غیر خدا کیلئے نذر

اسلام کے فرعی احکام میں سے ایک نذر ہے ۔ انسان نذر کرتے وقت یہ ارادہ کرتاہے کہ اگر میری فلاں حاجت پوری ہوگئی تو خداکیلئے فلاں کام انجام دوں گا۔   یہ حکم مسلمانوں کے درمیان رائج رہا اور اب بھی ہے ۔

جبکہ وہابیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ غیر خدا کیلئے نذر کرنا حرام ہے چونکہ یہ نذر مشرکوں کی بتوں کیلئے نذر کرنے کے مانندہے اور معمولا غیر خدا کیلئے نذرکی وجہ سے یہ ہوتی ہے کہ اس کے بارے میں غلو او رخاص قسم کا اعتقاد پایا جاتاہے ۔

قصیمی کہتاہے : غیر خدا کیلئے نذر کرنا شیعوں کے شعائر میں سے ہے چونکہ وہ علی اور ان کی اولاد کے بارے میں الوہیت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ (ا)

ابن تیمیہ نے اس بارے میں یوں اظہار خیال کیاہے :

ہمارے علماء کا نظریہ یہ ہے کہ قبر اورا س کے مجاوروں کیلئے درہم ، روغن ، شمع اور حیوان کی نذر کرنا جائز نہیں ہے چونکہ ایسی نذریں گناہ ہیں او ر صحیح روایت میں بیان ہوا ہے :جوبھی خدا کی اطاعت کی نذر کرے تو اس پر ضروری ہے کہ وہ خدا کی اطاعت کرے اور جو بھی خدا کی معصیت کی نذر کرے تو اسے چاہیے کہ معصیت نہ کرے .(٢)

وہ کہتاہے :شرک میں مبتلا ہونے کے خوف سے مردہ شخص سے درخواست کرنے سے منع کیا گیاہے اگرچہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو،پس قبور یا انکی عمارات کیلئے نذر کرنا حرام اورباطل ہے ۔ اس اس طرح کی نذر مشرکوں کی اس نذر کے مانند ہے جو وہ اپنے بتوں کیلئے کیا کرتے اور جوبھی یہ عقیدہ رکھے کہ قبور کیلئے نذر نفع یا ثواب رکھتی ہے تو وہ ناداں گمراہ ہے ۔ (3)

اس نظریے کا ردّ

ہم ان کے اس عقیدہ کاجواب چند جہات سے دے سکتے ہیں :

اول : یہ کہ نذر کرنے والے کا مقصد یہ ہوتاہے کہ اس صدقہ اور ہدیہ کا ثواب نبی خدا یا ولی خدا کو ایصال اور یوں خداوند متعال سے تقرب پیدا کرسکے ۔ پس کیسے ممکن ہے کہ اس کا مقصد نبی یا ولی ہو جبکہ وہ تو مردہ ہیں نہ کھا سکتے ہیں اور نہ ہی پہن سکتے ہیں ؟

دوم: یہ نذر بالکل اس شخص کے عمل کی طرح ہے جو اپنے والدین کیلئے نذر کرے یا قسم کھائے یا اپنے آپ سے عہد کرے کہ وہ ان کیلئے صدقہ دے گا۔

روایت میں بیان ہوا ہے کہ میمونہ کہتی ہیں :پیغمبر خدا ۖ کے زمانہ میں میرے باپ نے یہ منت مانی تھی کہ ایک خاص جگہ پر پچاس گوسفند ذبح کریں گے ۔

پیغمبر خدا ۖ نے ان سے فرمایا: کیا وہاں پر بتوں کیلئے قربانی کی جاتی ہے ؟

عرض کیا : نہیں ، رسولخدا ۖ نے فرمایا: اوف بنذرک ۔ اپنی نذر پر عمل کرو۔ (4)

