توحیدی ادیان کے خدا کے ساتھ،شر کی مطابقت

0 2

الٰہی مذاہب کے پیروکاروں کی اکثریت، خدا اور اسکی صفات کے دفاع سے پیچھے نہ ہٹتے ہوئے شرور کی توجیہ کرنے اور  خدا کی متعالی صفات اور شرورکے درمیان تال میل بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں[1]،شر کے مسئلہ سے متعلق الگ الگ  جوابات کے مجموعہ کو – ان میں سے ہر ایک کی وسعت و گنجائش کو مدّ نظر رکھتے ہوئے – ایک دوسرے کے ساتھ جمع کیا جاسکتا ہےاور اس سب کاعدل الٰہی کی روشنی میں ایک جامع جائزہ لیا جاسکتا ہے،اور اب ہم ان جوابات میں سے اہم ترین جوابات کو پیش کرتے ہیں:

1۔ شر کا عدمی ہونا

بہت سے مشرقی اور مغربی مفکرین شر کو ایک عدمی امر قرار دیتے ہیں[2]،اور اسے کسی علت کا محتاج نہیں سمجھتے مثال کے طور پر، غربت، بیماری یا موت میں سے ہر ایک، کسی نہ کسی طرح ایک قسم کے عدم(دولت کی کمی، صحت کی کمی، اور عدمِ حیات)  کو بیان کرتے ہیں، اور سوائے اس امر وجودی کی «علت کے نہ ہونے» کے کوئی دوسری علت اسکے لیےنہیں ہے،اس دعوے کو واضح کرنے کے لیے – کہ جو بالکل بدیہی ہے –دلیلیں بھی قائم کی گئی ہیں[3]،اس نظریہ کو بیان کرنے کی اصل وجہ – کہ جسے کچھ فلاسفر جیسے ميرداماد نے اس کی نسبت افلاطون (427 – 348 ق‌م) کی طرف بھی دی ہے – کچھ اس قسم کے سوالات کے کا جواب فراہم کرنا ہے: «برائی کا پیدا کرنے والا کون ہے ہے؟ اور« کس طرح ایک ایسے موجود سے جو کہ خالص خیر و نیکی ہے،برائی صادر ہوتی ہے؟»یہ نظریہ جو کہ شر کو ایک عدمی چیز بتاتا ہے ساتھ ہی ثنویت والے نظریہ کو بھی بخوبی رد کرتا نظر آتا ہے؛ کیونکہ اس نظریہ کے مطابق، بنیادی طور پربرائی کو کسی  خالق کی ضرورت ہی نہیں ہے، تاکہ اسکےخالق کوخیرات کے خالق سے الگ سمجھا جائے[4]۔

و الشرُّ اَعدامٌ فکَم قد ضلّ مَن                              يقولُ باليزدان ثمَّ الاهرِمَن[5]

تاہم، فلسفیوں اور متکلمین کا ایک گروہ – کبھی کبھی مندرجہ ذیل دو مقدمات کے سبب – اس نکتہ پرپر زور دیتا ہے کہ کچھ برائیوں کو غیر موجود اور ایک عدمی امرنہیں سمجھا جا سکتا ہے:

الف) درد ایک قسم کا ادراک ہے؛

ب) ہر ادراک ایک وجود ی امر ہے[6]۔

دوسری طرح سے اگر کہا جائے تو،خوشی اور غم،دونوں ہی کسی چیز کے «ہونےاور پائے جانے» پر دلالت کرتے ہیں،اور ایک طرح سے یہ ادراک  کا حصہ ہیں؛ایک اس چیز کا ادراک کہ ہم اسے پسند (امر ملائم) کرتے ہیں ،دوسرے اس چیز کا ادراک کہ ہم اس چیز کو پسند نہیں کرتے(امر منافر)نتیجتاًکچھ ایسی بھی برائیاں اور شرور پائے جاسکتے ہیں جو عدمی امور میں سے نہیں ہیں،مثال کے طور پر جسم کے کسی حصہ کے کاٹے جانے کو ایک عدمی امر(جسم کے دو عضوء کے درمیان سے اتصال کا ختم ہوجانا) مانا جاسکتا ہے؛لیکن اس سے پیدا ہونے والا دردایک وجودی امر ہے،اس بنیاد پر اس مثال میں ہمارا سامنا دو شر سے ہوتا ہے جس میں سے ایک وجودی ہے اور دوسرا عدمی،یہ بیان کرنے کی تو بالکل بھی ضرورت  نہیں ہے کہ ان دونوں  میں سے ہر ایک، اگر کسی دوسرے کے ساتھ نہ بھی ہو تب بھی ان کے شر ہونے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی[7]۔

