خدا کے ولي کي ولآيت

بہر صورت يہ ولآيت کے پہلوؤں ميں سے ايک پہلو ہے ۔انشائ ا ہم ولآيت کے ايک اور پہلو سے متعلق عرض کريں گے ‘جو شايدايک اور اعتبار سے اس سے زيادہ اہمآيت کا حامل ہے۔ اوريہ ولي ا کي ولآيت کا پہلوہے ۔
ہم شيعہ افراد کي باہمي ولآيت کے متعلق جان چکے ہيں۔ ولي خدا کي ولآيت سے کيا مراد ہے ؟ علي ابن ابي طالب ٴ کي ولآيت کے کيا معني ہيں ؟ امام جعفرصادقٴ کي ولآيت کا کيا مطلب ہے؟ يہ جو ج ہم لوگوںکے لئے ائمہ ٴکي ولآيت رکھناضروري ہے‘ اس سے کيا مراد ہے ؟
بعض لوگ سمجھتے ہيں کہ ائمہ ٴ کي ولآيت کے معني يہ ہيں کہ ہم اُن سے فقط محبت کريں؟
يہ لوگ کس قدر غلط فہمي کا شکار ہيں‘ صرف محبت کرنا ولآيت نہيں ہے ۔
کيا پورے عالمِ اسلام ميںکوئي ايک فردبھي ايسا ملے گا جو ائمہ معصومين ٴاور خاندانِ پيغمبر۰ سے محبت نہ کرتا ہو؟
پس کيا يہ سب لوگ ولآيت رکھتے ہيں؟
کيا کوئي ہے جوائمہ اہلِ بآيت ٴکا دشمن ہو؟
وہ تمام لوگ جنہوں نے ابتدائے اسلام ميں اُن کے خلاف جنگ کي‘ کيا وہ سب کے سب اُن کے دشمن تھے؟
نہيں‘ ان ميں سے بہت سے لوگ ائمہ ٴ سے محبت کرتے تھے‘ ليکن دنيا وي مفادات کي خاطر اُن کے خلاف جنگ پر تيار ہوئے ‘باوجود يہ کہ وہ جانتے تھے کہ يہ ہستياں کن مراتب اور کن مقامات کي مالک ہيں۔
جب (عباسي خليفہ)منصور کو امام جعفر صادق عليہ السلام کي رحلت کي خبر دي گئي‘ تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔کيا پ کے خيال ميں وہ دکھاوا کر رہاتھا؟ کيا وہ اپنے نوکروں کے سامنے دکھاوے کارونا رو رہا تھا؟ کيا وہ ربيع حاجب کے سامنے دکھاوا کر نا چاہتا تھا؟يہ دکھاوا نہيں تھا‘ واقعاً اس کا دل دُکھا تھا‘ واقعاً اسے امام جعفرصادق عليہ السلام کي موت کاافسوس تھا۔
ليکن امام ٴکوکس نے ماراتھا؟
خود منصور کے حکم سے امام جعفرصادقٴ کو زہر ديا گآيتھا۔
ليکن جب اُسے بتايا گيا کہ کام ہو گيا ہے‘ تو اُس کا دل ہل کے رہ گيا۔
پس (کيا) منصور بھي ولآيت رکھتا تھا؟
اسي قسم کي غلط فہمي کا شکار وہ لوگ ہيںجويہ کہتے ہيں کہ مامون عباسي شيعہ تھا۔
پتا ہے شيعہ کے کيا معني ہيں؟
کيا ايسا شخص شيعہ کہلائے گاجو يہ جانتا ہو کہ امام رضا عليہ السلام حق بجانب ہيں؟
کيا اس کا فقط اتنا جاننا اسے شيعہ قرار دے دے گا؟
اگر ايسا ہو‘ تو پھر مامون عباسي ‘ ہارون رشيد ‘ منصور ‘معاويہ اور يزيد ‘يہ سب کے سب لوگ‘ دوسروں سے بڑھ کر شيعہ تھے ۔
وہ لوگ جو جنگوں ميںامير المومنين حضرت علي عليہ السلام کے خلاف لڑے ‘کيا اُنہيں امام ٴ سے محبت نہ تھي ؟
کيوں نہيں ‘ اُن ميں سے اکثر حضرت علي عليہ السلام سے محبت کرتے تھے۔
پس پھر کياوہ شيعہ ہوئے ؟
پس کيا وہ ولآيت رکھتے تھے ؟
نہيں‘ ولآيت ان باتوں سے ہٹ کر ہے ۔ولآيت ان چيزوں سے بالاتر ہے۔
