باب مسئلہء امامت

امام کا وجود ہمیشہ ضروری ہے۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ جس طرح سے خداوند عالم کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ انسانوں کی ھدایت کے لیے انبیاء و رسل کوبھیجے، اسی طرح سے اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ ہر عصر اور زمانہ میں انبیاء کے بعد امام اورھادی کو بھیجے ، جو انبیاء کی شریعتوں اور اللہ کے دین کو تحریف و تغییر سے بچائیں، لوگوں کو عصری تقاضوں سے با خبر کریں اور خدا کے احکام اور شریعت پر عمل کی دعوت دیں۔ اس لیے کہ اگر ایسا نہ ہو تو انسان کی سعادت اور کامیابی ،جو انبیاء کے آنے کا مقصد ہے ، متحقق نہیں ہو سکے گا اور انسان راہ ھدایت سے دور ، انبیاء کی تبلیغ ضایع اور لوگ سرگردان رہ جائیں گے۔

مذکورہ بالا دلائل کے پیش نظرہمارا عقیدہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کوئی بھی عھد یا زمانہ امام کے وجود سے خالی نہیں رہا ہے: یا ایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ و کونوا مع الصادقین۔ ترجمہ۔ اے ایمان والو، تقوی الہی اختیار کرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔

یہ آیہء کریمہ کسی خاص زمانہ تک کے لیے محدود نہیں ہے اور اس میں بغیر کسی قید و شرط کے صادقین کے ساتھ ہونے کا بیان،ا س بات کی دلیل ہے کہ ہر عصر میں امام معصوم موجود ہوتا ہے جس کی پیروی کی جانی چاہیے، جیسا کہ بہت سے شیعہ سنی مفسرین نے اپنی تفاسیر میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ 

۔امامت کیا ہے؟

ہمارا عقیدہ ہے کہ امامت فقط ظاہری حکومت کا عہدہ نہیں ہے بلکہ ایک نہایت بلندروحانی اور معنوی منصب ہے۔امام، اسلامی حکومت کی قیادت کے ساتھ ساتھ دین و دنیا کے معاملہ میں ہمہ گیر حکومت کا بھی ذمہدار ہے۔ امام،لوگوں کی روحانی و فکری راہنمائی کرتا ار پیغمبر اسلام (ص) کی شریعے کو جملہ تحریفات اور تغےّر اور تبدل سے محفوظ رکھتا ہے۔ امام، ان اہداف کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے جن کے لئے پیغمبر اسلام (ص) مبعوث ہوئے تھے۔

یہ وہی عظیم منصب ہے جو خدا نے ابرا ہیم (ع) خلیل اللہ کو نبوت اور رسالت کا راستہ طے کرنے اور متعدد امتحانات میں کامیابی کے بعد عطا کیا ۔انہوںنے بھی خدا کے حضور اپنی ذریّت اور اولاد میں سے بعض کے لئے اس عظیم منصب کی درخواست کی اور انہیں یہ جواب ملا کہ ظالم اور گناہ گار لوگ ہر گز اس رتبے پر فائز نہیں ہو سکیں گے۔

(واذابتلٰی ابراھیم ربہ بکلمات فاتمھنّ قال انّی جاعلک للنّاس اماما قال ومن ذرّیتی قال لا ینال عھدی الظّالمین ) یعنی اس وقت کو یاد کرو کہ جب خدا نے ابراھیم (ع) کو مختلف چیزوں سے آزمایا اور وہ خدا کی آزمائش سے سرخ رو ہوکر نکلا ۔خدا نے فرمایا میں نے تجھے لوگوں کا امام بنایا ہے۔ ابراھیم (ع) نے عرض کی، میری نسل میں سے بھی امام بنائیے۔ خدا نے فرمایا میرا یہ عھدہ(امامت)ہرگز ظالموں کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ (اور تیری نسل سے فقط معصوم لوگوں کو حاصل ہوگا)۔ (سورئہ بقرہ،آیت ۱۲۴)

واضح رہے کہ اتنا عظیم منصب صرف ظاہری حکومت سے عبارت نہیں ہو سکتا۔اگر امامت کا جلوہ وہ نہ ہو جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے تو مزکورہ بالا روایت کا کوئی واضح مفہوم نہیں ر ہے گا۔

