سرداب مقدس

سرداب مقدس
سرداب غیبت.jpg
سرداب پر بنائی گئی ضریح
ابتدائی معلومات
استعمال: زیارتگاہ کے طور پر
محل وقوع: سامرا، حرم عسکریین
دیگر اسامی: سرداب غیبت اور سرداب امام زمان(عج)
مربوط واقعات: تخریب حرم عسکریین
مشخصات
معماری
تعمیر نو احمدخان دنبلی – 1202ھ

سرداب مقدس یا سرداب غیبت امام حسن عسکریؑ کے گھر کے تہہ خانے کو کہا جاتا ہے جو سامرا میں حرم عسکریین کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے۔ یہ مقام امام ہادیؑ، امام عسکریؑ اور امام زمان(عج) کا محل اقامت تھا اسی وجہ سے شیعوں کے نزدیک یہ مقام خاص تقدس کا حامل ہے۔

بعض اہل‌ سنت مصنفین شیعوں کی طرف نسبت دیتے ہیں کہ وہ اس بات کے معتقد ہیں کہ ان کے بارہویں امام، امام مہدیؑ غیبت کے زمانے میں اسی سرداب میں زندگی گزارتے ہیں اور اسی جگہے سے ظہور کریں گے۔ لیکن شیعہ منابع میں اس طرح کی کوئی چیز موجود نہیں ہے، بلکہ شیعوں کے عقیدہ ہے کہ امام زمان(عج) مکہ میں ظہور کریں گے۔

سرداب مقدس پر پہلی بار بنی عباس کے دور خلافت میں عمارت تعمیر کی گئی جس کے بعد مختلف ادوار میں حرم عسکریین کے ساتھ ساتھ سرداب مقدس کی بھی تعمیر ہوتی رہی ہے۔

  • 1 مقام و منزلت
  • 2 آیا امام زمانہ اسی سرداب سے ظہور فرمائیں گے؟
  • 3 تاریخچہ
  • 4 محل وقوع
    • 4.1 کنواں
    • 4.2 بم گذاری
  • 5 اہل سنت کے نزدیک سرداب
  • 6 مربوط روابط
  • 7 حوالہ جات
  • 8 منابع

مقام و منزلت

سرداب مقدس سامرا میں امام عسکریؑ کے گھر کے تہہ خانے کو کہا جاتا ہے۔[1] ائمہ معصومین سے منتسب ہونے کی وجہ سے اس مقام کو مقدس مانا جانا ہے؛[2] کیونکہ یہاں پر امام ہادیؑ، امام عسکریؑ اور امام زمان(عج) نے زندگی گزاری ہیں۔[3] سرداب مقدس حرم عسکریین سے تقریبا 15 میٹر کے فاصلے پر[4] حرم کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے۔[5]

شیعہ مورخ شیخ عباس قمی (متوفی 1359ھ) کے مطابق اس مقام کو بعد میں سرداب غیبت کا نام دیا گیا ہے لیکن امام زمانہ سے مربوط کتابوں میں اس کی دلیل بیان نہیں کی گئی ہے۔[6]

آیا امام زمانہ اسی سرداب سے ظہور فرمائیں گے؟

گنبد مسجد صاحب جو اسی سرداب کے اوپر بنایا گیا ہے

برخی از نویسندگان اهل‌سنت از جمله یاقوت حموی در معجم البلدان و ابن حجر هیتمی در کتاب الصواعق المحرقة، ادعا کرده‌اند که شیعیان معتقدند امام زمان(عج) در سرداب پنهان شده و از آنجا ظهور خواهد کرد.[7] اینا همچنین درباره گروهی از شیعیان سخن گفته‌اند که با اسب‌هایی در کنار سرداب ایستاده و خواستار بیرون آمدن امام زمان(ع) هستند.[8]

به گفته ذبیح‌الله محلاتی، نویسنده شیعه قرن پانزدهم هجری در مآثر الکبراء فی تاریخ سامراء، ادعای مذکور نادرست است؛ چرا که علمای شیعه اتفاق‌نظر دارند که حضرت مهدی(عج) در مکه ظهور خواهد کرد.[9] همچنین به گفته لطف‌الله صافی گلپایگانی از مراجع تقلید شیعه، این مطالب با انگیزه دشمنی با شیعه، انحراف از اهل‌بیت و تمایل به بنی‌امیه و دشمنان خاندان رسالت ساخته شده است،[10] به گفته صافی گلپایگانی، کسی از شیعیان نگفته است که امام در سرداب سامرا مخفی است، بلکه کتب و روایات شیعه چنین سخنی را تکذیب می‌کنند.[11]

سید صدرالدین صدر از مراجع تقلید شیعه (درگذشته ۱۳۷۳ق) بیان چنین سخنانی از سوی ابن حجر هیتمی را ناشی از آشنا نبودنش با عراق و شیعیان آن دانسته است؛ چرا که به گفته وی ابن حجر از حجاز خارج نشده و سامرا را حتی ندیده است.[12] در همین زمینه محدث نوری[13] سید محسن امین،[14] سید مرتضی عسکری،[15] سید هادی خسروشاهی[16] و ابراهیم امینی[17] نیز پنهان شدن امام زمان در سرداب مقدس و ظهور وی از همان مکان را رد کرده‌اند.

