خدائی رنگ

مکارم الاخلاق میں ایک روایت ہے  که اباذر نے پیغمبر اکرم ۖ سے موعظہ اور نصیحت طلب کیا ،پیغمبر اکرم ۖ نے انہیں تفصیلاً نصیحت فرمایا، کہ وہ نصیحتیں تقریباً تین چار صفحات پر مشتمل ہيں اس میں سے ایک جمله یہ ہے :”یااباذر….. ان شر الناس منزلة عند الله یوم القیامة عالم لا ینتفع بعلمه ، ومن طلب علما لیضرب به وجوه الناس الیه لم یجدریح الجنة[2]،،اگر کوئی انسان علم حاصل کرے تا کہ لوگوں کو اپنے ارد گرد جمع کرے اور ان کی توجہ کو اپنی طرف جلب کرے ، اسے بہشت کی بوی بھی نہیں آئی گی ،ایک ایسی چیز جس میں ہم میں سے بہت سارے گرفتار ہیں ،ابتداء میں جب هم اس وادی میں قدم رکھتے ہیں ، مخصوصاً ہمارا یہ راستہ ایک ایسا راستہ ہے کہ مستقیماً لوگوں سے مرتبط هے ، ہم چاہتے ہیں دین سیکھ لیں تاکہ لوگوں تک پہنچا دیں ، ہم چاہتے ہیں لوگوں کی ہدایت کرے ، ہم چاہتے ہیں لوگوں کو حلال اور حرام بیان کریں ،ہمارا یہ علمی کام اور مشغلہ آیت نفر کے مطابق ہے کہ فرماتا ہے : وَ لِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ [3]ہم اس مقصد کے پیچھے ہوتے ہیں کہ جو کچھ سیکھ لیا ہے انہیں لوگوں تک پہنچا دیں ۔

واقعاً لوگوں کی ہماری طرف توجہ کرنے سے ہم کتنا خوشحال ہوتے ہیں؟!! کہیں خطاب کریں اور لوگ ہمارے اس خطاب کو پسند کرے اورہمارے ذہن میں یہ ہو کہ ایسے خطاب کروں کہ لوگ میری طرف متوجہ ہوں ، پھر اس پر کتنے خوشحال ہوتے ہیں ؟!!

اس”وجوہ الناس”سے مراد صرف عوام نہیں ہے ، کبھی انسان یہ کہتا ہے کہ میں صرف میر کا درس دے دوں یہ میری شان کے خلاف ہے ، سیوطی پڑھاؤں یہ میرے لئے سزاوار نہیں ہے اسی طرح آپ آگے تک سوچیں ، اس کے دل میں یہ بات ہو کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ کچھ طلاب کے توجہ کو اپنی طرف مبذول کروں ، اور اسی لئے کفایہ پڑھائے ،اس روایت میں فرماتا ہے :”من طلب علما لیضرب به وجوه الناس الیه لم یجدریح الجنة”جو شخص کسی علم کو سیکھ لیں تا کہ لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کرے ،اسے بہشت کی بو تک نہیں آئی گی ۔

میں اس مطلب کو بارہا عرض کر چکا ہوں ،کبھی خاص روایات  هماری نظروں سے گزرجاتی ہے ، وہاں پر کچھ مقدار غور و فکر کرنی چاہئے ، روایات میں کبھی کسی کام پر کسی نتیجہ کو مرتب کیا ہے ، مثلاً اگر کوئی جھوٹ بولے اسے مثلاً یہ عذاب ہے ،اگر فلان کام کو انجام دیں تواس کے لئے فلان عذاب ہے ،یہ جان لینا چاہئے کہ کسی عمل اور اس عمل کے دنیا یا آخرت  کے نتیجہ کے درمیان مضبوط ارتباط ہے ، اگر انسان اس مضبوط ارتباط کی طرف متوجہ ہو جائے کامیاب ہو جاتا ہے اور بہت ساری چیزوں کو سمجھ لیتا ہے ۔

اس روایت میں فرماتا ہے :انسان کو چاہئے کہ علم کو خدا کے لئے پڑھے ، اور خدا کی خاطر لوگوں کو بتائیں ، خدا کی خاطر درس پڑھیں ،خدا کی خاطر کتاب لکھیں،واقعاً یہ بہت ہی مشکل ہے ،ہماری کتنی عمر گزر جاتی ہے ؟تیس ،چالیس ، پچاس سال ،ہم واقعاً  کیا یه دعوا کر سکتے ہیں کہ ہمارا درس پڑھنااور پڑھانا خدا کے لئے تھا؟بہت ہی مشکل ہے ، ہم بالکل ہی غافل ہیں !

