اسلام اور دوسرے مذہبوں کی سچائی ثابت کرنے کا طریقہ

جب کوئی شخص دین اسلام کے صحیح اور درست ہونے کے متعلق ہم سے بحث کرے تو ہم اس سے اسلام کے لافانی معجزے یعی قرآن مجید کے متعلق بحث کرسکتے ہیں اس طریقے سے اسے اسلام کی سچائی کا قائل کرسکتے ہیں اور اس سے پہلے بھی ہم بیان کرچکے ہیں کہ قرآن ایک معجزہ ہے۔

اسی طرح ہم اپنی عقل اور سوچ کی قوت کے وسیلے پر قناعت کرکے اسلام کی درستی اور سچائی کو پالیں گے کیونکہ ہر اس انسان کے ذہن میں جو آزادی سے سوچتا ہے کسی مذہبی عقیدے کو اپناتے وقت لازمی طور سے کچھ شکوک اور سوالات ابھرتے ہیں لیکن یہودیت اور عیسائیت جیسے پچھلے مذہبوں کی (ان کے زمانے میں) سچائی کا سراغ لگانے کو ہمارے لیے قرآن کی گواہی سے پہلے (یا اگر ہم اپنے ذہنوں کو اسلام کے عقیدے سے خالی کرلیں تو) کوئی بھروسے کی دلیل یا راہ نہیں ہے اور ہم کسی پوچھنے والے کو مطمئن نہیں کرسکتے کیونکہ یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہب کے لیے قرآن مجید کی طرح کا کوئی جاودانی معجزہ نہیں ہے اور وہ تھوڑے سے معجزے اور غیر معمولی کام جو ان مذہبوں کے ماننے والے اپنے اپنے پیغمبروں سے منسوب کرتے ہیں بھروسے کے لائق نہیں ہیں، کیونکہ وہ لوگ انہیں مذہبوں کے ماننے والے ہیں اس لیے ان کا دعویٰ انہیں کے مذہب کے متعلق درست نہیں مانا جاسکتا اور قدیم پیغمبروں کی یہ موجودہ کتابیں جیسے توریت اور انجیل جو ہمارے ہاتھوں میں ہیں لافانی معجزہ کہلانے کے لائق نہیں ہیں کہ بجائے خود قطعی دلیل بن سکیں اور انہیں اسلام کی طرف سے کسی تصدیق کی ضرورت نہ پڑے۔

ہم مسلمانوں کے لیے پچھلے نبیوں کی گواہی دینا اور جس امر کا اعتراف کرنا صحیح ہے وہ یہ ہے کہ جو کچھ اسلام لایا ہے ہم اس پر اعتقاد رکھیں اور اسے قبول کریں۔ اسی میں پچھلے نبیوں کی نبوت بھی ہے جس پر ہم پہلے بحث کرچکے ہیں۔

اس بنا پر جو شخص دین اسلام کا ماننے والا ہے وہ عیسائیت اور دوسرے قدیم ادیان کے (ا ن کے زمانے میں) درست ہونے کے بارے میں تحقیق و تدقیق اور بحث مباحثے کی ضرورت نہیں رکھتا کیونکہ اسلام کا مان لینا ان کے مان لینے کے برابر ہے اور اسلام پر ایمان لانا پچھلے نبیوں پر ایمان لانے سے وابستہ ہے چنانچہ کسی مسلمان کے لیے پچھلے مذہبوں اور ان کے معجزوں کے بارے میں تحقیق اور چھان بین کرنا ضروری نہیں ہے کیونکہ یہ مان لیا گیا ہے کہ وہ مسلمان ہے اور دل میں اسلام پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ پچھلی شریعتوں پر بھی ایمان رکھتا ہے، واقفیت اور تصدیق کے لیے بس اتنا ہی کاری ہے۔

ہاں جب کوئی شخص مذہب اسلام کی سچائی کی چھان بی کرتا ہے اور اس کی تحقیق کسی نتیجے تک نہیں پہنچتی تو عقل کی رو سے (سچے مذہب کی پہچان کے لیے غور و فکر کے واجب ہونے کے لحاظ سے) اس کو لازم ہے کہ وہ عیسائیت کی تحقیق کرے (تاکہ اگر وہ سچا مذہب ہے تو اسی کی پیروی کرے) اس لیے کہ عیسائیت اسلام سے پہلے آخری مذہب ہے اگر اس مذہب کی تحقیق کے بعد اس کی درستی کے بارے میں اطمینان نہیں ہوا تو پھر یہودیت کی تحقیق کرے اور پھر اسی طرح دوسرے قدیم مذہبوں کی تحقیق کرتا چلا جائے جب تک کہ وہ ان مذہبوں میں سے کسی ایک مذہب کی سچائی کا قائل نہ ہوجائے اور اگر اپنی تحقیقات میں وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچے تو پھر تمام مذاہب کو چھوڑ بیٹھے۔

