عقل کیا ہے اور اس کے وجود کی کیا دلیل ہے؟

عقل ،آگاہی کا وہ نور ہے، جو ادراک کے تمام ارکان (حواس، تصورات، فکر، حافظہ وغیرہ) پر احاطہ کرکے ان سب کو روشنی بخشنا ہے- عقل کی موجودگی کو ادراک کرنے کے لئے ضروری شرط ، اپنے آپ سے عدم غفلت ہے اور عقل سے دوری کی وجہ اپنے سے بے خبر ھونا اور بعض اندھے نفسانی خواہشات کا غلام بننا ہے – اس بنا پر انسان کی عقل ایک فطری، واضح اور ذاتی امر ہے- اسے ثابت کرنے یا اس سے استفادہ کرنے کے لئے ایک پیچیدہ نظری بحث کی ضرورت ہے-

تفصیلی جوابات
مقدمہ:
عقل کی کیفیت پر بحث کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ مقدمہ کے طور پر مندرجہ ذیل چند مطالب کو بیان کیا جائے:
لفظ “عقل” ایک ایسی اصطلاح ہے جس کی ہر علم اور ہر نظریہ کے مطابق خاص تعریفیں کی گئی ہیں اور ان معانی میں پائے جانے والے فرق کی وجہ سے ہمیشہ غلط فہمیاں پیدا ھوئی ہیں-
عقل کی اصطالح کے بارے میں یہ پیدا شدہ ابہام کی وجہ صرف علوم کے خصوصی ھونے کی پیچید گی سے متعلق ہے نہ یہ کہ عقل ذاتی طور پر ابہام رکھتی ھو-
اسلام میں عقل و معرفت کو کافی قدر و منزلت بخشی گئی ہے- اس کے باوجود عقل کے بارے میں ایسی توصیفیں کی گئی ہیں جو مفید عقل اور خود خواہی کے درمیان ٹکراو اور تعارض رکھتی ہیں- خود محوری میں تمام محاسبات ،نفس امارہ کے دائرے میں انجام پاتے ہیں، بلکہ اسلام میں عقل کی تعریف انسان کے نفس امارہ ( خود خواہی) کے با لکل مقابلے میں ہے، جیسا کہ “عقل” کا لفظ عربی میں روکنے اور کنٹرول کرنے کے معنی میں ہے-[1]
دوسری جانب ، اسلامی معارف میں سب سے اہم بحث دینی امور سے متعلق استدلالی قیاس کی تنقید ہے- خاص کر تشیع اور مکتب اہل بیت(ع) میں قیاس کو مذہب ابلیس کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے،[2] اور کہا گیا ہے کہ دین الہی قیاس والی عقل سے قابل ادراک نہیں ہے-[3] دین خدا شریعت اورعالم ہستی کےماوراء حقائق پر مشتمل ہے-
اس بنا پر قرآن مجید اور روایات کے مطابق عقل صرف محاسبہ کرنے والی عقل نہی ہے اور ارسطو کی قیاس والی عقل بھی نہی ہے، یہ دونوں چیزیں عقل کے لئے ایک وسیلہ ھوسکتی ہیں نہ کہ اسے تکمیل کرنے والی- اس لئے قرآن مجید میں بار ہا یاد دہانی کی گئی ہے کہ لوگوں کی اکثریت اہل تعقل نہیں ہے یا اپنی عقل سے استفادہ نہیں کرتی ہے ،جبکہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اکثر لوگ اپنے کام، قیاس اور محاسبہ پر مبنی انجام دیتے ہیں-
عقل و دین کے تعارض کی بحث، ایک اہم بحث اور خاص کر مغربی دنیا میں پائی جاتی تھی، اس کا عملی نتیجہ دین کو بالائے طاق رکھنا نکلا، اس سے معلوم ھوتا ہے کہ یہ لفظ کس قدر اپنے حقیقی معنی سے دور ھوا ہے اور اس سے بدتر یہ کہ، دین، کس قدر ناحق امور کے ساتھ مخلوط ھو چکا ہے کہ جس کے نتیجہ میں دین و عقل کے درمیان تعارض کا وہم پیدا ھوا ہے- حالانکہ اسلام میں عقل و دین ایک ہی حقیقت ہے اور بعض روایتوں کے مطابق جہاں پر عقل ھو دین بھی و ہیں پر ہے-[4]