صدرالمتألہين نےاس اعتراض کا ایک جواب پیش کیا ہے جسے ملاہادی سبزواری نے پسند نہیں کیا ہے اور ایک دوسرے طریقہ سے – کہ جو قدیم فلاسفہ کے بیانات سے ماخوذ ہے[8] – اس اعتراض کو حل کرنے کی کوشش کی ہے[9]،حکیم سبزواری کے مطابق، درد اگرچہ انسان کی  مطلوبہ اور پسندیدہ چیز نہیں ہے، پھر بھی ذاتی طور پر اس میں خیر موجود ہے؛ کیونکہ ہر وجود اپنی نوعیت میں اپنی ماہیت کے ساتھ سازگاری رکھتا ہے؛جیسا کہ  سانپ کےزَہراور آگ کا ذاتی تقاضہ ہے کہ وہ ڈَسنے اور جلانے والے ہوں،اسکے باوجود وہی وجود کہ جو اپنی ماہیت کے ساتھ سازگار اور ذاتی طور پر خیر ہے وہ انسان کی طبیعت کے برخلاف اور اس سے منافرت رکھتا ہواور بالعرض اسےشر سمجھا جائے[10]،اس بنیاد پر یہ عام اصول اسی طرح اپنی جگہ پر قائم ہے کہ«وہ چیز جو بالذات شر ہو،وہ ایک عدمی شئ ہے»[11]۔

مزید  نجات پانے والا مذہب، اہلسنّت کی زبانی

بہر حال ،شر کو عدمی سمجھنے کے باوجود –مذکورہ اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے –بحثِ حاضر میں پوری طرح سے شرور کے مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا؛کیونکہ ابھی تک یہ سوال ویسے ہی باقی ہے کہ کیوں خدانے دنیا میں پیدا ہونے والے خلاء کو وجودی امر سے پُر نہیں کیا ہے؟اس سے واضح الفاظ میں اگر بیان کیا جائے تو: «کیوں اس عدم کی جگہ پر وجود نہیں ہے؟»[12]،آنے والے کچھ مزید جوابات شَر کے اس مسئلہ  کو حل کرنے اور اس پہلے قدم کو مکمل کرنے کی مزید ایک کوشش کے طور پر سمجھا جائے۔

2۔ شرکا نسبی(relativism) ہونا

شُرور کے مسئلہ کا دوسرا جواب یہ ہے کہ شَر ایک نِسبی امر ہے اور کسی چیز سے مقائسہ کرنے پر سامنے آتا ہے[13]،دنیا میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں ملے گی جو پوری طرح سے شر ہویعنی بالذات شر ہو اور اسمیں کسی بھی طرح کی کوئی خیر و خوبی نہ پائی جاتی ہو،مثال کے طور پر،بچھو کا ڈنک اور سانپ کازہر ان حیوانات کے لیے بذاتہ مفید ہےتاکہ یہ حیوانات اس کے ذریعہ اپنے دشمن کا مقابلہ کرسکیں؛اس لحاظ سے یہ ڈنک اور یہ زہر سوائے کمال اور خیر کے کچھ اور نہیں،اسکے باوجود یہی دفاعی چیز اور وسیلہ ممکن ہے کہ کسی دوسرے حیوان کے لیے جانلیوا بھی واقع ہوجائے اور بالعرض اسے شر شمار کیاجائے، مولوي (604 – 672 ق):کے بقول:

پس بد مطلق نباشد در جهان       بد به نسبت باشد اين را هم بدان

زهر مار آن مار را باشد حيات         نسبتش با آدمي باشد ممات[14]