شاید پیغمبر ۖ نے اسلئے سوال کیا ہوکہ وہاں پر بتوں کی پرستش کی جاتی ہو یا مشرک لوگ وہاںپر اپنی رسومات بجالاتے ہوں چونکہ مسلمان زمانہ جاہلیت سے نزدیک تھے اور اس چیز کا ا حتمال موجود تھا۔

ہم اس تائید میںکہتے ہیں کہ ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ ثابت بن ضحاک کہتے ہیں : ایک شخص نے نذر کی کہ (بوانہ ) نامی منطقہ میں ایک اونٹ ذبح کرے ، آنحضرت ۖ کی خدمت میںحاضر ہوا اور واقعہ سے آگاہ کیا ۔

پیغمبر ۖ نے فرمایا: کیا وہاں پر زمانہ جاہلیت میں کوئی بت موجود تھا جس کی پرستش کیا کرتے ؟

عرض کی : نہیں ۔ آنحضرت ۖ نے فرمایا:

((اوف نذرک ، فانہ لا وفاء لنذر فی معصیة اللہ ولا فیما لا یملک ابن آدم ))

تم اپنی نذر پر عمل کرو اس لئے کہ فقط دومقام پر نذر درست نہیںہے ۔

١۔ گناہ ونافرمانی میں ٢۔ جس چیز کا انسان مالک نہیں ہے ۔ (5)

دوسری جانب ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ انسان نذر کرتے وقت یہ کہتاہے :

اگر میری فلاں مراد پوری ہوگئی تو خدا کیلئے نذر کرتاہوں کہ فلاں کام انجام دوں گا۔پس جب وہ یہ کہے گا : کہ فلاں کیلئے نذر کرتاہوں تویہ ایک مجازی تعبیر ہے اور اختصار کی بناء پر یوں کہا جاتاہے ورنہ درحقیقت اس کا مقصد یہ ہوتاہے کہ خدا کے لئے انجام دوں گا تاکہ اس کا ثواب فلاں کو پہنچے ۔

سوم: کیا کسی مسلمان کے عمل کا کسی کافر کے عمل سے مشابہ ہونا باعث بنتاہے کہ اس مسلمان کو کافر قرار دینا جائز ہو؟ ابن تیمیہ نے اسی دلیل کی بناء پر مسلمانوں کی تکفیر کی ہے لہذا ہم یہ کہیں گے کہ اگر صرف شباہت کفر کے جواز کا باعث بنتی ہے تو پھر حج کے اعمال بھی اسی طرح ہیں چونکہ مشرک اپنے بتوں کے اردگرد طواف کرتے تھے اور ان کی پرستش بھی کرتے ۔ علاوہ ازیں قربانی کے دن اپنے بتوں کے لئے قربانی بھی کیا کرتے اور ہم بھی قربانی کرتے ہیں کیا یہ درست ہے کہ ان دو مشابہ اعمال کو ایک جیساسمجھاجائے ؟

پھر رسولخدا ۖ فرماتے ہیں: انما الاعمال بالنیات (6)

بنا بر ایں قضاوت وفیصلے کا معیار نیت قلب ہے نہ کہ ظاہری مشابہت۔

عزامی شافعی اس بارے میں کہتے ہیں : اگر کوئی شخص مسلمانوں کی نیک افراد کیلئے نذروں اور قربانیوں کے مقصد کے بارے میں تحقیق کرے تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ان کا مقصد اس کے سواکچھ نہیں ہے کہ اس صدقہ یا ہدیہ کا ثواب مردوں کی روح کو پہنچے اور ان کے لئے نفع بخش ہوتاہے ۔ (7

اور پھر غرامی نے اس بات کا بھی اضافہ کیاہے : کہ نذر کے شرعی عمل ہونے کے بارے میں صحیح ومعتبر روایات ہم تک پہنچی ہیں انہی میں سے ایک روایت میںآیا ہے کہ سعد کہتے ہیں :

