خدا کی نظرمیں قدرو منزلت کا معیار

ممکن ہے بعض افراد تقوی کے بارے میں غلط تصور رکھتے ہوں اور حقیقی تقوی اورظاہر و تصوراتی تقوی کے درمیا ن فرق نہ کرسکیں ، اس لئے اس بحث میں اعمال و رفتا ر کی قدر و قیمت کے معیارپر بحث کی جائے گی ۔

بہت سے لوگوں کی عادت ہے کہ وہ افراد کے متعلق ظاہری بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں ۔ اگر کوئی زیادہ عبادت کر تا ہے ،ذکر خدا بجالاتا ہے ،قرآن پڑھتا ہے اور نماز کو اول وقت انجام دیتاہے،تو اسے باتقوی جانتے ہیں ۔یااگرکوئی طہارت کے بعض مسائل کی زیاد ہ رعایت کر تا ہے اسے ایک باتقوی شخص کی حیثیت سے پہنچا نتے ہیں یہ سرسری نتیجہ نکا لنا صحیح نہیں ہے۔قدر وقیمت کے معیا ر کو پہنچاننے کے لئے علمائے اخلاق نے کام کے اچھے یا برے ہونے اور انسان کی قدر وقیمت کے معیا رکے بارے میں نظری اور بنیادی بحث کی ہے۔ ہم یہاں پر اس کی طرف اشارہ کریں گے:

ایمان و عمل صالح اور انسان کی بلندی کا معیار

قرآن مجید کی نظر میں انسان کی قدرو قیمت ایمان اور عمل صالح ہے ، شاید قرآن مجید کے ایسے کم صفحات ملیں گے جن میں ان دو مسئلوں کاذکر نہ آیا ہو:

(کہف/ ۸۸)

”اور جس نے ایمان اور عمل صالح اختیار کیاہے اس کے لئے بہترین جزا ہے اورمیں بھی اس کے امور کو اسی پر آسان کردوںگا۔“

دوسری جگہ فرماتا ہے :

(مریم /۶۰)

”علاوہ ان کے جنہوں نے توبہ کرلی ایمان لے آئے اور عمل صالح انجام دیاوہ جنت میں داخل ہوگے اور ان پر کسی طرح کاظلم نہیں کیا جائےگا۔“

انسان دو مد مقابل اوصاف اور مقام کا مالک ہے :ان میں سے ایک صاحبان تقوی اور صاحبان فضیلت ، یعنی انبیاء، صالحین، اولیاء، صدیقین اور شہداسے مربوط ہے ۔اسی لئے حضرت آدم﷼ مسجود ملائکہ قرار پائے اور اسی وجہ سے انسان ایک ایسے مقام پرپہنچا تا ہے،جہاں پراس کے وصف میں کہا گیا ہے:

(القمر/۹۵۵)

”اس پاکیزہ مقام پرجو صاحب اقتدار بادشاہ کی بارگاہ میں ہے۔“

اس نقطہٴ اور پہلو کے مدمقابل،زوال،پستی اور خداسے دوری ہے جب کوئی انسان خدا کی بندگی و عبادت اور انفرادی واجتماعی فرائص کو انجام دینے،خلاصہ یہ کہ انسانیت کے اصول سے جب انسان پہلو تہی اختیار کرلیتا ہے اور زوال کی راہ پر قدم رکھتا ہے توایک ایسی جگہ پر پہنچ جاتا ہے ،جہاں پر وہ حیوانوں سے بھی بدتر ہو جاتاہے:

(فرقان/۴۴)

”یہ سب جانوروں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی کچھ زیادہ ہی گمراہ ہیں“

انسان کے ملکوتی والٰہی پہلووٴں کے لحاظ سے قدر ومنزلت کے بعد اس کا وجود ہے جواس کے دل کا سرچشمہ ہے اور وہاں سے دوسرے اعضاو جوارح پر جاری ہو تا ہے ۔خدا کی یاد میں زبان کا ایک کردار ہے، آنکھ کا قرآن مجید کی تلاوت میں ،کانوںکا حق بات کے سننے میں اور ہاتھ اور پاؤں کا خدا کی راہ میں گامزن ہونے کے لئے ایک اہم رول ہے ۔پس اگر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں خدا کے ذکر کی اس قدرتعریف کی گئی ہے ،یااگرانسان کے لئے واجب قرار پایا ہے کہ روزانہ پانچ وقت نماز پڑھے ،وہ اس جہت سے ہے کہ انسان کی زندگی کی ذ کر خدا کے بغیر کوئی قیمت نہیں ہے اور صرف اسی راہ سے قرب الہی تک پہنچ سکتا ہے۔

اسلام اور تمام الہی ادیان انسان کےلئے دو متضاد اقدار ،مثبت ومنفی کے بے حد قائل ہیں ۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جوانسان کے معمولی معیا روں سے قابل درک نہیں ہیں اور صرف الٰہی معیاروں سے قابل تو جیہ ہیں ۔اس کے علاوہ اسلام نہ صرف انسان کی مجموعی عمر کے لئے اس قسم کی قدر وقیمت کا قائل ہے بلکہ اس کی عمرکے گھنٹوں کے لئے بھی اس قدر واہمیت کا قائل ہے ،یعنی اسلام کہتا ہے : انسان ایک گھنٹے کے اندراپنے وجودی قدر ومنزلت کو لامتناہی منزلتک پہنچاسکتا ہے،وہ ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو خوش قسمت بنا سکتا ہے اور ابدی و بے نہایت سعادت تک پہنچ سکتا ہے اور ایک گھنٹے کے اندرشقاوت اور بے نہایت بدقسمتی کو بھی اپنے لئے فراہم کرسکتاہے۔پس اسلام کی نظرمیںقدر ومنزلت کا معیار انسان کی صلا حیت،اور خود کی شا ئستگی اوراسکی صالح نیت ہے اورحتی اسلام کی نظر میں ایک شخص کا معاشرے کے لئے مفید ہونا قدرومنزلت کامعیار نہیں ہے ،اگر چہ معاشرہ فرد کے لئے جس اہمیت کا قائل ہے وہ اس فرد کا معاشرے کے لئے مفید ہونے کے اعتبار سے ہے ،اسلام نہ صرف ایسے فرد کے لئے قدر وقیمت کا قائل نہیں ہے بلکہ اس کے لئے منفی تصور رکھتا ہے،چونکہ وہ شخص اندر سے فاسد ہے اور اپنے دلفریب وپسندیدہ ظاہر کے پیچھے ایک گری ہوئی اور پست وآلودہ ذہنیت رکھتا ہے۔

اس بنا پر ممکن ہے ایک فرد معاشرے کے لئے زیادہ فائدہ مند ہو،لیکن خود بدبخت اس عالِم دین کے مانندجولوگوںکودینی معارف سکھا تا ہے اور لوگ اس سے استفادہ کرتے ہیں اور سعادت حاصل کرتے ہیں،لیکن وہ خودبدبخت ہے چونکہ وہ اپنے علم پرعمل نہیں کر تاہے ،اس لئے جہنم میں جائے گا۔یا اس دولت مند کے مانندجو اپنامال معاشرے پر خرچ کر تاہے اور عوام کی بہبودی کے خدمت انجا م دیتا ہے ،لیکن اس کا مقصدشہرت حاصل کر نا اور لوگوں کے درمیان سر بلند ہوناہے اس لئے یقینااس کا کام اسلام کی نظر میںکوئی قدرو قیمت نہیںرکھتا ہے ۔جو چیز انسان کے وجوداور اس کے اعمال کو قدرو قیمت بخشتی ہے،وہ اس کا ابدیت اور عالم بے نہایت سے رابطہ ہے یہ رابطہ ایک قلبی رابطہ ہے اور نیت و خداسے دل کی تو جہ کے ذریعہ حاصل ہو تا ہے۔