ہمارہ عقیدہ ہے کہ: تمام اولوالعزم انبیاء کو امامت کا مرتبہ حاصل تھا ۔جو کچھ انہوں نے اپنی رسالت کے ذریعہ پیش کیا اس پر خود عمل کیا۔ وہ لوگوں کے معنوی ، مادی ، ظاہری اور باطنی قائد تھے ۔خاص کرپیغمبر اسلام (ص) کو اپنی نبوت کے آگاز سے ہی امامت اور رہبری کے عظیم مرتبے پر فائز تھے۔ان کا کام فقط خدا کے احکام کو آگے پہونچانا نہیں تھا۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ پیغمبر اسلام (ص)کے بعد امامت کا سلسلہ ان کی پاک ذریت کے درمیان جاری رہا ہے۔

امامت کی جو تعریف اوپر کی گئی ہے اس سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ اس ،قام تک رسائی دشوار شرائط کی حامل ہے۔خواہ تقویٰ (ہر گناہ سے معصوم ہونے کی حد تک) کے لحاظ سے ہو یا علم و دانش اور دین کے تمام معارف و احکامات کو جاننے نیز انسانوں کی شناخت اور ہر عصر میں ان کی ضروریات کو پہچاننے کے حوالے سے۔ (غور کیجئے) 

۔امام ،گناہ اور غلطی سے محفوظ ہے

ہمارا عقیدہ ہے کہ:امام کو ہر گناہ اور غلطی سے معصوم ہونا چاہئے،کیونکہ مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں بیان شدہ بات کے علاوہ غیر معصوم شخص پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور اس سے دین کے اصول وفروع اخذ نہیں کئے جا سکتے۔ اس لئے ہماراعقیدہ ہے کہ امام کی گفتگو اس کے افعال اور تقریر کی حجت اور شرعی دلیل ہے۔ (تقریر سے مراد یہ ہے کہ امامم کے سامنے کوئی کام انجام دیا جائے اور وہ اپنی خاموشی کے ذریعہ اسکی تائید کرے) 

۔امام، شریعت کا محافظ

ہمارا عقیدہ ہے کہ :امام ہرگز اپنے ساتھ کوئی زریعت یا دین لیکر نہیں آتا بلکہ اسکی ذمہ داری پیغمبر (ص) کے دین کی حفاظت اور آپکی شریعت کی نگہبانی ہے۔اس کا کام دین کی تبلیغ ، تعلیم ،دین کی ھفاظت اور لوگوں کو اس دین کی طرف بلانا ہے۔ 

۔امام ،لوگوں میں سب سے زیادہ اسلام سے آگاہ ہے

نیز ہماراعقیدہ ہے کہ:امام کو اسلام کے تمام اصول و فروع،احکام وقوانین اور قرآن کے معانی و تفسیر سے مکمل طور پر آگاہ ہونا چاہئے۔ان چیزوں کے متعلق اس کے علم کا سرچشمہ خدا کی ذات ہے اور یہ علم پیغمبر و کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔

جی ہاں؛اس طرح کے علم پر ہی لوگوں کو مکمل اعتماد ہو سکتا ہے اور اسلام کی حقیقتوں کو سمجھنے کے لئے اس پر ہی اعتماد کیا جا سکتاہے۔ 

۔امام کو منصوص ہونا چاہئے

ہمارا عقیدہ ہے کہ:امام (جانشین پیغمبر (ص)) کو منصوص ہونا چاہئے ،یعنی اسکی امامت پیغمبر (ص) کے صریح اور واضح پیغام کے مطابق ہونی چاہئے اور بعد والے امام کے لئے پہلے امام کی تصریح ضروری ہے۔بالفاظ دیگر امام بھی پیغمبر کی طرح خدا کی طرف سے(پیغمبر (ص) کے ذریعے) متعین ہوتا ہے۔ جس طرح ہم نے ابراہیم (ع) کی امامت سے متعلق آیت میں پڑھا:(انّی جاعلک للنّاس اماما)یعنی میں نے تجھے لوگوں کا امام قرار دیا ہے۔

اس کے علاوہ (عصمت کی حد تک)تقویٰ اور بلند علمی مقام(جو تمام احکامات اور تعلیمات الھٰی پر ایسے احاطہ کی صورت میں ہو جس میں غلطی اور اشتباہ کی گنجائش نہ ہو) کی موجودگی کا علم صرف خدا اور ر سول (ص) کے پاس ہی ہو سکتا ہے۔

بنانبر ایں ہمارے عقیدہ کی رو سے معصوم اماموں کی امامت لوگوں کی رائے سے نہیں حاصل ہو سکتی ہے۔