ہم نے بحث کی ابتداء میں ذکر کیا کہ ” عقل” اور ” قیاس و محاسبہ” پر مبنی فکر کو مساوی جاننا ایک فلسفیانہ اور عارفانہ خطا ہے، بلکہ قیاس اور محاسبہ کی قدرت عقل کے صرف سطحی اور ظاہری وسائل ہیں اور وہ صرف کمیت اور عدد کے امور میں کار آمد ہیں- لیکن چیزوں کی حقیقت ، اچھائی اور برائی، ہدایت و گمراہی، خدا اور انسان، کمال اور رستگاری وغیرہ کو سمجھنے کے لئے ایک نورانیت کی ضرورت ہے، جو عنصر الہی کے عنوان سے انسان کے وجود میں پوشیدہ ہے- اور یہ عنصر حقیقی معنوی میں وہی انسان کی عقل ہے- حضرت علی (ع) کے ارشاد کے مطابق:” انبیاء نے عقول کے خزانوں کو شکوفائی بخشنے کے لئے ظہور کیا ہے-“[5]
ہم جانتے ہیں کہ بہت سے انسانی فضائل کو محاسباتی نظریہ کے مطابق خلاف منطق امور شمار کیا جاتا ہے، حالانکہ عقل ایمان ان امور کو ذاتی قدریں جانتی ہے- اسی طرح خود خداوند متعال کا مفہوم ماہیت اندیش ذہن کے مطابق عملا عدم کے مساوی ہے، کیونکہ خداوند متعال کمیت، ماہیت اور کیفیت سے پاک ومنزہ ہے، جبکہ فطری عقل خدا کے ایمان کا سر چشمہ ہے- اس بنا پر عقل دینی کا دائرہ اسی فطری عقل کے مطابق قدرت محاسبہ سے وسیع تر و بالاتر ہے اور بہت سے قلبی ادراکات بھی اس میں شامل ہیں بلکہ بنیادی طور پر عقل، حکمت، فقہ اور فہم وغیرہ کو قرآن مجید میں انسان کے قلب سے نسبت دی گئی ہے یا خدا کی طرف سے عطا شدہ امر کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے-[6]
عقل کی حقیقت کیا ہے؟
عقل، حقیقت میں وہی انسان کی خود آگاہی ہے جو ادراک کے ہر مرتبہ پر عمل کرتی ہے اور یہ خود آگاہی صرف انسان سے مخصوص ہے اور حیوانات شعور رکھنے کے باوجود “میں” نام کے عنصر اور خود آگاہی سے عاری ہیں- بہ الفاظ دیگر عقل، وہ آگاہی کا نور ہے جو ادراک کے تمام ارکان ( حواس، تصورات، فکر حافظہ وغیرہ) پر آگاہی اور احاطہ رکھتا ہے اور سب کو روشنی بخشتا ہے-
انسان کے اپنے وجود کی نسبت اور حقیقت میں اپنے آپ پر شاہد ھونے کی یہ آگاہی انسان سے مخصوص تمام فہم و ادراک کا مرکز ہے- جو انسان اپنے بارے میں آگاہ ھو وہ اپنی اس آگاہی کے اثر میں ہر امر سے متعلق آگاہ و شاہد کے عنوان سے خود بخود امتیاز و فیصلہ کرنے کی قدرت پیدا کرتا ہے اور صرف اس وقت غفلت سے دوچار ھوتا ہے جب اس میں یہ توانائی موجود نہ ھو- پس جس طرح عقل عدم غفلت کی صورت میں کمیت و عددی امور سے روبرو ھونے کے وقت محاسبہ کی طاقت رکھتی ہے، اسی طرح معنوی اور بلند تر امور کے بارے میں بھی ایک متعالی ادراک رکھتی ہے اور اس کے مختلف درجات تدریجا شکوفا ھوتے ہیں-
اس بیان کے پیش نظر انسان کی عقل اور اس کا انسان میں ہر مرتبہ پر موجود ھونا ایک فطری، بدیہی اور ذاتی امر ہے اور اس کو ثابت کرنے کے لئے اس سے استفادہ کرنے کے سلسلہ میں پیچیدہ نظری مباحث کی ضرورت ہے-
منطقی عقل کو ثابت کرنے کے لئے انسان کی کوششوں کے بے فائدہ ھونے کی وجہ یہ ہے کہ مسئلہ کے فرض کی بنا پر ” منطقی ثبوت” صرف عقل کی ایک طاقت اور وسیلہ ہے، لہذا عقل کو اپنا ثبوت پیش کرنے کے لئے کسی وسیلہ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ عقل ذاتی طور پر خود آگاہی ہے اور ہر چیز عقل کی آگاہی کے نور سے آشکار و ثابت ھوتی ہے-