جب ہم ولآيت ِعلي ابن ابي طالب ٴاور ولآيت ِائمہٴ کو سمجھ ليں ‘ اوريہ جان ليں کہ ولآيت کيا ہے؟‘ تو پھر ہميں چاہئے کہ ہم اپني طرف پلٹيں ‘ اور ديکھيں کہ کياواقعاً ہم ولآيت رکھتے ہيں ؟
اُس موقع پر اگر ديکھيں کہ ہم ولآيت نہيں رکھتے‘ تو پھر ہميں ولآيت ِ ائمہ ٴ کے حصول کے لئے خدا سے دعا کرني چاہئے اوراس سلسلے ميں کوشش کرني چاہئے ۔
کچھ لوگ اپنے دل ميں ائمہ اطہار ٴ کي محبت اور عقيدت رکھنے کي وجہ سے يہ سمجھتے ہيں کہ اُن ميں ولآيت ِ اہلِ بآيت ٴپائي جاتي ہے ۔
نہيں‘ يہ ولآيت نہيںہے۔ ولآيت اس سے بالاتر ہے ۔
البتہ ہم گے چل کراس بات کي وضاحت کريں گے کہ ولآيت ِائمہ ہديٰ عليہم السلام سے کيا مراد ہے۔ کس طرح ہم ائمہٴ کو اپنا ولي قرار دے سکتے ہيں‘ اور اُن کي ولآيت کے حامل بن سکتے ہيں۔اس وضاحت کے بعد ہم سمجھ پائيں گے کہ ائمہ ٴ کي ولآيت کے سلسلے ميں ہمارا دعويٰ کس قدر لاعلمي پر مبني اور خلافِ حقيقت ہے ۔
عيد ِغدير کے ايام ميں لوگ يہ دعا پڑھتے ہيں :
’’اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذي جَعَلَنٰا مِنَ الْمُتَمَسِّکِينَ بِوِلاٰيَۃِ عِليّ بْنِ اَبيطٰالبٍ عليہ السَّلام۔‘‘
ہم اکثر اپنے دوستوں سے کہتے ہيں کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذي جَعَلَنٰا نہ کہئے۔ممکن ہے ہمارا يہ کہنا جھوٹ ہو‘ بلکہ يہ کہئے کہ: اَلّٰلھُمَّ ا جْعَلْنٰا مِنَ الْمُتَمَسِّکِينَ بِوِلاٰيَۃِ عِليّ بْنِ اَبيطٰالبٍ عليہ السَّلام۔(بارِ الٰہا ! ہميں ولآيت سے وابستہ لوگوں ميں سے قرار دے )
کيونکہ ہميں ديکھنا چاہئے کہ ہم ولآيت سے وابستہ ہيں بھي يا نہيں ؟
انشائ ا ہمارے سامنے يہ نکتہ واضح ہوجائے گا کہ يہ بھي ولآيت کے پہلوؤں ميں سے ايک پہلو ہے ۔
ہماري ج کي گفتگوکا خلاصہ يہ ہے کہ : امت ِ اسلاميہ کي ولآيت اور خدا اورراہِ خدا کے لئے کوشاں گروہ کي ولآيت کے معني يہ ہيں کہ اس گروہ ميں موجود افراد کے درميان زيادہ سے زيادہ قربت اوراتصال وجود ميں ئے‘ اُن کے دل زيادہ سے زيادہ ايک دوسرے سے جڑے ہوئے اور نزديک ہوں ‘اوريہ لوگ اپنے مخالف مراکز سے ‘ ايسے لوگوں سے جن کي سوچ اُن کے خلاف ہو‘ اورجو اُن کے برخلاف عمل کرتے ہوں ‘ حتيٰ الامکان دور ہوں۔
يہ ہيں ولآيت کے معني ۔
سورہ ممتحنہ کي ابتدائي آيت ميںيہ حقيقت بيان کي گئي ہے ۔ لہٰذا ہمارے خيال ميں اس موضوع کي مناسبت سے اس سورے کا نام سورہ ولآيت رکھا جاسکتا ہے ۔
’’بِسْمِ اِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔يٰاَيُّھَا الَّذِيْنَ ٰامَنُوْا لااَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّي وَ عَدُوَّکُمْ اَوْلِيَآئَ۔‘‘(١)
بعض ترجموں ميں ہے کہ ميرے اور اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بنانا ۔يہ اس کے مکمل معني نہيں ہيں ۔فقط دوستي اور محبت کا مسئلہ نہيں ہے‘بلکہ مسئلہ اس سے بالا ترہے ۔