پس اگر خدا کے لئے کوئی کام انجام دیا جاتا ہے،اس کی قیمت بے نہایت ہے،خواہ ظاہر میںوہ کام چھوٹا ہو یا بڑا۔ فطری بات ہے کہ جس قدر خدا کے بارے میں انسان کی معرفت ز یادہ ہوگی اور کام کو اخلاص کے ساتھ انجام دےا جائیگا اسی اعتبار سے ،اس کی قدر وقیمت زیادہ ہو گی ،اس کے برعکس جس قدر اس کاخلوص کم تر ہوگااوراس کی توجہ لوگوں کی طرف اور ان کا دل جیتنے کے لئے اور شہرت وجاہ طلبی پر مر کوز ہو،کی اس کی اہمیت اور وقعت کم ہوتی جائیگی اگر چہ حجم کے لحاظ سے عظیم بھی ہو ،نتیجہ کے طور پر جو چیز انسان کی زندگی کو قدر واہمیت بخشتی ہے ،وہ حقیقت میںخدا کی طرف توجہ ہے ۔اگر انسان خدائے متعال کی یاد میں ہو تواس کے لئے کام انجام دے سکتا ہے،اس کے بغیر ممکن نہیں ہے وہ خدا کے لئے کام کرے اور نتیجہ کے طورپر اس کے کام کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہو گی۔

اسلام کی نظر میں مفید اور قابل قدر مشغلے:

بہت سے لوگ یہ تصور کرتے ہیںکہ ہر وہ کام جو معاشرے کے لئے مفید ہے،اس کی معنوی قدر قیمت بھی زیادہ ہے اور اس کام کا انسان کی معنوی بلندی اور روحی کمالات پر بہت زیادہ اثر ہو۔وہ تصور کرتے ہیںکہ وہ کام خدا کے لئے یا خدا کی راہ میں ہے جو لوگوں کے لئے سود مند ہو اور اس لحاظ سے وہ زیادہ ترکام کے حجم کو اہمیت دیتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ فلاںنے کس قدر اپنا سر مایہ خرچ کیا ہے اور ہسپتال یا مسجد کی تعمیر کرائی ہے ۔یہ تصور اور نظریہ بہت ہی سطحی ہے۔صحیح ہے کہ اچھے کام کے معیاروں میںسے ایک یہ ہے کہ کام معاشرہ اور لوگوں کے لئے مفید ہو،لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہر اچھا کام جو حسن فعلی رکھتا ہے ،وہ انجام دینے والے کے لئے کمال کا سبب بنے ،بلکہ وہ کام کمال کا سبب بنتا ہے جو حسن فعلی کے علاوہ —- وہی عمل کی نیکی ہے —-حسن فاعلی بھی رکھتا ہو ۔یعنی فاعل کی نیت اور اس کے کام کرنے کا مقصد خدا اور اس کی مرضی کے لئے ہو۔اسلام کی نظر میں کام کا خدا کے لئے ہو نے اورخدا کی راہ میں ہو نے اور اسکی انسان کی بلندی وکمال میں اس کا موثر ہونا ،اس میں نہیں ہے کہ وہ کام صرف لوگوںکے لئے سود مند ہو۔بلکہ خدائی کام کا معیار یہ ہے کہ انسان اس کام کوخدا کی مرضی کے لئے انجام دے اورخدائی محرک اسے وہ کام انجام دینے پر مجبو ر کرے۔

خدا کی راہ میں ہونا ،یعنی کام ایک ایسی راہ اور جہت میں قرار پائے جس کی انتہا خدائے متعال ہو ،اور جب تک مقصد و ہدف خدائے متعال نہ ہو اسے خدائی راستہ نہیں کہا جاسکتا۔اگر مقصد لوگوں کی توجہ حاصل کرنا ہے ،تو راہ بھی لوگوں کی توجہ جلب کرنے کےلئے ہے۔اس وقت کام خداکے لئے اور اس کی راہ میں انجام پاتا ہے کہ فاعل کی توجہ اس کو انجام دیتے وقت خدا کی طرف ہواور یہ اس کے لئے ممکن ہے جو خدائے متعال کو پہچانتا ہواور اس کے تقرب کی قدر وقیمت کو سمجھتا ہو۔

اگر چہ کام کے نیک ہونے اور کام کے حسن کا ایک معیار، اسکا لوگوں کے لئے سودمند ہونا بھی ہے،اور جو بھی اپنے کام سے معاشرے کی زیادہ خدمت کرے گا،اس کاکام نیک ہے ۔

ہمیںقرآن مجیدکی آیتوںپرغور کرنے سے معلوم ہوتا ہے،کہبعض کام جو ہماری نظر میںاچھے ہیں،نہ صرف قرآن مجیدنے ان کی تمجید نہیں کی ہے ،بلکہ انھیں پست اور ناپسندکے طورپر بیان کیا ہے۔من جملہ ان میں سے دوسروں کوانفاق کرنا ہے کہ ہم اسے نیک اور اچھے کاموں میں شمار کرتے ہیں اور اگر کسی کو رفاہی اور امدادی امور انجام دیتے ہوئے دیکھتے ہیںتواس کی ستائش کرتے ہیں جبکہ بعض خالص نیت نہ رکھنے والے انفاق کرنے والوں کی قرآن مجید نے سرزنش کی ہے اور وہ قیا مت کے دن پشیمان ہوں گے اورکف افسوس ملیںگے کہ کیوں اپنے مال کولوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ہم نے خرچ کیا ۔ممکن ہے دنیا میں لوگ انھیں ستائش کریں ،اس کی تصویر کو درودیوار پر نصب کریں یا حتی اس کا یاد گاری مجسمہ بھی بنائیں ،تاکہ سب لوگ اسے ایک خیر کے عنوان سے پہچان لیں۔ لیکن قر آن مجید ان کے بارے میں فرماتا ہے:

(بقرہ /۲۶۴)

”ایمان والو !اپنے صدقات کومنت گزاری اور اذیت سے بر باد نہ کرو اس شخص کی طرح جو اپنے مال کو دنیا والوں کو دکھانے کے لئے صرف کرتا ہے۔“

اگر انفاق ، ریااور خودنمائی کی غرض سے ہو خدا اور معاد پر ایما ن کی بناء پر نہ ہو ،تو اس کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہے ۔اس ریا کی مثال اس شخص کی جیسی ہے جو بیج کو زرخیز ز مین کے بجائے ایک ہموار پتھر پر رکھ کر اس کے اوپرتھوڑی سی مٹی ڈالتا ہے اورمنتظر رہتا ہے سبز ہوکر اس سے پھل حاصل ہوگا! وہ اس سے غا فل ہو تا ہے کہ ایک تیز ہوا یابارش سے وہ مٹی دُھلجائے گی !اس بنا پر اس قسم کاانفاق کرنے والوں کو،ان کے خرچ کئے گئے پیسوں اورمحنتوں کے عوض میں کچھ نہیں ملے گا، کیو نکہ ان کاعمل خدا اور آخرت پر ایمان کی بنیاد نہیں تھا۔

