دعا آخری سہا را بھی اور بہترین ہد یہ بھی

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان کی زندگی میں  کبھی نہ کبھی ایسا لمحہ آجا تا ہے جب دنیا کے تما م مادی وسائل وتدابیر نا کا م ہو جا تے ہیں  اور ایسے حا لا ت سے دو چار ہو نا پڑتا ہے جب سا رے دنیا وی سہا رے ٹوٹ جا تے ہیں  ،امیدیں  ختم ہو جا تی ہیں  اور انسان کا اپنے قریب ترین اعزہ واقارب سے بھی اعتما د اٹھ جا تا ہے اور وہ تما م رشتہ دار ہو نے کے با وجود بھی اپنے آپ کو تنہا محسوس کر تا ہے ،ہر طرح کے مادی وسائل واسبا ب ہو نے با وجود بھی وہ اپنے آپ کو بے بس ومجبور سمجھنے لگتا ہے ،ما یو سی کے با دل اس پر منڈلا نے لگتے ہیں  اور اس کے ازالے کی کو ئی صورت اسے نظر نہیں  آتی ،اسی بے چارگی کے عا لم میں  اس کے دل میں  ایک آواز اٹھتی ہے کہ ایک سہا را اب بھی مو جو د ہے ایک دروازہ اب بھی کھلا ہے جہا ں  وہ اپنے دکھ سکھ ،مصا ئب و آلا م کا تذکرہ کر سکتا ہے اور اپنے سوزش قلب کی داستا ن سنا سکتا ہے ،پھر وہ اچانک ما یو سی کے دلدل سے نکل آتا ہے اور پو ری دلجمعی کیساتھ پر امید ہو کر اپنی نگا ہ کو آسما ن کی جا نب اٹھا تا ہے اور ہا تھ پھیلا کر اپنے رب سے فر یا د کر نے لگتا ہے اسی حالت و کیفیت کو اللہ تعالی نے قرا ن مجید میں  اس طرح بیا ن ْفر ما یا ہے ”بھلا کو ن جو بے قرا ر کی دعا قبو ل کر تا ہے جب وہ اسے پکا رتا ہے اور اسکی تکلیف دور کر تا ہے اور زمین میں  تمہیں  خلا فت عطا کر تا ہے (یہ کا م کرنے والا)اللہ کے سوا کو ئی اور بھی ہے ؟”(نمل٦٢)دوسری جگہ فرما یا ‘اور جب تمہیں  سمندر میں  تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ کے سوا وہ تما م معبود جنہیں  تم پکا رتے رہے تھے گم ہو جا تے ہیں  پھر جب وہ تمہیں  نجا ت دیکر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو اس سے رو گر دانی کر لیتے ہو انسان بڑا ہی نا شکر گذار ہے ”(اسرائ٦٧)ایک جگہ اور فرما یا ”پھر جب تمہیں  کو ئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے با رگا ہ میں  گریہ وزاری کر تے ہو ”(نحل٥٣)ایک شخص رسول اکرم ۖکی خدمت میں  حا ضر ہو ااور عرض کیا یا رسول اللہ آ پ ہمیں  کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں  ؟آپ نے ارشاد فرما یا اللہ کی طرف جو اکیلا ہے جس کا کوئی شریک نہیں  جب تم کسی مشکل میں  ہو تے ہو تو وہ تمہا ری مشکل کشائی کر تا ہے ،جنگلوں  میں  راہ بھو ل کراسے پکا رتے ہو تو تمہا ری راہنما ئی کرتا ہے ،جب تمہا ری کو ئی چیز کھوجا ئے اور اس سے ما نگو تو تمہیں  واپس لو ٹا دیتا ہے ،جب قحط سالی میں  اس سے دعا ئیں  ما نگو تو موسلا دھا ر با رشیں  برسا تا ہے(مسند احمد)رسول اکرم ۖ کا ارشاد مبا رک ہے کہ دعا عبا دت ہے ایک دوسری حدیث میں آپ نے فرما یا دعا عبا دت کی روح ہے ،تخلیق آدم کے بعد سب سے پہلے حضر ت آدم علہ ا لسلام کو جو عبا دت سکھلا ئی گئی وہ دعا ہی ہے،جب آدم علیہ السلا م سے اللہ کے حکم میں  کو تا ہی ہو گئی جس پر حضرت آدم نہا یت ہی شر مندہ ہو گئے اس وقت اللہ تعالی اس پر نظر کرم فرما کرحضرت آدم کو یہ دعا سکھلا ئی ”اے ہما رے پر ور دگا ر ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اگر تو نے ہما ری مغفر ت نہ کی اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم خسارہ اٹھانے والوں  میں  سے ہو جا ئیں  گے (اعراف٢٣)حضور اکرم ۖ کی زندگی پر اگر نظر ڈالی جا ے تو معلو م ہو گا کی آپ کی حیا ت طیبہ کا کو ئی لمحہ ایسا نہیں  جو دعا سے خا لی ہو ،سونے جا گنے،اٹھنے بیٹھنے،کھانے پینے ،سفرحضر ،خلوت جلوت،خوشی غم ،تنگ حالی وخوشحالی ،مصائب و آزما ئش ہر موقع پر آپ نے دعا ئوں  کا سہا را لیا ۔اسی طرح اگر ایک نظر اسلا م کی بنیا دی ارکا نوں  پر ڈالی جا ے تو اللہ کے رسول ۖکا فرما ن ”دعا عبا دت کا مغز ہے”اس کی حقیقت با لکل واضح و عیا ں  ہو جا تی ہیں ،”صلوة”جس کے لغوی معنی دعا کے ہیں  بے شک اول سے آخر تک دعا ہی دعا ہے ،اسی طرح روزہ رمضان کے اس مبا رک مہینہ میں  جو شخص رجوع الی اللہ ،توبہ واستغفا ر ،ادعیہ و اذکا ر کے ذریعہ اپنے گناہوں  کی مغفر ت نہ کرا لے اس پر اللہ کے رسول ۖ نے لعنت فر ما ئی ہے ،اس مہینے کی آخر ی عشرے میں  ایک رات جو ہزار مہینے سے بہتر ہے اس را ت کے تما م خیر کو سمیٹنے کے لئے اللہ کے رسول ۖ نے اپنی امت کو ایک بہت مختصر مگر جا مع دعا سکھلا ئی ہے وہ یہ ہے ”اللہم انک عفو تحب العفو فا عفو عنی”گویا کہ پو رے کا پورا مہینہ اللہ کی جا نب سے دعا واذکا ر کے لئے خاص کر دیا گیا ہے،حج کو اسلا م میں  نہا یت اہمیت حاصل ہے جو شخص حج کر نے کی سعا دت حا صل کر چکے ہیں  انہیں  خوب معلو م ہے کہ حج کے لئے روانگی سے لے کر گھر واپسی تک حا جی مسلسل دعا وا ذکا ر میں  مشغول رہتا ہے ،حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ۖ کا فرما ن ”دعا ہی تما م عبا دتوں  کی روح اور مغز ہے ” با لکل بجا اور درست ہے،بے شک دعا ہی ایک ایسی عبا دت ہے جس کے لئے وقت،جگہ،دن،لمحہ مقرر نہیں  ہے ہر وقت ہر جگہ ما نگنے کی اجا زت ہے،کیو نکہ اللہ تعالی خود فرما تا ہے ”تمہا رے رب نے کہ دیا ہے تم سب مجھے پکا رو میں  تمہا ری دعا قبول کروں  گا بے شک جو لوگ کبر کی وجہ سے میری عبا دت نہیں  کر تے وہ عنقریب ذلت و رسوائی کے ساتھ جہنم میں  داخل ہو نگے (مومن ٦٠)اللہ نے اپنے بندوں  کو ازرا ہ خیر خواہی اپنے رسول ۖ کی زبا نی یہ تعلیم دی کہ میرے بندوں  تم سب صرف مجھے پکا رو ،میں  ہی تمہا ری پکا ر کا جواب دوں  گا اور تمہاری دعائیں  قبو ل کروں  گا ،اسلئے کہ تم سب میرے بندے ہو اور میں  ہی تمہا را رب ہو ں  ،مسند احمد میں  حضرت ابو ہریرہ سے مر وی ہے کہ نبی کریم ۖ نے فرما یا ”جو اللہ کو نہیں  پکا رتا اللہ اس سے غضبنا ک ہو جا تا ہے ” ایک دوسری روایت میں  ہے ”جو اللہ سے نہیں  ما نگتا اللہ اس سے نا را ض ہو جا تا ہے ”،اللہ کے سامنے دست سوال نہ کرنا اور اس کے