دین کے قوانین :۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا نے واجب اور حرام وغیرہ کے تمام دینی احکام اور قوانین بندوں کے لیے ان بھلائیوں کے مطابق جو ان اعمال کے اندر ہیں ، مقرر کردیئے ہیں جس عمل میں پوری بھلائی ہے خدا نے اسے واجب کردیا ہے اور جس عمل میں خرابی زیادہ ہے اس سے منع کر دیا ہے اور اس عمل کو جس میں پوری اور لازمی بھلائی نہیں ہے اسے مستحب قرار دیا ہے اور اسی طرح باقی احکام ہیں۔

یہ بات خدا کے عدل اور بندوں پر اس کے لطف کا نتیجہ ہے خدا ہر واقعے اور حادثے میں حکم جاری کرنے والا ہے ۔ اگرچہ بعض معاملات میں ہمیں خدائی احکام کی اطلاع نہیں ہو پاتی لیکن کوئی بات ایسی نہیں ہوتی جو حکم خدا سے خالی ہو۔

اس کی وضاحت یوں ہے کہ خدا ایسی بات کا حکم نہیں دیتا جس میں خرابی مضمر ہو اور نہ ایسی بات سے منع کرتا ہے جس کے انجام دینے میں بھلائی ہو۔ لیکن مسلمانوں کے بعض فرقے کہتے ہیں کہ برا کام وہ ہے جس سے خدا منع کرے اور نیک کام وہ ہے جس کا خدا حکم دے لیکن خود اعمال میں ذاتی بھلائی، برائی یا خوبی خرابی نہیں ہوتی۔

یہ عقیدہ یقیناً عقل اور سوچ کے فیصلے کے خلاف ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس غلط عقیدے والے اس بات کو روا سمجھتے ہیں کہ خدا براکام انجام دے یا جس کام میں فساد اور تباہی ہو اس کا حکم دے اور اس کاموں سے جن میں بھلائی ہو منع کرے۔ اس سے پہلے یہ بتایا جاچکا ہے کہ یہ بات بالکل لچر ہے، اس لیے کہ یہ قول اس خدا کی مجبوری اور ناواقفیت پر دلالت کرتا ہے جو دراصل ہر نقص سے بری ہے ۔

غرض صحیح عقیدہ یہ ہے کہ خدا اگر ہمیں واجبات کا حکم دیتا ہے اور حرام باتوں سے منع کرتا ہے تو اس میں خود اس کا نفع نقصان نہیں ہوتا بلکہ تمام دینی قوانین میں نفع نقصان انسان کا ہوتا ہے چونکہ تمام اعمال بھلائی یا برائی والے ہوتے ہیں اس لیے خدا نے بھلائی کی خاطر ان کی انجام دہی کا حکم دیا ہے اور خرابیوں کے باعث ان سے منع فرمایا ہے کیونکہ خدا نہ بے فائدہ حکم دیتا ہے اور نہ بے وجہ منع کرتا ہے ۔ اپنے بندوں سے اس کی کوئی ضرورت یا غرض اٹکی ہوئی نہیں ہے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More