اہل تشیع کے اصول عقائد

شیعہ توحید و نبوت و معاد کے علاوہ عدل الہی اور امامت کو اصول دین قراردیتے ہیں اور ان اصولوں میں تقلید کو جائز نہیں سمجھتے بلکہ ان اصولوں میں تحقیق کے قائل ہیں. رسول اللہ (ص) کو خاتم النبیین مانتے ہیں اور انکار ختم نبوت کو اسلام سے خارج ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں؛ رسول اللہ (ص) کے بعد اہل تشیع کے بارہ امام ہیں جن کے قول و فعل میں فرق نہیں ہے اور ان کے تعدد کی وجہ سے فرقے نہیں بنتے بلکہ سب کے سب ایک ہی دین کے شارح و مفسر اور ایک ہی مذہب کے امام ہیں. 

بارہ امام:

1- حضرت امام علی علیہ السلام 

2- حضرت امام حسن علیہ السلام 

3- حضرت امام حسین علیہ السلام 

4- حضرت امام علی زین العابدین علیہ السلام 

5- حضرت امام محمد باقر علیہ السلام 

6- حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام 

7- حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام 

8- حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام 

9- حضرت امام محمد تقی الجواد علیہ السلام 

10- حضرت امام علی النقی آلہادی علیہ السلام 

11- حضرت امام حسن الزکی العسکری علیہ السلام 

12- حضرت امام قائم المہدی علیہ السلام 

شیعہ تفکر کے مطابق ائمہ علیہم السلام رسول اللہ کی طرح معصوم ہیں. تقیہ سنت رسول اللہ ہے جس پر آپ (ص) نے دعوت اخفاء کے دوران اور دعوت ذوالعشیرہ سے پہلے تین سال تک عملدرآمد کیا اور شیعہ مکتب میں تقیہ ایک بنیادی حکم ہے؛ شیعہ بداء و رجعت رسول و ائمہ (ع) کے قائل ہیں جن کی تفصیل دیکھیں گے تو دلیلیں بھی دیکھنے کو ملیں گی. 

شیعہ مکتب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث کے مطابق امام دوازدہم غائب ہیں جو مشیت الہیہ کے مطابق ظہور فرمائیں گے اور دنیا کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھردیں گے جس طرح کہ یہ ظلم و ستم سے بھرگئی ہے.(11) 

شیعه مکتب کی ہاں فروع دین دس ہیں جو قرآن و حدیث سے مأخوذ ہیں:

1. نماز

2. روزہ

3. حج

4. زکواة

5. خمس

6. جہاد

7. امر بالمعروف

8. نہی عن المنکر

9. تولّی 

10. تبرّی

فروع دین میں اجتہاد و تحقیق کا باب الی الابد کھلا ہے اور شیعہ محدثین و فقہاء کو ہی اجتہاد کا حق حاصل ہس مگر اجتہاد تشیع کس ہاں قرآن و سنت و عقل و اجماع پر مبنی ہے اور اجماع بھی صرف اسی وقت حجت ہے کہ معصوم (ع) کے قول کا انکشاف کرے. فروع دین کا انکار کفر ہے اور ان میں جامع الشرائط مجتہد کی تقلید واجب ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.