تدبير کار، خود نصف معيشت ہے

ور فرمايا : جس کسي نے بھي قناعت اختيار کي خدا اسے بے نياز کر ديتا ہے اور جس نے فضول خرچي کي خدا اسے فقير کر ديتا ہے ” –

اس بات ميں ذرا بھي شک نہيں ہے کہ جس کسي نے بھي قناعت اختيار کي وہ مخلوق کا محتاج نہيں رہتا ہے اور پست خيال لوگوں کي چاپلوسي اور چرب زباني سے بچا رہتا ہے – قانع انسان خدا اور مخلوق کو عزيز ہوتا ہے –

قناعت توانگر کند مرد را

خبر کن حريص جهانگرد را

قناعت کن اي نفس بر اندکي

که سلطان و درويش بيني يکي

چو سيراب خواهي شدن ز آب جوي

چرا ريزي از بهر برف آبروي

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے روايت ہے کہ ” ميانہ روي ايک ايسا امر ہے کہ جس کو خدا پسند کرتا ہے اور فضول خرچي ايسي چيز ہے کہ جسے خدا دشمن جانتا ہے حتي کجھور کي گٹھلي کو دور پھيکنا کيونکہ وہ بھي کام آتي ہے اور نيلے شربت کو زيادہ ڈالنا –

اور فرمايا کہ ميں ضامن ہوں اس کسي کا کہ جو ميانہ روي اختيار کرے ھرگز فقير نہيں ہو گا –

اور جب اس کي معيشت بہتر ہو جاۓ تو اس کے بعد اسے اضطراب کا شکار نہيں ہونا چاہيۓ اور اللہ تعالي کے فضل و کرم پر اعتماد کامل رکھنا چاہيۓ اور اس بات سے آگاہ رہنا چاہيۓ کہ اس کي روزي اس کے ليۓ مقرر ہے جو اسے مل کر رہے گي – اس ليۓ حرص و ہوس کا کوئي فائدہ نہيں ہے –

ما آبروي فقر و قناعت نمي بريم

با پادشه بگوي که روزي مقرر است

ارشاد باري تعالي ہے کہ

«و ما من دابة في الارض الا علي الله رزقها»

يعني زمين پر کوئي ايسا جاندار نہيں ہے جسے خدا روزي نہ ديتا ہو –

«و من يتق الله يجعل له مخرجا و يرزقه من حيث لا يحتسب»

يعني جو کوئي پرھيزکاري کرے خدا اسے ہر غم سے نجات ديتا ہے اور اس تک وہاں سے روزي پہنچاتا ہے جہاں سے اسے گمان بھي نہيں ہوتا –

روزمرّہ کي زندگي ميں اپنے سے بہتر لوگوں پر نظر ڈالنے کي بجاۓ اپنے سے زيادہ مجبور لوگوں پر بھي نظر ڈالني چاہيۓ – ان حالات ميں شيطان کي اطاعت سے پرہيز کرنا چاہيۓ اور اس کے بہکاوے ميں نہيں آنا چاہيۓ – شيطان انسان کو اپنے سے بہتر لوگوں کي طرف ديکھنے کے ليۓ اکساتا ہے اور کہتا ہے کہ ديکھو فلاں کس خوشگوار ماحول ميں زندگي گزار رہا ہے اور کتني لذيذ غذائيں کھاتا ہے ؟ اور کتنے خوبصورت لباس پہنتا ہے ؟ خود کو ان سے پست مت کرو اور دنيا کے مال کو حاصل کرنے ميں سستي مت کر –

اس کے برعکس دين کے کاموں کے سلسلے ميں شيطان انسان کو اپنے سے کم تر لوگوں کي طرف ديکھنے پر مجبور کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کيوں خود کو ايسے کاموں کي انجام دہي کي وجہ سے تکليف دے رہے ہو اور رنج ميں مبتلا ہو اور خدا سے خوامخواہ ڈرتے ہو – دوسروں کي مثاليں دے کر کہتا ہے کہ فلاں تم سے بھي بدتر ہے اور وہ خدا سے بھي نہيں ڈرتا ہے – ضروري ہے کہ انسان خدا کے بتاۓ ہوۓ اصولوں کے مطابق زندگي گزارے اور شيطان کي باتوں ميں مت آۓ – خالق کي دي ہوئي زندگي کو اسي کے بتاۓ ہو ۓ اصولوں کے مطابق گزار کر ہي انسان دنيا اور آخرت ميں کاميابياں حاصل کرتا ہے

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More