جھان کی پیدائش میں شارع مقدس کا نظریہ

”یہ خلقت کا طولی نظام جو فلسفی محکم دلیلوں کے ذریعہ ثابت ھوچکا ھے، قرآن اور دین کے بزرگ رھبروں کی زبان مبارک سے واضح اور آسان طریقہ سے بیان ھوا ھے، جبکہ ھم جانتے ھیں کہ قرآن کی آیہٴ کریمہ اور انبیاء اور ائمہ طاھرین علیھم السلام کی اعلیٰ تعلیمات میں مکرر ”فرشتوں اور ملائکہ، خدا کی جنود و سپاہ کا تذکرہ آیا ھے اور ان کی مختلف عناوین کے ذریعہ : ”مدبّرات امر، مقسّمات امر، معقّبات، کاتبین اور حافظین اعمال، وحی لانے والے اور روح قبض کرنے والے و غیرہ جیسے القابات سے پہچنوایا گیا ھے، اور مکرم فرشتوں

”یہ خلقت کا طولی نظام جو فلسفی محکم دلیلوں کے ذریعہ ثابت ھوچکا ھے، قرآن اور دین کے بزرگ رھبروں کی زبان مبارک سے واضح اور آسان طریقہ سے بیان ھوا ھے، جبکہ ھم جانتے ھیں کہ قرآن کی آیہٴ کریمہ اور انبیاء اور ائمہ طاھرین علیھم السلام کی اعلیٰ تعلیمات میں مکرر ”فرشتوں اور ملائکہ، خدا کی جنود و سپاہ کا تذکرہ آیا ھے اور ان کی مختلف عناوین کے ذریعہ : ”مدبّرات امر، مقسّمات امر، معقّبات، کاتبین اور حافظین اعمال، وحی لانے والے اور روح قبض کرنے والے و غیرہ جیسے القابات سے پہچنوایا گیا ھے، اور مکرم فرشتوں میں سے ھر ایک کے لئے ایک مشخص مقام اور معین جگہ کا پتہ بتایا ھے کہ: ”وما مِنّا اِلاّلہ مقامُ معلومَُ“ ھم میں سے کوئی (فرشتہ) نھیں ھے مگر یہ کہ اس کے لئے ایک معلوم جگہ ھے۔

اور ایسے ھی وضاحت کرتے ھیں کہ فرشتوں کے درمیان نیز چھوٹے اور بڑے درجات کا سلسلہ مقرر ھے اور مقرب ملائکہ سے ھر ایک خدا کی طرف سے ایک معین گروہ کی رھبری کے عھدہ پر فائز ھے جو اپنے اعوان و انصار کے ذریعہ سے خدا کی جانب سے دئے گئے کاموں کی تدبیریں کرتا ھے۔

مثلاً جبرئیل (ع) وحی لانے والا ایک فرشتہ ھے اور میکائیل (ع) رزق پھنچانے اور عزرائیل(ع) قبض روح کے لئے معین ھے۔

اور اسرافیل (ع) صور پھونکنے اورمردوں کو زندہ کرنے والا فرشتہ ھے، اسی طرح بعض فرشتے ھوا چلانے، بادلوں کو ادھر اُوھر لے جانے اور بارش کرنے جیسے موسمی امور کی تدبیر پر معین ھیں، بعض فرشتے دنیا میں بندوں کے اعمال لکھنے، اور آخرت میں حساب وکتاب کرنے پر ماٴمور ھیں اور بالآخر ایک فرشتہ دوزخ کا مالک ھے اور دوسرا فرشتہ جنت کے امور پر موٴکل ھے اور ھر فرشتہ اپنی حاکمیت کے تحت بعض فرشتوں کو (خادم کی حیثیت سے) رکھتا ھے۔

اور سب کے سب فرشتے خداوندعالم کے فرمان کے تابع ھیں اور اس کے امور کو انجام دینے والے ھیں۔

