خدا کی لاثانیت

گذشتہ دروس میں وجود خدا کی ضرورت کو ثابت کیا جا چکا ہے ، اور آخر کے چند دروس میں مادی جہان بینی کے تحت بحث گذر چکی ہے ، اس نظریہ کے تحت تحقیق و جستجو سے یہ پہلو روشن ہوگیا، کہ علت (خدا) کے بغیر جہان کو فرض کرنا، نا معقول اور غیر قابل قبول ہے۔

لیکن اب اس کے بعد ،ہم توحید کے سلسلہ میں بحث کریں گے اور مشر کین کے غلط عقائد کو برملا کریں گے ،لیکن سوال یہ ہے کہ شرک آ میز عقائد انسانوں کے درمیان کیسے رائج ہوئے، اس سلسلہ میں  ماہر سماجیات کے نظریات مختلف ہیں، لیکن ان تمام نظریات میں سے کوئی بھی نظریہ قابل اعتماد دلائل سے متصف نہیں ہے، اس ضمن میں شاید یہ کہنا درست ہو کہ آسمانی اور زمینی موجودات میں تنوع واختلاف، شرک آ میز عقائد میں مبتلا ہونے کا سبب بنا، اس طرح ان لوگوں نے ہر موجود کے لئے ایک خاص خدا کو فرض کرلیا، اچھائیوں اوربرائیوں کے لئے الگ الگ خدا کے ہونے پر اعتقاد پیدا کرلیا، اور اس طرح ان لوگوں نے جہان کے لئے دو خدا فرض کرلئے۔

اس کے علاوہ چونکہ زمینی حوادثات میں جب آفتاب، ماھتاب اور ستاروں کی دخالت کو مشاہدہ کیا تو ان کے ذہنوں میں یہ خیال آیا کہ یہ چاند سورج اور ستارے زمینی موجودات کی بہ نسبت ربوبیت سے متصف ہیں، اورچونکہ اپنی طبیعت میں کسی معبود کی پرستش کو لمس کرتے تھے لہٰذا ان لوگوں نے اپنے خیالی معبودوں کے لئے بت بنالئے، اور ان کی پرستش میں مشغول ہوگئے ،اس طرح بتوں کو ضعیف افکار سے متصف لوگوںکے درمیان اصالت مل گئی، اور پھر ہر قبیلہ نے اپنے توھمات کی بنیاد پر بتوں کی عبادت کے لئے قوانین وضع کرلئے تا کہ ایک طرف خدا پرستی کی حس کی تسکین ہوتی رہے اور دوسری طرف اپنی نفسانی خواہشات کو تقدس کا لباس عطا کر سکیں ،اور انھیں مذہبی شکل و صورت دے کر اپنی مراد حاصل کرلیں ،اسی وجہ سے آج بھی بت پرستوں کے درمیان ناچنا ،گانا ، شراب نوشی اور شہوت رانی، مذہبی رسومات کے تحت رائج ہے…

مذکورہ تمام عوامل کے علاوہ سب سے مہم وجہ وقت کے ظالموں اور جبارںکی خود خواہی اورتکبر جیسے عوامل سبب بنے ،کہ وہ پنا مقصد حاصل کرنے کے لئے سادہ لوح افراد کے افکار سے فائدہ اٹھائیں، لہٰذا اپنی قدرت  و حدود سلطنت کو وسعت دینے کے لئے شرک آلود عقائد کی بنیاد ڈالی ،   اور ا س کی ترویج کرتے رہے اور اپنے لئے ایک قسم کی ربوبیت کے قائل ہوگئے اور اس طرح طاغوتوں کی پرستش مذہبی مراسم کا جز شمار کی جانے لگی کہ جس کی مثالیں ہند، چین،ایران اور مصر کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی قابل مشاہدہ  ہیں۔

بہر حال شرک آلود ادیان مختلف اسباب و علل کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں جنہوں نے دین الٰہی کے سایہ میں انسان کے تکامل اور کامیابی کے راستہ میں بڑے موانع ایجاد کئے، اسی وجہ سے انبیاء الٰہی کی تبلیغ کا ایک عظیم حصہ، شرک اور شر ک آلود ہ افراد سے مقابلہ کے لئے مخصوص تھا۔

لہٰذا شرک آلود عقائد کی بنیاد، جہانی حوادثات کے مقابلہ میں خدا کے علاوہ کسی دوسرے موجود کی ربوبیت کے اعتقاد پر استوار ہے، یہاں تک کہ بہت سے مشرکین اس جہان کے خالق کی، یگانگی کے قائل تھے، اور خالقیت میں توحید کو قبول کرتے تھے، لیکن وہ اس سے کم مرتبہ دوسرے درجہ کے ںدا کے بھی قائل تھے جو ان کے اعتقاد کے مطابق بطور مستقل اس جہان کو چلانے والے ہیں، اور خالق جہان کو خدائوں کا خدا اور رب الارباب کا نام دیتے تھے۔