اپنا ولي نہ بناؤ ‘ يعني اُنہيںاپنے گروہ کا حصہ نہ سمجھو‘اپنے پ کو اُن کي صف ميں کھڑا نہ کرو۔ يعني اپنے پ کو اور اُنہيںايک ہي صف ميں تصور نہ کرو ۔ايک ايسا شخص جو خدا کا اور تمہارا دشمن ہے اُسے اپنے پہلو ميں جگہ نہ دو‘بلکہ اسے اپنا مد ِ مقابل اور اپنا دشمن اور حريف سمجھو:
تُلْقُوْنَ اِلَيْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ(انہيں اپني صفوں ميں شامل نہ سمجھوکہ اُنہيں دوستي کے پيغام بھيجنے لگو)
وَ قَدْ کَفَرُوْا بِمَاجَآئَکُمْ مِّنَ الْحَقِّ(جبکہ تم اس بات سے واقف ہو کہ انہوں نے اس حق و حقيقت سے انکار کيا ہے جسے پروردگار نے تمہارے لئے نازل کيا ہے )
يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِيَّاکُمْ(يہ لوگ پيغمبرکو اورتمہيں تمہارے وطن سے باہر نکال رہے ہيں)
اَنْ تُْمِنُوْا بِاِ رَبِّکُمْ (صرف اس جرم ميں کہ تم اپنے پروردگار ا پر ايمان رکھتے ہو )
اِنْ کُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِہَادًا فِيْ سَبِيْلِيْ وَ ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِيْ( اگر تم ہماري راہ ميں جہاد اور ہماري خوشنودي کے حصول کے لئے نکلے ہو ‘تو ميرے اور اپنے دشمنوں کو اپنا دوست اور مددگار نہ بناؤ )
اگر واقعاً تم سچ کہتے ہو ‘ اور ميري راہ ميں جہاد اور کوشش کرتے ہو ‘ تو تمہيں حق نہيںپہنچتا کہ ميرے اور اپنے دشمنوں کو اپني صفوں ميں جگہ دو ‘ اور اُنہيں اپنا مدد گاراور ساتھي بناؤ ۔
البتہ بعد کي آيت واضح کرتي ہيں کہ خدا کي مراد کون سے کفار ہيں ‘ اوران آيت ميںکفار کو گروہوں ميں تقسيم کيا گيا ہے ۔
تُسِرُّوْنَ اِلَيْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ ( تم اِ ن کے ساتھ خفيہ اور پوشيدہ طورپر محبت کرتے ہو)
وَاَنَااَعْلَمُ بِمَ اَخْفَآيتمْ وَمَ اَعْلَنْتُمْ(اور جو کچھ تم خفيہ اور علانيہ کرتے ہوميںاُس سب سے باخبر ہوں )
وَ مَنْ يَّفْعَلْہُ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِيْلِ ( اور تم ميں سے جو کوئي دشمنانِ خدا کي طرف دوستي اور تعاون کا ہاتھ بڑھائے گا اور اپنے پ کو ان کي صف ميں سمجھے اورظاہر کرے گا‘ وہ راہِ اعتدال سے بھٹک گيا ہے )
اس بات کا ذکر کر دينا ضروري محسوس ہوتا ہے کہ ان آيت کي شانِ نزول ’’حاطب بن ابي بلتعہ‘‘ کے بارے ميں ہے۔ حاطب بن ابي بلتعہ ايک کمزور ايمان مسلمان تھا ‘ جب پيغمبر اسلام ۰ نے کفار ِ قريش کے خلاف جنگ کا ارادہ کيا ‘تو حاطب نے سوچا کہ ممکن ہے پيغمبرکو اس جنگ ميں شکست ہوجائے اور اس کے اعزہ و اقربا جو وہاںکفارميںرہ رہے ہيں‘ اُنہيں کوئي نقصان پہنچ جائے۔ جبکہ وہ خود پيغمبر۰ کے سپاہيوں ميں شامل ہے ۔اس نے ايک چالاکي کرني چاہي ۔