہے نہ کسی اور کی۔

دوئم: مرجعیت اور ولایت فقیہ کا فرق

اب جو ہم اجمالی طور پر ولایت ففیہ کے فلسفے اور کارکردگی یا فنکشن سے واقف ہوچکے تو یہ سوال قابل غور ہے کہ کیا مرجعیت اس فریضے کی ادائیگی کے لئے کافی ہے؟
مرجع اور ولی فقیہ کے درمیان فرق کا جائزہ لیتے ہوئے چند نکتے قارئین کی نذر کرتے ہیں:

1۔ شرائط میں فرق

مرجع اصطلاحی طور پر جامع الشرائط مجتہد ہے جو اسلامی منابع (سورسز) سے شرعی احکام کا استنباط کرتا ہے اور اسی بنیاد پر فتوی دیتا ہے اور لوگوں پر لازم ہے کہ اس کی تقلید کریں۔ البتہ مجتہد کے لئے عدالت سمیت کئی دیگر اوصاف سے بھی متصف ہونا چاہئے جن کا ذکر تمام رسالہ ہائے عملیہ کے آغاز پر ہی ہوچکا ہے۔

لیکن ولی فقیہ کو الہی قوانین پر عالم و فقیہ ہونے اور عدالت کے وصف اور دوسری صفات سے متصف ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی قیادت کے لئے دینی سیاست اور شجاعت نیز تمام تر انتظامی صلاحیتوں کا مالک ہونا چاہئے اور ساتھ ساتھ حالات حاضرہ اور سیاسی و معاشرتی مسائل سے بھی آگاہ ہونا چاہئے۔

2۔ تعدد یا وحدت کے حوالے سے فرق

فتوی کی مرجعیت ایک ہی وقت میں متعدد ہوسکتی ہے یا یوں کہئے کہ ایک ہی وقت میں کئی مراجع تقلید ہوسکتے ہيں اور ہر شخص جس مجتہد کو دوسروں سے زيادہ متقی، عادل اور عالم پائے اسی کی تقلید کرسکتا ہے جبکہ ولی فقیہ متعدد نہیں ہوسکتا کیونکہ ولایت فقیہ کا عہدہ یا منصب سیاسی، ثقافتی و تعلیمی، معاشی اور دفاعی پہلؤوں کے پیش نظر ایک ہی فرد میں مرتکز ہونا چاہئے۔

(رسالہ نوین امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ترجمہ بقلم عبدالکریم بی آزار شیرازی)

3۔ کارکردگی کے لحاظ سے فرق

مرجعیت کا کام فتوی اور شرعی احکام بیان کرنے سے عبارت ہے لیکن ولی فقیہ کا فریضہ فتوی اور شرعی احکام بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کے نجات بخش احکام کا نفاذ بھی ہے۔ ولی فقیہ خاص مواقع پر حکومتی احکام جاری کرتا ہے جس کی متابعت سب پر لا‌زم ہے۔
(رسالہ نوین امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ترجمہ بقلم عبدالکریم بی آزار شیرازی)
اگر کوئی فرد لازمی شرائط اور صلاحیتوں کا حامل ہو تو مرجعیت اور ولایت فقیہ ایک ہی شخص میں جمع ہوسکتی ہیں جیسا کہ امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) مرجع بھی تھے اور رہبر اور ولی ققیہ بھی تھے اور ان کے خَلَفِ صالح حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای بھی مرجعیت اور ولایت کے حامل ہیں۔

یہاں مناسب ہوگا کہ حکم اور فتوی کے درمیان فرق کو بھی واضح کیا جائے:

جامع الشرائط مرجع کی طرف سے شرعی حکم کا بیان، فتوی کہلاتا ہے اور جو حکم معاشرے کے سیاسی، سماجی اور حکومتی امور میں ولایت فقیہ کی طرف سے جاری ہوتا ہے وہ حکم کہلاتا ہے۔ اس حکم کی تعمیل سب پر ـ حتی کہ ان لوگوں پر بھی جو دوسرے مراجع تقلید کے مقلد ہیں ـ واجب ہے حتی کہ مجتہدین اور مراجع تقلید پر بھی واجب ہے اور ولی فقیہ پر خود بھی واجب ہے۔
( کتاب ولایت فقیه امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ صفحہ ۶۳).

