خداوند عالم کے حقوق اور اس کی نعمتوں کی عظمت و وسعت اور فرائض کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت

خداوند عالم کے حقوق اس سے بڑے ہیں کہ بندے اس کے سامنے کھڑے ہوسکیں اور اس کی نعمتیں اس سے زیادہ ہیں کہ بندے انکا شمار کرسکیں ، لیکن تم ہر صبح و شام توبہ کرتے ہوئے اپنی خطاؤں کا اعتراف کرنا “

حدیث کے اس حصہ میں بحث کا محور ذمہ داریوں کا احساس اور فرائض کو انجام دینے کی اہمیت ہے 

انسان کو یہ سمجھنے کے بعد کہ اسے اپنی عمرسے بخوبی استفاد ہ کرنا چاہیے اور یہ جاننے کے بعد کہ وقت اور فراغت سے بہتر استفاد کرنے کیلئے علم و آگاہی سے آراستہ ہونا ضروری ہے ، اس کی تلاش و سرگرمی کیلئے محرک ایجاد کرنے کی ضرورت کی نوبت آتی ہے، اور یہ محرک کیسے وجود میں آتا ہے محرک ایجادکرنے کیلئے اس نکتہ کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے کہ خداوند عالم اپنے بندوں پر کچھ حقوق رکھتا ہے اور اس لحاظ سے انسان کے اپنے پروردگار کیلئے کچھ فرائض ہیں انسان اپنی عقل و فطرت سے جانتا ہے کہ اگر کسی کا اس پر کوئی حق ہے تو اسے ادا کرنا چاہیئے اور ہر عاقل انسان جانتا ہے کہ خداوند عالم کے سب سے زیادہ حقوق اس پر ہیں 

جب انسان یہ توجہ رکھے کہ تمام وہ نعمتیں جو اسے حاصل ہیں —- حیات و زندگی کی اصل سے لے کر دیگر تمام مادی اور معنوی نعمتوں تک —خداوند عالم کی طرف سے ہیں ، تو ممکن نہیں ہے وہ بندگی کے فریضہ کو بھول جائے ، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اپنے ولی نعمت کی شکر گزاری اور قدر دانی کرنی چاہئے اوریہ بذات خود سب سے بڑا محرک ہے جو مؤمن کو فرائض انجام دینے پر مجبور کرتا ہے ۔

لہذا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روایت کے اس حصہ کے پہلے جملہ میں انسانو ںپر خداوند عالم کے حقوق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انسان کسی بھی صورت میں اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر بجالانے کا حق ادا نہیں کرسکتا ۔

جب انسان یہ جان لے کہ اپنی پوری عمر صرف کرنے کے باوجود حقوق الٰہی ، فرائض ، اور خدا کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرسکتا ہے تو اسے اپنے آپ کو ہمیشہ مقروض جاننا چاہیئے حتی اگر اس نے گناہ بھی نہ کیا ہو تب بھی خد اکا حق اس کی گردن پر باقی ہے اور اسے ادا کرنا چاہیئے ،ایسا نہ ہو کہ شیطان اسے دھوکہ دے اور وہ تصور کرے کہ وہ خدا سے طلبگار ہے ،اگر کوئی خدا کے لطف و کرم سے گناہوں سے اجتناب کرنے میں کامیاب ہوجائے اور اپنے اوپر فخر کرتے ہوئے کہے کہ الحمد للہ میں کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہوا ہوں! تو ایسا شخص خود پسند ی اور غفلت سے دوچار ہے لہذا اس امر کو مد نظر رکھنا چاہیئے کہ انسان ہرگز خداوند عالم کے حقوق اور اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا نہیں کرسکتا ہے جیساکہ خداوند عالم نے فرمایا :

وَ اِنْ تَعُدُوا نِعْمَة َ اللهِ لَا تُحصُوھا ․․․>(نحل ۱۸)

