روح کی بقاء،قیامت کی ایک علامت

کوئی شخص نہیں جانتا ہے کہ انسان کب سے”روح“کے وجود کے بارے میں فکر کرنے لگاہے۔

صرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ انسان ابتداء سے ہی اپنے اور اس دنیا کی دوسری مخلوقات کے در میان فرق کا مشاہدہ کرتا رہا ہے ،اپنے او رپتھر ،لکڑی ،پہاڑ اور صحرا کے در میان فرق،اپنے اور حیوانات کے در میان فرق۔

انسان نے خواب کی حالت کو دیکھا تھا ،اسی طرح اس نے موت کی حالت کو بھی دیکھاتھا ۔وہ دیکھ رہاتھا کہ خواب اور موت کے دوران بغیر اس کے کہ جسم و مادہ میں کوئی تبدیلی ایجاد ہو اس کی حالت میں ایک عظیم تغیر وتحول پیدا ہوتا ہے ،یہیں سے اس نے سمجھا کہ اس جسم کے علاوہ ایک اور گوہر بھی اس کے اختیار میں ہے۔

اس کے علاوہ وہ دیکھ رہا تھا کہ حیوانات سے بھی فرق رکھتا ہے،کیونکہ وہ فیصلے لینے میں اختیار وآزادی کا مالک ہے ،جبکہ حیوانات کی نقل وحرکت فطری اور جبری ہے۔

بالخصوص نیند کی حالت میں جب اس کے بدن کے تمام اعضاء ایک کونے میں خاموش پڑے ہوتے تھے اور وہ خواب میں مختلف مناظر کا مشاہدہ کرتا تھا تو اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ ایک مخفی اور پر ُاسرارطاقت اس کے وجود پر حکم فر ماہے ،تو اس نے اس کا نام ”روح“ رکھا۔ 

جب عالم بشریت کے مفکرین نے فلسفہ کی بنیاد ڈالی تو ”روح“ایک اہم فلسفی مسئلہ کے عنوان سے دوسرے مسائل کی فہرست میں قرار پائی ۔اس کے بعد تمام فلاسفہ نے اس کے بارے میں اپنے نظریات پیش کئے،یہاں تک کہ بعض اسلامی علماء کے کہنے کے مطابق ،روح کی حقیقت اور اس سے مربوط دوسرے مسائل کے بارے میں تقریباً ”ایک ہزار اقوال ونظریات“پیش کئے گئے ہیں۔ یہ ایک لمبی بحث ہے، لیکن جس اہم مطلب کو جاننا ضروری ہے،وہ اس سوال کا جواب ہے:

کیا روح مادہ ہے یا غیر مادہ ؟دوسرے الفاظ میں :کیا روح مستقل ہے یا مغز واعصاب کے سلسلہ کے مادی اور کیمیاوی خصوصیات میں سے ہے؟

بعض مادی فلاسفہ اس بات پر مصر ہیں کہ روح اور اس سے متعلق مظاہر بھی مادی ہیں اور مغز کے خلیوں کے خواص میں سے ہیں،اور جب انسان مرتا ہے تو اس کے ساتھ روح بھی نابود ہو جاتی ہے ،بالکل اسی طرح کہ ایک گھڑی پر ہتھوڑی مار کر اسے توڑ دیا جائے تو اس گھڑی کا چلنابھی بند ہو جا تا ہے!

