خدا پر ایمان رکھنے کے سلسلہ میں جہل اور خوف کاکردار۔

جامعہ شناسوں کی طرف سے دوسرا شبہ جو پیش کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ خدا پر اعتقاد رکھنا ، خوف و خطر کی وجہ سے ہے بجلی یا زلزلہ یا اسی طرح کے اور دوسرے خطرات کی وجہ سے یہ تصور وجود میں آیا ہے در اصل بشر نے اپنی روحی اطمینان کی خاطر (العیاذ باللہ) ایک خیالی موجود بنام ”اللہ” کو مانا ہے اور اس کی عبادت میں مشغول ہے، اسی وجہ سے خطرات کے مقابلہ میں محافظت کا امکان جس قدر بڑ ھتی جاتی ہے یا خطرات ، حوادثات کے اسباب و علل جیسے جیسے آشکار ہوتے جاتے ہیں ویسے اسی اعتبار سے خدا پر ایمان ضعیف ہوتا جاتا ہے۔
مارکسیسم نے اس شبہ کو اپنی کتابوں میں بعنوان”علم جامعہ شناسی” کے نتائج کے تحت بڑی آب و تا ب کے ساتھ بیان کیاہے جسے غیر مطلع لوگوں کو دھوکا دینے کا ایک بہترین وسیلہ تصور کیا جاتا ہے 
اس شبہ کے جواب میں یہ کہنا بہتر ہے کہ سب سے پہلے یہ شبہ تنہا ایک مفرو ضہ ہے جسے بعض جامعہ شناسوں نے پیش کیا ہے اور اس کے صحیح ہونے پر کسی بھی علمی دلیل کا وجود نہیں ہے۔
دو سرے ، اس زمانہ میں بہت بڑے بڑے مفکرین تھے جو ہر ایک سے ز ائد حوادثات کے
علل و اسباب سے آگاہ تھے اور خدائے حکیم پر مضبوط عقیدہ رکھتے تھے اور اب بھی اسی عقیدہ
باقی ہیں،(١) ایسا ہر گز نہیں ہے کہ خدا پر ایمان رکھنا خوف وجہل کا نتیجہ ہے۔
تیسرے ، اگر بعض حوادثات سے خوف یا اس کے و اسباب سے نا آگاہی ہی خدا پر اایمان رکھنے کا سبب ہے تو اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ وجود خدا خوف و جہل کا نتیجہ ہے جس طرح سے کہ بہت سے روحی اثرات جیسے لذت طلبی اور شہرت طلبی وغیرہ… علمی و فنی اور فلسفی انکشافات کا سبب ہے، لیکن یہ ان کے اعتبار کو خدشہ دار نہیں کرتا۔
چوتھے: اگر بعض لوگوں نے خدا کو، اس عنوان سے پہچانا ہے کہ وہ مجہول العلة حوادثات کو وجود
بخشنے والاہے یہاں تک کہ اگر علل و اسباب کے آشکار ہونے کی وجہ سے ان کے ایمان میں کمی واقع ہوگئی ہے تو یہ خدا پر اعتقاد کے معتبر نہ ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی بلکہ یہ سب کچھ ان کے ایمان کے ضعیف ہونے کی علامت ہے، اس لئے کہ جہانی حوادثات کی بہ نسبت خدا کا علت قرار دیا جانا ، اسکی طبیعی علتوں کے اثر انداز ہونے کی سنخیت کے اعتبار سے علت خدا کے عرض میں واقع نہیں ہے بلکہ ایک ایسی علت ہے جو ہر ایک کو شامل ہوتی ہے، اور تمام مادی وغیرمادی علتوں کے پہچاننے یا نہ پہچاننے میں اس کے طول میں موثر ہے،اور اس کی نفی و اثبات کے لئے کسی بھی قسم کی تاثیر سے عاری ہے۔(٢)

(١) جیسے انشٹن، کرسی وریس والکسیس کارل اور دوسرے برجستہ مفکرین کہ جنھوں نے وجود کے اثبات کے لئے مقالہ تحریر کئے جن میں سے بعض مقالے جات کو کتاب ”اثبات وجود خدا” میں جمع کیا گیا ہے۔
(٢)آئندہ دروس میں مزید وضاحت آئے گی ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More