یہ لوگ خود نمائی ،دوسروں سے مقابلہ اور رقابت نیز اپنی نیک نامی اور شہرت کے لئے انفاق اور معاشرے میں خدمت کرتے ہیں کہ لوگ ان کی ستائش کریں ۔ اگر کوئی شخص کسی عہدے پر فائز ہے، لوگوں کانمائندہ ہے ، تو یہ اس لئے خدمت کرتا ہے کہ لوگ اسے دوسرے انتخاب میں ووٹ دے کر پھر سے انتخاب کریں یا اگر کوئی انتظامی منصب رکھتا ہے تو اس لئے خد مت کرتا ہے کہ اسے ترقی ملے ۔پس اس قسم کے افراد کے انفاق کی خدا کے نزدیک ذرہ برابر قدر وقیمت نہیں ہے اوراس کا اخروی سعادت پرکوئی اثرنہیں پڑتاہے ۔ اس بنا پر اچھے اورشائستہ کام کاملاک —— جو انسان کے لئے آخرت میں سعادت کا سبب بنے —– یہ ہے کہ وہ کام ایمان کے ساتھ ہمراہ ہو اور اس کاسر چشمہ ایمان ہو ۔ اس جہت سے خدائے متعال قرآن مجید میں ایمان کو عمل صالح کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے فر ماتا ہے :

(بقرہ ۲۵)

”پیغمبر !آپ ایمان اورعمل صالح والوں کو بشارت دیں کہ ان کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔“

(بقرہ۸۲)

”اور وہ لوگ جو ایمان لائے اورنیک عمل انجام دیا وہ اہل جنت ہیں اوروہیں ہمیشہ رہیں گے“

خدائے متعال دوسری جگہ فرماتا ہے:

(نحل/۹۷)

”جو شخص بھی نیک عمل کرے گا وہ مردہو یاعورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہو ہم اسے پاکیزہ حیات عطا کریں گے اور انھیں ان اعمال سے بہتر جزا دیں گے جووہ زندگی میں انجام دے رہے تھے۔ “

اس بناپر ایمان وعمل کے درمیان رابطہ محفوظ ہونا چاہئے ،کیونکہ صرف وہ عمل خدا کی طرف پہونچنے والا ہو سکتا ہے ،جس کا سر چشمہ خداپر ایمان واعتقاد ہو۔

(لیل/۱۸․۲۰)

”جو اپنے مال کو (خدا کی راہ میں)دے کرپاکیزگی کا اہتمام کرتا ہے۔جبکہ اس کے پاس کسی کا کوئی احسان نہیںہے جس کی جزا دی جائے، سوائے یہ کہ وہ خدائے بزرگ کی مرضی کا طلبگار ہے“

وہ انفاق کرتاہے ․زکوٰة دیتا ہے ،لیکن اس کاارادہ خود نمائی، لوگوں کی توجہ جلب کر نا، اور ان سے تشکر اور قدر دانی حاصل کرنا نہیں ہوتا ہے حتی اگر لوگ اسے برابھلا بھی کہتے ہیں ، وہ اپنے کام سے ہاتھ نہیں کھینچتا ہے چونکہ خدا نے فرمایا ہے کہ انفاق کرو لہذا وہ انفاق کرتا ہے:

(انسان/۸)

((یہ اس کی محبت میںمسکین،یتیم،اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں))

مذکورہ آیت کے ضمن میں فرماتا ہے :

(انسان/۹)

(کہتے ہیں) ”ہم صرف اللہ کی مرضی کی خاطر تمھیں کھلاتے ہیںورنہ نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ “

پس اگر ہمارے عمل کا سر چشمہ ایمان ہو اور وہ کام خداکے لئے ہو ،تو صالح ہوتا ہے،لیکن اگرتقرب الہی کی نیت کے بغیر انجام دیاجائے اور غیر خدا کی نیت کے ساتھ ہو ، تو ایک بے روح اور مردہ جسم کے مانندہے ،جس کے ڈھانچے کو ہم نے بنایا ہے ،لیکن روح نہیں رکھتا ہے تاکہ تحول اور ترقی کا سبب بنے ، اور طبعی طور پر بے روح بدن کیطرح گلکر نابود ہوجاتاہے ۔پس جس عمل میں روح نہ ہو،نہ صرف وہ نمو نہیں کرتاہے،بلکہ خرابیاںبھی ایجاد کرتاہے ۔ اس لئے یہ طرز تفکر صحیح نہیںہے کہ جوبھی کام عام لوگوں کے مفادمیں ہو اور معاشرے کے لئے خدمت شمار ہو تا ہے اسے ہم اچھا جان لیں اور اس کے ساتھ اس کی نیت اور اس کے مقصد کو مدنظر نہ رکھیں۔

مذکورہ مطالب صرف عام لوگوں سے مخصوص نہیں ہےں ،بلکہ بعض تعلیم یافتہ بھی عمل کی شائستگی اور اچھا ئی اس میں جانتے ہیں کہ ظاہری عدالت کی بنیاد پر عام لوگوں کی خدمت اور منفعت کے لئے انجام دیا جائے ،جبکہ عمل کی خوبی اوراچھائی اور انسان کی سعادت کے لئے موثر ہونے کا معیار دوسری چیز ہے۔

ظاہرپرست اور سرسری نظررکھنے والا انسان کام کے حجم اوراس کے اجتماعی اثرات کو اپنے فیصلہ کامعیار قرار دیتا ہے ،لیکن یہ الہی معیا ر نہیں ہے اورخدائے متعال کام کے حجم پر نظرنہیںرکھتا ہے ۔وہ نہیں دیکھتا ہے کہ کس قدر پیسہ خرچ ہواہے ، کس قدر توانائی صرف ہوئی ہے،بلکہ وہ دیکھتا ہے یہکام کتنا خدا کے لئے انجام دیا گیا ہے اور اسی اعتبار سے وہ کام انسان کی سعادت کا باعث ہوگا۔لیکن عبادات میں قصد قربت کی شرط سے مراد یہ ہے کہ اگر ذرٌہ برابر بھی نیت میں غیر خدا شا مل ہو جائے یعنی اس عمل میں کسی کو خدا کاشریک قرار دے ،تو وہ عمل باطل ہو جاتا ہے۔تعبدی واجبات اور مستحبات اور وہ اعمال جن میں قصدقربت ضروری ہے ،وہ صرف خدا کے لئے انجام دیا جائے اور اگر انسان نے ایسے کسی کام میں خودنمائی کی ،اور لوگوںکی خوشنودی کے لئے آداب کی رعایت کی، نیزنماز کو آب وتاب کے ساتھ بجا لائے اور مقصدلوگوںکی توجہ جلب کر ناہو،تونہ صرف اس کا عمل باطل ہے بلکہ حرام ہے اور سزا کابھی مستحقہے ۔حتی عمل کا وہ حصہ جو خدا کے لئے انجام دیا گیا ہے، وہ بھی قبول نہیںہوتا ہے،کیونکہ خدائے متعال فرماتا ہے:

”انا خیرشریک من اشرک معی غیری فی عملہ لم اقبلہ الا ما کان خالصا“ ۱#

”میں بہترین شریک ہوںجو شخص اپنے عمل میں میرے ساتھ کسی اور کو شریک قرار دے اس کے عمل کو میں قبول نہیں کرتا ہوں ،اس عمل کے سوا جو خالص ہو“

پس اگر کسی نے تعبدی عمل میں غیر خدا کو خدا کے ساتھ شریک قرار دیا ہے ،تو چونکہ یہ عمل خالص نہیں ہے

——————————-

۱۔بحارلانوارج۷۰،ص۲۴۳

ضائع ہو جاتاہے ممکن ہے ایک عمر تلاش و کوشش کے بعدانسان کے دن سیاہ ہو جائیں اور بدبخت ہو جائے ، جیسے ایک عمر اس نے علم حاصل کرنے میں بسرکی اس خیال میںخداکے لئے علم حاصل کر تا تھا ،لیکن جب وہ اپنی نیت کو ٹٹو لتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کامقصدمقام اور عہدہ حاصل کر نا تھا یا اپنی اجتماعی حیثیت کو بنانا تھا، وہ اس لئے کوشش کرتا تھا کہ لوگ اسے نیک اور پارسا جان لیں اور لوگوں میں شہرت پائے یاکسی عہدے پر فائز ہو جائے۔

اگراس قسم کاشخص کہے : میں نے لوگوں کی خدمت کی ہے ،بہت سے فقیروں کوبھوک سے نجات دلائی ہے ، بہت سے بیماروں کے لئے علاج ومعالجہ کے وسائل فراہم کئے ہیں اور میںنے مدرسہ وہسپتال بنائے ہیں، توخدائے متعال اسے فرماتاہے :ان میں سے کوئی چیز تمھارے فائدے کی نہیںہے ،تمھارا اجرو ثواب وہی لوگوں کا تمہاری تعریفیں کرنا،تمھاری تصویر کودیواروں پرنصب ہونا ، جرائد واخباروں میںتمہاری شہرت کا اعلان ہونا اور وہ ستائش ہے جوتمھاری ایک خیراورنیک انسان کی حیثیت سے کی گئی ہے۔!