مخصوصاً ان استدلالی گفتگو میں جہاں ہم بزرگان کے مقابل میں کھڑے ہیں ،کسی کی بات کو ٹھکرا دیتے ہیں ، اسے خراب کریں اور دوسرے کی بات کو قوت بخشے ،کبھی ہم کلی طور پر غافل ہیں کہ کس کے لئے ہم یہ کام کر رہے ہیں ؟!کبھی کبھار ان بحث و گفتگومیں انسان اتنا بلند پرواز کر جاتے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت میں حاضر نہیں ہے کہ دوسروں کے لئے کسی اہمیت کا قائل ہوں ،مثلا ً ہم بعض کے کلمات میں یہ کہتے ہوئے دیکھتے ہیں :”قال بعض من لا تحصیل له”تصریح کیا ہے اور لکھا ہے ،چھپ بھی چکا ہے ،یہ چیزیں صرف اس وجہ سے ہے کہ غالباً میدان میں خود کو تک تاز دیکھتا ہے ،اپنی علمی قدرت کو دیکھتا ہے، اور دوسروں کے لئے کسی ارزش کا قائل نہیں ہے ،دوسروں کو جاہل  سمجھتا ہے  مگر اس شخص کو جو اولیاء خدامیں سے ہو ، البتہ یہ بہت ہی اچھا ہے کہ انسان بہت ہی زیادہ دقت کرے ،لیکن خدا سے غافل نہ ہو، انسان جب خدا سے غفلت کرتا ہے تو اس کے بعد پھر وہ یہ نہیں کہہ سکتا اس درس کو میں نے خدا کے لئے پڑھا ہے اور خدا کیلئے پڑھایا ہے ، یہ دونوں باتیں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتی ۔

میرا عرض یہ ہے کہ انسان اپنی تکلیف کو اپنی جگہ پر واضح کرے ،دیکھیں آج صبح سے لے کر ابھی تک جو درس پڑھا ہے ، وہ کتنا خدا کے لئے تھا ، حدیث پڑھے ہیں وہ کتنا خدا کے  لئے تھا ، احادیث کو سنا ہے اور اسے لکھا ہے یہ کتنا خدا کے لئے تھا ؟!

میں اس قصہ کو پہلے بھی بیان کر چکا ہوں ، اسے بزرگان میں سے ایک جو ابھی انتقال کر چکے ہیں نے میر ے لئے نقل کیا ہے:انہوں نے کہا : ہم قم کے قدیم مدارس میں سے کسی ایک میں ایک استاد کے پاس درس پڑھتے تھے ، اس استاد کا ظاہر ی اعتبار سے بہت بد شکل تھا ،پھٹے ہوئے کپڑے پہنتے تھے ، ہم سات آٹھ طلاب تھے ، استاد کی حالت یہ تھی کہ بعض طلاب ان کے سامنے پاؤں پھیلا کر بیٹھتے تھے اور ان کے ساتھ بہت ہی بے پروائی کرتے تھے ،کہتے ہیں ایک دن میں نے ان سے عرض کیا ، یہ طلاب جب آپ کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں تو کیا ضرورت ہے کہ آپ ان کے لئے درس دے دیں؟!یہ آپ کی ہتک حرمت ہے ، انہوں نے فرمایا :میرا ایک وظیفہ ہے ، میں نے درس پڑھا ہے لہذا مجھے درس دینا پڑھے گا  میرا وظیفہ درس دینا ہے ، لیکن یہ جان لو کہ ان طلاب میں سے جو برے ہیں اور مجھ سے ایسی روش سے پیش آتے ہیں ،ان میں سے چند افراد جوانی میں مر جائیں گے ، اور یہ ایک دو افراد جو آپ کا مد نظر ہے وہ بھی ایسا ہی ہو جائیں گے ،میں اس وجہ سے پریشان ہوں ، آپ انہیں بتا دوان کے اس کا م کا یہ اثر ہے ۔

