خالق کے بارے میں غورو فکر انسان کی فطرت کا تقاضا ہے

جب سے انسان نے اس فرش زمین پر لباس وجود زیب تن کرکے قدم رکھا ھے اسی وقت سے اس نے اپنی حیات کے خلق اور عنایت کرنے والے کے بارے میں غور و فکر کرنا شروع کردیا، لہٰذا واجب الوجود (خدا ) کے بارے میں لوگوں کی گفتگو صرف آج کی پیدوار نھیں بلکہ یہ گفتگو قدیم زمانہ سے چلی آرھی ھے، البتہ زمانہ قدیم کے لوگ اپنی خالص فطرت، محدود مدرک علمی اوراپنی کم صلاحیت کے اعتبار سے مورد بحث قرار دیتے تھے یعنی جتنی ان کے پاس بحث کرنے کے لئے مدارک اور محدود ذہنی سطح تھی اسی لحاظ سے بحث کیاکرتے تھے، لیکن آج جب زمانہ نے ترقی کی اور انسان وسیع الذہن هوا تو اس (خدا) کے بارے میں گفتگو کا میدان بھی وسیع هوا، یعنی جیسے جیسے عقل وشعورنے ترقی کی اور ذہن انسانی میں وسیع نشوونما هوئی یھاں تک کہ اس فلسفی زمانہ میں عقل اپنے کمال تک پهونچی تو یہ واجب الوجود کے بارے میں بحث ومباحثہ بھی اسی بلندی کے ساتھ لوگوں میں رائج قرار پایا،جس میں جاھل اور منکرین خدا کے لئے کسی طرح کا کوئی اشکال واعتراض کرنے کا راستہ نھیں رہ جاتا۔

چنانچہ آج جبکہ علم اور سائنس کافی ترقی کررھا ھے بعض اسلام دشمن عناصر نے دین اسلام سے مقابلہ کی ٹھان لی ھے اور اسی سائنس وعلم کے ذریعہ خدا کے وجود کا انکار کرتے ھیں اور مسلمانوں کے عقائد کو کمزور وضعیف کرنے کی کوشش کرتے رہتے ھیں، چنانچہ کہتے ھیں کہ یہ عقلی قاعدہ(کہ ھر مخلوق کے لئے ایک خالق اور ھر موجود کے لئے ایک موجِد کا هونا ضروری ھے[درست نھیں ھے! بلکہ یہ کائنات خود بخوداور اتفاقی طور پر پیدا هوگئی ھے!!۔

خلاصہ یہ کہ اس سلسلہ میں انھوں نے بہت سے اعتراضات او رشبھات ایجاد کردئے اور بعض جھوٹی اور مظنون چیزوں کو مشهور کرکے ڈھول بجادیا کہ ”مادہ“ ازلی ھے !اور یہ ھمیشہ باقی رھے گا، چنانچہ ان لوگوں نے مسلمانوں کے نظریات میں شکوک وشبھات ڈالنے شروع کردئے لہٰذا وہ لوگ جن کے عقائد تقلیدی اور سنے سنائے اور بغیر دلیل کے تھے وہ ان اعتراضات وشبھات کے دریا میں بہنے لگے۔

اور چونکہ ھم یہ عقیدہ رکھتے ھیں کہ اسلام کبھی بھی علم وعقل سے نھیں ٹکراتا، بلکہ اسلام تو علم وعقل پر قائم ھے، لہٰذا ھمارے لئے اس ماحول میں ”الوھیت“ (خدا کی معرفت) کی بحث اسی علم وسائنس کی روشنی میں بیان کرنا ضروری تھا جس طرح سائنس داں افراد نے اسی علم وسائنس کے ذریعہ اس سلسلہ میں تخریب کاری کی ھے، چنانچہ اس سائنس کے بعض نتائج کا خلاصہ یہ ھے کہ آج کے علم کی جدید ایجادات واکتشافات ھی ھیں جو خدا پر ھمارے ایمان کو زیادہ کردیتے ھیں،اور ھمارے لئے یہ علم ایسے ایسے استدلال وبرھان قائم کرتا ھے جن کا تذکرہ گذشتہ مولفین ومحققین کے یھاں نھیں ملتا، لہٰذا یھی سائنس (مکمل وضاحت کے ساتھ) ان لوگوں کے نظریہ کو باطل کردیتا ھے جو کہتے ھیں کہ مادہ ازلی ھے اور کائنات میں خلق وایجاد کے یہ اثرات اسی مادہ کے ھیں، یعنی ان لوگوں کے تمام نظریات باطل هوجاتے ھیں جو کہتے ھیں کہ یہ تمام کائنات خود بخود (اتفاقی طور پر) پیدا هوگئی ھے۔

و[3]

”شکر ھے اس خدا کا جس نے ھمیں اس (منزل مقصود) تک پہنچادیا اور اگر خدا 

ھمیں یھاں نہ پہچاتا تو ھم کسی طرح یھاں نہ پہنچ سکتے ۔

اے ھمارے پالنے والے (جب) ھم نے ایک آواز لگانے والے (پیغمبر) کو سنا کہ وہ ایمان کے لئے یوں پکارتا تھا کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ھم ایمان لائے، پس اے ھمارے پالنے والے ھمارے گناہ بخش دے اور ھماری برائیوں کوھم سے دور کردے اورھمیں نیکو کاروں کے ساتھ (دنیا سے) اٹھالے۔“

[1] سورہ ابراھیم آیت ۱۰

[2] سورہ اعراف آیت ۴۳۔

[3] سورہ آل عمران آیت ۱۹۳۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

نوزده − دو =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More