اس موضوع کا مزید جائزہ لینے کے لئے:

شیعہ فقہا کی اکثریت کی رائے ہے کہ کہ روایات و احادیث میں معصومین علیہم السلام کی طرف سے فقہاء کے لئے تین عہدے بیان ہوئے ہیں:

1۔ افتاء (فتوی دینا)

2۔ قضاء (قاضی کی حیثیت سے فیصلے کرنا)

3۔ منصب ولایت

1۔ منصب افتاء:

یعنی ہر جامع الشرائط مجتہد دین کے فرعی موضوعات (فروع دین) اور استنباطی موضوعات میں ـ جن کی لوگوں کو ضرورت ہے ـ فتوی دے سکتا ہے۔ یہ منصب بغیر کسی رکاوٹ کے تمام فقہاء کے لئے ثابت ہے۔ اور ولایت فقیہ کے زمانے میں دوسرے فقہاء سے یہ ذمہ داری ساقط نہيں ہوتی کیونکہ مجتہد کو یہ حق حاصل نہيں ہے کہ وہ دوسرے کسی مجتہد کی تقلید کرے۔
2۔ قضاء (قاضی کی حیثیت سے فیصلے کرنا):

ہر جامع الشرائط مجتہد غیبت کے زمانے میں یہ حق رکھتا ہے کہ لوگوں کے درمیان تنازعات کو حل و فصل کرے اور بیِّنات و دلائل اور دوسرے متعینہ وسائل سے خدا کا حکم بیان کرے اور فیصلہ سنائے۔ جو حکم وہ سنائے گا اس کو توڑنا خود اس پر بھی اور متنازعہ فریقوں حتی کہ دوسرے فقہاء کے اوپر بھی حرام ہے اور اس کی پاسداری حتی دوسرے مجتہدین اور مراجع تقلید پر لازم و واجب ہے۔
3۔ منصب ولایت:

تیسرا منصب جو فقہاء کے لئے ثابت ہے، ولایت کا منصب ہے اور ولایت سے مراد حکومت اور ملک کا انتظام و انصرام سنبھالنے اور شرعی قوانین کے نفاذ سے عبارت ہے۔ یہ منصب بھی بطور عام تمام فقہاء کے لئے ثابت ہے؛ لیکن جب ان میں سے ایک فقیہ حکومت تشکیل دینے کے لئے اقدام کرے، تمام دوسرے فقہاء اس کی اطاعت کے پابند ہیں اور ایک فقیہ کی طرف سے حکومت اسلامی تشکیل پانے کے بعد دوسرے فقہاء کے لئے حکومت سے متعلقہ معاملات میں مداخلت اور ولی فقیہ کے لئے دشواریاں یا رکاوٹیں کھڑی کرنا جائز نہيں ہے۔ چنانچہ حکومت اسلامی تشکیل دینا اور ولایت فقیہ کا عہدہ سنبھالنا تمام فقہاء پر واجب ہے لیکن یہ واجب “واجب کفائی” ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ جب ان میں سے ایک اس مہم کو سر کرے اور حکومت تشکیل دے تو یہ ذمہ داری دوسرے فقہاء سے ساقط ہے۔

(آیت اللہ العظمی عبداللہ جوادی آملی، کتاب “ولایت فقیہ، رہبری در اسلام” صفحہ 184 ـ 187)۔
نکتہ: ولی فقیہ وہ ہے جو حکم دیتا ہے اس پر عمل کرتا ہے اور اجتماعی و سیاسی احکام کو جاری اور نافذ کرنے کے اوزار (یعنی حکومت) سے بھی بہرہ مند ہے جبکہ عام فقہاء حکم جاری کرتے اور اس پر عمل کرتے ہيں اور مقلدین اپنی مرضی سے ان کے فتووں پر عمل کرتے ہیں۔
اس امر کی دلیلیں:

1۔ ولی فقیہ امام معصوم علیہ السلام کی غیبت کے زمانے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وارث اور جانشین ہے۔ جس طرح کہ کسی کے لئے بھی حکومت کے حوالے سے آنحضرت (ص) کی ولایت سے متعلق امور و معاملات میں مداخلت کرنا اور مسائل پیدا کرنا، جائز نہيں ہے، آپ (ص) کی وراثت کا تقاضا ہے کہ کوئی بھی فرد حکومت سے متعلقہ امور میں ولی فقیہ کا مزاحم نہ ہو اور مسائل پیدا نہ کرے؛ چنانچہ تمام ققہاء فقیہ حاکم کے امور میں مزاحمت اور مداخلت کو کلی طور پر حرام اور عدالت کے دائرے سے خروج کا سبب گردانتے ہیں پس اگر کوئی ایسا کرے تو وہ عادل نہيں ہے اور ولایت کا مالک بھی نہیں ہے کیونکہ ایسی صورت میں فقہاء کے درمیان تزاحم لازم آتا ہے۔
(امام خميني رحمۃاللہ علیہ كتاب البيع، ج 2، ص 514-517)۔

آیت اللہ العظمی سید محمد کاظم یزدی اپنی عظیم کتاب “العروةالوثقی” میں تحریر فرماتے ہيں:
“حكم الحاكم الجامع للشرايط لا يجوز نقضه و لو لمجتهد آخر…”۔

یعنی اگر کوئی جامع الشرائط (اور شرعی شرائط کے مطابق منصب ولایت پر فائز ہونے والا) حاکم کوئی حکم جاری کرے تو اس کو نقض کرنا اور اس کی مخالفت کرنا کسی کے لئے بھی جائز نہيں ہے خواہ حکم وصول کرنے والا خود مجتہد ہی کیوں نہ ہو۔

(يزدي، آيت الله العظمی سيد محمد كاظم، العروه الوثقي، ج 1، مسأله 57، باب اجتهاد و تقليد)۔
یہی فتوی تمام دوسرے مجتہدین و مراجع تقلید کہ بھی ہے۔

2۔ عقلاء کی روش اور تمام حکومتوں کا طریقہ عمل یہ ہے کہ حکومتی امور اور معاشرے کے انتظام و انصرام میں دوسروں کی یکطرفہ اور حکام کی اجازت کے بغیر مستقل مداخلت کو صحیح نہیں سمجھا جاتا۔ یہ روش کم از کم صالح حکمران کی حکومت میں شارع مقدس کی طرف سے بھی تصدیق شدہ اور تائید شدہ ہے۔

3۔ نظام حکومت کا قیام اور اس کو بدانتظامی سے محفوظ رکھنا بنیادی واجبات میں سے ہے اور ایک ہی سرزمین میں متعدد مستقل حکمرانوں کی موجودگی یا حکومت کے معاملات میں حاکم کی اجازت کے بغیر متعدد افراد کی مستقل طور پر مداخلت حکومتی نظم و نسق کے درہم برہم ہونے اور انارکی و افراتفری کا سبب بنتی ہے جو مسلمانوں کے عمومی نقصان کا سبب ہے۔ نظام حکومت کے تحفظ اور حکومت کے انتظام نیز عام مسلمانوں کے مفادات و مصالح کی حفاظت کا تقاضا ہے کہ ولایت کا نفاذ ایک ہی ولی تک محدود ہو اور دوسرے اس کی اطاعت کریں۔

(زيادہ آگہی کے لئے: زین العابدین نجفی کی کتاب “امام خمینی (رح) و حکومت اسلامی۔ مجموعہ آثار جلد 5 صفحہ 515 سے رجوع کریں)۔

اسلامی حاکم، اللہ کے احکام کو نافذ کرتا ہے اور وہ خود بھی قانون الہی کا پابند اور اس کا تابع محض ہے اور دوسرے فقہاء بھی ایسے ہی ہیں اور ان سب پر واجب ہے کہ جو حکم ولی کی طرف سے جاری ہوا ہے اس کی تعمیل کریں۔

نکتہ: جہاں تک فقیہ حاکم کے لئے مزاحمت کا خدشہ اور معاشرے میں افراتفری پھیلنے کا خطرہ نہ ہو، جہاں فقیہ حاکم اپنی ولایت نافذ نہيں کرتا اور مداخلت نہیں کرتا جیسے: مختلف شہروں اور صوبوں و مختلف علاقوں میں بعض امورِ حسبہ (وہ امور جن کے ترک ہونے پر اللہ راضی نہیں ہے)، یا خمس و زکاة اور دیگر شرعی وجوہات کی وصولی اور انہیں شرعی امور میں صرف کرنا، وغیرہ؛ وہاں دوسرے فقہاء اپنے لئے حلقۂ افتاء تشکیل دے سکتے ہیں۔

