شیعہ اور اہل سنت کے امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں مشترک نکات

الف: دونوں فرقے حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کو ایک یقینی اورمسلّمہ امر تسلیم کرتے ہیں ۔مرحوم شہید صدر اس بارے میں فرماتے ہیں: اس جہاں کو بہتر جہان میں تبدیل کرنے کے لئے حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کا عقیدہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث اوراہل بیت علیھم السلام کی روایات میں ذکر ہواہے اوراس مسئلہ کے بارے میں اتنی تاکید کی گئی ہے کہ کسی انسان کو اس میں کسی قسم کا شک نہیں ہے۔( بحث حول المہدی، ص۱۰۳و۱۰۴.)

مکتب تشیع کے دوسرے عالم دین مرحوم شیخ محمد رضا مظفر فرماتے ہیں : آخری زمانے میں فاطمہ (س) کی اولاد میں سے مہد ی علیہ السلام کے ظہور کی بشارت اورظلم و ستم سے بھری ہوئی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینے والا مسئلہ اتنا اہم ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) سے تواتر کے ساتھ نقل ہواہے اورمسلمانوں نے اسے اپنی احادیث کی کتابوں میں نقل کیاہے۔ (عقائد الامامیہ،ص۷۷.)

اہل سنت کے بزرگ عالم دین ناصر الدین البانی کہتے ہیں:’ مہدی ‘‘ کے خروج کے بارے میں بہت زیادہ صحیح احادیث نقل ہوئیں ہیں…۔‘‘ ( حول المہدی علیہ السلام ، البانی، مجلہ التمدن الاسلامی، سال ۱۳۷۱ھ ق.)

اہل سنت کے ایک اور دانشور شیخ عبدالمحسن بن حمد العباد کہتے ہیں: اھل سنت کی کتابوں میں امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں احادیث کی کثرت،ان کی اسناد کا بہت زیادہ ہونا اس حد تک ہے کہ بہت مشکل ہے کوئی نہ سمجھے مگر یہ کہ کوئی جاہل اور جدل کرنے والا ہو،یا وہ شخص انکارکرسکتاہے جس نے احادیث کی سند میں دقت نہ کی ہو اور اہل علم کے کلام سے واقف نہ ہو…۔( عقیدہ اھل السنۃ والاثر فی المھدی المنتظر ، مجلہ جامعۃ اسلامیہ، شمارہ ۳.)

ب: ان دونوں فرقوں کا مورد اتفاق ایک مسئلہ ، حضرت مہدی علیہ السلام کی حکومت کا عالمگیر ہوناہے ، اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اس مطلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاہے:(وَعَدَاللہُ الذَّیْنَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِیْ الاَرْضِ…)( نور، آیت،۵۵.)

اللہ نے تم میں سے صاحبان ایمان و عمل صالح سے وعدہ کیاہے کہ انہیں روئے زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا…۔

امام باقر علیہ السلام حضرت مہدی علیہ السلام کی حکومت کی وسعت کے بارے میں فرماتے ہیں:

‘یملک القائم ثلاثماءۃسنہ ویزداد تسعاً کما لبث اھل الکھف فی کھفم ، یملأ الارض عدلاً و قسطاً کما ملئت ظلماً و جوراً فیفتح اللہ لہ شرق الارض و غربھا‘‘(بحارالانوار،ج۵۲، ص۳۹۰، ح۲۱۲.)

‘ امام قائم علیہ السلام ۳۰۹ سال زمین پر حکومت کریں گے جتنی مدت اصحاب کہف غار میں سوئے رہے، زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں جس طرح وہ پہلے ظلم و جور سے بھر ی ہوئی ہوگی اور اللہ تعالی ان کے لئے مشرق و مغرب کو فتح کرے گا…۔‘‘

اہل سنت کے بزرگ عالم دین اور فرقہ حنبلیہ کے امام احمد بن حنبل نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیاہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: ‘تملا الارض ظلماً و جوراً ثم یخرج رجل من عترتی یملک سبعاً او تسعاً فیملا الارض قسطاً وعدلا‘‘ (مسند احمد،ج۳، ص۲۸.)

” زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی اس وقت میری عترت میں سے ایک مرد قیام کرے گا اور سات یا نو سال پوری زمین کا مالک ہوگا اوروہ اس وقت زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا۔‘‘

ج: دونوں فرقوں سے نقل ہونے والی احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ اس منجی عالم بشریت کا لقب ‘مہدی‘‘ ہے۔

مرحوم علامہ مجلسی نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: ‘یخرج المھدی وعلی رأسہ غمامۃ فیھا مناد ینادی ھذا المھدی خلیفۃ اللہ فاتبعوہ‘‘ (بحارالانوار، ج۵۱، ص۸۱.)

