قرآن کریم کے بارے میں شیعہ علما کا چودہ سو سالہ موقف۔

*قرآن کریم کے بارے میں شیعہ علما کا چودہ سو سالہ موقف۔*

سکندر علی بہشتی

قرآن مجید اور ختم نبوت پر ایمان مسلمات دین میں سے ہے۔
ساری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی بعض عناصر قرآن مجید اور ختم نبوت پر مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل کرنے کیلئے غلط فہمیاں پھیلاتے رہتے ہیں. وہ کسی نہ کسی کونے کھدرے سے کوئی کتاب یا خطاب ڈھونڈ لاتے ہیں جس سے مسلمانوں کے عقائد متزلزل ہوں.۔

حالیہ ایام میں بھی قرآن کریم کے حوالے سے کسی کا ایک مبہم بیان وائرل کر کے لوگوں کو دین اسلام سے بدگمان کرنے کی کوشش کی گئی. اس موقع پر اہل تشیع کے بزرگ علما وقائدین نے اپنے واضح بیان کے ذریعے اپنا اصولی ومکتبی موقف پیش کیا ہے۔
علامہ سید ساجدعلی نقوی،آیت اللہ حافظ ریاض نجفی،مفسر قرآن شیخ محسن علی نجفی نے ایک مشترکہ اعلامیہ کے ذریعے قرآن کے حوالے سے مکتب اہل بیت کانظریہ بیان فرمایا ہے۔ جوکہ بروقت اقدام ومستحسن عمل ہے۔

قرآن کریم تمام مسلمانوں کے نزدیک ہرقسم کی تحریف سے محفوظ کتاب ہے۔جو بغیر کسی کمی بیشی کے موجودہ صورت میں ہرگھر میں موجود ہے۔
1۔ضمانت الہی:
جس کی گواہی خودقرآن ہے۔انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون۔ اورد دیگر آیات قرآن کے محفوظ ہونے کی محکم ترین دلیل ہے۔قرآن کامعجزہ ہونا،روایات کی صحت کا معیار قرآن قراردینا اور قرآن کا زمان پیغمبر سے اب تک متواتر ہونا قرآن کے محفوظ ہونے کی دلیل ہے۔
2۔تاریخ کی گواہی:
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ خود محافظ قرآن تھے۔آغاز وحی سے ہی قرآن کی کتابت،حفظ،سیکھنےوسکھانے ،تلاوت اور دیگر اقدامات کے ذریعے قرآن کے تحفظ کااہتمام کیا۔حافظین قرآن کی تیاری بھی قرآن کو محفوظ رکھنے کا ایک طریقہ تھا۔کاتبین وحی آپ کے حکم سے آیات کو لکھ لیتے۔
3۔قرآن پر اجماع امت:
قرآن سینہ بہ سینہ نقل ہواہےیہاں تک کہ زیر وزبر تک کافرق بھی اس میں برداشت نہیں کیا۔اور جمہور علما کے نزدیک جو متواتر ہے حجت ہے۔
4۔اہل بیت علیہم السلام قرآن،دین اسلام کے محافظ اور جانشین پیغمبر ہیں۔انہوں نے تمام مشکلات سہی ہیں تاکہ اسلام محفوظ رہے۔اہل بیت کے نزدیک یہی قرآن پر ہی وہ عمل کرتے۔تفسیر کرتے،ان پر عمل کرنے کا حکم دیتے۔اس لیے سیرت اہل ہمارے لیے حجت ہے۔
5۔شیعہ تمام علما کا اتفاق نظر:
شیخ صدوق،شیخ طوسی،علامہ حلی سے لیکر آج تک تمام فقہا،مجتہدین،محققین،محدثین ومفسرین سب نے قرآن میں ہرقسم کی تحریف کو مردود قرار دیا ہے۔
لہذا قرآن کریم جو موجودہ صورت میں مدون موجود ہے وہی اصل قرآن ہے جس میں شیعہ مسلک بھی دیگر اسلامی فرقوں کی مانند سے اتفاق نظر ہے۔

اس سلسلے میں کسی کااختلافی نظر اس کا ذاتی نظریہ ہوسکتا ہے۔یا اس کے اصل مدعی ومقصد کو سمجھے بغیر اظہار نظر۔ہردو صورت میں مکتب اہل بیت کی تنقیص اور تنقید کسی صورت درست نہیں۔کیونکہ مکتب کے معیارات کو ان کے مسلمہ اصول اور متعلقہ اتھارٹی سے لینا چاہیے۔

شیعہ بزرگ علما نے بروقت قرآن کریم کی حقانیت کے بارے میں بروقت اور واضح موقف بیان کرکے اس سلسلے میں شبہات و اعتراضات کاخاتمہ کیاہے۔
علمائے کرام،محققین،اہل منبر کو ہر ایسے اقدام وگفتگو سے اجتناب کرنا چاہیے جو مکتب کے متہم ہونے اور اذہان عمومی میں تشویش کاباعث بنتے ہیں۔پہلے بھی بعض اہل منبر وخطیب علما کی جانب سے ایسی بعض مبہم اور غیر مستند باتوں نے مکتب اہل بیت کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کیں ہیں۔جو کہ کسی صورت دین ومکتب کے حق میں نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

چهار + یازده =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More