جیسا کہ اشارہ ہوا “ان امور کے جواز کا دائرہ اس حد تک ہے کہ یہ امور تزاحم، افراتفری اور نظم و ضبط میں خلل پڑنے کا سبب نہ ہوں اور اسلامی نظام کو کوئی نقصان نہ پہنچتا ہو۔
بالفاظ دیگر، جب تک اسلامی حکومت قائم نہیں ہوئی ہے اور جامع الشرائط فقہاء کے درمیان کسی قسم کے تزاحم کا خطرہ بھی نہیں ہے ان میں سے ہر ایک مستقل طور پر “بالفعل” اور مؤثر صاحب ولایت ہے اور متعلقہ امور میں تصرف کا مجاز ہے۔ لیکن جب اسلامی حکومت تشکیل پائے یا حکومت تشکیل پائے بغیر مراجع کے درمیان (معاشرتی و اجتماعی امور کے سلسلے میں) کسی مسئلے میں تزاحم ظہور پذير ہو تو ان میں سے صرف ایک فقیہ ولایت قائم اور نافذ کرنے کا اہل ہوگا وہی جو دوسروں سے شرائط کے اعتبار سے برتر ہوگا اور دوسرے فقہاء اگر چہ نظری لحاظ سے اور ثبوتی طور پر ولایت رکھتے ہيں لیکن وہ عملی لحاظ سے اور اثباتی طور پر، صرف اس حد تک ولایت نافذ کرسکتے ہیں جہاں ان کی ولایت فقیہ حاکم کی ولایت سے متصادم نہ ہوجیسے افتاء، خمس و زکاة اور دوسری وجوہات وغیرہ میں۔ تا ہم جن امور میں فقیہ حاکم نے مداخلت اور تصرف کیا ہے، کسی کو، حتی کہ مذکورہ فقہاء کو مداخلت اور تصرف کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ سوائے اس صورت کے جب فقیہ حاکم ان کو ایسا کرنے کی اجازت دے۔

(انتصاب يا انتخاب، محمد جواد ارسطا ، مجله علوم سياسي، شماره 5)

جیسا کہ مرحوم آیت اللہ معرفت اس سلسلے میں کہتے ہیں: “نکتہ یہ ہے کہ “ولایت فقیہ” چاہے منصب ہو چاہے صرف فریضہ اور ذمہ داری ہو، ایک واجب کفائی ہے۔ اور نیز ولایت کا نفاذ حکم کے عنوان سے ہے نہ کہ صرف ایک فتوی کے عنوان سے۔ اسی رو سے جو فقیہ تمام شرائط کا احاطہ کئے ہوئے ہو اور اس عہدے کو سنبھال لے، یہ عہدہ سنبھالنے کا فریضہ دوسرے فقہاء سے ساقط ہے۔ اور یہ جامع الشرائط فقیہ جس نے حکومت کا عہدہ سنبھالا ہے، جس جس موضوع میں ـ جس میں امت کی مصلحت ہو ـ ولایت نافذ کرے تو وہ سب پر ـ فقہی لحاظ سے اس کے برابر کی سطح کے فقہاء پرـ نافذ العمل ہے کیونکہ جامع الشرائط فقیہ کی طرف سے جاری ہونے والے احکام سب پر ـ چاہے اس کے مقلد ہوں یا کسی اور فقیہ کے مقلد ہوں، چاہے مجتہد ہوں چاہے عام لوگ ہوں ـ واجب التنفیذ ہے۔ اسی وجہ سے جب شائستہ اور لائق اور صاحب صلاحیت فقہاء میں سے ایک فقیہ عام معاملات اور امور میں قیام و نظارت، کا عہدہ سنبھالتا ہے تو یہ ذمہ داری دوسروں کے کندھے سے اٹھ جاتی ہے اور دوسروں کے لئے نفاذ ولایت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اور وہ احکام جو اس فقیہ کی طرف سے جاری ہوتے ہیں اور یہ احکام مقررہ ضوابط و قواعد کے مطابق ہوں، سب کے لئے واجب الاتباع ہیں اور دوسرے فقہاء جو “قائم بامر” فقیہ کو اہلیت و صلاحیت کی بنا پر پہچانتے ہيں، وہ اپنے آپ کو اس ذمہ داری سے فارغ سمجھیں اور اس کی ولایت کی حدود میں مداخلت نہ کریں اور رائے کا اظہار نہ کریں اور ان امور کو مکمل طور پر فقیہ قائم بامر کے سپرد کريں۔ ہاں اگر وہ کسی اشتباہ کو دیکھ لیں تو نصیحت و راہنمائی کے طور پر یادآوری کریں؛ بالکل دیگر امور حسبیہ کی مانند، کہ جب ان میں سے کسی امر کو کوئی ایک فقیہ سنبھال لیتا ہے تو دوسرے فقہاء سے اس امر کی ذمہ داری اٹھ جاتی ہے۔ اور ان کے لئے مداخلت کی گنجائش نہيں رہتی اور اس فقیہ کا فیصلہ سب پر نافذ العمل ہوگا۔