پس عمل کی شائستگی و پستی کا ملاک ومعیاراس کے دل سے مربوط ہے۔دیکھنا چاہئے کہ ان امور کوانجام دینے کا سرچشمہ کیا تھا،کیا سر چشمہ دنیا کی محبت ہے یا خدا کی محبت؟اگرکام خداکے لئے مخلصانہ انجام دیا ہے تو انسان کی بلندی اور کمال کاموجب ہے اگر ایسا نہیں ہے تونہ صرف انسان کی بلندی اور روحی کمال کا سبب نہیں ہے ،بلکہ ممکن ہے زوال اور اس کی تنزلی کا باعث ہو۔اگر وہ کام عبادات کے زمرے میں ہوگا تو ریا کے ذریعہ باطل بھی ہو جائیگا اوراگر امور تو صلی سے وابستہ تھا اور قصد قربت اس میں شرط نہ تھی تو وہ اپنی قدروقیمت کھو دیتا ہے، اورجوثواب قصد قربت کی وجہسے اس پر مرتب ہوتا ہے وہ نہیں ملتاہے۔پس ہر وہ کام جو لوگوں اور اسلا می یاغیر اسلامی معاشرے کے نفع سے مربوط ہے،وہ قدر وقیمت کا حامل نہیں ہے۔حتی کام کی قدرو قیمت صرف اس لئے نہیں ہے کہ دین اور دیندارو ں کے لئے فائدہ مند ہے بلکہ ،ممکن ہے انسان ایک کام انجام دے کہ جو دین کے لئے سودمندہو ،لیکن نہ صرف یہ کہ خود اس کے لئے کوئی فائدہ نہیں ہےبلکہ مضر بھی ہو ، کیونکہ اس کا یہ کام اخلاص کی بنا پر نہیں تھا ۔

تاریخ اسلام میں کتنے ایسے افراد گز رے ہیں جنہوں نے کچھ ایسے کام انجام دئے ہیں جو دین کے لئے مفید تھے اور کبھی دین کی تر ویج اور نشر کا سبب بھی بنے ہیں لیکن چونکہ وہ قصد قربت نہیں رکھتے تھے اس لئے وہ کام ان کے لئے سود مند نہیں تھے،ان کا قصد کشور کشائی ،شہرت حاصل کرنا اور لوگوں میںاپنے لئے محبوبیت پیدا کرناتھا کہ ان میں سے کوئی بھی کام انسان کے کمال وبلندی کاسبب نہیں بن سکتا ایک روایت میںآیا ہے:

”ان اللّٰہ یوٴید ہذا الدین برجل فاجر“ ۱#

”خدائے متعال کبھی اپنے دین کوفاسد شخص کے توسط سے تائید کرا تاہے“

ممکن ہے پور ی تاریخ میں کچھ فاسق وفاجر حکام نے،اپنے شخصی اغرض اورشہوت طلبی کی بنا پراپنی مملکت کووسعت بخشنے کےلئے کشور کشائی کی ہو اور وہ اسطرح دین اسلام کی ترویج کا سبب بھی بنے ہوںاور اگرچہ ان کا یہ کام دین اسلام کے لئے مفید تھا ،لیکن خود ان کے لئے فائدہ مند نہیں تھا۔اس بناء پر اندرونی عوامل اور نیت کے نقش کو ملحوظ نظر رکھنا چاہئے اوردیکھنا چاہئے کہجو چیز امور کی اہمیت و منزلت کا باعث ہے وہ صرف خدائی عنصر اور الٰہی انگیزہ ہے،اورممکن ہے کوئی کام ظاہر میں حقیراورپست نظرآئے،لیکن چونکہ شائستہ اورخالص الٰہی انگیزہ کے تحت انجام دیا گیا ہے ،اسلئے وہ مقدس اور قیمتی ہے۔

ثقافتی اور مذہبی پروگراموں میں اخلاص کی اہمیت:

اس سلسلہ میں دین کے مبلغین اورمروجین کو توجہ کرنی چاہئے کہ تبلیغ اور دینی اورمذہبی پروگراموںکے انعقاد میں نیز ،مذہبی مراکز کی تاسیس اور ان امور کیطرف دوسروں کوتشویق کرنے میںان کامحرک اور نیت خالص ہونی چاہئے۔یہ ممکن ہے کہ تبلیغات اوراپنے موعظوںسے دوسروں کی صحیح راستہ پر رہنمائی کریںاور انھیں دینی وثقافتی مسائل کی طرف جذب کریں اور مسجد تعمیر کرنے اور مذہبی مراکزتاسیس کر نے میں تلاش اورعزم وارادہ کا مظاہرہ کریں اس طرح ثقافتی مسائل کی ترویج کے لئے ،اور معاشرے کے ثقافتی پہلوؤں کو مقدار و کیفیت کے اعتبار سے فروغ دینے کے لئے ماحول ساز گار بنائیں ۔لیکن انھیں یہ تصور نہیں کرنا چاہئے کہ ان کی یہ سر گر میاں ہمیشہ خودان کے لئے سود مند ثابت ہو ں گی اور قطعاان سے اخروی اعتبار سے فائدہ اٹھائیںگے ۔وہ سر گرمیاں اس وقت ہمارے لئے مفید ہیں اور ہمارے لئے کمال وبلندی کا سبب ہےجب ہمارا مقصد خدائے متعال ہو۔ہماری فعالیت اور کوشش صرف تر ویج دین کے لئے ہو اور ان سے ہمارے ذاتی اغراض وابستہ نہ ہوں تو اس صورت میں ہمیں ایک عظیم سعادت ملے گی ،لیکن اگر

——————————–

۱۔ کافی ج/ ۵،ص/ ۱۹

ہمارے ذاتی اورمادی اغراض، ہماری فعالیت اورکوشش کاسبب بنے ہوں،تو ہمیں اپنے کام کے بارے میںخدائے متعال سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔پس ہمیں اس نکتہ سے غافل نہیں ہو نا چاہئے اورخیال نہیں کرنا چاہئے کہ جب کسی کام کا بہت اچھا نتیجہ نکلے ، تو ہمارے لئے بھی مفید ہے اور ہم مغرور ہو جائیں ،بلکہ ہمیںاپنی نیت کوٹٹو لنا چاہئے ،اس صورت میں نہ صرف ہم مغرورنہ ہو ںگے بلکہ ممکن ہے شرمندہ بھی ہو جائیں ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مطلب کے بارے میں فرماتے ہیں:

”یا اباذر!ان اللّٰہ عز وجل یقول: انی لست کلا م الحکیم اتقبل ولکن ہمہ وہواہ ،فان کان ہمہ وہواہ فیما احب وارضی جعلت صمتہ حمدا لی وذکرا ووقاراوان لم یتکلم“