اگر خدا کی نعمتوں کا شمار کرناچاہو گے تو ہر گز ایسا نہیں کرسکو گے “

بالفرض ، اگر انسان خدا کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہے ، ان میں سے ایک کا بھی حق ادا نہیں کرسکتا ہے حتی اگر اس نعمت کا شکر ادا کرنے کیلئے ایک ” الحمد لللّہ“ کہنے پر بھی اکتفا کرے ، پھربھی اس کے شکر کا حق ادا نہ کرسکا ہے ، کیونکہ الحمد لله کہنا بھی ایک نعمت اور توفیق ہے جو اللہ تعالی نے اسے عنایت کی ہے اور بذات خود اس کی بھی شکر گزاری ہونی چاہئے یعنی اگر ہم قیامت تک الحمد لله کہتے رہیں تو ایک الحمدللہ کا حق ادا نہیں کرسکتے ہیںپس ، کیسے ان ساری نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حق ادا کیا جاسکتا ہے ، جن کا شمار کرنے سے انسان عاجز ہے؟

اس امر کو مدنظر رکھنا کہ خداوند عالم کی نعمتیں بے شمار ہیں اور وہ انسان پربہت سے حقوق رکھتا ہے ، انسان میں حقارت اور فروتنی کا احساس پیدا کرنے کا سبب ہے حتیٰ اگر کسی گناہ کا مرتکب نہیں بھی تب بھی ، احساس کرتا ہے وہ مقروض ہے ۔

پس ، اگر انسان خدا کی نعمتوں کا شکر نہیں بجا لاسکتا ہے اور اسکے حقوق کو انجام نہیں دے سکتا ہے ، تو سب سے بڑا کا م جو وہ انجام دے سکتا ہے وہ توبہ ، استغفار ، گناہ اور وظائف کی انجام دہی میں کوتاہی کا اعتراف ہے یہ چیز بذات خود انسان کو غرورتکبر اور فریفتگی سے بچاتی ہے کیونکہ انسان صحیح راستہ سے بھٹکنے کی وجہ سے دنیا طلبی ، راحت طلبی اور تن پروری میں مبتلا ہوتا ہے ، اب جبکہ صحیح راستہ پر ہدایتپاکر وظائف کو انجام دینے کیلئے آمادہ ہے ، تو غرور و خودخواہی میں مبتلا ہوجاتا ہے ، اپنے کو دوسروں سے موازنہ کرتا ہے اور اپنی جگہ پر کہتا ہے لوگ خدا کی نعمتوں کی قدر نہیں جانتے ہیں اور گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں لیکن میں وظائف کو انجام دینے اور خدا کی نعمتوں کی قدر جانے میں کامیاب ہوا ہوں!

پس ہمیں اہل کار اور فرائض پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ غرور و تکبر میں مبتلا ہونے سے بچنا چاہیئے ، یہ تربیت کا سب سے بڑا درس ہے جو اہل بیت علیہم السلام کے فرمودات سے حاصل ہوتا ہے ۔

اسی حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ وسلم انسان کو عمل ، تلاش ، فرائض کی انجام دہی اور حقوق الٰہی کی اہمیت کو درک کرنے کی نصیحت کے ساتھ اسے غرور و تکبر اور خود پسندی میں مبتلا ہوئے سے بچنے کی بھی نصیحت کرتے ہےں ۔

چند روزہ زندگی اور انسان کے اچھے اور برے اعمال کی بقا :

” یَا اَبَاذَر ! اِنَّکُمْ فِی مَمَرِّ اللَّیْلِ وَ النَّھَارِ فِی آجَالٍ مَنْقُوصَةٍ وَ اَعْمَالٍ مَحْفُوظَةٍ وَ الْمَوتُ یَاٴتِیْ بَغْتَةً وَ مَنْ یَزْرَعْ خَیْراً یُوْشِکُ اَنْ یَحْصُدَ خَیْراً وَ مَنْ یَزْرَعُ شَرّاً یَوْشِکُ اَنْ یَحْصُدَ نَدَامَةً وَلِکلُِّ زَارِعٍ مِثْلُ مَا زَرَعَ

اے ابوذر! تم شب و روز کی گزرگاہ میں ایک ایسی عمر کے مالک ہو جو مسلسل کم ہوتی جارہی ہے اور تیرے اعمال محفوظ رہتے ہیں اور اچانک موت آجاتی ہے اس وقت جس نے اچھے اعمال انجام دیئے ہیں اچھا نتیجہ پائے گا اور جس نے برے کام انجام دیئے ہیں اسے پشیمانی کی فصل کاٹنا پڑے گی اور ہر کاشتکار کو وہی کا ٹتاہے جو اس نے بویا ہے ۔