غور کریں !کبھی اس قدر خدا کے لئے پڑھاتا ہے کہ حتی اگر اس کا مذاق اڑائے ،اس کی اہانت اور جسارت کرے ،تب بھی وہ اطمینان کے ساتھ اپنا سبق پڑھا دیتا ہے ، ہم کس حد تک اس درجه پر پهنچے ہیں ؟!ممکن ہے کوئی استاد اگر کلاس میں ان کی باتوں کی بے اعتنائی کرے وہ کلاس چھوڑ کر چلے  جائے، یعنی سب سے آسان اور فوری کام یہ ہے کہ اس کلاس کو ہی چھوڑ کر چلے جائے اور ممکن ہے اپنے لئے کوئی دلیل رکھتا ہو اور اپنے آپ کو کچھ حد تک قانع بھی کرے ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کام خدا کے لئے نہیں ہے ،یہ لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کرنے کے لئے ہے ۔

اس روایت میں فرماتے ہیں اگر کسی نے ایسا کیا ،تو اس کا اثر یہ ہے کہ بہشت کی بو تک اسے نہیں آتی ، ممکن ہے یہ کہا جائے کہ ان دونوں کے درمیان کیا  رابطہ ہے ؟اس طرح فرما سکتے تھے اگر کوئی اس کام کو خدا کے لئے کرے تو خدا اسے ثواب دے گا ،اور اگر کوئی خد اکے لئے نہ کرے ، خدا اسے ثواب نہیں دے گا ، کیوں یہ فرمایا ہے کہ اسے بہشت کی بو تک نہیں آئی گی ؟اس کا جواب یہ ہے کہ :یہاں پر ایک ناخود آگاہ فعل کو انجام دیا ہے اور ختم ہوا ہے ، اگر اس کام میں خدائی رنگ ہو ، تو اس کا مطلب ہے اس نے اس کام کو لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف مرکوزکرنے اور خوشامد کی بات نہیں کی ہے ، لوگوں کی تعریف کے لئے ایسی بات نہیں کی ہے ، بلکہ صرف خدا کی خاطر بات کی ہے ، خدا بھی بہشت کو اس کی اختیار میں قرار دیتا ہے اور اسے بہشت کی بو آئے گی اور اس کے لئے بلند درجات بھی قرار دیتا ہے ۔

لیکن اگر ہم یہ بتائیں کہ ہمیں لوگوں کی جلب توجہ کی ضرورت ہے ،پس ہم نے اسے بہشت کی بو کی قیمت میں بیج ڈالا ہے ، ایک برا معاملہ ہے ؛ بہشت کو بیج دیا ہے اور لوگوں کی توجہ کو خرید اہے ، بعض فاسقوں کے بقول کہ کہتے ہیں آخرت ادھار ہے اور دنیا نقد ہے ،کون نقد کو چھوڑ کر ادھار کے پیچھے چلا جاتا ہے ؟!جس کے پاس درک نہ ہو اور حقیقت ا س کے لئے مجہول ہو ، واضح ہے آخرت اس کے لئے ادھار ہے ، لیکن جس کے پاس بصیرت ہو، وہ دنیا کو ادھار اور آخرت کونقد سمجھتا ہے ، وہ دنیا کو کچھ بھی نہیں سمجھتا ، کتنا برا ہے کہ ہمارے لئے لوگوں کی نظر اور توجہ اصل ہو؟!!! ، خداوند عالم بھی فرماتا ہے ،جب ایسا ہے تو اسی پر اکتفاء کرو، اب تمہارے اس علم کا کوئی ثواب نہیں ہے ، تمہارا یہ علم اب تمہیں بہشت میں داخل نہیں کر سکتا ۔

کبھی انسان اپنے لئے مصائب کھڑا کر دیتا ہے اور اسے اس کی خبر تک نہیں ہوتی ،ایک سرمایہ کو ہاتھ سے دے دیتا ہے لیکن اسے کوئی خبر نہیں ہوتی ،ہم ہر رو ز ایسے نقصانات کے متحمل ہوتے ہیں اور جنت کی بو کو چھوڑ دیتے ہیں اور لوگوں کی نظر کو جلب کرتے ہیں ، اب وقت ہے کہ کچھ ہم متوجہ رہیں ، واقعاً اپنے اوپر کام کرے ،اگر ابھی مشکل بھی ہو ،لیکن آہستہ آہستہ ہمارے لئے لوگوں کا دیکھنا اور نہ دیکھنا برابر ہو گا اور واقعاً کوئی فرق نہیں پڑے گا ، اگر آپ سے یہ بتائیں کہ کل سے درس نہ پڑھیں ، تو وہ درونی آرامش موجود ہوتا ہے ؟ اگر کوئی بتائے کہ بہت اچھا اور دقیق درس دیا ، یا آپ کو یہ بتائے کہ آپ بلکل ان پڑھ ہے ، کیا آپ کے لئے اس سے کوئی فرق پڑھتا ہے یا نہیں ؟

