خدا کے دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ

اللہ تعالٰی سورہ النحل آیت نمبر 18 میں ارشاد فرماتا ہے کہ”اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو انہیں پورا شمار نہ کر سکو گے، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔” 

بیشک یہ ایک ایسی سچائی ہے جس کا انکار ممکن نہیں کہ انسانوں کو ایسی بےشمار نعمتیں میسر ہیں جن کا انسان نہ تو اہل ہے نہ ہی حق دار، مگر رحمت ِ خداوندی ہے کہ تمام عالم کو اپنے سائے میں لئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالٰی عالمین کا خالق و مالک ہے۔ اسی لئے خدا کے کرم اور رحمت کے سائے اچھے برے ہر انسان پر سایہ فگن رہتے ہیں۔ بےشمار نعمتوں کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہوئے انسانوں کو بتایا گیا کہ دُنیا امتحان گاہ ہے، یہاں کا کیا ہوا ہر صورت آگے ملنا ہے، اچھے کے بدلے اچھا اور برے کے بدلے برا۔

 اسی لئے قرآن پاک میں صدا دی گئی ہے کہ خدا کے دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ، لیکن اس کے باوجود بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے “دُنیا “ کی زندگی کو ہی سب کُچھ جان لیا اور ایسے افراد نے خدا کی عطا کردہ ہر نعمت کو اپنا پیدائشی حق سمجھ کر وصول تو کیا۔ لیکن کلمہ شکر زبان پر نہیں لاتے، بلکہ اس کے برعکس بداخلاقی ناشکرا پن اور بداعمالی، جس سے خدا نے سختی سے منع فرمایا ہے، روا رکھتے ہیں اور بداعمالیوں کو اپنے لئے حق تصور کرتے ہیں اور چونکہ ایسے لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اس لئے دُنیا کو ہی سب سے بڑی حقیقت مانتے ہوئے تمام عمر دنیاوی لذتوں اور آسائشوں کے حصول اور اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا کر بوجنے میں ہی گزار دینا چاہتے ہیں، جبکہ اہل علم ایسے گمراہ افراد کو بار بار حقیقت سے آشنا کرتے ہیں اور حقیقت ِ ازلی و ابدی کی طرف بلاتے ہیں۔ لیکن یہ افراد ایمان نہیں لاتے اور اسی وجہ سے اپنی اور اپنے اردگرد بسنے والوں کی زندگیاں جہنم بنا دیتے ہیں۔ 

ایسے ہی افراد کی نشان دہی کرتے ہوئے حضرت علی عليہ السلام فرماتے ہیں کہ “تم کو ان لوگوں میں سے نہیں ہونا چاہیے کہ جو عمل کے بغیر حسن انجام کی امید رکھتے ہیں اور امیدیں بڑھا کر توبہ کو تاخیر میں ڈال دیتے ہیں، جو دنیا کے بارے میں زاہدوں کی سی باتیں کرتے ہیں، مگر ان کے اعمال دنیا طالبوں کے سے ہوتے ہیں۔ اگر دنیا انہیں ملے تو وہ سیر نہیں ہوتے اور اگر نہ ملے تو قناعت نہیں کرتے، جو انہیں ملا ہے اس پر شکر سے قاصر رہتے ہیں، دوسروں کو منع کرتے ہیں اور خود باز نہیں آتے۔ گنہگاروں سے نفرت و عناد رکھتے ہیں حالانکہ وہ خود انہی میں داخل ہیں، جن گناہوں کی وجہ سے موت کو ناپسند کرتے ہیں انہی پر قائم ہیں… ان کا نفس خیالی باتوں پر انہیں قابو میں لے آتا ہے۔ جب عمل کرتے ہیں تو اس میں سستی کرتے ہیں، اگر کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو اسلام کے خصوصی امتیازات سے الگ ہو جاتے ہیں۔ عبرت کے واقعات بیان کرتے ہیں مگر خود عبرت حاصل نہیں کرتے، چنانچہ وہ بات کرنے میں تو اونچے رہتے ہیں، مگر عمل میں کم ہی کم رہتے ہیں۔ وہ نفع کو نقصان اور نقصان کو نفع خیال کرتے ہیں۔

دوسرے کے ایسے گناہ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں جس سے بڑے گناہ کو خود اپنے لیے چھوٹا خیال کرتے ہیں۔ اپنے حق میں دوسرے کے خلاف حکم لگاتے ہیں، لیکن کبھی یہ نہیں کرتے کہ دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگائیں۔ اوروں کو ہدایت کرتے ہیں اور اپنے آپ کو گمراہی کی راہ پر لگاتے ہیں اور حق پورا پورا وصول کر لیتے ہیں مگر خود ادا نہیں کرتے۔ وہ اپنے پروردگار کو نظرانداز کر کے مخلوق سے خوف کھاتے ہیں اور مخلوقات کے بارے میں اپنے پروردگار سے نہیں ڈرتے۔“ اس فرمان کے بعد ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ہمیں کن لوگوں کے انداز و اطوار اپنانے ہیں اور کن سے دوری اور بیزاری اختیار کرنی چاہئے۔ اگر ہم دوام چاہتے ہیں تو بس یقینی بات یہی ہے کہ “بقا“ مان لینے والوں میں ہے۔ 