اس نے سوچا کہ اب جبکہ ميں پيغمبر۰ کے ساتھ ہوں ‘اُن کي رکاب ميں جہاد کر رہا ہوں ‘ اور راہِ خداکے مجاہدين کا ثواب کمارہا ہوں ‘ توکيوں نہ احتياطاً کفار کے نام بھي ايک خط لکھ دوں‘اور اُن سے اپني محبت اور وفاداري کا اظہار کروں ۔کيا مضائقہ ہے؟جب ميرا ميدانِ جنگ ميں اُن سے سامنا ہوگا‘ تو اس خط پر عمل نہيں کروں گا ۔ليکن کيا حرج ہے کہ ميں ايک خط لکھ کر کفار کے دل ميں اپنے لئے نرم گوشہ پيدا کرلوںاور ان کي ہمدردي حاصل کرلوں ؟خدا بھي خوش ہوجائے اور ميرے کسي مفاد پر بھي ضرب نہ لگے ۔
کہتے ہيںايک بڑے دمي اور علاقے کے چوہدري کے درميان جھگڑا ہوگيا۔ ديکھنے والوں ميں سے کسي نے ايک شخص سے پوچھا :اِن ميں سے کون حق بجانب ہے ؟ اُس نے کہا:دونوں ہي حق بجانب ہيں‘دونوں ہي سے بنا کے رکھني چاہئے !
لہٰذاحاطب نے قريش کے سرداروں کے نام ايک خط لکھا اور اس پر اپنے دستخط بھي کرديئے۔تاکہ ان کے علم ميں جائے کہ حاطب اُن کا خير خواہ ‘دوست اور مہر بان ہے ۔پھراُس نے اس خط کو ايک عورت کے توسط سے مکہ بھيج ديا ۔پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ ولہ وسلم کووحي کے ذريعے اس قصے کا علم ہوگيا ۔نحضرت ۰نے امير المومنين حضرت علي عليہ السلام اور ايک يادو دوسرے افراد کو روانہ کيااور انہوں نے راستے ميں اس عورت کو ڈھونڈنکالا۔ ان لوگوں نے اسے ڈرا دھمکا کر اس سے يہ کاغذ برمد کر ليا ۔
پيغمبراسلام ۰ نے حاطب سے پوچھا : تم نے ايساکيوں کيا ؟ کيوں تم دشمن کے سامنے جنگي اور فوجي راز افشاکررہے تھے ؟ اس نے کہا: اے ا کے رسول۰ !وہاں ميرے کچھ دوست اور ساتھي ہيں ‘ عزيز رشتے دار ہيں ‘ مجھے خوف ہوا کہ کہيں انہيں کوئي مشکل نہ اٹھاني پڑے ۔لہٰذا ميں نے يہ خط لکھ کر مشرکين کے دل ميں اپنے لئے نرم گوشہ پيدا کرنا چاہا تھا ۔
جواب ميںآيت کہتي ہے : غلط فہمي کا شکار نہ رہو ‘ ان کے دل تمہارے لئے نرم نہيں ہوں گے ۔جو لوگ فکري لحاظ سے تمہارے مخالف ہيں ۔وہ لوگ جن کے لئے تمہارا دين ‘ تمہارا ايمان ضرر رساں ہے ‘ اُنہوں نے تمہارے دين اور تمہارے ايمان کو نابودکرنے پر کمر باندھي ہوئي ہے۔ وہ کسي صورت تمہارے لئے مہر بان اور تمہارے دوست نہيں ہوں گے ۔
بعد والي آيت اس نکتے کو بيان کرتے ہوئے کہتي ہے :
اِنْ يَّثْقَفُوْکُمْ يَکُوْنُوْا لَکُمْ اَعْدَآئً(يہ اگر تم پر قابوپاليں‘ تو تمہارے دشمن ثابت ہوں گے)
اے ’’حاطب بن ابي بلتعہ ‘‘ يہ نہ سمجھنا کہ اگر تم نے ان کي مدد کي‘ تو کل وہ تمہارا کچھ لحا ظ کريں گے۔ايسا نہيں ہے ۔بلکہ اگر تم نے ان کي مدد کي ‘ تو يہ اور زيادہ تم پر مسلط ہوجائيں گے ‘ تم پرمزيد ظلم و ستم کے پہاڑ توڑيں گے ۔
وَّ يَبْسُطُوْآ اِلَيْکُمْ اَيْدِيَہُمْ وَ اَلْسِنَتَہُمْ بِالسُّوْئِ (اور اپنے ہاتھ اور زبان کو تمہارے خلاف استعمال کريں گے )