البتہ کبھی ؛کوئی انسان پر اشکال کرتا ہے ،کوئی اس کی نظریہ کو پسند کرتا ہے ، یہ ایک فطری بات ہے ؛یعنی انسان کوئی تحقیق انجام دیتا ہے ، بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی یہ تحقیق اہل نظرکے مورد قبول قرار پاتا ہے لہذا وہ خوشحال ہوتا ہے ،یہ ایک فطری بات ہے ، لیکن یہی ملاک و معیار نهیں ہونا چاہۓ کہ لوگ اس کی تعریف کرے ،اگر لوگ تعریف نہ کرے تو ہم یہ بولے کہ اتنا زحمت کیا تھا ؛بے فائدہ ہوا ، اس کی مذمت ہوئی ہے ۔

ملاحظہ فرمائے : ہمارے بزرگ علماء سو سال پہلے دسویں جلد کتابیں لکھیں ہیں ؛ ابھی وہ چھپ رہے ہیں ، وہ کبھی بھی اس فکر میں نہیں تھے کہ بعد میں لوگ اسے چھاپیں گے ، یہ کہتے تھے ہم تو لکھ لیتے ہیں ، اگر ایک نفر ہی ایک سطر پڑھیں میرے لئے یہی کافی ہے ، کبھی بھی یہ نہیں سوچتے تھے کہ بعد میں دس ہزار تک چھپ جائے گی اور دس ہزار افراد اسے پڑھیں گے ،لیکن ابھی ہم رات کو سوتے ہیں اور صبح اٹھ کر کوئی کتاب لکھ لیتے ہیں ، بہت جلد اسے چھاپنا چاہتے ہیں ، اپنے نام کو القاب اور خصوصیات کے ساتھ اس پر لکھ لیتے ہیں ، دنیا کے گوشہ و کنار میں بھیج دیتے ہیں، یہ چیزیں یقینا خدائی رنگ کو ختم کردیتی ہے، ایک وقت ممکن ہے کوئی انسان تحقیق کرے ، اور چاہتا ہے اس تحقیق کو اہل تحقیق تک پہنچادے اور صاحبان نظر اس بارے میں اظہار نظر کرے ، اس میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔

اس کا خیال رکھنا چاہئے کہ خدا نے ہمیں بہترین جگہ پر قرار دیا ہے اور ہم اپنے لئے سب سے زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں ،لیکن اگر متوجہ رہے تو اسی وقت ہم اپنے آپ کو بلندترین نقطہ تک پہنچا سکتے ہیں ،اس کی قدر دانی کرے اور یہ تصمیم کرے لیں کہ واقعاًہم خدا کے لئے درس پڑھیں  گے، خدا کے لئے لکھیں گے ،خدا کے لئے نماز جماعت کا امام بن جائیں گے ،خدا کے لئے منبر پر جائیں گے  ، منبر پر اوپرجاتے ہوئے ہم یہ بولے خدایا! اگر آپ راضی ہو تومیں اوپر جاؤں ،اگر راضی نہیں ہے تو میرے پاؤں کو حرکت کرنے نہ دے کہ میں حرکت کروں،فرق نہیں لوگوں کو پسند آئے یا نہ آئے ،واقعاً ہمیں اپنے اور خدا کے درمیان رابطہ کو صاف رکھنا چاہئے ، اسی کام کے لئے خدا سے مدد طلب کرنی چاہئے یہ کوئی آسان کام نہیں ہے ،جب ہم چاہتے ہیں خدا سے معاملہ کرے تو اسے راضی کرنا چاہے ، ا س کو راضی کرے اور اسی سے مدد طلب کرے تا کہ ہمیں زیادہ متوجہ کرائے انشاء اللہ ۔

و صلی الله علی محمد وآله الطاهرین

——————————————-

[1] -یہ درس حضرت آیت اللہ استاد شیخ جواد فاضل لنکرانی (دام عزه) نے اپنے درس خارج فقہ  میں بیان فرمایاہے.

[2] – كاشانى، فيض، محمد محسن ابن شاه مرتضى  الوافي، ج‌26، ص: 187‌

[3] -سورة التوبة/

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More