دیدار کی نفی اور پروردگار کے لطف کامل کے درمیان تضاد

چند نکات کی طرف توجہ ضروری ہے:

(۱)۔ اگر انسان اپنے غلط اعمال اورکردار کی وجہ سے کسی نعمت کو کھودیتے ہیں تو وہ اپنی اس غلطی کے خود جوابدہ ہیں اور انہیں اس کا تاوان دیناچاہئے۔اللہ تعالی کی مہربان ذات اپنی نعمات اپنی مخلوقات کو دینے سے دریغ نہیں کرتی ہے بلکہ یہ انسان ہیں جو ناشکری کرتے ہیں اورپھر اس کفران نعمت کے نتیجے میں نعمتیں زائل ہوجاتی ہیں ۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتاہے:(ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس)( سورہ روم،آیہ ۴۱.)لوگوں کے اعمال کی بناپربری اور بحری دونوں جگہ پر فساد غالب آگیاہے۔دعای عہد میں بھی اس مطلب کی طرف اشارہ ہواہے۔

لہذااگر امام کے دیدار کی نعمت سے محروم ہوگئے ہیں تو یہ اس وجہ سے ہے کہ امام کی قدر ومنزلت کو نہیں پہچانا اب اگر ہم دوبارہ ظہور سے فیض حاصل کرنا چاہتے ہیں تو خود ہمیں طلب کرنا ہوگا ۔ امام زمانہ علیہ السلام شیخ مفید کے نام اپنے ایک خط میں فرماتے ہیں : ‘ولو انّ اشیاعنا، وفقھم اللہ لطاعتہ، علی اجتماع من القلوب فی الوفاء، بالعہد علیھم لما تأخر عنھم الیمن بلقائنا لتعجلت لھم السعادہ بمشاھدتنا علی حق المعرفۃ وصدقھا منھم بنا، فما یحبسناعنھم الاّ ما یتصل بنا ممّا نکرھہ۔‘‘ ( احتجاج،ج۲، ش۳۶۰، ص۶۰۰.)

اگر ہمارے شیعوں(کہ اللہ انہیں اپنی اطاعت کرنے کی توفیق عطاف فرمائے ) کے دل اپنے کیے ہوئے عہد و پیمان پر جمع ہوجاتے تو ہماری ملاقات کے شرف میں تأخیر نہ ہوتی اور بہت جلد ہماری حقیقی معرفت کے ساتھ ہمارے دیدار کی سعادت انہیں نصیب ہوتی۔صرف پس لوگوں کے ناپسندیدہ کردار کی وجہ سے ہم ان سے دور ہیں۔

(۲)۔اگرچہ امام علیہ السلام کی زیارت ایک بہت اہم اور عظیم نعمت ہے اور ولی خدا اور حجت حق کی خدمت میں شرفیاب ہونااللہ تعالی کا ایک لطف ہے؛ لیکن اگر بعض حالات اور مصلحت کی بنا پر امام کا غایب ہونا ضروری ہو اور دیدار کرنے سے ایک ناپسندیدہ حادثہ رونما ہو اور امام یا دیدار کرنے والے کے لئے خطرہ ہو تو کیا اس صورت میں بھی یہ دیدار اور زیارت، لطف شمار ہوگا؟ اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ خداوند کریم کے بے انتہا الطاف، حالات اور مصلحتوں کے تحت لوگوں پر نازل ہوتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر ہر نعمت کے لئے مناسب دقت اور موقعیت کا فراہم ہونا ضروری ہے۔

(۳)۔روایت میں بطورمطلق،دیدار کی نفی نہیں ہوئی ہے بلکہ روایت میں دقت کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ مشاہدہ کے دعویدار کو جھوٹا اور افتراء باندھنے والا کہا گیاہے۔ بنابرین ممکن ہے کہ بعض ملاقاتیں انجام پائی ہوں اور خداوند کریم کا لطف بھی نازل ہوتاہے۔

(۴)۔ بعض مقامات پر مشاہدہ کے دعویدار کو جھٹلانا عین لطف ہے تاکہ کوئی شخص دیدار اور زیارت امام کا جھوٹا دعویٰ کرکے لوگوں کو دھوکہ نہ دے سکے اورامام زمانہ علیہ السلام کے نام سے اپنی دوکان نہ کھول سکے اور اپنی باتوں کو امام کی طرف منسوب کر کے لوگوں تک نہ پہچاسکے۔

امام علیہ السلام کی زیارت نہ فقط ایک ممکنہ امر ہے بلکہ واقع بھی ہوئی ہے اورنیک سیرت انسانوں، علماء، حتی کہ عام انسانوں کو امام علیہ السلام کی زیارت سے شرفیاب ہونے کا موقع نصیب ہوا ہے اوران کی داستانیں ، معتبر کتابوں میں ملتی ہیں اور ہمارے علماء نے اس بات کی وضاحت بھی کی ہے مرحوم شیخ صدوق اورشیخ طوسی نے اپنی کتابوں ‘کمال الدین و اتمام النعمۃ‘‘ اور ‘الغیبۃ‘‘ میں امام علیہ السلام کی زیارت کرنے والے افراد کے نام سے ایک ایک باب بھی تحریر کیاہے۔

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

هشت − شش =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More