عقل کی موجودگی کو ادراک کرنے کے لئے ضروری شرط اپنے آپ سے عدم غفلت ہے اور عقل سے دور ھونے کی وجہ اپنے آپ کو نہ پہچاننا اور اپنے بارے میں بیگانگی اور ذہن کا بعض اندھی خواہشات کا غلام بننا ہے-
قرآن مجید کے مطابق بھی انسان عقل رکھتے ہیں، لیکن ان کے دل کے اندھے پن کی وجہ سے اس سے استفادہ نہیں کر سکتے ہیں:” کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی ہے کہ ان کے پاس ایسے دل ھوتے جو سمجھ سکتے اور ایسے کان ھوتے جو سن سکتے اس لئے در حقیقت آنکھیں اندھی نہیں ھوتی ہیں، بلکہ وہ دل اندھے ھوتے ہیں جو سینوں کے اندر پائے جاتے ہیں،”[7]
ایک دوسری آیہ شریفہ میں ارشاد ھوتا ہے:” اور یقینا ہم نے انسان و جنات کی ایک کثیر تعداد کو گویا جہنم کے لئے پیدا کیا ہےکہ ان کے پاس دل ہیں مگر سمجھتے نہیں ہیں اور آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں ہیں اور کان ہیں مگر سنتے نہیں ہیں یہ چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں اور یہی لوگ اصل میں غافل ہیں-“[8]
مراتب عقل:
یہاں پر ہم عقل کے مراتب کے بارے میں دینی معرفت کے نظریہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
ہم نے کہا ہے کہ، عقل اس کے عام معنی میں وہی انسان کی خود آگاہی ہے جو انسان کے وجود کا نور ہے- اس بنا پر عقل کے مراتب بھی انسان کی اپنے آپ کے بارے میں خود آگاہی کے مراتب ھوں گے کہ یہ خود آگاہی تمام حسی، خیالی، فکری اور حافظہ وغیرہ جیسےادراکات پر مشتمل ہے اور ان تمام ادراکات کو انسانی فہم و ادراک میں شامل کرتی ہے- یہ جو ہم نے کہا کہ عقل ان ادراکات کی آگاہی ہے نہ کہ بذات خود ادراکات، اس کی وجہ یہ ہے کہ ممکن ہے قرآن مجید کی تعریف کے مطابق انسان آنکھیں ( ادراک حسی) رکھتا ھو لیکن نہیں دیکھتا ہے اور محاسبہ کی طاقت رکھتا ہے لیکن تعقل نہیں کرتا ہے، حافظہ رکھتا ہے لیکن عبرت حاصل نہیں کرتا ہے وغیرہ- لیکن عاقل انسان مذکورہ تمام ادراکات کے بارے میں زندہ فہم رکھتا ہے اور یہی فہم انسان کے اندر عقل ھونے کا ثبوت ہے-
البتہ دنیوی امور کے لئے محاسبہ اور قیاس کی قدرت عقل کے وسائل میں سے ایک ہے جو اپنی جگہ پر بخوبی عمل کرسکتی ہے، یعنی یہ قدرت انسان کے تمام وجود میں انسان کے نفس امارہ کے فائدے میں استفادہ کرتی ہے- ان حالات میں محاسبہ کی قدرت جو عقل کے مشابہ ہے، نہ کہ خود عقل، انسان کے وجود کو اپنی سطح پر اسیر کرکے اسے کمال تک پہنچنے میں رکاوٹ بنتی ہے اور محاسبات کی کمیت کے علاوہ سب چیزوں کا انکار کرتی ہے-
اس یاد دہانی کے بعد، عقل کے مراتب کے بارے میں قابل بیان ہے کہ: عقل کا پست ترین درجہ وہی انسان کی اپنے حواس کے بارے میں آگاہی ہے، کہ انسان اپنی عقل سے استفادہ کرکے اپنے حواس سے حاصل ھونے والے پیغام کے معنی کو سمجھتا ہے اور بلند مرتبہ میں عقل، فکر کی آگاہی ، حافظہ، علم، عبرت اور حکمت پر مشتمل ھوتی ہے- اس کے بعد ان مراتب میں سے ایک برتر مرتبہ پرعقل نمایاں ھوتی ہے- جو وحی اور شہودی ادراکات ( اس کے کل معنی میں) کے مراتب کے سلسلہ پر مشتمل ھوتی ہے اور بالاخر عشق الہی اور توحید عرفانی کا مرتبہ، بالاترین درجہ کے عنوان سے عقل کی شکوفائی کی حس سے گزر کر آشکار ھوتا ہے-
