آسایش اور آزمایش میں یاد خدا

دنیاوی زندگی خوشی و غم کا مجموعہ ہے . بعض اوقات مصائب وآلام کے ہجوم میں انسان یہ بھول جاتا ہیکہ اس کا پیدا کرنے والا اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے . وہ اپنے بندوں کو مشکلات میں گھرا ہوا دیکھنا یقینا پسند نہیں کرے گا اسکا مطلب یہ ہے کہ یہ مصیبتیں یا تو انسان کے ا متحان کی خاطر ہیں ( واذابتلیٰ ابراھیم ربہ …)یا پھر اس کے اعمال کا نتیجہ ہیں (ظہرالفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس ) اگر ہم غور کریں تو ہمیں احساس ہو گا کہ فقدان نعمت پر ہمیں غم و غصہ کے بجائے صبر و سکون کا اظہار کرنا چاہیے اسی طرح نعمتوں کے ملنے پر ہمیں شکر بجا لانا چاہئے نا کہ ہم اترانے لگیں . خدا کی مقدس کتاب اسی طرف ہماری رہنمائی فرمارہی ہے : لکیلا تأسوا علی ما فاتکم ولا تفرحوا بما اتا کم (سورہ حدید ٢٣)

تا کہ جو چیز تم سے چھوٹ جائے اس پر افسوس نہ کرو اور جو مل جائے اس پر ناز و تفریح نہ کرو )

شاید اس کی ایک حکمت یہ ہو کہ نہ تو یہ مشکلات ہمیشہ رہنے والی ہیں اور نہ ہی یہ آسایشیں دوام رکھتی ہیں . بسا اوقات رنج و غم کے باعث بشر بالکل مایوس ہو جاتا ہے جبکہ رحمت خدا سے مایوسی گناہ کبیرہ ہے . انسان کو اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہئے کہ سیجعل اللہ بعد عسر یسراً (سورۂ طلاق ٧)

عنقریب خدا مشکلات کے بعد آسایش قرار دے گا اسی طرح اس اعلان حق پر بھی غور کرنا چاہئے کہ

فان مع العسر یسراً ان مع العسر یسراً (سورئہ شرح ٥،٦)

آزمایش چند روزہ ہو تی ہے مگر اس کے مقابل میں ملنے والی جزاء ہمیشگی اور دوام کا خاصہ رکھتی ہے . جبکہ آسایش کا انجام مؤاخذہ پر ہوتا ہے .

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More