اماموں کا تعین،رسول (ص) کے ذریعے

ہمارا عقیدہ ہے کہ:پیغمبر اکرم (ص)نے اپنے بعد والے اماموںکومتعین فرمایا ہے۔حدیث ثقلین (جو مشہور و معروف ہے)میں حضور (ص)نے اماموں ک اجمالی ذکر کیا ہے۔

صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ”خم “نامی جگہ پر پیغمبر اکرم (ص) نے کھڑے ہوکر ایک خطبہ دیا ۔ اس کے بعد فرمایا:میں عنقریب تم لوگوں سے جدا ہو جاؤں گا۔(انّی تارک فیکم الثّقلین،اوّلھما کتاب اللہ فیہ الھدیٰ والنّورواھل بیتی،اذکرکم اللہ فی اھل بیتی)”یعنی میں تمہارے درمیان دو ران قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ۔ا ن میں سے پہلی چیز کتاب اللہ ہے جس میں نور اور ہدایت ہے اور (دوسری چیز)میرے اھل بیت ہیں ۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوںکہ میرے اھل بیت کے سلسلے میں خدا کو فرماوش نہ کرناْْْْْْْْْْْْْ(آنحضرت (ص)نے یہ جملہ تین بار دہرایا)۔(صحیح مسلم ،جلد۴صفحہ۱۸۷۳)۔

صحیح ترمذی میں بھی اس بات کا ذکر ہوا ہے اور صریحا مذکور ہے کہ اگر ان دونوں سے متمسک رہوگے تو ہر گزگمراہ نہ ہوگے۔(صحیح ترمذی ،جلد۵ صفحہ۶۶۲)یہ حدیث سنن دارمی ، جلد ۲ صفحہ ۴۴۲۲،خصائص نسائی صفحہ ۲۰، مسند احمد،جلد۵ صفحہ ۱۸۲ اور کتاب کنز العمال جلد ۱۰ صفحہ ۱۸۵ حدیث۹۴۵ اور دیگر مشہور و معروف اسلامی کتب میں مذکور ہے۔ اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہو سکتا ۔ حقیقت میں اس ھدیچ کا شمار ان متواتر احادیث میں ہوتا ہے جن کا انکار کوئی مسلمان نہیں کر سکتا۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی مرتبہ مختلف مواقع پر یہ حدیث بیان فرمائی ہے۔

وااضح سی بات ہے کہپیغمبر اکرم (ص) کی ذرّیت کے سارے لوگ اس عظیم مرتبے کے حامل اور قرآن کے ہم پلّہ نہیں ہو سکتے۔لہٰذا یہ پیغمبر اکرم (ص) کی ذرّیت میں سے فقط معصوم اماموں کی طرف اشارہ ہے(یاد رہے کہ صرف کمزور اور مشکوک احادیث میں اہل بیتی کی جگہ لفط سنّتی مذکور ہے)۔

اس سلسلے میں ہم ایک اور معروف حدیچ سے استدلال کریں گے (جو صحیح بخاری ،صحیح مسلم،صحیح ترمذی،صحیح ابوداؤد ۔مسند حنبل اور دیگر کتب میں مذکور ہے)۔پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا ہے:(لا ےزال الّذین قائما حتّیٰ تقوم السّاعة او ےکون علیکماثنٰی عشر خلیفة کلّھم من قریش) یعنی دین اسلام قائم رہے گا یہاں تک کہ قیامت اآجائے یا بارہ خلیفہ تم پر حکومت کریں،یہ خلفاء سب کے سب قریش سے ہوں گے۔(صحیح مسلم ،جلد۳صفحہ ۱۴۵۳میں یہ عبارت —” جابر ابن سمرہ“نے نبی اکرم سے نقل کی ہے۔یہی عبارت مختصر سے فرق کے ساتھ مذکورہ بالا کتب میں مذکور ہے۔دیکھئے صحیح بخاری،جلد ۴ صفحہ۱۰۱،صحیح ترمذی،جلد ۴ صفحہ۵۰۱اورصحیح ابی داؤد،جلد ۴ کتاب المہدی)

ہمارا عقیدہ ہے کہ :ان روایا ت کی قابل قبول تفسیر صرف وہی ہو سکتی ہے جو بارہ اماموں کے متعلق شیعہ امامیہ نے کی ہے۔ذرا غور فرمائیں کہ کیا اسکے علاوہ کوئی معقول تفسیر ہو سکتی ہے؟ 