البتہ جو شخص یہودیت یا مسیحیت میں پلا بڑھا ہے اس کا کام اس کے بالکل خلاف ہے کیونکہ یہودی اپنے ہی دین کے معتقد ہونے کے باعث مسیحیت اور اسلام کی صحت کے متعلق تحقیق نہیں کرتا۔ اسی طرح عیسائی اسلام کی درستی کے بارے میں چھان بین نہیں کرتا لیکن عقل کی رو سے یہودیوں اور ان کی طرح عیسائیوں پر بھی واجب ہے کہ دین اسلام کی درستی کی تحقیق کریں اور صرف اپنے ہی دین پر قناعت نہ کر بیٹھیں کیونکہ یہودی اور مسیحی اپنے اپنے دین کی خاتمیت کا دعویٰ نہیں کرتے اور ہ کسی ایسے دین کے آنے سے انکاری ہیں جو ان کے دین کو منسوخ کرنے والا ہو۔

حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عسیٰ  نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ ہمارے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئیگا (بلکہ یہ بزرگوار تو اپنے بعد میں آنے والے پیغمبر کے متعلق پیشین گوئیاں کر گئے ہیں)۔

ایسی صورت میں یہ کب جائز ہے کہ یہودی اور عیسائی اپنے ہی عقیدے پر مطمئن ہوکر بیٹھ رہیں اور اپنے بعد کے دین کے متعلق (جیسے یہودیت ، مسیحیت کے متعلق اور مسیحیت اور یہودیت اسلام کے متعلق) تحقیق کرنے سے پہلے اپنے ہی مذہب سے دل کو وابستہ کرکے بیٹھ رہیں۔ فطرت اور صحت مند عقل کے مطابق انہیں لازم ہے کہ بعد کے مذاہب کے بارے میں بھی کچھ کھوج لگائیں اور سوچ بچار کریں۔ اگر ان کی درستی ان پر ثابت ہوجائے تو ان کی طرف چلے جائیں ورنہ اپنے ہی دین کی صحت کے متعلق اطمینان حاصل کرلیں اور اسی عقیدے پر قائم رہیں۔

جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں اسلام پر ایمان لانے کے بعد مسلمان کے لیے مختلف مذاہب کے بارے میں (خواہ پچھلے مذاہب ہوں خواہ آنے والے) تحقیق اور غور و فکر ضروری نہیں ہے۔ چونکہ اسلام پچھلے مذہبوں کی بھی تصدیق کرتا ہے اس لیے کوئی مسلمان ان مذہبوں کی صحت کی دلیلیں کیوں تلاش کرے؟

ہر مسلمان مذہب اسلام کے متعلق یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ پچھلے مذہب (اپنے زمانے میں سچے تھے لیکن آج کل) منسوخ ہوچکے ہیں اور اب ان کتابوں کے احکام اور ضابطوں پر عمل کرنا واجب نہیں رہا۔ اب رہا آنے والے مذہب کے بارے میں تو چونکہ پیغمبر اسلام  نے فرما دیا ہے کہ

لاَ نَبِیَّ بَعدِی :۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

اورآپ ہمارے عقیدے کے مطابق صادق اور امین ہیں اور بفجوائے قرآن :۔

وَمَا یَنطِقُ عَنِ الھَوٰی ۔ اِن ھُوَ اِلاَّ وَحیٌ یُّوحیٰ :۔ پیغمبر اپنی ہوائے نفس سے کوئی بات نہیں کہتے بلکہ جو کچھ کہتے ہیں وحی ہے جو خدا کی طرف سے ان پر نازل ہوتی ہے۔ (سورہ نجم ۔ آیت ۳۔۴)

اس لیے کوئی مسلمان پیغمبر کی سچی اور درست گفتار کے بعد ان بناوٹی مذاہب کے بارے میں جن کا بعد میں دعویٰ کیا گیا کس لیے تحقیق اور غور و فکر کرے؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More