میں نے پیغمبر ۖ کی خدمت میں عرض کیا : میر ی ماں کا انتقال ہوگیا ہے او رمجھے یقین ہے کہ اگروہ زندہ رہتیں تو صدقہ اداکرتیں اور اگر میں ان کی طرف سے صدقہ دوں تو کیا اسے فائدہ پہنچے گا؟ فرمایا : ہاں ۔ عرض کی کہ کونسی چیز کا صدقہ دینا بہتر ہے ؟

آنحضرت ۖ نے فرمایا : پانی ۔

سعد نے ایک کنواں کھودا اور کہا : ھذا لاِ ُم سعدٍ ؟ یہ کنواں سعد کی ماں کیلئے ہے ۔ (8)

البتہ اس سلسلے میں ابن تیمیہ اور اس کے پیروکاروں نے خطاکی ہے اس لئے کہ وہ یہ دعوی کرتے ہیںکہ جب کوئی مسلمان یہ کہے 🙁 (ھذہ الصدقة للنبی او للولی )) تو یہ(لام ) وہی لام ہے جو نذرت للہ میںہے ۔

واضح ہے کہ ابن تیمیہ نے غلط راہ اپنائی ہے کہ اسلئے کہ وہ(للہ ) میں لام خداوند متعال سے تقرب حاصل کرنے کے معنی میںہے جب کہ (للنبی ) او ر(للولی ) میں صدقہ کے مصرف کو بیان کررہی ہے ۔

نذر سے متعلق سیرت مسلمین

پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ سیرت مسلمین یہ رہی ہے کہ وہ نذر کرتے اور اسے پورا بھی کیا کرتے ۔

علمائے اہل سنت میں سے خالدی کہتے ہیں : نبی اللہ یا ولی اللہ کیلئے نذر کرنے کا معنی یہ ہے کہ خداوند متعال کی خوشنودی کی خاطر اس کا ثواب ہدیہ کیاجائے ۔ اور بالکل اسی طرح ہے کہ جیسے کوئی یہ کہے کہ میں نے اپنے مرنے والے (مثلا مردہ باپ ) کیلئے قربانی کی ، یعنی اس کی طرف سے صدقہ دیا ہے (9)

مثال کے طور پر تاریخ میں بیان ہوا ہے کہ شیخ احمد ابن علی بدوی کا ٦٥٧ہجری میں انتقال ہواتواسے(طندتا) میں دفن کی گیا اور اس کی قبر پر بارگاہ بنائی گئی ، اس شخص کی کرامات زبان زد عام ہیں اور لوگ اس کے لئے بہت زیادہ قربانی کرتے ہیں (10

اس کا مزید نمونہ احمد بن جعفر خزرعی المعروف ابوالعباس کی قبر ہے ۔ وہ مراکش کے رہنے والے ہیں اور ٦٠١ ہجری میں وفات پائی ۔ اب بھی اس کی قبر زیارتگاہ ہے اور کثیر تعداد میں لوگ وہاں پر زیارت کے لئے جاتے ہیں کہا جاتاہے کہ وہاں پر دعا کا مستجاب ہونا تجربہ شدہ ہے ۔ میں نے بارہا اس قبہ کی زیارت کی ہے ۔ اور اس قبر کی برکت کا ایک بارتجربہ بھی کیا ہے ۔ابن خطیب سلمانی کہتے ہیں ۔ احمدبُستی کی قبر پر چڑھائی جانے والی منتیں روزانہ ٨٠٠ مثقال خالص سونا وہ اس بارے میں لکھتے ہیں : یہ عمل آج تک جاری ہے ۔ میں نے پانچ سو سے زیادہ مرتبہ اس قبر کی زیارت کی ہے ۔ تیس سے زیادہ راتیں وہاں پہ گزاری ہیں اور اس قبر کی برکات دیکھی ہیں 

علماء کے فتاوٰی

نذر کے بارے میں بیان کی جانے والی روایات کی بنا ء پر علمائے اہل سنت نے ا س کے شرعا جائز ہونے کا فتوی ہے ۔