۔پیغمبر اکرم کے ذریعہ،حضرت علی (ع)کا تعین

ہمارا عقیدہ ہے کہ :پیغمبر اسلام (ص) نے متعدد جگہوں پرحضرت علی (ع) کو بالخصوص اپنے جانشین کے طور پر (خدا کے حکم سے)معین فرمایا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ حجةالوداع سے لوٹتے وقت صحابہ کے ایک عظیم اجتماع میں غدیر خم (جحفہ کے نزدیک ایک جگہ) کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:(ایھاالنّاس الست اولٰی بکم من انفسکم قالوا بلیٰ،قال فمن کنت مولاہ فعلی مولاہ) یعنی اے لوگوں کیا میں تم پر تمہاری بہ نسبت زیادہ اختیار نہیں رکھتا ؟انہوںنے کہا،کیوں نہیں۔آپ (ص) نے فرمایا :بس جس کا میں مولا ہوں اس کا علی (ع) مولا ہے)۔(یہ حدیث متعدد اسناد کے ذریعہ نبی اکرم (ص) سے نقل ہوئی ہے ۔حدیث کے راویوں کی تعداد ۱۱۰ اصحاب اور ۸۴ تابعین سے زیادہ ہے۔۳۶۰ سے زیادہ مشہور اسلامی کتابوں میں یہ حدیث منقول ہے جس کی تفصیل اس مختصر سی کتاب میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ دیکھئے پیام قرآن ،جلد ۹ صفحہ ۱۸۱ اور مابعد۔)

یہاں چونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ان عقائد کی مزید دلائل بیان کریں اور بحث اور تمحیص کو طول دیں لہٰذایہی کہنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ مذکورہ حدیث کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ اسے ایک عام سی خوشنودی یا محبت کے اظہار کا عنوان دیا جا سکتا ہے جبکہ پیغمبر اسلام (ص) نے اتنے بڑے اہتمام اور تاکید کے سا تھ اسے بیان کیا ہے۔

کیا یہ وہی چیز نہیں ہے جس کا ابن کثٰیر نے اپنی تاریخ ”الکامل“میں ذکر کیا ہے؟کہ پیغمبر اسلام (ص) نے اپنی تبلیغ کے آغاز میں قرآنی آیت(انذر عشیرتک الاقربین) کے نزول کے بعد اپنے عزیزوں کو جمع کیا اور انکے سامنے اسلام پیش کرنے کے بعد فرمایا:

(ایّکم یوازرنی علیٰ ھٰذاالامر علیٰ ان یکون اخی و وصیّی و خلیفتی فیکم) یعنی تم میں سے کون اس کام میں میری مدد کرے گا تاکہ وہ میرا بھائی ، میرا وصی اور تمہارے درمیان میرا خلیفہ و جانشین ہو؟

حضرت علی (ع) کے سوا کسی نے پیغمبر (ص) کی بات کا جواب نہیں دیا ۔حضرت علی (ع) نے عرض کیا-:(انا یا نبیّ اللہ اکون وزیرک علیہ) یعنی اے اللہ کے نبی میں اس کام میں آپ کا وزیر اور مددگار بنوں گا۔

پیغمبر اکرم نے انکی طرف اشارہ کیا اور فرمایا:(انّ ھٰذا اخی و وصیّی وخلیفتی فیکم)یعنی بہ تحقیق یہ میرا بھائی، میرا وصی اور تمہارے درمیان میرا جانشین ہے۔(کامل ابن اثیر ،جلد۲ صفحہ۶۳، مطبوعہ بیروت /دارصادرم، مسند احمد بن حنبل،جلد ۱ صفحہ۱۱،شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۱۳ صفحہ۲۱۰ و دیگر مئولفین نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں یہی بات بیان کی ہے۔)