اس بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید اور روایات کی اصطلاح میں عقل کو انسان کے نجات بخش عنصر کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے اور اس کا ایک عظیم دائرہ ہے- اسی لحاظ سے قرآن مجید اور معصومین ( ع) کی زبان میں عقل کی مذمت اور سرزنش کرنے کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے- صرف قیاس کے بارے میں ، جیسا کہ ہم نے کہا کہ قیاس عقل کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ عقل کے وسائل کا ایک سطحی حصہ ہے-[9]
عقل کی حقیقت کے بارے میں چند روایات:
1-امام صادق (ع) سے سوال کیا گیا کہ عقل کیا ہے؟ حضرت (ع) نے جواب میں فرمایا:” عقل وہ چیز ہے، جس سے خداوند متعال کی پرستش کی جاتی ہے اور بہشت ملتی ہے-” راوی کہتا ہے کہ، میں نے کہا: معاویہ کے پاس جو (عقل کے عنوان سے) چیز تھی وہ کیا تھی؟ جواب میں فرمایا وہ فریب کاری ہے اور شیطنت ہے، وہ بظاہر عقل لگتی ہے، لیکن وہ عقل نہیں ہے-“[10]
2- جب خداوند متعال نے عقل کو پیدا کیا- – – ارشاد فرمایا :” میری عزت و جلال کی قسم تجھ سے محبوب تر کسی مخلوق کو میں نے پیدا نہیں کیا ہے اور تجھے میں نے صرف ان افراد کو مکمل طور پر عطا کیا، جنھیں میں دوست رکھتا ھوں-“[11]
3- جبرئیل حضرت آدم (ع) پر نازل ھوئے اور کہا: اے آدم (ع) مجھے ماموریت ملی ہے کہ تین چیزوں میں سے ایک کو منتخب کرنے کا آپ کو اختیار دیدوں اور باقی دو چیزوں کوآپ چھوڑ دیں- حضرت آدم (ع) نے سوال کیا: وہ تین چیزیں کیا ہیں؟ جبرئیل نے کہا: عقل، حیاء اور دین- آدم (ع) نے کہا کہ میں عقل کو منتخب کرتا ھوں- جبرئیل نے حیاء و دین سے کہا کہ تم دونوں عقل کو چھوڑ کر واپس جانا- ان دونوں نے جواب میں کہا: اے جبرئیل ! ہم مامور ہیں کہ جہاں پر عقل ھو وہیں پر ہم بھی رہیں”-[12]
4- پیغمبر اسلام ( ص) نے فرمایا: خداوند متعال نے اپنے بندوں کو عقل سے بہتر کوئی چیز نہیں بخشی ہے، کیونکہ عاقل کا سونا جاہل کی شب بیداری سے بہتر ہے اور عاقل کا گھر میں رہنا جاہل کے ( حج و جہاد کی طرف) سفر کرنے سے بہتر ہے- اور خداوند متعال نے پیغمبر و رسول کو عقل کو مکمل کرنے کے علاوہ کسی چیز کے لئے مبعوث نہیں کیا ہے-( جب تک نہ عقل کو مکمل کرے تب تک مبعوث نہیں کرتا ہے) اس ( پیغمبر و رسول) کی عقل تمام امت کی عقلوں سے برتر ہے- اور جو کچھ پیغمبر رکھتا ہے وہ مجتہدین کے اجتہاد سے بالاتر ہے اور جب تک ایک بندہ واجبات کو اپنی عقل سے حاصل نہیں کرتا، اسے انجام نہیں دیتا ہے- تمام عابد اپنی عبادت کی فضیلت میں عاقل تک نہیں پہنچتے- عقلا وہی صاحبان عقل ہیں کہ ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے:” صاحبان عقل ہی نصیحت قبول کرتے ہیں-“[13]
5- امام صادق (ع) نے فرمایا ہے:” خداوند عز وجل نے عقل کو عرش کے بائیں جانب اپنے نور سے پیدا کیا ہے یہ روحانیوں سے پہلے پیدا کی گئی مخلوق ہے”-[14]
6-” ایمان و کفر کے درمیان عقل کی کمی کے علاوہ کوئی فاصلہ نہیں ہے-“[15]

[1] – عقلت البعير عقلا شددت يده بالعقال أي الرباط» کتاب العین، ج1، ص 159، نرم افزار جامع الاحادیث.