انسان کو خود کام اور تلاش پر مجبور کرنے نیز اسکی سرگرمیوں اور فرائض کی انجام دہی میں تحریک پیدا کرنے والے امور میں اس نکتہ کی طرف توجہ اور غور کرنا ہے کہ انسان کی عمر گزرنے والی ہے ہم چاہیں یا نہ چاہیں ہر لمحہ گزرنے کے ساتھ ہماری عمر میں کمی واقع ہوتی ہے گردش زمانہ کو روکا نہیں جاسکتا اور سیکنڈوں کو واپس لوٹا یا نہیں جاسکتا ہے ، حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

” نَفَسُ المرٴِ خُطاہُ الی اجلہِ “۱#

” انسان کی ہر سانس اس کا ایک قدم ہے جو وہ موت کی طرف اٹھاتا ہے

ہوشیار رہنا چاہیئے کہ یہ سرمایہ مفت میں ضائع نہ ہوجائے یہ وہ دولت ہے جو مسلسل کم اوربوسیدہ ہوتی جارہی ہے یہاں تک کہ انسان کو موت آجاتی ہے جس سے فرار ممکن نہیں حضرت علی  فرماتے ہیں :

فَمَا یَنْجو مِنَ المَوتِ مَنْ خَافَہُ وَ لَا یُعْطَی الْبَقَاءُ مَنْ اَحَبَّہُ “۲#

جو موت سے خائف ہے وہ اس سے نجات نہیں پاتا اور جو زندگی سے محبت رکھتا ہے وہ ہمیشہ زندہ نہیں رہے گا۔

———————————————-

۱۔ نہج البلاغہ ترجمہ فیض الاسلام ،حکمت نمبر ۷۱ ، ص/ ۱۱۱۷۔

۲۔ نہج البلاغہ فیض الاسلام ، خطبہ /۳۸ ، ص /۱۲۲۔

سرمایہٴ عمر کو ضائع ہونے سے بچانے کا تنہا راستہ ،سود مند تجارت ہے اور اسے بہتر تجارت کیا ہوسکتی ہے کہ انسان اپنی عمر کے بدلے میں بہشت کو خرید لے ، کیونکہ وہ تنہا مال ہے جو انسان کی عمر کی قیمت قرار پاسکتا ہے مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے :

” اَلاَحُرٌّ یَّدعُ ھٰذِہِ اللُّمٰاظَةَ لِاَھْلِھَا؟ اِنَّہُ لَیْسَ لِاَنْفُسِکمُ ثَمَنٌ اِلَّا الْجَنَّةَ ،

فَلَاتَبِیْعُوھَا اِلَّا بِھَا “ ۱#

کیا کوئی ایسا آزاد خیال نہیں ہے جو منہ میں باقی بچے کھانے(حقیر دنیا ) کو اہل دنیا کے حوالے کردے ؟ تمہاری زندگی کی قیمت بہشت کے علاوہ کچھ نہیں ہے اسے اس کے علاوہ کسی اور چیز کے بدلے میں نہ بیچو۔

پس کتنے گھاٹے میں ہیں وہ انسان جو اپنی عمر کی عظیم دولت کو قہر الٰہی کی آگ سے سودا کرتے ہیں ، شاید باطل راہ میں اپنی عمر کو خرچ کرنے والے اس خیال میں ہیں کہ عمر کے گزرنے کے ساتھ ان کے اعمال بھی نابود ہوجائیں گے ، یہ ایک باطل خیال ہے ! جبکہ یہ نشہ، ایک وقتی نشہ ہے ا ور قیامت کا خمار (نشہ) پائدا ر اور ابدی خمار ہے لیکن انسان کے اعمال باقی رہتے ہیں کیوںکہ اعمال کا رابطہ انسان کی روح اور الله تعالی سے ہے اگر چہ ہم ایک ایسی مستی میں زندگی بسر کرتے ہیں جو فانی ہے لیکن ہم عالم بقا اور جہان آخرت سے بھی رابطہ رکھتے ہیں اور ہمارے اعمال وہیں باقی رہیں گے ۔

الف ۔ انسان کے دنیوی اعمال کا قیامت کے دن مجسم ہونا:

قیامت کے بارے میں مسلمہ اصولوں میں سے ایک ، اعمال کا محفوظ رہنا اور ان کا مجسم ہونا ہے خداوند متعال نے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، من جملہ ارشادفرماتا ہے :