مھدی ایسی حالت میں قیام کریں گے کہ ان کے سر پر بادل کے ٹکڑے کا سایہ ہوگا اس بادل کے ٹکڑے میں سے آواز آئے گی یہ مہدی خلیفہ خدا ہیں، ان کی اطاعت کرو۔‘‘

اہل سنت کے عالم حاکم نیشابوری نے ابوسعید خدری سے نقل کیاہے کہ رسو ل خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ‘المھدی منا اھل البیت‘‘مہدی ہم اہل بیت میں سے ہیں۔‘‘(مستدرک حاکم، ج۴، ص۵۵۷.)

د: ایک اور مسئلہ جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام ، پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذریت اورفاطمہ زہرا سلام علیھا کی اولاد میں سے ہیں۔

امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: ‘ المھدی رجل من ولد فاطمہ ‘‘مہدی حضرت فاطمہ (س)کی اولاد سے ایک شخص ہیں‘‘(بحارالانوار، ج۵۱، ص۴۳، ح۳۲.)

اہل سنت کی احادیث میں سعید بن مسیب سے نقل ہوا ہے کہ میں امّ سلمہ کے پاس تھا کہ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی، امّ سلّمہ نے فرمایا: میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا: ‘المھدی من ولد فاطمہ‘‘ ‘مہدی فاطمہ( علیھا السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔‘‘( سنن ابن ماجہ، ج۲، ص۱۳۸۶، ح۴۰۸۶.)

ابوسعید خدری کہتے ہیں: رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ‘لاتقوم الساعۃ حتی تملائ الارض ظلماً و عدواناً قال: ثم یخرج رجل من عترتی (اومن اھل بیتی) یملأھا قسطاً و عدلاً کما ملئت ظلماً عدواناًً‘‘اس وقت تک قیامت برپا نہیں ہوگی جب تک زمین ظلم وجورسے بھر نہیں جائے گی ، اورفرمایا: پھرمیری عترت یا میری اھل بیت سے ایک مرد قیام کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا جس طرح کہ وہ ظلم و جور سے بھرچکی ہوگی۔( مسند احمد، ج۳، ص۳۶.)

ھ: حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اوران کا امام مہدی علیہ السلام کی اقتداء کرنا ایسے امور میں سے ہیں جس طرف دونوں فرقوں نے اشارہ کیاہے۔

ابوبصیر کہتے ہیں کہ :میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ نے فرمایا: ‘وینزل روح اللہ عیسی بن مریم فیصلی خلفہ‘‘اور عیسی بن مریم نازل ہوں گے پھر وہ امام مہدی علیہ السلام کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔‘‘( کمال الدین ،ج۲، ص۳۴۵، ح۳۱.)

اہلسنت ایک اہم راوی ابوہریرہ نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیاہے: ‘کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم و امامکم منکم‘‘وہ زمانہ کیسا ہوگا جب مریم کا بیٹا نازل ہوگا جبکہ تمہارا امام ، تم ہی سے ہوگا۔‘‘( صحیح بخاری،ج۳، ص۱۲۷۲،ح۳۲۶۵.)

اہل سنت کی اہم ترین حدیث کی کتاب صحیح مسلم میں نقل ہواہے کہ جابر بن عبداللہ انصاری نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیاہے کہ آنحضرت  نے فرمایا: ‘ قیامت کے دن تک میری امت کی ایک جماعت حق پر ہے پھرفرمایا: عیسی بن مریم ، آسمان سے نازل ہوں گے ۔ میری امت کا امیر، حضرت عیسی سے کہیں گے کہ آگے آکر ہماری امامت کرو وہ جواب میں کہیں گے : نہیں اس امت پر خدا کے فضل و کرم کی وجہ سے تم میں سے بعض دوسروں پر امیر ہیں۔‘‘ ( صحیح مسلم،ج۱، ص۱۳۷.)

ابوسعید خدری نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا: ‘منا الذی یصلی عیسی بن مریم خلفہ‘‘جس شخص کی عیسی بن مریم اقتداء کریں گے اور نماز پڑھیں گے وہ ہم میں سے ہیں۔‘‘( مسند احمد، ج۱، ص۸۴.)

و: شیعہ او ر اہل سنت کے درمیان ایک اور اتفاقی مسئلہ ظہور کی علامات ہیں۔

جابر، امام باقر علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں: ‘سفیانی اپنے لشکر کے ساتھ سرزمین بیدا پر اترے گا پھر آسمان سے منادی ندا دے گا اے زمین بیداء اس لشکر کو نابود کردے تو پورا لشکر زمین دھنس جائے گا۔‘‘( غیبت نعمانی، ص۲۷۹، ح۶۷.)

عائشہ نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیاہے کہ ‘ ایک لشکر کعبہ پر حملے کے لئے نکلنے کا ارادہ کرے گا جب وہ زمین بیداء پر پہنچے گا تو زمین کے اندر دھنس جائے گا۔( صحیح بخاری،ج2، ص279،ح2012.)

اس کے علاوہ اور بھی کئی اتفاقی نکات موجود ہیں جیسے الہی امداد، مغرب سے خورشید کا طلوع ہونا، امام کے ظاہری اوصاف ، ظہور کے زمانے میں نعمات کی کثرت، رکن اور مقام کے درمیان بیعت وغیرہ۔

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

هفده − 10 =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More