اس گروہ کے مقابلہ میں الہٰی فلاسفہ ہیں،حتی بعض مادی فلاسفہ بھی جوروح کی حقیقت کے قائل ہیں ،وہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ بدن کے مرنے سے روح نہیں مرتی بلکہ وہ باقی رہتی ہے۔

اس مسئلہ ،یعنی روح کی حقیقت ،استقلال اور بقاء کو ثابت کر نے کے لئے کافی اور پیچیدہ دلائل پیش کی گئی ہیں کہ ہم یہاں پر ان میں سے بعض واضح ترین دلائل کو آسان اور روان عبارتوں میں اپنے عزیز نو جوانوں کی آگاہی کے لئے بیان کرتے ہیں:

۱۔ ایک وسیع کا ئنات ایک چھوٹی جگہ میں نہیں سما سکتی

فرض کیجئے آپ ایک عظیم سمندر کے کنارے بیٹھے ہیں ۔اس کے ساحل پر سربفلک پہاڑوں کاایک سلسلہ ہے ۔پانی کی گرجتی لہریں مسلسل ساحلی چٹانوں سے ٹکراتی ہیں اور غیض وغضب کی حالت میں سمندر کی طرف پلٹ جاتی ہیں۔

پہاڑ کے دامن میں واقع بڑی بڑی چٹانیں بتارہی ہیں کہ پہاڑوں پر کیا غوغا ہے،نیلگوں آسمان بھی اس پہاڑ اور سمندر پر خیمہ لگائے ہوئے ہے اور رات کے وقت اپنی عظمت و شکوہ کا مظا ہرہ کر رہا ہے۔

ہم ایک لمحہ اس منظر کو دیکھ کر آنکھیں بند کر کے اس منظر کو اپنے ذہن میں اسی شان وشوکت اور عظمت کے ساتھ مجسم کرتے ہیں۔

بے شک اس ذہنی نقشہ اور اس عظیم منظر اور تصور کے لئے ایک مناسب جگہ کی ضرورت ہے،ممکن نہیںہے کہ یہ نقشہ مغز کی چھوٹی خلیوں میں سما سکے ،اگر ایسا ہو تو ایک بڑا نقشہ ایک چھوٹے سے نقطہ پر سمائے گا (جو محال ہے)،جبکہ ہم اس نقشہ کو اس کی تمام عظمتوں کے سا تھ اپنے ذہن میں احساس کرتے ہیں۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہم جسم اور مغز کی خلیوں کے علاوہ ایک اور گوہر رکھتے ہیں اور ہر اندازہ کے نقشہ کو اپنے اندر منعکس کر سکتا ہے،یقینا یہ گوہر عالم مادہ سے ماوراء ہے،کیونکہ مادی دنیا میں ہمیں ایسی چیز نہیں ملتی ہے۔

۲۔بیرونی دنیا میں روح کے انعکاس کی خصوصیت

ہم اپنے وجود کے اندر بہت سی طبیعیاتی اور کیمیاوی خاصیتں رکھتے ہیں،معدہ اور دل کی حرکتیں طبیعیاتی عمل ہیں،لیکن آب دہن اور معدہ کی رطوبت کا غذا پر اثر ایک کیمیاوی عمل ہے ۔اور اس قسم کے عوامل ہمارے پورے جسم میں فراواں صورت میں پائے جاتے ہیں۔

اگر روح ،سوچ اور فکر سب مغزکی خلیوں کی مادی ،طبیعیاتی اور کیمیاوی خصو صیتیں ہیں،توان میں اور ہمارے جسم کی دوسری خصوصیتوں میں کیوں فرق پا یا جا تا ہے؟

فکر واندیشہ اور روح بیرونی دنیا کے ساتھ ہمارے رابطہ اور پیوند کو برقرار کرتی ہیں اور ہمارے ارد گرد گزرنے والے حالات سے ہمیں آگاہ کرتی ہیں،لیکن لعاب دہن اور معدہ کی رطوبت کی کیمیائی خصو صیتں اور آنکھ ،زبان،اور دل کی طبیعیاتی حر کتیں ہر گز یہ حالت نہیں رکھتی ہیں ۔

دوسرے الفاظ میں ،ہم بخوبی احساس کرتے ہیں کہ ہمارا وجودبیرونی دنیا سے

مر بوط ہے ،اور ہم اس کے مسائل سے آگاہ ہیں ،کیا بیرونی دنیا ہمارے اندر داخل ہوتی ہے؟ یقینا نہیں،پس مسئلہ کیا ہے؟