وَ وُضِعَ الْکِتَابُ فَتَرَی الْمُجْرِمِینَ مشفقین مِمَّا فِیہِ وَ یُقُولُونَ یَا وَیْلَنَاویلتنا مالِ ھٰذَا الْکِتَابِ لاَ یُغَادِرُ صَغِیرَةً وَ لَا کَبِیرَةً الاَّ اَحْصَاھَا وَ وَجَدُواْ مَا عَمِلُوا حَاضِراً وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَداً > (کہف / ۴۹)

اور جب نامہٴ اعمال سامنے رکھا جائے گا تو دیکھو کہ مجرمین اس کے مندرجات کو دیکھ کر خوفزدہ

———————————————-

۱۔ نہج البلاغہ فیض ، حکمت ۴۴۸ ،ص/۱۲۹۵

ہوجائیں گے اور کہیں گے کہ ہائے افسوس ! اس کتاب نے تو چھوٹا بڑا کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے اور سب کو جمع کرلیا ہے اور سب اپنے اعمال کو بالکل حاضر پائیں گے اور تمہارا پروردگار کسی ایک پر بھی ظلم نہیں کرے گا “

ایک دوسری جگہارشاد فرماتا ہے :

فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرََّةٍ خَیْراً یَرَہُ وَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَراً یَرَہ ُ> (زلزال/ ۷۔۸)

پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہے وہ اسے دیکھے گا “

ب ۔ ناگہانی موت تنبیہ و بیداری کا سبب:

کوئی نہیں جانتا ہے کہ کب تک زندہ ہے اور کب اسکی موت آئے گی ۔ قرآن مجید فرماتا ہے :

وَمَا تَدْرِی نفسٌمَّا ذَا تَکْسِبُ غَداً وَ مَا تَدْرِی نَفْسٌ بَاٴَیِّ اٴَرْضِ تَمُوتُ> ( لقمان / ۳۴)

اور کوئی نفس نہیں جانتا ہے کہ وہ کیا کمائے گا اور کسی کو نہیں معلوم ہے کہ اسے کس زمین پر موت آئے گی ۔

خدا کے من جملہ الطاف ( کرم و نوازش) میں سے یہ ہے کہ انسان اپنی موت کے وقت سے آگاہ نہیں ہے ، اگر ہم اپنی موت سے باخبراور آگاہ ہوتے تو غفلت و غرور میں زیادہ مبتلا ہوتے ، البتہ جو لوگ بلند روحانی ظرفیت کے مالک ہیں ان کیلئے موت کے وقت سے آگاہ ہونا یا نا آگاہ ہونا کوئی فرق نہیں کرتا کیونکہ وہ ہمیشہ فرائض کی انجام دہی کی فکر میں رہتے ہیں ۔ ممکن ہے خداوند عالم اعلان فرمائے کہ ان کی موت کب آنے والی ہے ، لیکن ہمارے لئے موت کے وقت سے آگاہ ہونا بیشتر لاپروائی اور اعمال کو التوا میں ڈالنے کا سبب ہوگا ، حکمت الٰہی یہ نہیں ہے کہ خداوند متعال ہماری موت کے وقت کا اعلان فرمائے بلکہ حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ہمیشہ فکر مند رہیں کہ شاید ہر آنے والے لمحہ میں موت آجائے، اس صورت میں اپنی عمر کا بہتر فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

حدیث مبارک کے اس جملہ ” وَ مَنْ یزرع خیراً“ میں دنیا کو کھیتیسے تشبیہ دی ہے جس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس میں ہر بیج کو ثمر بخش بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے جو اس میں بو یا جائے خواہ وہ بیج انسان کے نیک اعمال ہوں یا برے اعمال، اس سلسلہ میں کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :

از مکافات عمل غافل مشو

 

گندم از گندم بروید جو ز جو

ہر چہ کشتی در جہاں از نیک و بد

 

حاصلش بینی بہ ہنگام درو

اپنے اعمال کے نتائج سے غافل نہ رہو ، گندم سے گندم اور جو سے جو اگتا ہے جو کچھ تم نے دنیا میں نیک و بدکی صورت میں بویا ہوگا فصل کاٹتے وقت ( قیامت کے دن ) اس کا ما حصل پاؤ گے۔

انسان کے رزق کا معین ہونا اور اس کا دوسروں کی دست رس سے محفوظ رہنا :