”اے ابوذر!خدائے عزوجل فرماتا ہے:میں دانشمند حکیم کی اس بات کو قبول نہیں کرتا ہوں جووہ زبان پرجاری کرتا ہے ،بلکہ اس کو قبول کرتا ہوں جواس کے دل میں ہے اور وہ اس کا ہدف مقصد ہے۔ اگر اس کا ارادہ وقصدوہ ہو جسے میںچاہتا ہوں اورجس پر راضی ہوں ،تواس کی خاموشی کو بھی اپنے ذکروحمدوثناکے طور پر قبول کرتا ہوں ،اگر چہ اسنے بات نہ کی ہو۔“

جولوگ حکمت آمیز باتوں کو سیکھ کرلوگوں کو بتاتے ہیں ،ان کی لوگوں کی طرف سے ستائش وتمجید کی جاتی ہے اور لوگ انھیں حسن ظن سے دیکھتے ہیں اور ان کے لئے شائستہ مقام کے قائل ہو جاتے ہیں البتہ انسان کافریضہ یہ ہے کہ دوسروں کے بارے میں حسن ظن رکھے ،لیکن بولنے والے کواپنے بارے میں دیکھنا چاہئے کہ اس کے کام پر کس قدر اطمینان کیا جا سکتا ہے ۔کیا جس وقت اچھی اور نصیحت آموز باتیں کر تا ہے ،تو خدا اسے قبول کرتا ہے اور اسکا تقرب حاصل کرتاہے یا نہیں ؟خدائے متعال نے خوداس سوال کا جواب دیا ہے کہ مجھے حکیمانہ باتوں سے کوئی کام نہیں ہے بلکہ میںاس مقصد و نیت کو دیکھتا ہوں جو اس بات کے پس پردہ پوشیدہ ہے ۔میں افراد کے میلا نات اوررحجا نات کو دیکھتا ہوں۔ میں یہ دیکھتا ہوں کہ بات کرتے وقت اس کا دل لوگوں کی طرف متوجہ ہے تا کہ لوگ اس کے بیان کی ستائش کریں اوراس سے خوش ہوں ،یا یہ کہ وہ صرف اپنے فریضہ کودیکھتا ہے اور اس فکر میں ہے کہ اپنے فریضہ پرعمل کرے اوراس کو اس سے کوئی سرو کار نہیں کہ لوگ اس کی باتوں سے خوش ہوں یا خوش نہ ہوں، حتی اگر اس کی باتیں انھیں بری بھی لگتی ہیں جب بھی وہ اپنے فریضہ کو انجا م دینے میں کوتاہی نہیں کرتا ۔

پس جب اسکے میلانات اوررحجانات میری مرضی کے مطابق ہوں ،تو میں اسکی خاموشی پر بھی اس کو ذکر اورحمدوثنا کا ثواب بخشتا ہوں ،کیونکہ اس کادل میری طرف متوجہ ہے اوروہ ایسا کام انجام دیناچاہتاہے جو میری مرضی کے مطابق ہے ۔وہ جب میری مرضی کوخاموشی میں دیکھتا ہے تو خاموشی اختیار کرتا ہے،اس لحاظ سے اسکی خاموشی عبادت ہے،اورممکن ہے اس کی یہ خاموشی دوسروں کی عبادتوں سے زیادہ ثواب رکھتی ہو اور اسکی روحی اورمعنوی تکامل ترقی میں زیادہ موٴثر ہو جس کی باتیں اور جس کے کام لوگوں کے لئے ہوںاور اس کادل لوگوں کیطرف متو جہ ہو،وہ کوئی فضیلت وثواب حاصل نہیں کرتاہے۔ اس کاثواب وہی لوگوں کی تعریف وتمجید ہے ،کیو نکہ اس نے خداکے لئے کام ہی نہیں کیا ہے کہ وہ اسےجزا دے ۔

مذکورہ مطالب اور عمل کی ہویت وماہیت میں اندورونی محرکات ومیلا نات کے اثرات کی شناخت کے پیش نظر اگر ہم نے مشا ہدہ کیاکہ کوئی شخص اپنے فریضہ کو تشخیص دینے کے بعد بات کرتا ہے،اگر چہ لوگ اسے پسند بھی نہ کریں ،توہمیں جاننا چاہئے کہ اس کا مقصدو ہدف الہی تھا ،اس لحاظ سے اس کاعمل اور بیان بلند قدروقیمت کا حاملہے ۔لیکن اگر بات کرنے میں لوگوں کو مد نظررکھے اور یہ بھی جانتاہو کہ اس بات کے کہنے پرخدائے متعال بھی راضی ہے، لیکن چونکہ اجتماعی شرائط کے تحت حالات کے نا مساعد ہونے کی وجہ سے بات نہیں کر تاہے ،اورڈرتاہے کہ لوگ اس کی بات سے ناراض ہو جائیں ،تواس کا انگیزہ و ہدف خدائی نہیں ہے اوراس کادل لوگوں کی مرضی کا پابند ہے ،اس جہت سے اگر دوسرے مواقع اور فرصتوں میں بھی بات کرے، تواس کی باتوں کا کوئی فائدہ اور کوئیقدروقیمت نہیں ہے ،کیونکہ اسکی توجہ لوگوں کی طرف ہے۔

نیت اور اندورونی رجحانات کی اہمیت:

”یا اباذر!ان اللّٰہ تبارک وتعالی لا ینظر الی صورکم ولا الی اموالکم و اقوالکم ولکن ینظر الی قلوبکم واعما لکم“

”اے ابوذر!خداوند تبارک وتعا لی تمہاری چیزوں یا تمہارے مال ودولت (اور باتوں)کو نہیں دیکھتا ہے ،بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتاہے۔“

(اصطلاح”صورکم“کے بعداصطلاح ”اقوالکم“ کااستعمال مناسب ترو صحیح تر لگتا ہے البتہ اصطلاح ”اموالکم“ کا استعمال بھی ممکن ہے صحیح ہو۔)

خدائے متعال افراد کے ظاہر پر نگاہ نہیں کرتا ہے کہ وہ کیا کہتے ہیں اور کیادعوی کرتے ہیں ۔ یعنی کس کی پیشانی پر سجدہ کے نشان نمایاں ہے یا کس نے کون سالباس پہنا ہے،اس پرنظر نہیں کر تا ہے بلکہ افرادکے دلوں پر نظر ڈالتا ہے اور ان کے اعمال کو دیکھتاہے کہ کس قدر وہ اپنے دعوے میں سچاہے ۔ وہ دیکھتاہے کہ جو کچھ اس کے دل میں ہے کیا وہ اسکے ظاہر سے بہتر ہے،یاخدانخواستہ اس کا باطن پلید اور آلودہ ہے اورظاہرخوشنما!کہ اس صورت میں نہ صرف خدائے متعال اسے کوئی ثواب نہیں دیتاہے بلکہ اسے منافقین کے زمرے میں قرار دیتاہے ۔

حدیث کا یہ حصہ دل ہلا دینے والا اور متنبہکر نے والا ہے اوراگران انتباہات پر سنجیدہ گی سے غور کیا جائے تو اس صورت میں اپنے بارے میں بہت سے فیصلے کو تبدیل کرنا پڑے گا ۔(البتہ دوسروں کے بارے میں ہمیں حسن ظن رکھنا چاہئے ) اگر انسان اپنی نیتوں کوٹٹو لے ،تواسے معلوم ہوگاکہ اس میں بہت سی خامیاں ہیں اور وہ خدا کے لئے خالص نہیں ہے،کم از کم اسکی نیتوں کا ایک حصہ غیرالٰہی ہے اور وہ کسی دوسرے انسان کوخدائے متعال کا شریک قرار دیتا ہے اورخدائے متعال نے خود فرما یا ہے کہ اگر کسی نے کسی دوسرے کومیراشریک قرار دیا،تو اپنے حصہ کوشریک پر ہی چھوڑتا ہوں۔( یعنی اسے چاہئے کہ اس کی جزا شریک سے دریافت کرے)

