خداکے قانون سے رابط کا اچھا اثر

”دین”انسان کی اجتماعی زندگی اور خدائے متعال کی پر ستش کے درمیان رابطہ پیدا کرنے کے نتیجہ میں انسان کے تمام انفرادی و اجتماعی اعمال کو خدائی ذمہ داری قرار دے کر اس کو خدا کے لئے جواب دہ جانتاہے ۔چو نکہ خدائے متعال اپنی لامحدود قدرت اوربے پناہ علم کی بناپر ہر جہت سے انسان پر احاطہ رکھتا ہے اور اس کے دل ودماغ کے تمام اسرارو افکارسے مکمل طور پر آگاہ ہے اور اس سے کوئی چیز پو شیدہ نہیں ہے، اسی لئے دین نے بشری قانون کی طرح امور کے نظم و نسق کو باقی رکھنے کے لئے محافظ اور نگہبان مقرر کئے ہیں اور مخالفت وسرکشی کر نے والوں کی سزاکے لئے قوانین وضع کر کے بشری قانون کی نسبت ایک اور امتیاز حاصل کیاہے اور وہ یہ کہ :دین،انسان کی حیرت اور ہوشیار ی کی باگ ڈور کو ایک باطنی و ابدی محافظ کے ہاتھ میں دیتا ہے۔کیو ںکہ دین سے نہ غفلت ہوتی ہے اور نہ خطا اور اس کی جزا اور سزا سے کوئی بچ نہیں سکتا ۔خدائے متعال فرماتا ہے:

(وہو معکم این ما کنتم۔۔۔) (حدید٤)

”اور تم جہاں بھی ہو ،وہ تمہارے ساتھ ہے”

(واللّہ بمایعملون محیط) (انفال٤٧)

”اور اللہ ان کے کام کااحاطہ کئے ہوئے ہے”

(وانکلا لما لیوفینہم ربّک اعمالہم۔۔۔) ( ہود١١١)

”اور یقینا تمہارا پروردگار سب کے اعمال کاپوراپورا بدلہ دے گا۔”

اگرہم قانون کے دائرہ میں زندگی کر نے والے کے حالات کادین کے دائرہ میں زندگی کرنے والے کے حالات سے مواز نہ کریں گے تو دین کی برتری واضح اور روشن ہو جائے گی ۔کیونکہ جس معاشرے کے تمام افراد متدین ہوں اور اپنے دینی فرائض کو انجام دیں، ہر حالت میں خدائے متعال کو اپنے کاموں میں حاضر وناظر جانیں ،تو وہ ایک دوسرے سے بد ظن نہیںہوتے ہیں ۔

اس لئے ایسے ماحول میںزندگی کر نے والے عوام الناس،ایک دوسرے کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہتے ہیں اور نہایت ہی آرام و مسرت کی زندگی گزارتے ہیں اور انھیں کوابدی سعادت نصیب ہوتی ہے۔لیکن جس ماحول میںصرف بشری قانون کی حکمرانی ہوتی ہے وہاں پر،جب تک لوگ اپنے کام پرکسی کو نگراں محسوس کرتے ہیں اس وقت تک وہ کام میں کوتاہی نہیں کرتے ،ورنہ ممکن ہیکہ وہ ہر طرح کی کوتاہی کے مر تکب ہو ں ۔

جی ہاں ،اخلاق کے پابند معاشرے میں ،جو دلی سکون پایا جاتا ہے،وہ اسی دین کا مرہون منت ہوتاہے نہ کہ قانون کا ۔

دوسرے الفاظ میں ،دین،ایسے عملی و اخلاقی عقائد وضوابط کا مجموعہ ہے ،جسے انبیاء خدا کی طرف سے انسان کی راہنمائی اورہدایت کے لئے لائے ہیں ۔ان عقائد کو جاننا اور ان احکام پر عمل کرنا انسان کے لئے دونوں جہاںمیں سعادت کا سبب بنتا ہے ۔

اگر ہم دیندار ہوں اور خداو پیغمبرۖ کے احکام کی اطاعت کریں تو اس ناپائدار دنیا میں بھی خوش قسمت اوردوسری دنیا کی ابدی اور لامحدود زندگی میں بھی سعادت مند ہوں گے۔

وضاحت:ہم جانتے ہیں کہ سعادت مند وہ شخص ہے جس نے اپنی زندگی اشتباہ اور گمراہی میںنہ گزاری ہو ،اس کے اخلاق پسندیدہ ہوں اور نیک کام انجام دیتا ہو۔خدا کا دین ہمیں اسی سعادت اور خوش بختی کی طرف ہدایت کرتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ:

اولاً:جن صحیح عقائد کو ہم نے اپنی عقل وشعور سے درک کیا ہے ،انھیں مقدس و محترم جانیں ۔

ثانیا ً: ہم پسندیدہ اخلاق کے مالک ہوںاور حتی الامکان اچھے اور شائستہ کام انجام دیں، اس بناء پر دین تین حصوں میں تقسیم ہو تا ہے :

