تشيع کا عمومي مفہوم

1- يہ کہ علي کو صرف عثمان پر افضل جاناہے ابوبکر و عمر سے افضل نہيں جانتے، تو اس طرح کي شيعيت ميں اصحاب و تابعين اور تبع تابعين کا بہت بڑا گروہ شامل ہو جائے گا جيسا کہ شمس الدين ذہبي نے ”‌ابان بن تغلب“ کے حالات ميں جن لوگوں نے ان کے شيعہ ہونے کے بارے ميں کہا ہے اس سلسلہ ميں اظہار خيال کرتے ہيں کہ؛ بدعت دو طرح کي ہوتي ہے، بدعت صغريٰ جيسے شيعوں کي بدعت، يا شيعوں کي بدعت جس ميں غلو و تحريف نہ ہو، تو اس ميں تابعين اور تبع تابعين جو صاحبان دين زہد و ورع ہيں ان کي کثير تعداد شامل ہے، اگر ان افراد کي حديثوں کو غير قابل قبول مانا جائے تو تمام احاديث و آثار نبوي ختم ہو جائيں گے اور يہ بہت بڑا نقصان ہوگا، غلو کرنے والے شيعہ گذشتہ زمانے ميں تھے اور ان کي شناخت يہ ہے کہ وہ لوگ، عثمان، زبير، طلحہ، معاويہ اور وہ گروہ جنھوں نے علي سے جنگ کي ان پر لعن طعن کے قائل تھے-

2- وہ لوگ جو اس بات کے قائل ہيں کہ علي تمام اصحاب پر فضيلت و برتري رکھتے تھے جن ميں ابوبکر و عمر شامل ہيں، ليکن اس اعتراف کے ساتھ کہ ان دونوں (ابوبکر و عمر) کي خلافت صحيح تھي اور علي اور کسي ايک کے لئے بھي کوئي نص نہيں تھي جو علي کي خلافت پر دلالت کرے-

بغدادي فرقہ معتزلہ اور بعض بصريوں نے اس کي مزيد وضاحت کي ہے-

ابن ابي الحديد معتزلي نے شرح نہج البلاغہ کے شروع ہي ميں اس بات کي تفصيل پيش کردي ہے کہ ہمارے تمام شيوخ رحمھم اللّٰہ خواہ وہ متقدمين ہوں يا متاخرين بصري ہوں يا بغدادي سب نے اس بات پر اتفاق کياہے کہ حضرت ابوبکر صديق کي بيعت صحيح اور شرعي تھي گو کہ نص (نبوي يا الٰہي) کے تحت نہ تھي، بلکہ اختيار پر منحصر تھي جواجماع او رغير اجماع کے ساتھ واقع ہوئي امامت تک رسائي کا يہ بھي ايک راستہ ہے ،خود تفضيل کے سلسلہ ميں اختلاف نظر ہے-

بصري، قدماء ميں سے جيسے ابوعثمان، عمروبن عبيدہ، ابي اسحاق، ابراہيم بن يسار النظام، ابوعثمان عمرو بن بحر ابي  ابو معن ثمامہ ابن اثرس، ابو محمد ہشام بن عمور فوطي، ابي يعقوب يوسف بن

عبد اللہ الشحام اور دوسرے افراد کا کہنا ہے کہ ابوبکر حضرت علي سے افضل تھے، اور ان لوگوں نے افضليت کي ترتيب مسند خلافت پر آنے کي ترتيب سے مرتب کي ہے-

بغدادي تمام متقدمين و متاخرين شخصيتوں مثلاً، ابي سہل بشر بن المعتمر، ابي موسيٰ بن صبيح، ابي عبد اللہ جعفر بن مبشر، ابي جعفر اسکافي،ابي الحسين خياط، ابي القاسم عبد اللہ بن محمود بلخي اور ان کے شاگردوں کا کہنا ہے کہ حضرت علي ابوبکر سے افضل تھے.

بصريوں ميں اس نظريے کے قائل ابوعلي محمد بن عبد الوہاب جبائي آخري فردہيں، اور يہ (توقف آراء) کرنے والے افراد سے پہلے تھے، يہ حضرت علي کي تفضيل کے قائل تھے مگر اس کي صراحت نہيں کي، جب انھوں نے تصنيف کي تو ان تصانيف ميں توقف فرمايا اور يہ کہہ کر اکتفا کي کہ اگر حديث طير صحيح ہے تو حضرت علي افضل ہيں-