” یَا اَبَاذَر ؛ لَا یَسبِقُ بطیء بِحظّہ ولاَ یَدرَک حریص ما لم یُقَدّر لہ “

اے ابوذر ! عجلت نہ کرنے والے کی کمائی کو دوسرا نہیں لے سکتا ہے اور لالچ و طمع رکھنے والا شخص وہ چیز حاصل نہیں کرسکتا جو اس کی قسمت میں نہیں ہے “

انسان کو زندگی میں دو اہم آفتوں کا سامنا ہوتا ہے : ایک یہ کہ اس کی زندگی کی ضروریات اسے مجبور کرتی ہیں کہ وہ ان کو پورا کرنے کی تلاش و جستجو کرے ، اس کے نتیجہ میں فرائض کو انجام دینے سے رہ جاتا ہے، دوسری یہ کہ جب فرائض انجام دینے لگتا ہے تو غرور تکبر و خود پسندی سے دوچار ہوتا ہے جو اس کے اعمال کو نابود کر دیتی ہیں اسے ان آفتوں سے بچنے کیلئے غور وفکر کرنا چاہیئے ۔

بعض لوگ تصور کرتے ہیں کہ الٰہی اور اجتماعی فرائض کو انجام دینا ان کی زندگی کو ابتر کرنے کا باعث ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ دنیوی امو رکو انجام دینا ایک ایسی ضرورت ہے جس سے اجتناب نہیں کیا جاسکتا ہے ان کا یہ تصور بذات خود الٰہی فرائض کے انجام دینے میں رکاوٹ کا سببہے یہ عذر اور بہانے شیطانی وسوسے ہیں ان وسوسوں سے نجات پانے کی راہ یہ ہے کہ انسان اس امر کی طرف توجہ کرے کہ خدائے متعال نے ہر شخص کیلئے اس کا رزق معین اور مقدر فرمایا ہے ۔

قرآن و سنت کی بیان شدہ تعلیمات میں جن کی طرف انسان کو توجہ کرنا ضروری ہے ، رزق کے مقدر ہونے کا مسئلہ ہے ہم اس وقت روزی کے مقدر ہونے کے مفہوم کے بارے میں اور اس سلسلہ میں کیا انسان کو رزق حاصل کرنے کیلئے تلاش و کوشش کرنا چاہیئے یا نہیں ، وضاحت کرنا نہیں چاہتے بلکہ اجمالی طور پر اشارہ کرتے ہیں کہ دینی معارف میں اس مسئلہ کوکافی اہمیت دی گئی ہے ۔

نہج البلاغہ میں متعدد مقامات پر رزق کے مقدر ہونے کے بارے میں اشارہ کیا گیا ہے اسی مذکورہ روایت میں بھی یہ ذکر ہوا ہے کہ اگر کوئی اپنا رزق حاصل کرنے میں سستی دکھائے تو کوئی دوسرا ہرگز اس کا رزق نہیں کھا سکتا ہے اگر کوئی مال جمع کرنے سے زیادہ لالچ دکھائے اور تلاش کرے کہ اپنے لئے زیادہ سے زیادہ مال ذخیرہ کرلے لیکن جو اس کی قسمت میں نہیں ہے وہ اسے حاصل نہیں کرسکے گا پس اس امر کی طرف توجہ رکھنا شیطانی وسوسوں کیلئے رکاوٹ بن سکتا ہے ۔

جب شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ انسان کوالٰہی فرائض انجام دینے سے روکے تو فرائض انجام دینے کے دوران اس کے دل میں یہ وسوسہ ڈالٹا ہے کہ اس وقت تجھےاپنی روزی روٹی کی تلاش میں ہوناچاہیے تھاایسے وقت میں چاہئے شیطان کے منہ پرلات مار کر یہ کہے کہ ہٹ جا وٴ !میرا رزق میری قسمت میں لکھا جا چکا ہے اسے کوئی اورنہیںلے سکتا ہے ۔

لیکن یہ اعتقاد اس وقت حاصل ہوتاہے جب انسان خدا کی طرف سے رزق کے مقدر ہونے کے سلسلہ میں اطمینان پیدا کرلے ۔