کیا وہ مسئلہ نہیں ہے جس کا اعلان پیغمبر اسلام (ص)اپنی عمر کے آخری حصّہ میںایک بار پھر کرنا چاہتے تھے اور اسکی تاکید کرنا چاہتے تھے؟صحیح بخاری کے بقول آنحضرت (ص)نے حکم ددیا:(ایتونی اکتب کتابا لن تضلّوا بعدہ ابدا) یعنی کوئی چیز (کاغز و قلم ) لے آؤتاکہ تمہارے لئے ایسی چیز لکھ دوں جس کے بعد تم ہر گز گمراہ نہ ہوں گے۔اسی حدیث میں مذکور ہے کہ بعض حضرات نے اس سلسلے میں پیغمبر (ص) کی مخالفت کی یہاں تک کہ بہت ہی توہین آمیز بات کی اور رکاوٹ بن گئے۔(بخاری نے جلد ۵ صفحہ ۱۱ باب ”مرض النبی“ میں یہ حدیث بیان کی ہے۔اس سے زیادہ واضح صحیح مسلم ،جلد ۳ صفحہ ۱۲۵۹ میں مذکور ہے۔)

ہم ایک بار پھر اس بات کی تکرار کریں گے کہ یہاں ہمارا مقصد عقائد کو مختصر سے استدلال کے ساتھ بیان کرنا ہے اور زیادہ تفصیلی بحث کی گنجائش نہیں ہے،وگرنہ گفتگو کا انداز کچھ اور ہوتا۔ 

۔ہر امام کی تاکید،اپنے بعد والے امام کے بارے میں

ہمارا عقیدہ ہے کہ :بارہ اماموں میں سے ہر ایک کی تائید اس سے پہلے والے امام کے ذریعہ ہوتی ہے۔سب سے پہلے امام ھضرت علی علیہ السلام ہیں ان کے بعد انکے بیٹے امام حسن علیہ السلام ،ان کے بعد امام علی علیہ السلام کے دوسرے بیٹے سےدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام ،ان کے بعد انکے بیٹے امام حضرت علی ابن الحسین علیہ السلام ،ان کے بعد انکے بیٹے امام محمد باقی علیہ السلام ،ان کے بعد انکے بیٹے امام جعفربن محمد الصادق علیہ السلام،انکے بعد انکے بیٹے امام موسیٰ ابن جعفر علیہ السلام ،ان کے بعد انکے بیٹے علی ابن موسیٰ الرّضا علیہ السلام،پھر انکے بیٹے محمد ابن علی التقی علیہ السلام ،ان کے بعد انکے بیٹے علی ابن محمد النقی علیہ السلام،ان کے بعد ان کے بیٹے ھسن ابن علی العسکری علیہ السلاماور سب سے آخری امام محمد بن الحسن المھدی علیہ السلام ہیں۔ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہیں لیکن لوگوں کی نظر وں سے غائب ہیں۔

البتہ حضرت مہدی علیہ السلام (جو دنیا کو عدل و انصاف سے پر کر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے پر ہو چکی ہوگی) کے وجود پر ایمان صر ف ہمارے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ تمام مسلمان اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔بعض سنی علماء نے حضرت امام مہدی علیہ السلام سے متعلق روایات کے متواتر ہونے پر الگ کتابیں لکھی ہیں۔(رابطةالعالم الاسلامی) کی طرف سے شائع ہونے والے رسالے میں چند سال قبل امام مہدی علیہ السلام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں امام (ع) کے ظہور کو حتمی قرار دیاگیا تھا اور ساتھ ہی امام حضرت مہدی علیہ السلام کے متعلق پیغمبر اکرم (ص) کی مشہور و مستند روایات کے کافی سارے اسناد کا ذکر ہوا تھا(یہ خط ۲۴شوال۱۳۹۶ ہجری کو ”رابطةالعالم الاسلامی“ سے ” مجمع الفقہ الاسلامی“ کے ڈائرکٹرمحمدالمنتصرالکتانی کے دستخط کے ساتھ شائع ہوا ہے۔) البتہ ان میں بعض اس بات کے قائل ہیںکہ حضرت مہدی علیہ السلام آخری زمانے میں متولد ہوں گے۔لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ بارہویں امام ہیں اب بھی زندہ ہیں اور جب خداانہیں زمین سے ظلم و جور کاخاتمہ کرنے ا ور حکومت عدل الھٰی قائم کرنے کا حکم دے گا تو وہ خروج کریں گے۔ 