(ولايت فقيه ، محمد هادي معرفت ، فصلنامه كتاب نقد – شماره 7)

چنانچہ صرف اصطلاحی مرجعیت کی موجودگی اسلامی قوانین کے نفاذ کے سلسلے میں ولی فقیہ کے خاص اعمال سرانجام نہیں دے سکتی ہے۔

(پرسمان سی ڈی ـ اداره مشاوره نهاد رهبري، كوڈ 1/100143785)

ایک خاص سوال جو عام طور پر نوجوانوں کو درپیش ہے، یہی ہے کہ کیا ہر مرجع تقلید اپنے مقلدین کے لئے ولی فقیہ ہے یا نہیں؟

یہ سوال اٹھانے والے افراد بعض مراجع معظم کے بعض فتؤوں کی طرف اجمالی اشارہ بھی کرتے ہيں گو کہ اس کا ثبوت فراہم نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ فلاں مرجع معظم نے فرمایا ہے کہ ہر مقلد کا ولی فقیہ اس کا اپنا مرجع ہے اور ہم نے یہاں دیکھا کہ ولی فقیہ کی کارکردگیاں کیا ہیں اور اس کی شرائط کیا ہیں چنانچہ یہ بات کسی بھی مجتہد سے مستندا منقول نہيں ہے اور پھر ولایت فقیہ سے مراد حکومت فقیہ ہے چنانچہ جس فقیہ نے حکومت تشکیل نہ دی ہو وہ مرجع تقلید تو ہوسکتا ہے لیکن ولی فقیہ وہ تب ہی ہوگا جب وہ ایسے ملک میں حکومت قائم کرے جہاں اس سے پہلے ولایت فقیہ کی حکومت نہ تھی۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا دنیا میں ولایت فقیہ ایک ہی ہوگی یا پھر ہر ملک میں ولایت فقیہ کا قیام ممکن ہے، جیسا کہ بعض لوگوں نے “علاقائی ولایت فقیہ” جیسی ایک رائے بھی دی ہے اور اس بات کا جواب یہی ہے کہ دوسرے ممالک میں اگر شیعیان اہل بیت (ع) حکومت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کریں تو اس موضوع پر بحث ہوسکتی ہے کہ کیا ولی فقیہ کا منصب عالمگیر ہے یا پھر ہر ملک میں الگ الگ ولایت فقیہ کی حکومت تشکیل پاسکتی ہے!۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گوکہ ولایت فقیہ کا نظریہ پہلی صدیوں میں ہی موجود تھا لیکن اس کا عملی نفاذ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے بیسویں صدی کے ربع آخر میں کیا چنانچہ نظریہ ولایت فقیہ پر بحث بھی سنجیدہ طور پر اور وسیع سطح پر، اسی زمانے میں شروع ہوئی ہے اور لگتا ہے کہ دنیا کے لئے اس نئے فلسفہ حکومت و سیاست پر شروع ہونے والی بحث میں اس موضوع کا وسیع جائزہ نہيں لیا جاسکا ہے کہ کیا ایک ہی وقت میں دنیا کے کئی ممالک میں مستقل ولایت فقیہ کی حکومت ہوسکتی ہے یا نہیں!؛ اور جن لوگوں نے علاقائی ولایت کی رائے پیش کی ہے ان کو بھی شاید اس مسئلے کی طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ علاقائی ولایت فقیہ کے نفاذ کے لئے پہلے ایک حکومت تشکیل دینے کی ضرورت ہوتی ہے جو موجودہ زمانے میں صرف ایران میں قائم و دائم ہے

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More