اور ایسے ھی ھم دیکھتے ھیں کہ کتاب و سنّت (آیات و روایات) نے واضح طورپر اور صراحت کے ساتھ خاص تدبیری مقامات کو بعنوان :

عرش، کرسی اور لوح و قلم، کوخدا کے نزول حکم کے لئے پھنچوایا ھے اور فرشتوں کے ایک گروہ کو ”حاملان عرش“ اور ”مَنْ حول العرش“ کی وصف کے ساتھ امور جھان کی تدبیر کرنے والے کی حیثیت سے معرفی کی ھے۔

خلاصہ یہ ھے کہ دین کے یہ صریح بیانات، خداوند عالم کی فاعلیت اور مقام ربوبیت سے عالم خلقت اور موجودات کے سلسلہ میں ایک مرتب اور منظم نظام و تشکیلات کے بارے میں خبر دیتے ھیں۔

اور اس حقیقت کو بطور واضح سمجھاتے ھیں کہ ایسا نھیں ھے کہ خداوند متعال کا ارادہ ھر موجود کی خلقت کے سلسلہ میں بطور مستقیم اور بلاواسطہ اس سے متعلق ھوگیا ھو اور جھان کے تمام موجودات سے ھر ایک بطور مستقل اور دوسروں سے جدا گانہ پیدا ھوگیا ھو۔

کیونکہ یہ تصور قطع نظر اس سے کہ وہ اپنی جگہ پر جن کو محکم عقلی دلائل کے ذریعہ مشروح بیان کیاگیا ھے، ان کے ساتھ منافات رکھتا ھے اور خلقت میں ایک طرح کی مشکل کا باعث ھے، دین کی روشن منطق کے ذریعہ نیز ”تدبیر عالم میں وساطت“ کی اصل مسلّم اور آفرنیش کے وسیع پھلو اور خلقت کے وسیع نظام میں فرشتوں کے مدبر اور فعّال ھونے کے وجود پر قطعی اعتقاد کے ساتھ بھی ناساز گار ھے۔

اس لئے اس حقیقت پر کامل توجہ رکھنی چاھیئے اور کبھی بھی اس کو بھولنا نھیں چاھیئے کہ تدبیر امور خدا کی طرف سے مختلف کاموں میں فرشتوں کے ماٴذون اور نظام الٰھی میں ھر ایک فرشتہ کا مقام معلوم پر فائز ھونے میں جو فرشتوں کی وساطت ھے نہ کہ ”اعتباری“ قرار دادوں اور ایسے اجتماعی منصبوں اور مقاموں کی وساطت ھو جو بشری معاشروں کی تشکیلات میں پائے جاتے ھیں ایسی وساطت کی قرار داد اور اعتبار کے علاوہ کوئی حقیقت نھیں ھوتی ھے جیسے ایک ڈاریکٹر کہ جو ایک وزیر کے دستخط سے کسی کو عطا اور ایک دوسرے دستخط سے ختم کردیا جاتاھے۔

خدا کے نظام اور تشکیلات میں جب کھا جائے کہ مثلاً ملک الموت روح کو قبض کرنے میں خدا کی طرف سے ماٴذون ھے تو اس کو ”قابض الارواحی“ کی وساطت اور عھدہ عطا کردیا گیا ھے یقینا اذنِ خدا اس باب میں نہ تو زبانی کی صورت میں ھے اور نہ ھی دستخط کی صورت میں، اور نہ ھی اس مقرب ملک کا مقام اعتباری اور بشری قرار دادی قسم سے ھے۔  بلکہ خدا کا اذن، اذن تکوینی اور مقام ملک بھی مقام وجودی ھے، یعنی خدا نے جناب عزرائیل کے وجودی ڈھانچے کو اس طرح بنایا ھے اور اس کی بنیاد کو اس طرح کی طاقت عطا کی ھے کہ جو زندہ انسان کو مار سکتا ھے اور روح و بدن کے درمیان جدائی ڈال سکتا ھے۔