حضرت علی (ع) سب صحابہ سے افضل ہیں ۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ:حضرت علی علیہ السلام سب صحابہ سے افضل ہیں ۔پیغمبر اکرم (ص) کے بعد اسلامی امت میںان کا مقام سب سے بڑا ہے۔اس کے باوجود ان کے بارے میں ہر قسم کا غلو حرام ہے۔ہمارا عقیدہ ہے کہ جو لوگ حضرت علی علیہ السلام کے لئے مقام الوہیت اور ربوبیت یا اس طرح کی کسی بات کے قائل ہیں وہ کافر اور مسلمانوں کے زمرے سے خارج ہیں۔ ہم ان کے عقائد سے بےزار ہیں ۔افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ شیعوں کے ساتھ انکا ملتا جلتا نام اس سلسلے میں غلط فہمیوں کا باعث بنتا ہے۔حالانکہ علماء شیعہ امامیہ نے ہمیشہ اپنی کتابوں میں اس گروہ کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ 

صحابہ،عقل اور تاریخ کی عدالت میں

ہمارا عقیدہ ہے کہ:پیغمبر (ص) کے اصحاب میں بڑے عظیم،جاں نثار اور عظمت والے لوگ تھے ۔قرآن و حدیث نے انکی فضیلت میں بہت کچھ بیان کیا ہے۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم تمام اصحاب پیغمبر (ص) کو معصوم سمجھنے لگیں اور کسی استثناء کے بغیر ان کے اعمال کو درست قرار دیں ۔کیونکہ قرآن نے بہت سی آیات (سورئہ توبہ،سورئہ نور ،اور سورئہ منافقین کی آیات)میں ایسے منافقین کا تذکرہ کیا ہے جو اصحاب پیغمبر (ص) میں شامل تھے۔ظاہری طور پر وہ ان کا حصّہ تھے لیکن اس کے باوجود قرآن نے ان کی بہت زیادہ مذمت کی ہے۔دوسری طرف سے بعض لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے پیغمبر (ص) کے بعد مسلمانوں میں جنگ کی آگ بھڑکائی،انہوں نے وقت کے امام اور خلیفہ کی بیعت توڑ دی اور دسیوں ہزار مسلمانوں کا خون بہایا۔ کیا ہم یہ کہ سکتے ہیںکہ یہ افراد ہر لحاظ سے پاک و منزّہ تھے؟

بالفاظ دیگر نزاع اور جنگ(مثلا جنگ جمل و صفین) کے دونوں فریقوں کو کس طرح صحیح اور درست قرار دیا جا سکتا ہے؟یہ تضاد ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے۔کچھ لوگ اس کی توجیہ کے لئے ”اجتہاد“ کے بہانے کو کافی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک فریق حق پر تھا اور دوسرا خطا کار لیکن چونکہ اس نے اپنے اجتہاد پر عمل کیا ہے لھذٰا خدا کے نزدیک اسکا عذر قابل قبول ہے،،بلکہ اسکو صواب ملے گا ۔ہمارے لئے اس استدلال کو قبول کرنا مشکل ہے۔

اجتہاد کا بہانہ بنا کر پیغمبر (ص) کے جانشین کی بیعت کیسے توڑی جا سکتی ہے؟ اور پھر جنگ کی آگ بھڑکا کر بے گناہ لوگوں کا خون کیسے بہایا جا سکتا ہے؟اگراجتہاد کا سہارا لیکر اس قدر بے تہاشا خونریزی کی توجیہ کی جا سکتی ہے تو پھر کون سا ایسا کام ہے جسکی توجیہ نہ ہو سکے؟

ہم واضح طور پر کہیں گے کہ ہمارے عقیدہ کی رو سے تمام انسانوں ،یہاں تک کہ پیغمبر اکرم (ص) کے اصحاب کی اچھائی برائی کا سار و مدار انکے اعمال پر ہے۔قرآن کا یہ زرّین اصول(انّ اکرمکم عند اللہ اتقٰیکم) یعنی خدا کے نزدیک تم سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے(سورئہ حجرات آیت۱۲) ان کو بھی شامل ہے۔ 