مان لینے والوں کے بارے میں پڑھتے ہوئے ایک تحریر نظر سے گزری، جس میں لکھا تھا کہ “اشفاق احمد“ کہتے ہیں کہ خواتین و حضرات اپنے دکھ اور کوتاہیاں دور کرنے کے لیے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم تسلیم کرنے والوں میں، ماننے والوں میں شامل ہو جائیں اور جس طرح خداوند تعالٰی کہتا ہے کہ دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ میرا بڑا بیٹا کہتا ہے کہ ابو دین میں پورے کے پورے کس طرح داخل ہو جائیں تو میں اس کو کہتا ہوں کہ جس طرح سے ہم بورڈنگ کارڈ لے کر ایئر پورٹ میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھر جہاز میں بیٹھ کر بے فکر ہو جاتے ہیں کہ یہ درست سمت میں ہی جاۓ گا اور ہمیں اس بات کی فکر لاحق نہیں ہوتی کہ جہاز کس طرف کو اڑ رہا ہے۔ کون اڑا رہا ہے بلکہ آپ آرام سے سیٹ پر بیٹھ جاتے ہیں اور آپ کو کوئی فکر فاقہ نہیں ہوتا ہے۔ 

اپنے دین کا بورڈنگ کارڈ، اپنے یقین کا بورڈنگ کارڈ، ہمارے پاس ہونا چاہیے تو پھر ہی خوشیوں میں اور آسانیوں میں رہیں گے، وگرنہ ہم دکھوں اور کشمکش میں رہیں گے اور تسلیم نہ کرنے والا شخص نہ تو روحانیت میں داخل ہو سکتا ہے اور نہ ہی سائنس میں داخل ہو سکتا ہے۔ جو چاند کی سطح پر اترے تھے جب انہوں نے زمین کے حکم کے مطابق ورما چلایا تھا تو اس نے کہا کہ ورما ایک حد سے نیچے نہیں جا رہا۔ جگہ پتھریلی ہے، لیکن نیچے سے حکم اوپر گیا کہ نہیں تمھیں اسی جگہ ورما چلانا ہے۔ وہ ماننے والوں میں سے تھا اور اس نے بات کو تسلیم کرتے ہوۓ اسی جگہ ورما چلایا اور بلآخر وہ گوہرِ مقصود ہاتھ آ گیا، جس کی انہیں تلاش تھی۔ بس اسی لئے خواتین و حضرات ماننے والا شخص اس زمین سے اٹھ کر افلاک تک پہنچ جاتا ہے اور وہ براق پر سوار ہو کر جوتوں سمیت اوپر پہنچ جاتا ہے اور جو نہ ماننے والا ہوتا ہے وہ بے چارہ ہمارے ساتھ یہیں گھومتا پھرتا رہ جاتا ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ زمین میں کششِ ثقل ہے تو پھر ہم آگے چلتے ہیں اور ہمارا اگلا سفر شروع ہوتا ہے جبکہ نہ ماننے سے مشکل پڑتی ہے۔ 

اشفاق صاحب کے اس فلسفے سے بھی اسی پیغام کی خوشبو آتی ہے جو کہ ہر حق پرست اور توحید پرست کا خاصہ ہوا کرتی ہے، اس لئے کہ یہ خوشبو ایمان کی خوشبو ہے، یہ خوشبو مان لینے کی خوشبو ہے، اس بات کو کہ ہاں ایک طاقت، ایک حقیقت، ایک ذات ایسی ہے کہ جس کے آگے سر کو ہر صورت جھکانا ہے۔ جس کے حکم کے دائرے سے باہر قدم نہیں رکھا جا سکتا، جس کے دیئے گئے قوانین سے انکار ممکن نہیں اور جس کی بنائی ہوئی حدود سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا اور جب کوئی بھی قوم ایسے افراد سے مل کر بنے، جہاں ایسے افراد بستے ہوں، جن کا دین اور ایمان صرف “ایک“ کو مان لینے میں ہو، تو پھر ایسی قوم، ایسے قبیلے کو کوئی دُکھ یا کوئی خوف نہیں رہتا، ایسے افراد دُنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی پا لیتے ہیں اور ابدی فلاح میں داخل ہو جاتے ہیں، کیونکہ فنا سے بقا صرف مان لینے والوں کے لئے ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

هفده + 4 =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More