[2] -« أَوَّلَ مَنْ قَاسَ إِبْلِيسُ حِينَ قَالَ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَ خَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ فَقَاسَ مَا بَيْنَ النَّارِ وَ الطِّين » الکلینی، الکافی، ج1، ص 58، دار الکتب الاسلامیه ، تهران، 1365.
[3] -« إِنَّ أَصْحَابَ الْقِيَاسِ طَلَبُوا الْعِلْمَ بِالْقِيَاسِ فَلَمْ يَزْدَادُوا مِنَ الْحَقِّ إِلَّا بُعْداً إِنَّ دِينَ اللَّهِ لَا يُصَابُ بِالْقِيَاسِ» همان، ص 57.
[4] -« هَبَطَ جَبْرَئِيلُ عَلَى آدَمَ ع فَقَالَ يَا آدَمُ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أُخَيِّرَكَ وَاحِدَةً مِنْ ثَلَاثٍ فَاخْتَرْهَا وَ دَعِ اثْنَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ يَا جَبْرَئِيلُ وَ مَا الثَّلَاثُ فَقَالَ الْعَقْلُ وَ الْحَيَاءُ وَ الدِّينُ فَقَالَ آدَمُ إِنِّي قَدِ اخْتَرْتُ الْعَقْلَ فَقَالَ جَبْرَئِيلُ لِلْحَيَاءِ وَ الدِّينِ انْصَرِفَا وَ دَعَاهُ فَقَالَا يَا جَبْرَئِيلُ إِنَّا أُمِرْنَا أَنْ نَكُونَ مَعَ الْعَقْلِ حَيْثُ كَانَ قَالَ فَشَأْنَكُمَا وَ عَرَجَ» همان، ج1، ص11.
[5] -« وَاتَرَ إِلَيْهِمْ أَنْبِيَاءَهُ لِيَسْتَأْدُوهُمْ مِيثَاقَ فِطْرَتِهِ وَ يُذَكِّرُوهُمْ مَنْسِيَّ نِعْمَتِهِ وَ يَحْتَجُّوا عَلَيْهِمْ بِالتَّبْلِيغِ وَ يُثِيرُوا لَهُمْ دَفَائِنَ الْعُقُول» نهج البلاغه، ص 43، انتشارات دار الهجرة، قم.
[6] -« جَعَلْنا عَلى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ» الانعام، 25. « ما أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتابِ وَ الْحِكْمَةِ» البقره، 231. « أَ فَلَمْ يَسيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِها» الحج ،46.
[7] – الحج، 46.
[8] – الاعراف ، 179.
[9]- یہاں سے واضح ھوتا ہے کہ بعض علماء و عرفا کی عقل کی مخالفت حقیقت میں عقل کی غلط تعریف کے خلاف ان کا رد عمل تھا کہ اسے صرف محاسبہ ، حیلہ گری اور خیالبافی تک محدود کیا گیا تھا-
[10] – کلینی، الکافی، ج1، ص12، دار الکتب الاسلامیة، تهران، 1365هـ ش.
[11] – ایضا، ص 10. ، ص 10.
[12] -ایضا
[13] -ایضا، ص 13.
[14] -ایضا، ص20.
[15] -ایضا، ص28.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More