١۔عقائد

٢۔اخلاق 

٣۔عمل

١۔عقائد

اگر ہم اپنی عقل وشعور کی طرف رجوع کریں تودیکھیں گے کہ اس عظیم اور وسیع کائنات کی ہستی،اس حیرت انگیز نظا م کے ساتھ ، خودبخود وجود میں آنا ۔ اور اس کا اول سے آخر تک کانظم و نسق،کسی منتظم کے بغیر ہونا ممکن نہیں ہے۔یقینا کوئی خالق ہے،جس نے اپنے لامحدودعلم وقدرت سے اس عظیم کائنات کوپیدا کیا ہے اور تمام امور میںپائے جانے والے ثابت وناقابل تغیر قوانین کے ذریعہ کائنات کے نظام کوانتہائی عدل وانصاف کے ساتھ چلایاہے ۔کوئی بھی چیز عبث خلق نہیں کی گئی ہے اور کوئی بھی مخلوق خدائی قوانین سے مستثنیٰ نہیں ہے ۔

لہذا یہ باور نہیں کیا جاسکتا ہے کہ،ایسا مہر بان خدا،جو اپنی مخلوق پر اس قدر مہربان ہے،انسانی معاشرے کوانسان جو زیادہ ترنفسانی خواہشات کا اسیر بن کر،گمراہی اور بدبختی سے دوچار ہو تا ہے ۔کی عقل کے رحم وکرم پر چھوڑدے ۔

اس بناپر،معصوم انبیاء کے ذریعہ بشرکے لئے ایسے قواعد وضوابط کابھیجنا ضروری ہے تاکہ ان پر عمل کر کے انسان سعادت و خوش بختی تک پہنچ جائے ۔

چونکہ پروردگار کے احکام کی اطاعت کی جزا اس دنیا کی زندگی میں مکمل طور پر ظاہر نہیں ہو سکتی ،لہذا ایک دددوسرے جہان کا ہونا ضروری ہے کہ جہاں پرلوگوں کا حساب و کتاب ہو، اگر کسی نے نیک کام انجام دیا ہے تو اسے اس کی جزا ملے اور اگر کسی سے کوئی برا کام سرزد ہوا ہو تو اسے اس کی سزا ملے ۔

دین ،لوگوں کو ان اعتقادات اوردیگر تمام حقیقی عقائد ۔جن کو ہم بعد میں تفیصل سے بیان کریں گے ۔کی طرف تشویق کر تاہے اور انھیں جہل وبے خبری سے پرہیز کرنے کی تاکید کرتا ہے۔

٢۔اخلاق

دین،کا ہم سے مطالبہ یہ ہے کہ زندگی میں پسندیدہ صفات اختیار کریں اور اپنے آپ کو قابل ستائش اورنیک خصلتوں سے آراستہ کریں ۔ہم فرض شناس،خیر خواہ، انسان دوست، مہر بان ،خوش اخلاق اور انصاف پسند بن کر حق کا دفاع کریں ۔اپنے حدوداور حقوق سے آگے نہ بڑھیںاور لوگوں کے مال ،عزت ،آ برو او رجان پر تجاوز نہ کریں ۔علم ودانش حاصل کرنے میں کسی بھی قسم کے ایثار اور فدا کار ی سے دریغ نہ کریں، خلاصہ یہ کہ اپنی زندگی کے تمام امور میں عدل وانصاف اور اعتدال کو اپنا شیوہ قرار دیں ۔

٣۔عمل

دین ،ہمیںیہ حکم دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں وہ کام انجاں دیں جن میں ہماری اپنی اور اپنے معاشرے کی خیر وصلاح ہو ۔اورفساد وتباہی مچانے والے کاموں سے پرہیز کریں۔ اس کے علاوہ دین ہمیں یہ بھی حکم دیتا ہے کہ خدائے متعال کی عبادت وپرستش کے عنوان سے کچھ اعمال جیسے نماز، روزہ وغیرہ ۔جو بندگی اور فرمانبرداری کی نشانی ہے۔کو بجا لائیں۔

یہ وہ قواعد وضوابط اور احکام ہیں ،جنھیں دین لے کر آیا ہے اور ہمیں ان کی طرف دعوت دیتا ہے ۔چنانچہ واضح ہے کہ ان ضوابط اور احکام میں سے کچھ کا تعلق عقیدہ سے کچھ کا اخلاق سے اور کچھ کا عمل سے ہے ، جیسا کہ بیان ہوچکا ہے کہ ان کو قبول کرنا اور ان پر عمل کرنا ہی انسان کے لئے سعادت و خوش بختی ہے ،کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ انسان کے لئے سعادت حاصل کرنا ممکن نہیں ہے مگر یہ کہ حقیقت شناس ہو اور پسندیدہ اخلاق و اعمال پر مبنی زندگی بسر کرے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More