ہمیں دیکھنا چاہئے کہ جو ہم بات کرتے ہیں جوکام انجام دیتے ہیں ،سبق پڑھتے ہیں ،موعظہ کرتے ہیں یاجونماز ہم باجماعت پڑھتے ہیں انمیں ہماری نیت اورغرض کیاہے ․کیا ہم اس لئے نماز جماعت کے لئے جاتے ہیں کہ خدااسے پسند کرتاہے ،یااس کے علاوہ دوسرے اغراض و مقاصدہیں؟اگر ہمارے عبادی کام خالص نہ ہوں اور ان میں غیر الہی اغراض شامل ہوں تو ہمارے دیگرتمام کاموں میں بھی نیت خا لص نہیں ہوگی۔اس کے علاوہ اگر ہمارے عبادی اعمال وفرائض خالص نہ ہوںتو وہ اصلا باطل ہیں ۔ممکن ہے لوگوں کی ہدایت کرنے والوںکی عبادتوں میں ر یا ، ظاہرداری ،اور نفسانی اغراض کی دخالت جیسی آفتیں ، دوسروں سے زیادہ پائی جاتی ہوں ۔ایک مزدوراور کسب معاش کرنے والاجو روز مرہ کے کام اور تکان کے بعد،سورج ڈوبتے ہی ایک مختصرنماز پڑھتاہے ،وہ ریا نہیں کرتاہے۔لیکن جو امامت جماعت کی ذمہ داری انجام دیتاہے اور لوگوں کو موعظہ، علوم دینی کی تعلیم اوردوسروں کی ہدایت میں وقت صرف کرتا ہے ،اس کے لئے ریا کا مسئلہ اورغیرالٰہی عناصر و مقاصدمیںآلودہ ہونا واقعی طور پر حساس ہے اس لئے کہ ریا میں آلودہ ہونے کی صورت میں ممکن ہے انسا ن دنیوی ضرر سے بھی دوچارہو گا اور آخروی نقصان سے بھی اٹھانا پڑے گا۔

اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بیان کہ ظاہری رفتارواعمال اورتقوی کادعوی کرناتقوی کی دلالت نہیں ہے اورتقوی ایک ایسی خصوصیت ہے کہ جو افراد کے باطن اور اس کے دل کے اندر پایا جاتا ہے اور یہ عمل کی بلندی اورنیت ومقصدکے خالص ہونے کا معیار ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سینہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”یا اباذر!التقوی ہیٰہنا،التقوی ہیٰہنا“

”اے ابوذر !تقوی یہاں ہے ،تقوی یہاں ہے“

جوبھی ظاہر میں،شائستہ اعمال انجام دیتاہے ،نمازیں زیادہ پڑھتاہے اہل ذکراور لوگوں کی خدمت کرنے والا ہے تو یہ سارے امور اس بات کی دلیل نہیں ہیں کہ وہ شخص باتقوی ہے،بلکہ اس کی نیت اور اس کے اندر کے عوامل کو دیکھنا چاہئے اگر خالص خدا کے لئے تھے تو وہ شخص متقی ہے ورنہ ظاہرا تقوی نمائی کرتاہے ۔

ہم نے اس سے پہلے کہا کہ کبھی محر مات سے پرہیز ،تکالیف اور واجبات پر عمل کرنا تقوی ہے اور کبھی اس ملکہ نفسانی کوتقوی کہتے ہیںجو شائستہ وصالح اعمال کا سرچشمہ ہو،اس تصور کے پیش نظر،ہمارے اعمال،ہماری عبادتیں اور دیگر نیکیاں اس وقت تقوی کا مصداق بنیں گی کہ جب ان کا منشا وبنیاد خداکی محبت ہو اور ان کا محرک رضای الہی ہو۔پس ہمیںعمل کی بنیادپرسنجیدگی سے غور کرنا چاہئے ،کیونکہ کوئی بھی کام کسی محرک اورنفسانی انگیزہ کے بغیرانجام نہیں دیا جاتا۔انسان کے اختیاری اعمال اس کے اندرونی ارادے اورنیت کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں اور وہ انگیزہ انسان کے اندر کام کوانجام دینے کاشوق پیدا کرتا ہے اور حقیقت میںوہ رفتار وگفتارہماری نیت وارادہ کامظہر ہے ۔البتہ ممکن ہے انسان کسی کام کو انجام دینے کی نیت رکھتا ہواوراپنے آپ کواس کام کوانجام دینے کےلئے آمادہ کرے ،لیکن اس کام کے خارجی عوامل ایک دفعہ نابو دہو جائیں اور وہ اس کام کوانجام دینے سے قاصر ہو جائے۔اس صورت میں کام کا معنوی اثر اس کے دل میںباقی رہتاہے،اگر چہ خارج میںاسکا کوئی اثر رونما نہیں ہوا ہے۔وہ اثرمعنوی اسکے داخلی میلان اورنیت پر منحصر ہے کہ جس کو روایت میں لفظ (ھم)سے تعبیر کیاگیا ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم فرماتے ہیں:دیکھ لو کہ تمھارے کام کا محرک کہاں سے وابستہ ہے تمھارے داخلی رجحانات کس سمت میں گامزن ہیں۔کیاخدا اوراس کی مرضی پر تمہاری نظر ہے ، یالوگوںاور اپنے دنیوی منافع پر ؟اگر تم نے کام کوغیر الٰہی محرک کے ایماء پر انجام دیا ہے، خواہ وہ کام نیک اور پسندیدہ ہو،لیکن اس میں معنوی اور الہی اثر پیدا نہیں ہوسکتا ،حتی اگر وہ کام دین کی ترویج اور اشاعت کا سبب بھی بنے جب بھی انسان کی سعادت کا سبب نہیں بن سکتا ، کیو نکہ الٰہی نیت اس میں نہیں ہے جو خداکاتقرب حاصل کرنے کاسبب ہو۔خدائے متعال ، عمل کے باطن اوراسکے انجام دئے جانے والے منشا پر نظر رکھتا ہے۔اب اگر وہ منشا و محرک الٰہی تھا تواس عمل کو قبول کرتا ہے ورنہ عمل کو مسترد کردیتا ہے اورعمل کی ظاہر ی صورت سے کوئی سرو کار نہیں رکھتا ہے:

(حج/۳۷)

”خدا تک ان جانوروںکانہ گوشت جانے والا ہے نہ خون ۔اس کی بارگاہ میں صرف تمہارا تقوی جاتاہے۔“

محرک اورنیت کو صحیح وسالم بنانے کاراستہ:

پس صور ت عمل کا خدا سے کوئی ربط نہیں ہے ،بلکہ صورت عمل کالوگوںاورطبیعت سے رابطہ ہے جوچیز عمل کوخدا سے مربوط بناتی ہے وہ انسان کادل اور اسکی نیت ہے۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے فرمودات کے پیش نظر ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کونسامحرک ہمیں وہ کام انجام دینے کا سبب بنا ہے اگر ہمارے محرکات خالص نہ تھے،ہمیں انھیں خالص کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔البتہ نیتوںاور محرکات کوخالص کرنا ایک مشکل کام ہے اور اسکے لئے مقدمات و مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس راہ میں سب سے پہلے ہمیں خدا سے مدد مانگنی چاہئے اورغیر الہی تمایلات کے شائبوں سے اپنے نفس کو پاک کرنے کے لئے عزم وارادہ کی ضرورت ہے ریاضت ،مشق اور خود سازی سے ہمیں یہ مرحلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ممکن ہے جب انسان دیکھے کہ اس کی نیت خالص نہیں ہے اور اس میں غیر الٰہی عنصر شامل ہے تو وہ اپنی نیت کو خالص کرنے کے لئے کوشش کرنے کے بجائے کام کوہی ترک کردے ۔یہ بھی شیطان کاپھندا ہے کہ جو انسان کونیک کام انجام دینے سے روکتا ہے۔مثلا جب عشرئہ محرم آتاہے ،فیصلہ کرتاہے تبلیغ کے لئے جائے ،لیکن جب اپنے انگیزہ اورنیت پرغورو خو ض کرتاہے تواسے ناخالص پاتاہے اورتبلیغ پرجانے سے ہی منصرف ہوجاتا ہے اوراپنے آپ سے کہتا ہے:چونکہ میری نیت خالص نہیں ہے۔اس لئے تبلیغ پر نہیں جاؤں گا ۔یہ کام بالکل وہی ہے جو شیطان چاہتاہے۔کیونکہ انسان کا فرض یہ ہے کہ تبلیغ پر جائے اور لوگوں کو ہدایت کرے ،اگر ہم نے شیطان کے وسوسہ کی وجہ سے تبلیغ پر جانا چھوڑ دیا،تو شیطان کوایک مناسب فرصت مل گئی کہ جس میں وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے۔اس بناپر اگر ہم نے دیکھا کہ ہماری نیت خالص نہیں ہے ،تو ہمیں فریضہ اور تکلیف کوترک نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہمیںاپنی نیت کو خالص کرنےکی کوشش کرنی چاہئے۔اگرہماری تبلیغی سر گرمیوں کے عوض ہمیںکچھ پیسہ دیئے گئے تو یا ہم اسے نہ لیں یا اس میں سے تھوڑا بہت قبول کرلیں یااسے ضروری امور میں صرف کرنے کا فیصلہ کریں کہ اگر ہم نے کسی کواپنے سے محتاج ترپایا،تواس کی مدد کردیں گے۔اس قسم کے کام نفسانی خواہشات اورغیر الہی محرکات میں کمی واقع ہونے اور عمل کے خالص تر انجام پانے کاسبب بنتے ہیں۔

میرے ایک دوست نے نقل کیا ہے کہ وہ طالب علمی کے دوران اطراف تہران کے ایک شہر میںتبلیغ کے لئے گیا۔وہاں ایک محترم عالم دین تھے کہ لوگ جنھیں اچھی طرح پہچانتے تھے اور وہ لوگوں میںکافی اثر رسوخ رکھتے تھے۔مجھے اس شہر کے ا طراف میں واقع ایک گاؤں میں بھیج دیا گیا۔چونکہ میں تبلیغی کام میں تجربہ نہیں رکھتا تھااورپہلی مرتبہ تبلیغ پر گیا تھا،اس لئے عشرہ کے دوران میری مجلسوں کولوگوں نے پسند نہیں کیا او ر کوئی خاص آؤ بھگت بھی نہیں کی،آخر میں ایک مختصرنذرانہمجھے دیا گیا۔تبلیغ کے اختتام پرمیں اور دوسرے مبلغین اس عالم دین سے رخصت ہونے کے لئے ان کے پاس گئے۔اس عالم دین نے انتہائی فروتنی اور تواضع سے ہماری مہمان نوازی کی ،گفتگو ختم ہونے پر مذاق میں ہم سے کہا:دوستو!آوٴ ہم اپنی آنکھوں کوبند کر کے جو کچھ اس عشرہ میں بطور زندہ ہمیں ملاہے اسے ایک جگہ جمع کریں اور اس کے بعداسے آپس میں مساوی صورت میں تقسیم کریں !معلوم تھا کہ وہ عالم دین ایک مشہور و معروف شخصیتتھے اور ان کی مجلسیں بھی موثر تھیں اور پیسے بھی انھیں کافی ملے تھے ۔وہ چونکہ جانتے تھے کہ ہمیں کوئی خاص پیسے نہیں ملے ہیں ،اور وہ اس طرح ہماری مددنہیں کرناچاہتے تھے کہ جس سے ہماری شخصیت مجروح ہو ، اس لئے مذاق میں ہم سے اس قسم کا تقاضا کیا۔ہم بھی تہہ دل سے خوش ہوئے،چونکہ انہوں نے مذاق میں ہم سے وہ درخواست کی تھی اس لئے ہمیں برا بھی نہیںلگا ۔ خلاصہ یہ کہ ہم نے اپنی آنکھیں بند کر کے پیسوں کو ایک جگہ جمع کیا ،جب پیسے افراد کے درمیان تقسیم ہوئے تو ہم نے دیکھا کہ ہم میں سے ہر ایک کو اپنی رقم کے کئی گنا پیسے ملے تھے !جی ہاں ،ایسے افراد گزرے ہیں اور موجود بھی ہیں جن میں مادی محر کات ضعیف ہیں یااس قسم کے کام سے ان محرکات کو ضعیف کرنا چاہتے ہیں۔

آخر کار انسان اپنی زندگی میں مشکلات اور ضرورتوں کا سامنا کرتا ہے ،خاص کر گرانی اورمہنگائی ،مادی رحجانات کو ہوا دیتے ہیں ،اب ان محر کات اور رحجانات میں قدرے کمی واقع ہونے کے لئے مناسب ہے کہ ہم نذر کریں اور ارادہ کریں کہ جو کچھ ہمیں بطور نذرانہ ملے گا اس میںایک حصہ اہم ایسے لوگوں کے حوالہ کریں گے جو ہم سے زیادہ محتاج ہیں، کیونکہ جس طرح ہم سے زیادہ مالدار بہت ہیں اسی طرح ہم سے زیادہ فقیر بھی بہت ہیں جو ہم سے زیادہ محتاج ہیں۔ہمیں کوشش کر نی چاہئے کہ جو کچھ ہمیں ملے اس میں سے کچھ حصہ اپنے سے محتاج ترلوگوں کو پہنچادیں ۔ہمیںکوشش کرنی چاہئے کہ جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہی دوسروں کے لئے بھی پسند کریں،اس طرح دنیا سے ہماری وابستگی بھی کم ہوگی اور نیکی کاروں کی صفت بھی ہم میں پیدا ہوگی۔

(آل عمران/۹۲)

”تم نیکی کی منزل تک ہر گز نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے راہ خدا میں انفاق نہ کرو۔“