یہ جو کہا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کے رزق کو مقدر بنایا ہے اس معنی میں نہیں ہے کہ انسان رزق حاصل کرنے کیلئے تلاش و کوشش سے ہاتھ کھینچ لے اور کہے : اللہ تعالی میرے رزق کو خود مجھ تک پہنچا دے گا اس موضوع پر اپنی جگہ پر بحث ہوئی ہے کہ انسان کو اپنی ضروریات پورا کرنے کیلئے جستجو اور تلاش کرنی چاہیئے اور اللہ تعالی کا ہل اور آرام طلب انسان سے بیزار ہے ۔

رزق کے مقدر ہونے کی بحث ان لوگوں کیلئے ہے جو شیطانی وسوسوں سے دھوکہ کھاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اگر الٰہی فرائض انجام دینے میں لگ گئے تو وہ اور ان کے اہل و عیال بھوک سے مرجائیں گے، جو انساں خد اکی بندگی کرے گا بعید ہے اللہ تعالی اسے بھوکا چھوڑدے گا ۔

توحید افعالی اور اللہ تعالی کا سرچشمہ خیر ہونا :

” وَ مَنْ اُعطِیَ خیراً اٴَعطَاہُ و مَنْ وَقٰی شراً فالله وقاہ “

جس شخص کو کوئی خیر پہنچے خدا نے اسے عطاکیا ہے اور جو شخص کسی شر سے محفوظ رہا ہے تو خدا نے اس کی حفاظت کی ہے

ایک اور مطلب جسے بیان کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اگر ہم الٰہی فرائض کو انجام دینے اور گناہوں سے بچ کر عبادات انجام دیتے ہیں تو ہمیں یہ تصور نہیں کرناچاہیئے کہ ہم شائستہ انسان بن گئے ہر وہ نیک کام جو ہم سے انجام پاتا ہے بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یہ وہی ہے جس نے نیک کام انجام دینے اور گناہ سے اجتناب کی توفیق بخشی ہے جو کچھ ہمیں تکوینی طور پر دنیا کی نیکیوں سے تلاش یا تلاش کے بغیر ملتا ہے وہ خدا کی طرف سے ہے اور یہ خداوند عالم ہی ہے جو بلاؤں کو ہم سے دور کرتا ہے اس اعتقاد کایقین اور اس فکر کا سرچشمہ توحید افعالی میں جلوہ گر ہوتا ہے کہ انسان کو تمام خوبیوں اور نیک اعمال کو اللہ تعالی کی طرف سے جاننا چاہیئے اور اسے بلاؤں اور برائیوں کو دور کرنے والا جانناچاہیئے ۔

توحید افعالی کی بحث انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ جو بھی مطالب ” قضا وقدر “ وغیرہ کے بارے میں کہے گئے وہ بذات خود ” توحید افعالی “ کے بارے میں انسان کے اعتقاد کا ایک مقدمہ ہے ۔

” توحید افعالی “ پر توجہ کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ انسان کے اندر سے غرور و تکبر دور ہوتا ہے اور حقیقت میں ” توحیدا فعالی “ پر توجہ کرنا، سستی ،کاہلی ، حسادت اور حقارت جیسی اکثر اخلاقی برائیوں کا علاج ہے ” توحید افعالی “ پر توجہ کرنے سے انسان میں نہ حسد کیلئے کوئی مقام ، اور نہ تکبر وحقارت کیلئے کوئی گنجائش باقی رہتی ہے جب انسان خود کو خداوند عالم سے مربوط دیکھتا ہے تو پھر وہ احساس حقارت نہیں کرتا ہے ۔ اس طرح جو خد کی عظمت پر نظر رکھتا ہے تو پھر اپنی بزرگی کا ہر گزسودا نہیںکرتا ہے ، کیونکہ وہ ہر چیز کواللہ تعالی کی طرف سے جانتا ہے اس طرح اگر کسی کا یہ ایمان ہو کہ تمام طاقتیں خدا کی طرف سے ہیں اور کوئی اس کی اجازت کے بغیر کسی کام کو انجام نہیں دے سکتا ہے تو وہ خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا ہے جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ خداوند عالم تمام نیکیوں کا سرچشمہ ہے اور اس کی اجازت کے بغیر کسی کو کوئی نیکی نہیں پہنچ سکتی ہے تو وہ خدا کے سوا کسی اور سے دلچسپی نہیں رکھتا ہے بلکہ صرف اللہ تعالی سے امید وار ہوتاہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More