یقینا بیرونی دنیا کا نقشہ ہماے پاس آتا ہے اور ہم روح کی بیرونی منظر کشی کی خصوصیت سے استفادہ کے ذریعہ اپنے وجود سے باہر والی دنیا کے بارے میں آگاہ ہوتے ہیں اور یہ خصوصیت ہمارے جسم کے کسی بھی طبیعیاتی اور کیمیائی حصہ میں موجود نہیں ہے۔(غور کریں)

دوسری عبارت میں :بیرونی اور عینی مخلوقات سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے ان پر ایک قسم کا تسلط اور حاوی ہو نا ضروری ہے ۔یہ کام مغز کی خلیوں کا نہیں ہے،مغز کی خلیے صرف باہر سے متاٴثر ہو سکتی ہیں ،جس طرح جسم کی دوسری خلیے متاٴثر ہوتی ہیں۔

اس فرق سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں پر طبیعیاتی اور کیمیائی تبدیلیوں کے علاوہ ایک اور حقیقت کا وجود ہے جو ہمیں اپنے وجود سے باہر والی دنیا پر مسلط اور حاوی کرتی ہے اور یہ ”روح“کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے ،جو مادی دنیا اور مادہ کی خصوصیات سے بالاتر ہے۔

۳۔روح کے حقیقی اور مستقل ہونے پر تجرباتی دلائل

خوش قسمتی سے آج دنیا کے دانشوروں اور سائنسدانوں نے مختلف علمی اور تجربی طریقوں سے روح کی حقیقت اور اس کے مستقل ہونے کو ثابت کیا ہے اوران لوگوں کا داندان شکن جواب دیا ہے جو روح کے مستقل ہو نے کے منکر ہیں اور اسے مادہ کی خصوصیات سے نیز اس کا تابع جانتے ہیں ۔

۱۔مقنا طیسی خواب (ہیپنو ٹزم یا میگنیٹزم)ان محکم دلائل میں سے ہیں جو بہت سے تجربوں کے بعد ثابت ہوئے ہیں ۔بہت سے لوگوں نے انھیں دیکھا ہے ،جن لوگوں نے ان کو نہیں دیکھا ہے،ان کے لئے تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے اور وہ یہ ہے:

کچھ افراد مختلف علمی طریقوں سے کسی اور شخص کے ذریعہ نیند میں چلے جاتے ہیں،کسی کو نیند میں ڈالنے والے کو”عامل “کہا جاتا ہے اور نیند میں چلا جانے والا ”میڈیم“کہلاتا ہے۔”میڈیم“شخص تلقین ،فکری تمرکز،اور آنکھ کی مقنا طیسی قوت جیسی چیزوں کے ذریعہ ایک گہری نیند میں چلا جاتا ہے ،لیکن یہ نیند عام نیند کے مانند نہیں ہوتی ہے ،بلکہ یہ ایک ایسی نیند ہوتی ہے جس میں سونے والے (میڈیم)سے رابطہ برقرار کیا جاسکتا ہے،اس سے بات کی جاسکتی ہے اور اس کا جواب سنا جاسکتا ہے۔

اسی حالت میں روح سونے والے کو مختلف جگہوں پر بھیجتی ہے،کبھی وہ وہاں سے اپنے ساتھ تازہ خبریں لے آتا ہے اور ایسے مسائل کی اطلاع حاصل کرتا ہے،جن کے بارے میں عام حالت میں اسے کوئی خبر نہیں ہوتی ہے۔

کبھی اس حالت میں ریاضی کے پیچیدہ ترین سوال حل کرتا ہے۔

کبھی اس مقنا طیسی نیند کے دوران اپنی مادری زبان کے علاوہ ایک ایسی زبان میں بات کرتا ہے ،جس سے وہ کبھی آشنا نہیں تھا۔