شَر کے نسبی ہونے کا جواب – کہ کبھی کبھی اسے عدمی ہونے کے بارے میں بھی استعمال میں لایا جاتا ہے – خود ایک مستقل جواب ہے کہ جسے پہلے والے جواب کے ساتھ ملا ڈالنے سے بچنا چاہیئے،اس بنیاد پر اگر سارے ہی یا کچھ شرور اگر وجودی امور میں سے ہوں تب بھی ان کے نسبی ہونے کے بارے میں ایک توجیہ پیش کی جاسکتی ہے کہ وہ کیسے وجود میں آئے،ان سب باتوں کے باوجود یہاں پر بھی یہ سوال بغیر جواب کے رہ جاتا ہے کہ کیوں خدا نے دنیا کو کچھ اس طرح نہ بنایا کہ ایک موجود تک خیر کی رسائی میں دوسرے موجودات کو شر کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور کیوں یہ خیر و شر آپس میں گُندھے ہوئے اور عجین ہیں؟ شر کے مسئلہ کا تیسرا حل اسی سوال کا جواب فراہم کرتا ہے۔

3۔ شرور،کی وجہ سے نیکیوں کا تحقق

شر کے مسئلہ کا  ایک بنیادی جواب یہ ہے کہ بہت تھوڑے شر  سے پرہیز کی خاطربہت ہی زیادہ نیکیوں اور اچھائیوں سے ہاتھ نہیں کھینچا جاسکتا؛جیسا کہ دنیا کے تمام عقلمند افراد اس صورت میں اپنے جسم کے کسی حصہ کو اپنے بدن سے الگ کرنے اور کٹوانے پر راضی ہوجاتے ہیں کہ جب انہیں لگتا ہے کہ اس سے دوسرے اعضاء کی سلامتی وابستہ ہے[15]، یہ جواب مندرجہ ذیل مقدمات پر مبنی ہے:

مزید  قیامت پر ایمان

الف) مادی دنیا میں، اچھائی اور برائی جدا ناشدنی ہیں؛

ب) مادی دنیا میں اچھائیاں، برائیوں سے زیادہ ہیں[16]؛

ج) بہت تھوڑے شر سے پرہیز کی خاطربہت ہی زیادہ نیکیوں اور اچھائیوں سے ہاتھ نہیں کھینچا جاسکتا۔

آخر کے دومقدمات کی مزید تفصیلی وضاحت ارسطو سے منسوب ایک تقسیم  کے ساتھ شروع کریں گے،اس تقسیم کی بنیاد پریہ دنیائے ممکنات – اسمیں پائے جانے والے خیر و شر کی مقدار کے حساب سے – پانچ طرح کے ہیں جنہیں مندرجہ ذیل عناوین کے تحت بخوبی سمجھا جاسکتا ہے: : خيرِ محض، شرِ محض، خير ِغالب، شرِ غالب، اور خير و شر مساوی،وہ چیز جو خدا کی عالی و متعالی صفات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی وہ  ان پانچ مذکورہ کائنات میں سے تین  کی تخلیق ہے:ایک ایسی دنیا کی تخلیق جو سراسر شرور اور برائیوں پر مشتمل ہو(شر محض)؛یا ایک ایسی دنیا جس میں برائیاں ، اچھائیوں سے زیادہ ہوں(شر غالب)؛یا پھر ایک ایسی کائنات کہ جس میں خیر و شر مساوی ہوں،پروردگار نے ان تین طرح کی کائنات کو ہرگز بھی خلق نہیں کیا ہے؛لیکن دوسری دو دنیاؤں کی تخلیق سے وہ اپنے ہاتھ نہیں کھینچ سکتا،بعض مفکرین کے بقول: «شر سے بچنے کے لیے بہت خیرِ کثیر کا پیدا نہ کرنا بھی شرِ کثیر ہے»[17]،اس بنیاد پر ، خدا پر یقین رکھنے والوں کی اکثریت،عالم مادّی کو ایک ایسی دنیا کے طور پر دیکھتی ہے جہاں خیرات ،شرور پر غلبہ پائے ہوئے ہے (خير غالب)؛اورمفکرین  کی اکثریت ،عالم مجرّدات کو ایک ایسی کائنات کے متحقق ہونے کا وسیلہ قرار دیتے ہیں کہ جہاں پر سوائے خیر کے کچھ اور نہ پایا جائے(خير محض)[18]۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس استدلال کے مقدمات میں «قلیل اور« کثیر»  جیسی تعبیرات کے استعمال سے  یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گویا  یہاں  خیرات اور شرور  کے درمیان صرف «کمّی» پیمائش پر توجہ دی گئی ہے،تاہم، بعض مفکرین  نے واضح طور پر «کمّی» مقائسہ کی  بات کی ہے، اور مندرجہ ذیل مضامین کے بیانات  جاری کئے ہیں:اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ دنیا کی برائیاں اس کی فضیلتوں سے زیادہ ہے،تب بھی کامل انسانوں کے کمالاتِ وجودی  ، اکیلے ہی دنیا کی تمام برائیوں پر فوقیت رکھتے ہیں[19]، سچ بتائیں،کیا  خدا کے لیے شائستہ تھا کہ وہ کچھ لوگوں جیسے ہٹلر وغیرہ کےپیدا نہ ہونے کے لیے  کنفیوشیس اور موسی اور لاکھوں مہذب انسانوں کی تخلیق سے  ہاتھ کھینچ لیتا![20]۔
………
منابع و ماخذ:

[1]۔ کچھ مغربی مفکرین کے خیال میں اس کی کوئی ضرورت نہیں (یا: ہم نہیں کر سکتے ہیں) کہ شرور کیوں پیدا ہوئے اس کی وضاحت اور فلسفۂ شرور کے بارے میں نظریہ پردازی کریں ،وہ چیز جوکیا جانا چاہئے (یا کیا جا سکتا ہے) یہ  ہے کہ مخالفین کے ہاتھوں سے اسلحہ چھین لیں ،يعني اسی حد تک کافی ہے کہ ہم یہ ظاہر کریں کہ توحیدردی مذاہب کے خدا کا وجود اور شر کا وجود ای دوسرے کے ساز مطابقت رکھتے ہیں ،دوسرے الفاظ میں، بجائے اسکے کہ عدل الهي (theodicy) کے بارے میں کوئی نظریہ پیش کریں اسکے دفاعيہ (defense) کی کوشش کریں۔ رجوع فرمائیں: الوين پلانٹينگا، خدا، اختيار و شر، ترجمه محمد سعيدي‌مهر، ص40 ـ 43؛ مائکل پیٹرسن اور  دوسرے، گزشتہ حوالہ، ص190 ـ 192۔

مزید  دین اسلام کے تحفظ کے لئے اہل بیت (علیہم السلام) کی انتھک محنتیں

[2]۔ ان منابع کے علاوہ جو آئینگے، رجوع فرمائیں: دوره آثار فلوطين، ترجمه محمدحسن لطفي، ج1، ص133 ـ 136؛ مائکل پیٹرسن اور دوسرے، گزشتہ حوالہ، ص204 (به نقل از اگوسٹن)؛ ابونصر فارابي، التعليقات، ص49؛ ابن‏سينا، الشفا، الالهيات، ص416؛ ابن‌ميمون، دلالة الحائرين، ص494؛ علامه حلي، کشف المراد، ص30؛ محمدحسين طباطبائی، الميزان، ج1، ص102؛ ج13، ص187؛

Thomas Aquinas, Summa Theologica, 5, 3۔

[3]۔ رجوع فرمائیں: قطب‌الدين شيرازي، شرح حکمة الاشراق، ص520؛ ملاهادي سبزواري، اسرار الحکم، ص105، 106۔

[4]۔ رجوع فرمائیں: ميرداماد، القبسات، ص434؛ اتين زيلسن، مباني فلسفه مسيحيت، ترجمه محمد محم ضائی و محمود موسوي، ص486۔

[5]۔ ملاهادي سبزواري، شرح المنظومة، قسم الحکمة، ص154، 155 (ترجمه: شرور عدمي‌ امور ہیں ۔ اس لیے کس ق   گمراه‌ ہیں وہ لوگ  که  جو[شرور کے پیدا کرنے والے کی جستجو میں لگے ہیں] يزدان اور اهرمن کے وجود پر یقین رکھتے ہیں)۔

[6]۔ مذکورہ دو مقدمات کا منطقی نتیجہ کچھ یوں ہے: ۔ اب ہم اس مقدمه کو مندرجہ ذیل استدلال کا کبراي  قرار دینگے: ۔ نتيجتاً: ۔