(1) ابن کثير نے البداية والنہاية، ج7، ص387، پر کہا ہے کہ اس حديث کے سلسلہ ميں لوگوں نے کتابيں تحرير کي ہيں پھر ان روايات کو درج کياہے جس ميں يہ حديث ذکر ہے ترمذي نے اپنے اسناد کے ساتھ انس سے روايت کي ہے کہ رسول کے پاس ايک (بھنا ہوا) پرندہ تھا تو آپ نے فرمايا: ”‌اللّٰہم ائتني باحب خلقک اليک ياکل معي من ہذا الطير“ خداجو تيرے نزديک سب سے محبوب ہو اس کو ميرے پاس بھيج دے تاکہ اس پرندہ کے گوشت ميں ميرا سہيم ہوسکے حضرت علي اس وقت تشريف لائے اور رسول خدا کے ساتھ شريک ہوئے اس کے بعد ابن کثير نے متعدد روايات کواس موضوع سے متعلق مختلف طرق سے ذکر کيا ہے اس کے بعد کہا ہے کہ ان کي تعداد نوے (90) سے زيادہ ہے اور کہا کہ اس حديث سے متعلق مستقل کتابيں تحرير کي ہيں جن ميں سے ابوبکر بن مردويہ، حافظ ابوظاہر، محمد بن احمد بن حمدان ہيں جس کو ہمارے شيخ ابو عبد اللہ ذہبي نے ذکر کيا ہے ابي جعفر بن جرير طبري کي ايک مستقل جلد کتاب ديکھي ہے جس ميں تمام طرق اور الفاظ حديث کو ذکر کيا ہے ليکن قاضي ابي بکر باقلاني متکلم کي ايک کتاب ديکھي اس کي سند ميري نظر ميں ضعيف ہے، ہر چند کہ اس حديث کو متعدد طرق سے نقل کيا گياہے پھر بھي اس کي صحت ميں نظريات مختلف ہيں اس حديث کي رد کي اصل وجہ ہے کہ مسلمانوں کے عام فرقوں کے عقيدہ کے خلاف ہے اور وہ يہ کہ علي کا تمام اصحاب پر افضليت رکھنا کيونکہ يہ حديث رسول کے بعد تمام کائنات ميں علي کو افضل ثابت کرتي ہے—

قاضي القضاة نے ابوالقاسم کي کتاب المقالات کي شرح ميں لکھا ہے کہ ابو علي نے آخري وقت ميں علي کي افضليت کا اقرار کيا ہے، اور يہ بات انھوں نے سماعي (سن کر) نقل کياہے ان کي تصنيفات ميں اس کا کوئي تذکرہ موجود نہيں ہے-

دوسري جگہ قاضي القضاة کہتے ہيں: جب ابو علي کا وقت احتضار تھا تو انھوں نے اپنے بيٹے ابوہاشم کو اشارہ سے بلايا جب کہ ان کي آواز ميں رعشہ تھا، ابوہاشم کو بہت سارے راز وديعت کئے جن ميں سے حضرت علي کے افضليت کا بھي مسئلہ تھا-

جو افراد حضرت کي افضليت کے قائل تھے ان ميں بصريوں ميں سے شيخ ابو عبد اللہ حسين بن علي بصري تھے جنھوں نے حضرت علي کي افضليت پر تحقيق کي تھي اور اس پر مُصِر بھي تھے اوراس حوالے سے مستقل ايک کتاب بھي تاليف کردي-

بصريوں ميں سے جو حضرت علي کي افضليت کے قائل تھے، وہ قاضي القضاة ابوالحسن عبد الجبار بن احمد ہيں-

ابن متويہ نے علم کلام کي کتاب (الکفايہ) ميں قاضي القضاة سے نقل کيا ہے کہ وہ ابو بکر و علي کي افضليت کے مسئلہ پر توقف کرنے والوں ميں سے تھے انھوں نے اس پر کافي طويل احتجاج کيا ہے لہٰذا يہ دو مذہب ہيں جس کو آپ نے درک کيا-

اس حديث کو متعدد محدثين نے مختلف الفاظ ميں ذکر کيا ہے جيسے ترمذي، حديث 3721، طبري، ج1، ص226، ج7، ص96، ج10، ص 343، ذہبي، ميزان عدالت، ص 280، 2633، 7671، 8506، ابن حجر، لسان العرب ميں، ج1، ص71، 85، کنز العمال، 46507، 3964، مشکوٰة، 6085، مجمع الزوائد، ج9، ص125، الاتحاف، ج7، ص120، تذکرة، 9494، تاريخ دمشق، ج5، ص222، ج7، ص342، تاريخ جرجان، ص176، ان کے علاوہ ديگر کتب بھي ہيں جن ميں اس حديث کا تذکرہ ہے-

بزرگوں کي ايک کثير تعداد نے ابوبکر و علي کي افضليت پر اظہار نظر سے توقف کيا ہے، اس بات کا ادعا ابو حذيفہ، واصل بن عطاء اور ابو ہذيل محمد بن ہذيل علاف نے کيا ہے جو کہ متقدمين ميں سے ہيں، در آں حاليکہ ان دونوں نے ابوبکر و حضرت علي کے درميان افضليت پر توقف کيا ہے ليکن حضرت علي کو عثمان پر قطعي طور پر افضل جانتے ہيں-

جو لوگ توقف کے قائل ہيں ان ميں سے ابوہاشم عبد السلام بن ابي علي، شيخ ابو الحسين محمد بن علي بن طيب بصري ہيں-

ابي الحديد کہتے ہيں: ليکن ہم لوگ اسي نظريہ کے قائل ہيں جس کو ہمارے بغدادي شيوخ نے اختيار کيا ہے يعني حضرت کا افضل ہونا، اور کلامي کتابوں ميں ہم نے افضل کے معنيٰ کو ذکر کيا ہے-

افضل سے مراد کثرت ثواب يا کثرت فضيلت و اوصاف حميدہ کا حامل ہونا ہے، ہم نے وہاں ذکر کيا ہے کہ آپ دونوں معنيٰ ميں افضل تھے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More