کبھی کسی مقفّل صندوق میں رکھے ہوئے کاغذ پر کچھ مطالب وہ لکھ دیتا ہے ۔

حتی کہ کبھی ارواح ،شبح (دورسے نظرآنے والے جسم) کی صورت میںاور کبھی واضح سایوں کی صورت میں اس قسم کے اجتماعات میں ظاہر ہوتی ہیں۔ ان کی تفصیل ہم نے کتاب”عودارواح“ میں بیان کی ہے۔

۲۔”اسپرٹزم“ یا”موت کے بعد ارواح سے ارتباط“ روح کی حقیقت اور استقلال کی ایک دلیل ہے۔

اس وقت بھی ”روحیون کی جماعتوں“ کے نام سے دنیا بھر میں کچھ ایسے افراد موجود ہیں۔ جن کے بارے میں مصری دانشور”فریدوجدی“ کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے تقریبا تین سورسالے اورروزنامے دنیا بھر میں شائعے ہوتے ہیں۔ مختلف شخصیتوں پر مشمل معروف افراد ان کے جلسوں میں شرکت کرتے ہیں اور ان کے سامنے ارواح سے رابطہ قائم کیا جاتاہے اور اس کے علاوہ بہت سے غیر معمولی کام بھی انجام دئے جاتے ہیں۔

اگر چہ بعض فریب کار، روح سے ارتباط کے مسئلہ کے بارے میں کسی قسم کا علم رکھے بغیر لوگوں کو دھو کہ دینے کے لئے ارواح سے رابطہ کا دعوی کرتے ہیںا ور اس طرح اس سے کافی حد تک ناجائز فائدہ اٹھا تے ہیں۔ لیکن یہ فریب کاری اس حقیت کے سلسلہ میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتی ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کا بڑے بڑے محققین نے اعتراف کیا ہے اور وہ ارواح کے ساتھ رابطہ کا ممکن ہونا ہے(۱)۔ 

یہ سب انسان کی روح کی حقیقت ، اس کے استقلال اور مرنے کے بعد باقی رہنے کی دلیل ہے، اور معاد اورموت کے بعد زندگی کی حقیقت کے سلسلہ میں ایک مؤثر قدم ہے۔

۳۔ وہ خواب جو ہم دیکھتے ہیں اور خواب کی حالت میں ہمارے سامنے مجسم ہونے والے مناظر کبھی مستقبل میں رونما ہونے والے حوادث سے پردہ اٹھاتے ہیں اور پوشیدہ مسائل کو آشکار کرتے ہیں، ان کو ہم محض اتفاق نہیں کہہ سکتے، بلکہ یہ بھی روح کی حقیقت و استقلال کی ایک اور دلیل ہیں۔

اکثر افراد نے اپنی زندگی میں سچے خواب دیکھے ہیں اس کے علاوہ سنتے آئے ہیں کہ فلاں دوست نے ایک ایسا خواب دیکھا ہے کہ ایک مدت کے بعد کسی کمی بیش کے بغیر اس کی تعبیر سچ نکلی ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ انسان کی روح کا خواب کی 

۱۔ اس کی مزید و ضاحت کے لئے کتاب”عود ارواح“ اورکتاب”معاد وجہان پس از مرگ“ کی طرف رجوع فرمائیں۔

حالت میں دوسرے عوالم سے رابطہ ہوتاہے اور وہ کبھی مستقبل میں رونما ہونے والے حوادث کا مشاہدہ کرتی ہے۔

مجموعی طور پر یہ اموربخوبی ثابت کرتے ہیں کہ روح مادی نہیں ہے اور یہ انسان کے مغز کی طبیعیاتی اور کیمیائی خصوصیت نہیں ہے، بلکہ یہ ماورائے طبیعت ایک حقیقت ہے جو اس جسم کے مرنے سے نابود نہیں ہوتی ہے اور یہ امور بذات خود مسئلہ معاد اور موت کے بعد عالم آخرت کو ثابت کرنے کے لئے راہ کوہمرارکرتی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More