لھٰذا ہمیں ان کے اعمال سامنے رکھتے ہوئے ان کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا ۔ یوں ہم ان سب کے بارے میں ایک منطقی موقف اختیار کرتے ہوئے کہ سکتے ہیں کہ جو لوگ آنحضرت (ص) کے دور میں مخلص اصحاب کی صف میں شامل تھے اور پیگمبر اسلام (ص) کی رحلت کے بعد بھی وہ اسلام کی حفاظت میں کوشاں رہے اور قرآن کے ساتھ اپنے وعدہ کو نبھاتے رہے،ہم ان کو اچھا سمجھتے ہیں اور انکا احترام کرتے ہیں ۔ لیکن جو لوگ آنحضرت لے دور میں منافقین کی صف میں شامل تھے اور انہوں نے ایسے کام کئے جن سے پیغمبر (ص) کا دل دکھایا اور پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد انہوں نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا اور ایسے کام کئے جو اسلام اور مسلمانوں کے لئے نقصان دہ تھے تو ہم انہیں نہیں مانتے۔ قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے(لا تجد قوما یومنون باللہ والیوم الآخر یوآدّون من حآدّاللہ ورسولہ ولوکانوا آبائھم او ابنائھم او اخوانھم اوعشیرتھم اولٰٓئک کتب فی قلوبھم الایمان)یعنی آپ خدا اور قیامت پر ایمان لانے والوں کو خدا اور رسول (ص) کے ساتھ نافرمانی کرنے والوں کے ساتھ دوستی کرتے ہوئے نہیں پائیں گے، اگر چہ وہ ان کے باپ ،اولاد ،بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ یہ لوگ ہیں جن کے صفحات قلوب پر اللہ نے ایمان کو لکھ دیا ہے۔(سورئہ مجادلہ ،آیت ۲۲)

جی ہاں ؛جو لوگ پیغمبر (ص) کی زندگی میں یا حضور کی ر حلت کے بعد پیغمبر (ص) کو تکلیف پہونچاتے رہے وہ ہمارے عقیدہ کے مطابق احترام کے قابل نہیں ہیں۔

لیکن یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ پیغمبر (ص) کے بعض اصحاب نے اسلام کی ترقی کے لئے بڑی بڑی قربانیاں انجام دی ہیں ۔ خدا نے بھی ان کی تعریف و تمجید کی ہے۔اسی طرح جو لوگ ان کے بعد آئے یا دنیا کے خاتمہ تک آتے رہیں گے اگر وہ حقیقی اصحاب کے راستہ پر چلتے ہوئے ان ک کے مشن کو آگے بڑھائیں تو وہ بھی تعریف اور تمجید کے لائق ہیں ۔ارشاد ہوتا ہے(السّابقون الاوّ لون من المھاجرین والانصار والّذین اتّبعوھم باحسان رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ) یعنی مھاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے اوّلین افراد نیز نیکیوں میں انکی پیروی کرنے والوں سے اللہ راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں ۔(سورئہ توبہ ،آیت ۱۰۰)

یہ ہے پیغمبر اسلام (ص) کے اصحاب کے متعلق ہمارے عقیدہ کا خلاصہ ۔ 

۵۵۔اہل بیت ،علوم پیغمبر (ص) سے ماٴخوز ہیں

ہمارا عقیدہ ہے کہ :چونکہ متواتر روایات کے مطابق پیغمبر اکرم (ص) نے ہمیں اہل بیت کے متعلق حکم دیا ہے کہ ہم ان دونوں کا دامن نہ چھوڑیں تاکہ ہم ہدایت پائیں،نیز چونکہ ہم آئمّہ اہل بیت (ع) کو معصوم سمجھتے ہیں ،اس لئے ان کی ہر بات اور ان کا ہر عمل ہمارے لئے حجت اور دلیل ہے ۔اسی طرح ان کی تقریر (یعنی ان کے سامنے کوئی کام انجام پائے اور وہ اس سے منع نہ کریں ) بھی حجت ہے۔بنا بریں قرآن و سنت کے بعد ہمارا ایک فقہی ماٴخذ آئمہ اہل بیت (ع) کا قول،فعل اور تقریر ہے۔

اور چونکہ متعدد اور معتبر روایات کے مطابق آئمّہ اہل بیت (ع) نے فرمایا ہے کہ ان کے فرامین رسول اللہ (ص) کی احادیث ہیں جو وہ اپنے آباء و اجداد سے نقل کرتے ہیں ،بنابر ایں واضح ہے کہ حقیقت میں ان کے فرامین پیغمبر (ص) کی روایات ہیں ۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) سے ثقہ اور با اعتماد شخص کی روایت علمائے اسلام کے نزدیک قابل قبول ہے۔

امام محمد بن علی الباقر علیہ السلام نے جابر سے فرمایا( یا جابر انّالو کنّانحدّثکم براٴینا و ھو ان ا لکنّا من الھالکین ،ولکن نحدّثکم باحادیث نکنذھا عن رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم)یعنی اے جابر ؛اگر ہم اپنی رائے اور خواہشات نفسانی کی بناء پر تمہارے لئے کوئی بات بیان کریں تو ہم تباہ ہونے والوں میں شامل ہو جائیں گے ۔ لیکن ہم تمہارے لئے ایسی احادیچ نقل کرتے ہیں جو ہم نے رسول خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے خزانہ کی صورت میں جمع کی ہیں ۔