اسی طرح خدا نے”اسرافیل “کو اس طرح پیدا کیا ھے اورایسی طاقت عطا کی ھے جو مردوں کو زندہ کرسکتا ھے اور بے جان میں جان ڈال سکتا ھے۔

اور یہ مارنا اور زندہ کرنا خدا کا کام ھے اور فاعل حقیقی اور اس کا اصلی خدا ھے لیکن خداوندعالم کی فاعلیت ان مقرب فرشتوں کی فاعلیت کے ذریعہ ظاھر ھوتی ھے۔

عزرائیل مارنے کا ارادہ کرتا ھے لیکن خدا کے ارادہ سے کرتا ھے اور خدا بھی مارنے کا ارادہ کرتا ھے لیکن عزرائیل کے ارادہ کے ساتھ کرتا ھے البتہ یہ دونوں ارادے ایک دوسرے کے طول میں ھیں یعنی خدا کا ارادہ، ارادہ ذاتی اور اوّلی ھے اور عزرائیل کا ارادہ، ارادہ ”اعطائی اور ثانوی“ ھے، نہ تو عزرائیل ھی فی حد نفسہ خدا کے ارادہ کے بغیر کسی زندہ کو مار سکتا ھے اور نہ ایسے ھی ھے کہ خدا ”نظام فعل“ اور اپنی ثابت ”سنت“ میں عزرائیل کے ارادہ کے توسط کے بغیر، کسی زندہ کو مارنے کا ارادہ کرے، بلکہ خدا کا مارنا عزرائیل کے عین مارنے کے مطابق ھے اور عزرائیل کا مارنا بھی خدا کے عین مارنے کے مطابق ھے کہ ارشاد ھے:

”إنَّا کُلَّ شَي ءٍ خَلَقْنَاہُ بِقَدَرٍ۔وَمَااٴَمْرُنآ اِلاَّ وَاحِدَةٌ کَلَمْحِ بِالْبَصَرِ۔“

 ھم نے ھر چیز کو ایک شخص اور اندازہ سے پیدا کیا ھے اور ھمارا کام سوائے ایک کام کے کچھ نھیں ھے جو چشم زدنی کے مانند ھے“

جی ھاں اس کا فرمان ایک فرمان اوراس کی تخلیق ایک تخلیق ھے لیکن یھی اس کی ایک تخلیق اور فرمان، اسباب و مسببّات کے سلسلہ سے تشکیل شدہ ھے،جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے:

”فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً وَلَنْ تَجِدَ لِسُنّتِ اللّٰہ تَحْوِیْلاً“

 ”ھر گز خدا کی سنّت اور قانون میں تم تبدیلی نھیں دیکھو گے اور نہ ھی تم اس کی سنّت میں دگر گونی اور تغیر پاوٴں گے“

لہٰذا نظام آفرینش میں ان تمام وسائط، عُمال اور ھاتھ بٹانے والوں کے باوجود، یہ تمام ھر آن اور ھر منٹ خالق کل جھان کے دامن سے جڑے ھوئے اور اسی سے مربوط ھیں اور پورے جھان کا فقر اور محتاج ھونا اسی کی درگاہ سے وابستہ ھے، جیسا کہ ارشاد ھے:

” یَسْئَلُہُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کُلَّ یُوْمٍ ھُوَفِی شَاٴنٍ “

”جو کچھ زمین و آسمان میں ھے وہ اپنے کو اسی سے سوال کرتے ھیں ، اور وہ ھر روز (ھر وقت) مخلوق کے ایک ایک کام میں ھے “

 

اگر چہ عالم خلق کا سببی اور مسبّبی نظام،خداوندعالم کے عین ارادہٴ ”فعلی“ اور اس کا دائمی کام ھے اور خداوند عالم کا دائمی کام اور فعلی ارادہ بھی عالم حق کے سببی اور مسببی نظام کا عین ھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More