خالدی حدیث ابوداؤد کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں : خوارج اس حدیث سے تمسک کرتے ہوئے انبیاء وصالحین کے مقبروں کیلئے نذر کرنے کوجائز نہیں سمجھتے ۔ چونکہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ انبیاء و صالحین(نعوذ باللہ ) بتوں کی مانند ہیں اور ان کا احترام زمانہ جاہلیت کی عیدوں کی طرح ہے ۔

ہم ان قبیح وشرک آلود کلمات سے خدا کی پناہ چاہتے ہیں ! یہ فکرخوارج کی گمراہی اور ان کے خرافات کا نتیجہ ہے جو انہوں نے دین کے نام پرشریعت میں داخل کئے اور انبیاء اور اولیائے الہی کو بت کہا جو ان مقدس ہستیوں کی بے احترامی اور جسارت ہے ۔ وہ انتہائی بے ادبی کے ساتھ انبیاء کی تحقیر کرتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص خوارج پر اعتراض کرتا اگرچہ وہ اعتراض اشارے وکنائے کی صورت میں ہوتا تو اسے تکفیر کرتے ، یہاں تک کہ بعض موارد میں تو اس کی توبہ بھی قبول نہ کرتے اور اس کی جان ، مال او ر ناموس مباح قرار دیتے ۔ خوارج ابنیاء واولیاء سے توسل کو عبادت سمجھنے کے باوجود انہیں بت کہا کرتے ۔ لہذا ذلیل و رسوا ہوئے ۔ خوارج کے جاہل نظریات پر توجہ دینا مناسب نہیں ہے جن کا سر چشمہ ان کی گمراہیتھی اور خود خداوند متعال دانا ترہے ۔ (11)

عزامی شافعی اس سلسلے میں لکھتے ہیں :

بعض متأخر علماء ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد وںکے اقوال سے فریب کھا بیٹھے ہیں درحقیقت ابن تیمیہ اور اسکے شاگردوں کے اقوال دین میں فریب کاری اور دھوکہ ہیں.وہ دینی مسائل کا ایسا معنٰی کرتے ہیں کہ کوئی بھی مسلمان اپنی زبان پر ایسے مطالب جاری نہیں کرتا ۔

اگر کوئی شخص مسلمانوں کی انبیاء اور اولیائے الہی کے لئے دی جانی والی نذراور قربانی کے متعلق تحقیق کرے تو وہ اس نتیجے پر پہنچے گا کہ ان کا مقصد ان کی جانب سے صدقہ دینا اور ان کی روح کو اس کاثواب ایصال کرنا ہے ۔ علمائے اہل سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ زندہ لوگوں کا مردوں کے لئے صدقہ دیناانہیں فائدہ پہنچاتا ہے اور اس سلسلے میں جو روایات بیان ہوئی ہیں وہ بھی صحیح اور مشہور ہیںلہذا انبیاء علیہم السلام اور اولیائے کرام کے لئے کی جانے والی نذر یا قربانی اور دیگر موارد ان شرعی امور میں سے ہیں جن کا سر چشمہ سیرت مسلمین ہے اور یہ کسی خاص فرقے سے مخصوص نہیں ہیں .(12)

١۔الصراع بین الاسلام والوثنیہ ١: ٥٤.

٢۔رسالة زیارة القبور ٢٧ ؛ کشف الارتیاب : ٢٨٣.

3۔الملل والنحل : ٢٩١.

4معجم البلدان ١:٥٠٥. 

5۔سنن ابوداؤد ٣: ٢٣٨، ح ٣٣١٣

6۔صحیح بخاری ١:١.

7فرقان القرآن ١٣٣.

8حوالہ سابق.

9صلح الاخوان ١٠٩؛ الغدیر ٥: ١٨٢.

10۔المواہب اللدنیہ ٥:٣٦٤ ؛ شذرات الذھب ٧: ٣٤٦

11صلح الاخوان ١٠٩.

12۔فرقان القرآن :١٣٣؛الغدیر ٥: ١٨١.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

ده − 4 =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More