لیکن یہ کم درجہ والے خدا کہ جس کے اختیار میں کائنات کا نظام ہے بعض لوگوں کے گمان کے مطابق فرشتہ ہیں کہ جنھیں مشرکین عرب خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے، لیکن بعض لوگوں کے خیا ل کے مطابق جنّات ہیں، یا ستاروں کی روحیں یا گذشتہ لوگوں کی روحیں یا پھر نامرئی موجودات ہیںہم نے دسویں درس میں اشارہ کردیا ہے کہ حقیقی خالقیت اور ربوبیت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا خدا کی خالقیت کو قبول کرتے ہوئے کسی دوسری کی ربوبیت کو قبول کرنا درست نہیں ہے اور جو لوگ اس طرح کے عقیدے رکھتے ہیں وہ اس تناقض سے بے خبر ہیں، لہٰذا ان کے عقائد کو باطل کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اسکے تناقض کو بیان کردیا جائے۔

خدا کی یکتائی کے اثبات میںمختلف دلیلیں فلسفی اور کلامی کتابوں میں موجود ہیں، لیکن ہم یہاں پر صرف انھیں دلائل کو پیش کریں گے کہ جو ربوبیت میں یگانگت کو م براہ راست ثابت کرتے ہوں اور مشرکین کے عقائد کو باطل کرتے ہوں۔

خدا کی لاثانیت پر برہان و دلیل۔

اگر اس جہان کے لئے دویا دو سے ز ائد خدائوں کے فرض کو تسلیم کرلیا جائے تو چند حال سے خالی نہیں،یا یہ کہ اس جہان کی تمام مخلوقات، ان تمام خدائوں کی مخلوق اور معلول قرار پائے گی یا یہ کہ مخلوقات کے مجموعوں ،میں سے ہر مجموعہ، مفروض خدائوں میں سے کسی ایک کی مخلوق اور معلول ہو گا یا یہ کہ یہ تمام موجودات، تنہا ایک خدا کی خلق کردہ اور بقیہ خدا مدبّر کی حیثیت سے ہوں گے۔

لیکن ایک موجود کے لئے چند خدائوں کا ہونا محال ہے، اس لئے کہ دو یا چند خالقوں (علت جہان آفرین) کا کسی موجود کو خلق کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان خدائوں میں سے ہر ایک ،کسی ایک وجود کا افاضہ کرے، جس کے نتیجہ میں متعدد وجود خلق ہو جائیں گے ، حالانکہ ہر موجود کے لئے صرف ایک ہی وجود ہے، وگرنہ ایک موجود نہیں رہ سکتا۔

لیکن دوسرا فرض یہ کہ ان خدائوں میں سے ہر ایک، کسی ایک مخلوق یا مخلوقات کے کسی خاص مجموعہ کا خالق کہلائے تو اس کا لازمہ یہ ہوگا کہ ہر مخلوق اپنے خالق کی مدد سے قائم ہو اور کسی دوسری مخلوق کی محتاج نہ ہو مگر یہ احتیاج ایسی ہو جو ا سکے خالق تک پہنچتی ہو اور تنہا وہی خدا اس مخلوق کی رسیدگی کرتا ہو ، یا ایک دوسری تعبیر کے مطابق اس جہان کے لئے چند خدائوں کا فرض متعدد نظام کے موجود ہونے کا لازمہ ہے جو ایک دوسرے سے جدا ہیں ، حالانکہ اس جہان میں صرف ایک ہی نظام ہے اور تمام موجودات ایک دوسرے سے مربوط ہیں، ایک دوسرے سے متاثر ہیں ، ایک دوسرے کے محتاج ہیں، گذشتہ و آئندہ کے تمام موجودات میں ارتباط برقرار ہے، ہر موجود اپنے بعد آنے والے موجود کے لئے راستہ ہموار کرتا ہے پس وہ جہان جس میں صرف ایک ہی نظام برقرار ہے اور اس کے اجزا ایک دوسرے سے مربوط ہیں، اسے چند علتوں کا معلول (چند خدائوں کا خلق کردہ) نہیں قرار دیا جاسکتا۔

اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ تمام مخلوقات کا خالق ایک خدا ہے اور بقیہ خدا جہان کی تدبیر اور اس کی ہدایت کے عہدہ دار ہیں، تو یہ فرض بھی صحیح نہیں ہوسکتا ،اس لئے کہ ہر معلول اپنی پوری ہستی کے ساتھ علت وجود آفرین کے ذریعہ قائم ہے اور کوئی بھی مستقل موجود اس میں تصرف کی قدرت نہیں رکھتا بلکہ یہ تمام معلولات علت وجود آفرین کی طاقت و قدرت کے زیر سایہ ہیں اور تمام تاثیر اور اثر پذیری اس کے اذن تکوینی کے ذریعہ انجام پاتے ہیں، اس بنا پر ان خدائوں میں سے کوئی بھی حقیقی رب نہیں ہو سکتا، اس لئے کہ رب کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے مربوب کی ذات میں بطور مستقل تصرف کرے جبکہ فرض یہ ہے کہ ایسے تصرفات مستقل نہیں ہیں، بلکہ یہ سارے تصرفات ا سکی ربوبیت کے زیر سایہ اور اسی کی قدرت سے انجام پاتے ہیں اس طرح کے اختیارات و تصروفات ، توحید (ربوبی) سے منا فات نہیں رکھتے ، جیسے  کہ اگر خالقیت بھی اذنِ خدا سے ہو تو توحید خالقیت کے منافی نہیں ہے  قرآن اور روایات میں بعض بندوں کے لئے ایسی خالقیت اور غیر استقلالی ربوبیت ثابت ہے، جیسا کہ قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا ہے۔

(وَاِذ تَخلُقُ مِنَ الطِّینِ کَھَیئَةِ الطَّیرِ بِاِذنِ فَتَنفُخُ فِیہَا فتََکُونُ طَیرًا باِذنِ)(١)

اور جب تم میرے حکم سے مٹی سے پرندہ کی شکل بناتے اور پھر اس پر کچھ دم کر تے ہو اور وہ میرے حکم سے سچ مچ پرندے بن جاتے  ۔

اسی طرح ایک ا اور مقام پر فرمایا ۔

(فَالمُدَ بِّرَاتِ أَمراً)(٢)

اور ان کی قسم جو زمین و آسمان کے درمیان تیرتے پھرتے ہیں۔

نتیجہ۔ جہان کے لئے چند خدائوں کا توہّم ، خدا کو مادی اور اعدادی علتوں سے قیاس کرنے کے ذریعہ وجود میں آیا ہے حالانکہ علت وجود آفرین کو ایسی علتوں سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی، اور کسی بھی معلول کے لئے چند علت وجود آفرین یا رب یا مستقل مدبّر فرض نہیں کیا جاسکتا۔

لہٰذا اس توہّم کو دفع کرنے کے لئے پہلے علت وجود آفرین کے معنی اور پھر اس کی خصوصیات اور نوعیت میں خوب غور کرنا ہوگا، تا کہ معلوم ہوجائے کہ معلول واحد کے لئے چند علتوں کا تصور باطل ہے، اور پھر اس جہان کے انتظامات میں غور و فکر کرنا ہوگا تا کہ معلوم ہو جائے کہ ایسا منظم جہان چند خدائوں یا  چندارباب یا مستقل مدبروں کا خلق کردہ نہیں ہے۔

اس ضمن میں یہ بات بھی واضح ہوگئی، کہ خدا کے بعض شائستہ بندوں کے لئے ولایت تکوینی کو ماننا جبکہ مستقل خالقیت اور ربوبیت کے معنی میں نہ ہو تو، یہ توحید سے منافات نہیں رکھتا، جیسا کہ رسول اکرم  ۖ اور ائمہ علیہم السلام کی ولایت تشریعی الٰہی ربوبیت تشریعی سے کوئی منافات نہیں رکھتی، اس لئے کہ یہ خدا کی عطا کردہ اور اسی کے حکم سے ہے۔

…………………………

(١)سورۂ مائدہ۔ آیت/ ١١٠

(٢)سورہ نازعات ۔آیت /٥

 

سوالات

١۔شرک آلود عقائد کی پیدائش کے اسباب بیان کریں؟

٢۔ شرک سے آلود عقائد کی بنیاد کیا ہے؟

٣۔ خالقیت اور ربوبیت کے درمیان پائے جانے والے لازمہ کو بیان کریں؟

٤۔کیوں ہر موجود کے لئے چند خالقوں کا فرض کرنا باطل ہے؟

٥۔کیوں مخلوقات کے ہر مجموعہ کے لئے کسی ایک خالق کو فرض نہیں کیاجا سکتا؟

٦۔ اس امر میں کیا اشکال ہے کہ یہ جہان خدائے واحد کا خلق کردہ ہے اور اس کے لئے متعدد، ارباب ہیں ؟

٧۔چند خدائوں کا توہم کہاں سے وجود میں آیا اور اسے دفع کرنے کا راستہ کیا ہے؟

٨۔کیوں اولیاء الٰہی کے لئے ولایت تکوینی کا تصور خالقیت وربوبیت میں توحید سے منافات نہیں رکھتا؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More