سامنے گریہ و زاری نہ کر نا کبر و غرور کی علا مت ہے،کبر وغرور ہی کی وجہ سے انسان اللہ کو نہیں  پکا رتا اور ایسا کرنا صرف اہل کفر ہی کا شیوہ ہے کیو نکہ اہل ایما ن کی علا مت تو یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے گریہ وزاری کرتے ہیں  اور معمولی سے معمولی چیز کا سوال بھی اللہ ہی سے کر تے ہیں  یہا ں  تک کہ جو تے کا تسمہ ہی کیو ں  نہ ہو ،اور ہمیشہ اللہ کے سامنے دست سوال پھیلا کر اپنے گنا ہو ں  کی معافی اور دنیا وآخرت کی بھلا ئی ما نگتے ہیں  ،دعا ایک طرح سے بہترین ہد یہ بھی ہے ،جب ا للہ کے رسول ۖ اپنے جا نثار صحا بہ کے کسی عمل پر خوش ہو تے تو آپ انہیں  اسی قیمتی ہدیہ (دعا) سے نوازتے ،عہد نبوی میں  سیکڑوں  ایسے واقعات ملتے ہیں  کہ جب کسی صحا بی نے کو ئی ایسا عمل کیا جس سے آپ کو خوشی ہو ئی تو آپ نے دعا کے ذریعہ اس کا بد لہ دیا ،جنگ تبو ک کے مو قع پر حضرت عثما ن کی فیا ضی پر خوش ہو کر آ پ نے انکے لئے یہ دعا فر ما ئی ”یا اللہ میں  عثما ن سے را ضی ہو ں  تو بھی عثما ن سے را ضی ہو جا ”جنگ بدر سے قبل مشاورت کے مو قع پر انصار کی جا نب سے حضرت مقداد بن اسود نے جب جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول ہم وہ نہیں  جو موسی کی قوم کی طرح کہ دیں  ”تو اور تیرا رب جا کر لڑے ہم تو یہاں  بیٹھے رہیں  گے واللہ جب تک ہم میں  سے ایک آنکھ بھی گردش کر تی ہے ہم آپکا ساتھ نہیں  چھوڑیں  گے ”یہ الفا ظ سن کر رسولۖ فر ط مسرت سے لبریز ہو کر حضرت مقداد کے لئے ایسی دعا فرما ئی کہ دوسرے صحا بہ رشک کر نے لگے کہ کا ش یہ الفا ظ اللہ کی رسول کی زبا ن سے انکے لئے نکلے ہو تے ، اسی طرح جنگ احد میں  حضرت طلحہ کی جا نثاری پر آپ نے انہیں  بہترین دعائوں  کا بدلہ دیا ، جنگ احزاب میں  زخمی ہو نے کی وجہ سے حضرت سعد بن معاذ شہید ہو گئے اسلا م کے لئے انکی نہا یت مخلصانہ گرا ں  قدر خدما ت تھیں  آ پ نے انکے لئے ایسی دعا فر ما ئی کہ انکے جنا زے کے وقت ستر ہزار فرشتے انکے جنا زے میں  شرکت کے لئے آے ،اسی طرح ایک مر تبہ رسول اکرمۖ نے حضرت عمر کو عمرہ پر روانگی کے وقت ارشاد فرما یا ”عمر مجھے بھی اپنی دعائوں  میں  یا د رکھنا ”حضرت عمر کو دعا میں  یا د رکھنے کی ہدایت فرما کر آپ نے امت کو یہ تعلیم دی کہ ایک مسلما ن کا دوسرے مسلما ن کیلئے سب سے بہتر اگر کو ئی ہدیہ ہو سکتا ہے توو وہ دعا ہی ہے ،ایک حدیث میں  آپ نے فرما یا زندوں  کا اپنے مردوں  کے لئے بہترین ہدیہ انکے لئے بخشش کی دعا کر نا ہے (بیہقی)آپ  کی وفا ت سے چند روز قبل جب آ پ کی طبیعت اچانک نا ساز ہو گئی تو آپ بقیع الغر قد قبر ستا ن تشریف لے گئے اور اپنے یا را ن رفتگا ں  کے لئے بہت دیر تک بخشش کی دعا ئیں  کر تے رہے ، اس طرح کے واقعا ت سے معلوم ہو تا ہے کہ دعا صر ف عبا دت ہی نہیں  بلکہ زندہ ومردہ مسلما ن کے لئے بہترین ہدیہ و تحفہ بھی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More