(جامع احادیث الشیعہ ،جلد ۱صفحہ۱۸ از مقدمات ،حدیث ۱۱۶)

امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ایک حدیث میں مذکور ہے کہ کسی نے امام (ع) سے سوال کیا اور حضرت (ع) نے جواب دیا ۔ اس شخص نے امام کی رائے تبدیل کرنے کی غرض سے بحث شروع کر دی تو امام صادق (ع) نے فرمایا :(ما اجبتک فیہ من شئی فھو عن رسول اللہ)یعنی میں نے تجھے جو جواب دیا ہے وہ پیغمبر (ع) سے منقول ہے(اور اس میں بحث کی گنجائش نہیں ہے)۔(اصول کافی ،جلد ۱ صفحہ۵۸حدیث۱۲۱)

قابل غور اور اہم نکتہ یہ ہے کہ حدیث کے سلسلہ میں ہمارے پاس کافی،تحذیب،استبصار، من لا ےحضرہ الفقیہ اور دوسری معتبر کتابیں ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کتابوں میں موجود ہر روایت ہماری نظر میں قابل قبول ہے بلکہ روایات سے متعلق کتب کے ساتھ ہمارے پاس علم رجال کی کتب بھی موجود ہیں ،جن میں ہر طبقہ کے راویان احادیث پر بحث کی گئی ہے۔ ہمارے نزدیک وہ روایت قابل قبول ہے،جس کی سند میں مذکور تمام افراد ثقہ اور قابل اطمینان ہوں ۔لہٰذا ان مشہور اور معتبر کتب میں جو روایات اس شرط کی حامل نہ ہوں وہ ہماری نظر میں قابل قبول نہیں۔

علاوہ از ایں ممکن ہے کہ کوئی روایت ایسی ہو جس کا سلسلہ سندبھی معتبر ہو لیکن ابتداء سے لے کر آج تک ہمارے بڑے بڑے علماء اور فقہاء نے اسے نظر انداز کیا اور اس پر عمل نہ کیا ہو ا ور انہیں اس میں کچھ دیگر نقائص نظر آتے ہو ں ۔ اس قسم کی روایت کو ہم ”معرض عنھا“ کہتے ہیں ۔ یہ ہماری نظر میں معتبر نہیں ۔

بنابر ایں یہ بات واضح ہے کہ جو لوگ ہمارا عقیدہ جاننے کے لئے فقط اور فقط ان کتب میں موجود کسی ایک روایت یا مختلف روایات کا سہارا لیتے ہیں،بغیر اس کے کہ روایت کی سند کے بارے میں کوئی تحقیق کریں انکا طریقہ کار غلط ہے۔

بعض معروف اسلامی فرقوں میں ”’صحاح “کے نام سے کتابیں موجود ہیں ،جن میں موجود روایات کا صحیح ہونا ان کتابوں کے مصنّفین کے نزدیک ثابت ہے۔ نیز دوسرے لوگ بھی ان روایات کو صحیح سمجھتے ہیں ۔ لیکن ہمارے نزدیک موجود معتبر کتابیں اس طرح نہیں ہیں ۔ یہ ایسی کتابیں ہیں جن کے مصنّفین معروف اور قابل اعتماد شخصیات ہیں ۔ لیکن ان کتابوں میں موجود روایات کی سند کا صحیح ہونا علم رجال کی کتب کی روشنی میں راویوں کی تحقیق پر موقوف ہے۔

مذکورہ بالا نکتے کی طرف توجہ ہمارے عقائد کے متعلق پیدا ہونے والے بہت سے سوالوں کا جواب دے سکتی ہے ۔ جس طرح اس سے بے توجہی ہمارے عقائد کی پہچان کے سلسلے میں بہت سی غلط فہمیوں کو جنم دے سکتی ہے ۔

بہر حال قرآن مجید کی آیات اور پیغمبر اسلام (ص)کی احادیث کے بعد ہماری نظر میں بارہ اماموں (ع) کی احادیث معتبر ہیں ۔ شرط یہ ہے کہ آئمہ علیھم السلام سے ان احادیث کا صدور معتبر طریقہ سے ثابت ہو۔ 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More