طبیب، جو خود مریض کے پاس جائے

معنویت کی طرف رجحان پیدا کرنے اور اسے عروج بخشنے کے لئے میدان ہموار ہے، بس کام اتنا ہے کہ رسول اکرم (ص) کی طرح ہمیں خود لوگوں کی تلاش میں جانا ہوگا۔ آنحضرت (ص) کی ایک صفت اس طرح بیان کی گئی ہے: ”طبیب دوّار بطبہ قد احکم مراھمہ و احمیٰ مواسمہ۔”

معنویت کی طرف رجحان پیدا کرنے اور اسے عروج بخشنے کے لئے میدان ہموار ہے، بس کام اتنا ہے کہ رسول اکرم (ص) کی طرح ہمیں خود لوگوں کی تلاش میں جانا ہوگا۔ آنحضرت (ص) کی ایک صفت اس طرح بیان کی گئی ہے: ”طبیب دوّار بطبہ قد احکم مراھمہ و احمیٰ مواسمہ۔”

 (نہج البلاغہ، خطبہ107)

 رسول اکرم (ص) گھوم گھوم کر طبابت کرنے والے طبیب کی مانند تھے۔ عام طور سے طبیب اپنے مطب میں بیٹھے رہتے ہیں اور مریض ان کے قریب جاتے ہیں لیکن انبیاء اس انتظار میں گھر نہیں بیٹھے رہتے تھے کہ لوگ ان کی طرف رجوع کریں بلکہ وہ خود لوگوں کی طرف جاتے تھے۔ وہ اپنے بستہ طبابت میں مرہم بھی رکھتے تھے، نشتر بھی رکھتے تھے اور زخم کو داغنے کا وسیلہ بھی ساتھ رکہتے تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More