بیعت رضوان اور قاتلین عثمان

0 18

عثمان کو قتل کرنے والے چھ افراد کا تعلق اصحاب شجرہ یعنی بیعت رضوان سے تھا؛ عدالت صحابہ کے اثبات کی خاطر بیعت رضوان کو بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے لیکن اس بات کے مدّ نظر اہل تشیع کا بیان بالکل درست ہے کے بعض صحابہ عادل ہیں نہ کہ سب کہ سب۔

بیعت رضوان اور قاتلین عثمان

بیعت رضوان میں شامل  اورقتل عثمان میں شریک بعض صحابہ کا مختصر تذکرہ پیش خدمت ہے:
1:- فروہ بن عمرو انصاری: یہ بدری صحابی اور بیعت رضوان والے تھے اور امام مالک نے موطا میں انکا نام نہیں لکھا کیونکہ انہوں نے عثمان کے قتل میں اعانت کی تھی۔[اسد الغابہ از ابن اثیر الجزری متر جم عبد الشکور فاروقی جلد2 حصہ ہشتم ص 722 الاستیعاب حافظ عبد الله بن البر ج3 ص600]
2:۔ محمد بن عمرو بن حزم انصاری: یہ وہ صحابی ہیں جن کا نام بھی نبی اکرم (ص) نے رکھا تھا اور حضرت عثمان کے مخالفین محمد ون ثلاثہ میں سے ہیں جن میں ایک محمد بن ابی بکر دوسرے محمد بن حذیفہ تیسرے محمد بن عمرو بن حزم تھے۔[الاستيعاب حافظ عبد الله من البر ج3ص 649]
3:- جبلہ بن عمرو ساعدی انصاری: بدری صحابی ہیں؛ یہ وہ صحابی ہیں جنہوں نے حضرت عثمان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے سے روکا۔[انساب الاشراف الامام احمد بن مین البلازری ج 6م 600 الاصابہ فی تمییز الصحابہ ج 2 حرف جیم ترجمہ نمبر 1082]
4 :۔ عبداللہ بن بدیل بن ورقاء خزاعی : امام بخاری نے کہا یہ وہی ہیں جنہوں نے حضرت عثمان کا گلا کاٹا تھا۔[تاریخ الاسلام شمس الدين الذھبی]
5:۔ عمرو ابن الحمق : بیعت رضوان کا شرف حاصل تھا انہوں نے حضرت عثمان پر خنجر سے نووار کئے تھے اور کہا کہ تین خنجر اللہ کے لئے اور چھ وار اپنے لئے مارے ہیں۔[تهذيب الكمال ج4 ص 204 تہذیب التہذیب ج8 ص 22]
6:- عبد الرحمان بن عدیس:یہ بھی اصحاب شجرہ میں سے ہیں اور یہ قرطبی کے مطابق عثمان کے مخالفین اور اہل مصر کے لیڈر تھے اور بالآخر عثمان کو قتل کیا۔[الاستيعاب حافظ عبد الله من البر ج2 ص383]
دوسری جانب وہ اصحاب شجرہ جو عثمان بن عفان کے قتل میں شریک تھے ان کو کن الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے ملاحظہ فرمائیں۔
مسلمانوں کے بہترین لوگوں میں سے کوئی شخص بھی قتل عثمان میں شریک نہیں تھا اور نہ قتل عثان کے حکم کرنے میں شریک تھا۔ حضرت عثمان کو مفسدین کے ایک طائفہ نے قتل کیا وہ طائفہ قبائل کے اوباش لوگوں میں سے تھا اور فتنہ بپاکرنے والوں میں سے تھا۔۔۔ اور اسی وجہ سے علماء کبار نے ان لوگوں کو باغی کے بجائے مفسد، ظالم اور سرکش کا نام دیا ہے۔[رحماء بینهم مولانا محمد نافع جلد4 ص393،392]
………………..
منابع
اسد الغابہ از ابن اثیر الجزری متر جم عبد الشکور فاروقی
الاستيعاب حافظ عبد الله من البر
تاریخ الاسلام شمس الدين الذھبی

مزید  اَجَل کے دو معنی قرآن کریم کی روشنی میں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.