تمہيں اور زيادہ دبائيں گے‘تمہاري تذليل کريں گے‘تمہيں بے حيثآيت اور بے عزت کريں گے‘تمہيں ايک انسان نہيں سمجھيں گے۔
يہ نہ سمجھنا کہ تمہاري يہ مدد تمہارے کسي کام ئے گي۔
وَ وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ(يہ چاہيں گے کہ تم بھي کافر ہوجاؤ)
اگرکل يہ تم پر مسلط ہوگئے‘ تو تمہيں ذرّہ برابر ايمانِ قلبي تک رکھنے کي اجازت نہيں ديں گے۔(يہ تو چاہتے ہيں کہ تم کافر ہو جاؤ) يہ نہ سمجھنا کہ يہ تمہيں مسلمان رہنے اور اسلامي فرائض پر عمل کرنے کے لئے زاد چھوڑ ديں گے ۔
بعد والي آيت ’’حاطب بن ابي بلتعہ ‘‘ کے عزيز واقارب اور تاريخ کے تمام حاطب بن ابي بلتعوں ‘‘ کے عزيزواقارب کے بارے ميں ہے ۔ايک دو ٹوک جملے ميںکہتي ہے کہ تم اپنے بچوں کے لئے ‘اپنے عزيزواقارب کے لئے اوراپنے رشتے داروں کي سائش کے لئے خدا کے دشمن کے ساتھ ساز باز پرتيا رہو ‘ اور خدا کے ناچيز بندوں کي محبت حاصل کرنے کے لئے اور اپنے اور اپنے اعزہ کے مفادات کے حصول کے لئے حکمِ خدا کو نظر انداز کر رہے ہو اور خدا کے دشمن سے دوستي کر رہے ہو۔
خر يہ اعزہ واقربا اور اولاد تمہارے کتنے کام ئيں گے ؟
يہ جوان جس کے روزگار کے لئے تم کفارِ قريش کے ساتھ ساز باز پر مادہ ہو‘ تمہارے کتنے کام ئے گا؟
کياوہ تمہيں عذاب ِخدا سے نجات دلاسکے گا ؟
يہ بے خبر ’’حاطب‘‘ اپنے اعزہ ‘احباب اور رشتے داروں کو نقصان سے بچانے کے لئے کفاراوردشمنانِ پيغمبر ۰سے ساز باز کررہا تھا۔

خريہ اعزہ اور اولاد ‘انسان کے کتنے کام سکتے ہيں ‘ کہ انسان ان کي خاطر پروردگار ِعالم کے عذاب اور اسکے غضب کو دعوت دے ؟
لَنْ تَنْفَعَکُمْ اَرْحَامُکُمْ وَ لااَآ اَوْلااَادُکُمْ(تمہارے رشتے دار ‘ اعزہ اور اولاد تمہيں کوئي فائدہ نہيںپہنچاتے )
يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ يَفْصِلُ بَيْنَکُمْ (روزِ قيامت تمہارے اور ان کے درميان جدائي ڈال دے گا )
يا اسے اس طرح پڑھيں اوراسکے يہ معني کريں کہ:
لَنْ تَنْفَعَکُمْ اَرْحَامُکُمْ وَ لااَآ اَوْلااَادُکُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ(روز ِقيامت تمہارے رشتے دار اور اولاد تمہيں کوئي فائدہ نہيں پہنچائيں گے )
يَفْصِلُ بَيْنَکُمْ(خدا روزِ قيامت تمہارے اور اُن کے درميان جدائي ڈال دے گا )
جيسے کہ خدا وند ِ عالم سورہ عبس ميں فرماتا ہے :
’’يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْئُ مِنْ اَخِيْہِ وَ اُمِّہ وَ اَبِيْہِ وَ صَاحِبَتِہ وَ بَنِيْہِ۔‘‘
’’جس دن انسان اپنے بھائي ‘اپنے والدين ‘اپني مہربان زوجہ اور اپني نور چشم اولاد سے گريز کرے گا۔‘‘(۲)

وہي بچے ‘جن کي خاطر ج تم اس قدر فکر مند ہو‘جان لو کہ روزِ قيامت تم اُن سے دور بھاگوگے ‘اور وہ تم سے دور بھاگيں گے ‘اور يہ دونوںہي دوسرے انسانوں سے دور بھاگيں گے‘ہرانسان دوسرے انسان سے دور بھاگے گا۔ان کے پاس ايک دوسرے کي مدد اور ايک دوسرے کي احوال پرسي کا يارا نہ ہوگا:
’’لِکُلِّ امْرِيٍ مِّنْہُمْ يَوْمَئِذٍ شَاْن يُّغْنِيْہِ۔‘‘
’’اس دن ہر ايک کو اپني ايسي پڑي ہوگي کہ کوئي کسي کے کام نہ ئے گا۔‘‘
( ۳)
وہ لوگ جو اپني ل اولاد کے رام و سائش کي خاطر دنيا اور خرت کي کاميابي اور فلاح سے منھ موڑ لينے ‘ اور بد بختياں ‘ شقاوتيں اورعداوتيں مول لينے پر تيار ہيں ‘ اُنہيں قرآن مجيد کي اس منطق سے گاہ ہونا چاہئے ‘شايد وہ ہوش ميں جائيں۔
سورہ ممتحنہ ميں بھي خداوند ِ عالم فرماتا ہے:
’’لَنْ تَنْفَعَکُمْ اَرْحَامُکُمْ وَ لااَآ اَوْلااَادُکُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِا يَفْصِلُ بَيْنَکُمْ وَ اُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْر۔‘‘
’’اے مومنين !يہ بات جان لو کہ روزِ قيامت تمہارے رشتے دار اورتمہاري اولاد تمہارے کسي کام نہ ئے گي‘اور روزِ قيامت تمہارے درميان مکمل جدائي ڈال دے گا ‘ اورتم جوکچھ کرتے ہو خدا اس سے خوب با خبر ہے۔‘‘
’’قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃ حَسَنَۃ فِيْ اِبْرَاہِيْمَ وَ الَّذِيْنَ مَعَہ۔‘‘(۴)
يہ حصہ ان آيت کا ٹيپ کا بند ہے ‘ اس ميں مومنين سے کہا گياہے کہ:اے مومنين! تمہارے لئے ابراہيم ٴ اور ان کے پيروکاروں ميں بہترين نمونہ عمل ہے ۔
ديکھو کہ ابراہيم ٴ اور اُن کے ساتھيوں اور پيروکاروں نے کيا کيا ؟
تم بھي وہي کرو ۔
اُ نہوں نے کيا کيا تھا؟
اُنہوں نے اپنے زمانے کي گمراہ قوم اور اپنے زمانے کے طاغوت اور جھوٹے معبود سے کہا تھاکہ ہم تم سے اور تمہارے خدا ؤں سے بيزار ہيں ‘ ہم تمہارے منکر ہيں اور تم سے منھ موڑتے ہيں‘ ہمارے اور تمہارے درميان ہميشہ بغض ‘دشمني ‘ کينہ اور عداوت برقرارر ہے گي:
’’ حَتّٰي تُْمِنُوْا بِاِ وَحْدَہ۔‘‘
ہمارے اور تمہارے درميان دوستي اورصلح و شتي کا صرف ايک راستہ ہے ‘اور وہ يہ ہے کہ ؤ اور ہماراعقيدہ قبول کرلو۔
يہاں واضح الفاظ ميںکہا گيا ہے کہ اے مومنين تم بھي ابراہيم ٴکي مانند عمل کرو ۔
قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃ حَسَنَۃ فِيْ اِبْرَاہِيْمَ وَ الَّذِيْنَ مَعَہ(بے شک تمہارے لئے ابراہيم اور اُن کے ساتھيوں ميں بہترين نمونہ عمل ہے)
اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ اِنَّا بُرَئٰوُا مِنْکُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اِ(جب انہوں نے اپني قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور ہر اُس چيز سے بيزار ہيں جس کي تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو )
کَفَرْنَا بِکُمْ وَ بَدَا بَيْنَنَا وَ بَيْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَ الْبَغْضَآئُ اَبَدًا(ہم نے تم سے کفر کيا ہے اور ہمارے اورتمہارے درميان بغض اور عداوت ظاہر ہوچکي ہے )
حَتّٰي تُْمِنُوْا بِاِ وَحْدَہ(جب تک تم خدا ئے واحد پر ايمان نہ لے ؤ)
اِلَّا قَوْلَ اِبْرَاہِيْمَ لِاَبِيْہِ۔(۵)
صرف ايک استثنائي معاملہ ايساہے جس ميں حضرت ابراہيم ٴ نے کفار سے مکمل طور سے رابطہ منقطع نہيںکيا‘ اور وہ معاملہ يہ ہے کہ جب انہوں نے اپنے چچا (۶)سے کہا: لااَاَاسْتَغْفِرَنَّ لَکَ( ميں تمہارے لئے استغفار کروں گا)
وَ مَآ اَمْلِکُ لَکَ مِنَ اِ مِنْ شَيْئٍ( اورتمہارے دفاع کے لئے خدا ئے متعال کي جانب سے ميرے پاس کوئي اختيار نہيں ہے )
يعني انہوں نے اپنے والد سے کہا: يہ خيال نہ کيجئے گا کہ ميں کيونکہ اپنے پ کو خدا کا بندہ سمجھتا ہوں ‘لہٰذاپ ميرے والد ہونے کے ناطے ‘ ميرے توسط سے بہشت ميں داخل ہوجائيںگے۔ نہيں‘ ايسا نہيں ہے‘ميں پ کو جنت ميں نہيں لے جاسکتا ۔ميں پ کے لئے درگاہِ الٰہي ميں فقط دعا اور استغفار کر سکتا ہوں ‘ تاکہ خدا پ کے گناہوں کو بخش دے اور پ مومن ہوجائيں ۔
’’ رَبَّنَا عَلَيْکَ تَوَکَّلْنَا وَ اِلَيْکَ اَنَبْنَا وَ اِلَيْکَ الْمَصِيْرُ۔ رَبَّنَا لااَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلَّذِيْنَ کَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْم۔‘‘(۷)
يہ حضرت ابراہيم ٴکي دعائيں ہيں۔
اسکے بعد قرآن مجيد کہتا ہے: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِيْہِمْ اُسْوَۃ حَسَنَۃ ( تم مومنين کے لئے ابراہيم اور اُن کے ساتھيوں ميں بہترين نمونہ عمل موجود ہے )لِّمَنْ کَانَ يَرْجُوا اَ وَ الْيَوْمَ الْاٰخِر(اُن لوگوں کے لئے جو خدا اور روزِ قيامت کي اميد رکھتے ہيں )وَ مَن آيتوَلَّ فَاِنَّ اَ ہُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ(اورجو کوئي روگرداني کرے‘اور اسکے حکم سے منھ پھير ے اوربے توجہي کا مظاہرہ کرے‘ تو خدائے متعال بے نيازاورقابلِ حمدوثنا ہے اور اسکے دامنِ کبر يائي پر کوئي حرف نہيں ئے گا)
اگر تم دشمنوں سے ساز باز کروگے ‘ تو تمہارے شرف و انسانآيت کا دامن داغدار ہوجائے گا اور خدا کو کوئي نقصان نہيں پہنچے گا ۔
تمہيں ابراہيم ٴکے اس جملے کو ذہن نشين رکھنا چاہئے۔ ابراہيم ٴاور اُن کے ساتھيوں نے اپنے زمانے کے کفار اور گمراہ لوگوں سے کہا تھا کہ:
اِنَّابُرَئٰوُا مِنْکُمْ۔( ہم تم سے بيزار ہيں )
امام سجاد ٴ اور اُن کے اصحاب صلوات ا عليہم اپنے زمانے کے گمراہ لوگوں سے اسي طرح گفتگو کياکرتے تھے ۔بحار الانوار ميں ايک حديث ہے‘جو کہتي ہے :چوتھے امام(امام زين العابدين ٴ)کے ايک ساتھي ’’يحييٰ ابن ام طويل ‘‘ مسجد ِنبوي ميں تے اور لوگوں کي طرف رخ کرکے کھڑے ہوجاتے۔اُنہي لوگوں کے سامنے جو بظاہر خاندنِ پيغمبر ٴکے محب تھے ‘اُنہي لوگوں کے روبرو جن کے درميان امام حسن ٴاور امام حسين ٴ نے بيس برس تک زندگي بسر کي تھي ‘ اُنہي لوگوں کے مقابل جو نہ اُموي تھے اور نہ بني اميہ سے وابستہ افرادتھے ۔
