علیم اور قادر خدا

ہمارا جسم مختلف قسم کی غذاؤں کا محتاج ہے ۔ اگر مختلف غذا ئیں نہ ہوتیں تو ہم کیا کرتے ؟ بدن کی سلامتی کے لۓ کچھ مقدار پانی پیتے ہیں اگر پانی نہ ہوتا تو ہم کیا کرتے ؟ اگر منہ نہ ہوتا : کہ جس سے پانی پیتے ہیں اگر پانی نہ ہوتا تو ہم کیا کرتے ؟ اگر دانت نہ ہوتے : کہ جس سے غذا ئیں چباتے ہیں تو کیا کرتے ؟ لیکن خوش بختی سے ہماری زندگی کے تمام وسائل اور ضروریات اس دنیا میں

ہمارا جسم مختلف قسم کی غذاؤں کا محتاج ہے ۔ اگر مختلف غذا ئیں نہ ہوتیں تو ہم کیا کرتے ؟

بدن کی سلامتی کے لۓ کچھ مقدار پانی پیتے ہیں اگر پانی نہ ہوتا تو ہم کیا کرتے ؟

اگر منہ نہ ہوتا : کہ جس سے پانی پیتے ہیں اگر پانی نہ ہوتا تو ہم کیا کرتے ؟

اگر دانت نہ ہوتے : کہ جس سے غذا ئیں چباتے ہیں تو کیا کرتے ؟ لیکن خوش بختی سے ہماری زندگی کے تمام وسائل اور ضروریات اس دنیا میں موجود ہیں ۔ مختلف قسم کے میوے کہ جن کی ضرورت ہے موجود ہیں ۔ مختلف قسم کی سبزیاں کی جن کی ضرورت ہے موجود ہیں ۔ پیاسے ہوتے ہیں تو پانی موجود ہے ۔ منہ موجود ہے کہ جس سے غذا کھاتے ہیں ۔ ہاتھ ہیں کہ جس سے غذا اٹھاکر منہ میں رکھتے ہیں ۔ معدہ اور آنتیں موجود ہیں جو غذا کو ہضم کرتی ہیں ۔ آنکھیں ہیں جس سے دیکھتے ہیں ۔ کان ہیں جس سے سنتے ہیں ۔ زبان رکھتے ہیں جس سے بولتے اور غذا کا مزا لیتے ہیں ۔ جو چیز بھی ہماری سلامتی اور رشد کے لۓ ضروری تھی اس دنیا میں موجود ہے ۔

ان روابط اور ترتیب اور نظم سے جو ہمارے اور دوسرے جہاں میں موجودات کے ساتھ برقرار ہے اس سے ہم سمجھتے ہیں کہ …

کوئی ذات عالم اور قادر ہے کہ جس نے ہمیں خلق کیا ہے اور وہ ذات ہماری فکر میں پہلے سے تھی اور ہماری تمام ضروریات کو جانتی تھی اور وہ ذات خداوند عالم کی ہے کہ جو دانا اور توانا ہے اگر دانا اور عالم نہ ہوتا تو اسے معلوم نہ ہوتا کہ ہمیں کن چیزوں کی ضرورت ہے ۔ اگر توانا اور قادر نہ ہوتا تو ان چیزوں کو کہ جن کی ہمیں ضرورت تھی پیدا نہیں کرسکتا تھا ۔ اب ہم سمجھے کہ خدا عالم ہے یعنی دانا ہے اور خدا قادر ہے یعنی توانا ہے ۔

نظم و ترتیب

سورج نکلتا ہے گھاس اگتی ہے ۔ حیوانات گھاس کھاتے ہیں اور ہم انکے دودھ اور گوشت سے استفادہ کرتے ہیں ۔ پس سورج ، گھاس ۔ حیوان اور انسان کے درمیان ایک ربط ہے ۔

اگر سورج نہ نکلے تو کیا ہوگا ؟

اگر گھاس نہ اگے تو کیا ہوگا ؟

اگر حیوانات نہ ہوں تو کیا ہوگا ؟

یہ ربط جو ہمارے اور دنیا کے دوسرے موجودات کے درمیان ہے اس سے کیا سمجھتے ہیں :

کون سی ذات ہماری ضروریات کو جانتی تھی اور ان کو ہمارے لۓ خلق کیا ہے ۔

کیا وہ ذات عالم و قادر ہے ۔

کیسے جانا کہ وہ دانا اور توانا ہے ؟

اگر وہ دانا نہ ہوتا تو اسے معلوم نہ ہوتا کہ …

اگر توانا اور قادر نہ ہوتا تو وہ قدرت نہ …

جی ہاں : وہ ذات دانا بھی ہے اور توانا بھی اور وہ ذات خدا کی ہے :

وہ مہربان ہے اور عطا کرنے والا ہے ۔

ہم بھی اسے بہت دوست رکھتے ہیں اور اس کے حکم اور فرمان کو مانتے ہیں تاکہ ہمیشہ زندگی با سعادت بسر کر سک

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

پنج × چهار =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More