[7]۔ علاءالدين قوشجي، شرح تجريد العقائد، ص14 (حاشيه جلال‌الدين دواني)۔ اسی طرح، رجوع فرمائیں: فخرالدين رازي و نصيرالدين طوسي، شرحي الاشارات، ج2، ص80 (حاشيه رازي)؛ شهاب‌الدين سهروردي، مجموعه مصنفات، ج1 (المشارع و المطارحات) ص472۔

[8]۔ رجوع فرمائیں: فخرالدين رازي و نصيرالدين طوسي، شرحي الاشارات، ج2، ص79 (حاشيه طوسي)؛ ميرداماد، القبسات، ص432۔

[9]۔ ملاص ا خود  بھی  شرح اصول کافي، میں بعض شرور کے وجودي ہونے کو مانتے ہیں ؛ جیسا کہ بیان کرتے ہیں: صدر المتألهين شيرازي، شرح اصول الکافي، ج1، ص415۔

[10]۔ یہ مطلب اس نکته‌ کی جانب اشاره کرتا که جسکا بیان دوسرے جواب میں آئے گا ؛ يعني یہ کہ شر ایک نسبي امر ہے۔

[11]۔ صدر المتألهين شيرازي، الحکمة المتعالية، ج7، ص65، 66 (تعليقه سبزواري)۔

[12]۔ مرتضي مطهري، مجموعه آثار، ج1 (عدل الهي)، ص158۔

[13]۔ رجوع فرمائیں: ابن‏سينا، الشفا، الالهيات، ص419؛ ابن‌ميمون، دلالة الحائرين، ص493؛ ميرداماد، القبسات، ص434 و 466؛ ملا عبدالرزاق لاهيجي، گوهر مراد، ص324؛ محمد مهدي نراقي، جامع الافکار، ج1، ص456، 457؛ ملاهادي سبزواري، اسرار الحکم، ص105۔

[14]۔ جلال‌الدين مولوي، مثنوي معنوي، دفتر چهارم، ابيات 65 و 68۔

[15]۔ ابن‌سينا، الاشارات و التنبيهات، مع شرح نصيرالدين الطوسي، ج3، ص313 (نمط 7، ف27)۔

[16]۔ ان لوگوں کی نقد کے لیے کہ جو اس نظریہ کو  ست نہیں مانتے ، رجوع فرمائیں: ابن‏سينا، الشفا، الالهيات، ص422؛ ابن‌ميمون، دلالة الحائرين، ص496۔

[17]۔ رجوع فرمائیں: ابن‏سينا، الشفا، الالهيات، ص418؛ بهمنيار، التحصيل، ص660؛ شهاب‌الدين سهروردي، مجموعه مصنفات، ج1 (المشارع و المطارحات) ص467؛ صدر المتألهين شيرازي، الحکمة المتعالية، ج7، ص69؛ ملا عبدالرزاق لاهيجي، گوهر مراد، ص325؛ شهاب‌الدين آلوسي، روح المعاني، ج3، ص115؛ محمدحسين طباطبائی، الميزان، ج13، ص188۔

[18]۔ رجوع فرمائیں: ابن‏سينا، الشفا، الالهيات، ص418؛ ميرداماد، القبسات، ص434، 435؛ صدر المتألهين شيرازي، شرح اصول الکافي، ج1، ص415؛ ملاهادي سبزواري، شرح الاسماء الحسني، ص222، 223۔

[19]۔ محمدتقي مصباح يزدي، تعليقة علي نهاية الحکمة، ص474۔ اس جواب کی ایک لمبی تاریخ ہے؛ جیسا کہ بعض شیعہ اور سنی مفسرین نے انسانوں کی تخلیق سے متعلق فرشتوں کے تعجب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے (أَ تَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَ يَسْفِكُ الدِّمَاءَ) خدا کے جواب کی تفسیر کچھ اس طرح بیان کی ہے: سيکون من (ذلک) الخليفة رسلٌ و انبياء و قوم صالحون>۔ رجوع فرمائیں: ابن‌ابي‌حاتم، تفسير القرآن العظيم، ج1، ص80؛ شيخ طوسي، التبيان، ج1، ص133۔

[20]۔ رجوع فرمائیں: جان هيک، فلسفه دين، ترجمه بهزاد سالکي، ص121 (ڈیویڈ گريفين سے منقول)۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.