پھريہ کيسے لوگ تھے ؟
بزدل لوگ تھے‘ جنہوںنے بني اميہ کي بنائي ہوئي خوف اور گھٹن کي فضا سے ڈر کر واقعہ عاشورا اور کربلا ميں لِ محمد ٴ کا ساتھ چھوڑ ديا تھا‘ ليکن اپنے دلوں ميںاہلِ بآيت ٴسے محبت اورعقيدت رکھتے تھے۔
يحييٰ ابن ام طويل ‘اس قسم کے لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے اور اس قرآني کلام کو دُھراياکرتے:
کَفَرْنَا بِکُمْ وَ بَدَا بَيْنَنَا وَ بَيْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَ الْبَغْضَآئُ(ہم نے تم سے منھ پھيرليا ہے اور ہمارے اورتمہارے درميان بغض اور عداوت ظاہر ہوچکي ہے)
يعني وہي بات کہتے تھے جو حضرت ابراہيم ٴاپنے زمانے کے کفار ‘ مشرکين‘ گمراہ اور منحرف لوگوں سے کہا کرتے تھے ۔
ديکھئے ولآيت وہي ولآيت ہے ۔حضرت ابراہيم ٴبھي ولآيت رکھتے تھے ‘ امام سجاد ٴ کے شيعہ بھي اپنے زمانے ميں ولآيت رکھتے تھے۔ہميںايک دوسرے سے مل کر اور دشمنوں سے جدا رہنا چاہئے۔ اگر امام سجاد ٴکے شيعوں ميں سے کوئي شيعہ ان کے زمانے ميں خوف کي وجہ سے يا لالچ کي وجہ سے دشمن کي صف ميں شامل ہوا ‘تو وہ امام سجاد ٴکي ولآيت سے خارج ہوگيا۔اب وہ امام سجاد ٴکے گروہ ميں شامل نہيںہے ۔لہٰذا امام سجاد ٴکا قريبي شاگرد اس شخص سے کہتا ہے :
’’کَفَرْنَا بِکُمْ وَ بَدَا بَيْنَنَا وَ بَيْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَ الْبَغْضَآئُ۔‘‘
’’ہم نے تم سے منھ پھيرليا ہے اور ہمارے اورتمہارے درميان بغض اور عداوت ظاہر ہوچکي ہے۔‘‘
يحييٰ ابن ام طويل کا شمار امام سجاد ٴکے بلند پايہ اور انتہائي بہترين اصحاب ميں ہوتا تھا ۔اس بلند پايہ مسلمان کا انجام يہ ہوا کہ حجاج بن يوسف نے انہيں گرفتار کر ليا‘ اُن کا داياںہاتھ کاٹ ديا ‘ اُن کا باياں ہاتھ کاٹ ڈالا ۔اُن کے بائيں پير کو قطع کر ديا ‘ اُن کے دائيں پير کو جدا کر ڈالا۔ ليکن اسکے باوجود انہوں نے اپني زبان سے گفتگو کا سلسلہ جاري رکھا ۔ اُن کي زبان بھي کٹوادي گئي‘يہاں تک کہ وہ دنيا سے رحلت فرما گئے۔ اس حال ميں بھي انہوں نے شيعوں کي تنظيم کي‘ امام سجاد ٴکے بعد شيعآيت کے محل کي تعمير کي اور اُسے مضبوط اور مستحکم کيا ۔

١۔سورہ ممتحنہ٦٠۔آيت١

۲ سورہ عبس ٨٠۔آيت ٣٤ تا ٣٦
۳سورہ عبس٨٠ ۔آيت ٣٧
۴۔سورہ ممتحنہ ٦٠۔آيت١تا ٤
۵۔۶ يہاں’’ اَب‘‘کے معني باپ نہيں ‘ بلکہ چچا ہيں ‘اور يہاں’’اَب‘‘ سے مراد حضرت ابراہيم ٴکے چچا ‘ يااُن کي والدہ کے شوہر ہيں۔بہرحال اُس شخص سے خطاب ہے جس کا نام ذرتھا ۔
۷۔سورہ ممتحنہ٦٠۔آيت٤‘٥

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More