جب انفاق کر نا چاہتے ہو تو نئے نوٹ دینے کی کوشش کرو نہ فرسودہ اور پھٹے پرانے نوٹ،کہ یہ امر بھی تمہارے معنوی درجات میں اضافہ کرتاہے اور تمہاری دنیاسے وابستگی کوبھی کم کرتا ہے اور سبب بنتا ہے کہ تمہارے اعمال اس کے بعد خالص تر بن جائیں لہذا جیسے عرض کر چکا ہوں،طے کر لیں کہ جو کچھ ہمیں ملا ہے اس کا ایک حصہ دوسروں کو دیدیں ،کیا بہتر ہوتااگر ہمیں ان پیسوں کی زیادہ ضرورت نہ ہونے کی صورت میں،اپنے اطراف میں موجود کسی مقروض شخص کو دیدیں ، جس کے گھر میں روزانہطلب گار (قرض دینے والا) آکر اپنے پیسہ کا تقاضا کرتاہے اور وہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے شرمندگی سے دوچار ہوتا ہے ایسا کیوں نہ کریں کہ سارا پیسہ اسے دیدیں تا کہ وہ اپنا قرضہ چکادے ہم تو قرضدار نہیںہیں ، کیا حرج ہے فرض کریں ہم تبلیغیسفر پر نہیں گئے ۔فرض کریں خدا نہ کرے ہمارے گھر میں ہماراکوئی عزیز بیمار ہواوراس کی بیمارداری کی وجہ سے تبلیغ پرجانا ہمارے نصیب میں نہ ہو ۔اگر کوئی مقروض مسلسل اپنے قرض کو ادا کر نے میں تاخیر کرتا ہے اور اس کی آبرو خطرے میں پڑی ہے اور وہ جانتاہے کہ اگر تبلیغ پر نہیں گیا تو اپناقرض ادا نہیں کرسکتا ہے،تواسے تبلیغ پر جانے سے نہیں روکنا چاہئے ۔بہر حال قرض اداکرنا ایک واجب تکلیف ہے،کیا حرج ہے تبلیغ پر جائے اور اپنی تبلیغی سر گر میوں کے بدلے میں محترمانہ اور شان روحانیت کی رعایت کرتے ہوئے نیز کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے روحانیت کی بدنامی ہو،اگر اسے کوئی نذرانہ دیا گیا تو وہ اسے قبول کرلے اگر اسکی نیت یہ ہو کہ تبلیغ پر جائے اگر اسے کوئی نذرانہ دیا گیا تو اس سے اپنا قرض اداکرے گاتو اس نے کوئی خلاف شرع کام انجام نہیں دیا ہے،اگر چہ نفس کو جس کمال تک پہنچنا چاہئے تھا نہیں پہنچتاہے۔لیکن اس کام میں بھی اخلاص کا قصد کیا جا سکتاہے ،کیونکہ قرض ادا کرنا واجب ہے اوراگر اس کی نیت یہ ہوکہ چونکہ خدائے متعال نے واجب کیاہے کہ قرض کو ادا کیاجائے میں راہ خدا کی تبلیغ پر جاتا ہوں تاکہ کچھ پیسے حاصل کروںاور اس سے قرض ادا کروں ،اس طرح اس کاعمل عبادت ہوجائیگا ۔

بہر صورت ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ دینوی تمایلات کو کم کریں اور مال دنیا کی نسبت بے اعتنائی دکھائیں اور دیکھ لیں کہ ہمارے مولا و مقتدا حضرت علی علیہ السلام ہیں کہ جن کی نظرمیں دنیا کی رعنائیاں کس قدر پست وحقیرتھیں فرماتے ہیں:

(دیکھو اس ذات کی قسم کہ جس نے دانے کو شگافتہ کیا اورذی روح چیزیں پیدا کیں ۔اگر بیعت کرنے والوںکی موجودگی اورمدد کرنےوالوں کے وجود سے مجھ پرحجت تمام نہ ہوگئی ہوتی اور وہ عہدنہ ہوتاجو اللہ نے علما سے لے رکھا ہے کہ وہ ظالموںکی شکم پری اور مظلوم کی گرسنگی پر سکون و قرارسے نہ بیٹھیں ، تو میں خلافت کے اونٹ کی باگ ڈور اسی کی پشتپر ڈال دیتا اور اس کے آخر کو اسی پیالے سے سیراب کرتا جس پیالے سے اس کے اول کو سیراب کیا تھا۔)

اس کے بعد آپ نے فرمایا:

”ولاٴلفیتم دنیا کم ہذہ ازہد عندی من عفطة عنز“۱#

”اور تم اپنی دنیاکو میری نظروں میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ ناقابل اعتناپاتے۔“

دوسری جگہ پرفرمایا ہے:

”واللہ لدنیاکم ھذہ اہون فی عینی من عراق خنزیرمجزوم“ ۲#

———————————————

۱۔ نہج البلاغہ (فیض الاسلام)خطبہ / ۳،ص/ ۵۲

۲۔ نہج البلاغہ حکمت ۲۲۸،ص۱۱۹۲

”خداکی قسم:یہ تمہاری دنیا میری نظروں میںسور کی اس بے گوشت ہڈی سے بدتر ہے جو کسی مجزوم و مبروصکے ہاتھ میںہو“

جزام و برص میں مبتلا شخصکی صورت اس قدر بری اور گھناونی ہوتی ہے کہ کوئی اسکے نزدیک جانا پسند نہیں کرتاہے،خاص کر اس وقت جب بیماری کے سرایت کرنے کا خوف ہو۔ اب اگراس جزام وبرص کے مریض کہ جس کو انسان دیکھنا بھی برداشت نہیں کرتا چہ جائے کہ اس کے ہاتھ میں سورکی ہڈی ہو،کون چاہے گا کہ اس ہڈی کواس کے ہاتھ سے لے !دنیا،اس کی رعنائیاں ،لباس ،گاڑی ،گھر،فرش اور دوسرے دنیوی امکانات و وسائل حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں جز ا می کے ہاتھ میں سور کی ہڈی سے بدتر ہے!

ایک دوسری جگہ پر فرماتے ہیں:

”فلتکن الدنیا فی اعینکم اصغر من مثالہ القرظ وقراضة اللحم واتعظوا بمن کان قبلکم قبل ان یتعظ بکم من بعدکم وارفظوہا ذمیمة فانما قد رفضت من کان اشغف بہا منکم“ ۱#

”پس تمہاری نظر میں دنیادرخت سلم کے پتے کے کوڑے سے پست تر ہونی چاہئے (سلم بیابان میں اگنے والا ایک درخت ہے اس کے بدبودار پتے دباغت میں استعمال کئے جاتے ہیں)اور کپڑے کو کاٹتے وقت قینچی سے گرے ہوئے کپڑوں کے ٹکڑوں سے زیادہ چھوٹی ہونی چاہئے ۔اپنے اسلاف کے حالات سے سبق حاصل کرو،اس سے پہلے کہ آنے والی نسل تم لوگوں سے سبق حاصل کرے۔دنیا کو چھوڑدو یہ قابل مذمت اورناپسندیدہ ہے، کیونکہ اس دنیا نے ان لوگوں کے ساتھ وفانہیں کی ہے جو تم لوگوںسے پہلے اس سے محبت کرتے تھے“

البتہ فرائض کو انجام دینے کے لئے اورجس حد میں خدائے متعال راضی ہے اورتمام شرعی حدود کی رعایت کرتے ہوئے انسان کے لئے مباح مال کوحاصل کرنے میں کوئی حرج نہیںہے ۔ ورنہ یہ انتہائی بے غیرتی ہے کہ انسان حیلہ،فریب کاری ،لوگوں کی چاپلوسی،اور دوسروں کی بے احترامی اور اسلام وروحانیت کو

———————————————

۱۔ نہج البلاغہ خطبہ / ۳۲،ص/ ۱۰۸

خطرے میںڈال کر مال دنیا حاصل کرنے یااس میںاضافہ کرنے کی کوشش کرے۔کیا خوب ہے کہ امیرالموٴمنین علیہ السلام کے ان بیانات کو اپناسر مشق اور نصب العین قرار دیں تاکہ دنیا کے لالچی نہ بنیں ، کیونکہ اگراس پست وحقیر دنیا کی محبت ہمارے دلوں میں جگہ پاگئی ،تو تقوی اورخدا کی محبت ہم سے دور ہو جائے گی ۔جس دل میں دنیا کی محبت جگہ بنالے وہ حضرت علی ںکی نظر میں ایک جزامی کے ہاتھ میں سور کی ہڈی سے پست تر ہے اس دل میں خدا علی علیہ السلام اور حسین﷼ کی محبت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ہمیں دل کی صفائی کرنی چاہئے اور آلودگیوں اورکدورتوں سے پاک کرنا چاہئے تاکہ اس میںخدائے متعال اور امام حسین علیہ السلام کی محبت جگہ بنالے،اور اگردین خدا،الہی اقداراور اسلامی اخلاق کی بات آئے تو دل کو اس کی ہمراہی کرنا چا ہئے تا کہ دوسروں پرشائستہ اثر پڑے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین

وصلی اللہ علی سیدنا محمدوآلہ الطیبین الطاھرین

ولعنة اللہ علی اعدائھم اجمعین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

2 × دو =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More