تاریخچہ

سرداب میں امام زمانہ کی غیبت سے متعلق خبر کا قدیمی ترین مآخذ بلخی (گذشتہ ۶۵۸ق) کا قول مذکور ہے۔لیکن اس نے اس کے نقل کا مآخذ ذکر نہیں کیا ۔زیادہ احتمال یہ ہے کہ علمائے اہل سنت میں سے ذہبی(۷۴۸ق) نے لکھا : فرزند امام عسکری(ع) نو سال کی عمر یا اس سے کم سن میں سال۲۶۵ق. کو غائب ہوا، اس زمانے میں وہ سامرا کی سرداب میں داخل ہوا پھر اسکے بعد اسے دیکھا نہیں گیا ۔ذہبی نے عام لوگوں کے امامیہ کے بارھویں امام کے سرداب میں غائب ہونے کے اعتقاد کی بنا پر اس خبر کو نقل کیا ہے ۔ یہ عقیده پانچویں صدی کے بعد شائع ہوا اور اسکے بعد ابن خلدون جیسے اہل سنت کے بعض دانشمندوں کے توسط سے شائع ہوا.[18]

پہلی مرتبہ خلفائے عباسی میں سے الناصر لدین الله کے توسط سے اس سرداب میں مرمت کا کام انجام پایا اور یہاں منصوب کتبے پر شیعوں کے بارہ آئمہ کے اسما تحریر لکھوائے ۔[19]

محل وقوع

سرداب میں داخلے کا منظر

یہ سرادب حرم عسکریین(ع) کے صحن کی مغرب کی طرف سمت شمال میں واقع ہے اور طول تاریخ میں یہاں کئی مرتبہ تعمیرات کا کام ہوا بلکہ حرم عسکریین(ع) کی تعمیر و مرمت کے موقع پر اس میں ہمیشہ یہاں تعمرات ہوئیں ۔گذشتہ زمانے میں حضرت نرجس خاتون کے مرقد کے پاس سے سرداب کو جاتے تھے یہ صورت حال سال ۱۲۰۲ ق. تک باقی رہی ۔ مذکورہ سن میں احمد خان دنبلی نے سرداب میں جانے کیلئے ایک جدا راستہ شمال کی طرف سے بنوایا ،روضۂ عسکریین سے جانے والے راستے کو بند کروایا اور سرداب کا ایک علیحدہ صحن بنوایا جس کا طول و عرض ۶۰ میٹر اور ۲۰ میٹر تھا ۔

بہرحال یہ سرداب طول تاریخ میں اس قدر لوگوں کے درمیان ایک قابل اہمیت کے طور پر مورد توجہ رہی کہ ہنرمندوں نے آئینہ بندی اور قیمتی و نفیس لکڑی کے ذریعے آراستہ و پیراستہ کیا کہ جس کے آثار دوران عباسیوں کی خلافت تک باقی رہے ۔

کنواں

تہہ خانے میں موجود چھوٹے سے کمرے کے ایک کونے میں کنواں موجود ہے کہ جس کے متعلق شیعہ معتبر منابع میں کنویں یا امام مہدی کے مقام غیبت کے طور پر کسی قسم کا کوئی اشارہ موجود نہیں ہے اور نہ ہی شیعہ بزرگ علما اس کے متعلق کوئی اعتقاد رکھتے ہیں ۔

اس مقام پر امام علی نقی اور امام عسکری کے وضو کرنے کا ایک حوض موجود تھا اور شیعہ زائرین اس مقام سے بطور تبرک اس جگہ مٹی اٹھاتے تھے جو آہستہ آہستہ گہرا ہوتا گیا یہی مقام بعد میں غیبت کے کنویں کے نام سے معروف ہو گیا ۔

محدث نوری صاحب مستدرک کہتے ہیں : یہاں پر موجود خدّام نے اپنے ذاتی مادی اور دنیاوی مقاصد کے تحت اس خرافہ کو رواج دیا اور اس مقام کو چاہ غیبت کے نام سے معروف کیا ۔ وہ خادمین یہاں پر آنے والے زائرین سے سے پیسے لے کر اس جگہ کی خاک لے کر انہیں دیتے ۔

شیخ العراقین نے اس نادرست اقدام کو روکنے کیلئے اس کنویں کو پر کروا کر بند کردیا اور اسکے دروازے کو بند کر دیا لیکن خدام نے بعد میں پھر اسے کھول دیا ۔[20]

بم گذاری

۱۳۸۴شمسی کی سوم اسفند(بمطابق 22فروری2006 عیسوی) اور ۱۳۸۶شمسی کی ۲۳ خرداد(بمطابق 13جون2007عیسوی) کو یہاں بم گذاری کی گئی جس کے نتیجے میں سرداب کا ایک حصہ منہدم ہو گیا ۔

اہل سنت کے نزدیک سرداب

اہل سنت کے بعض مؤلفین شیعوں کی طرف نسبت دیتے ہیں :شیعہ معتقد ہیں کہ مہدی موعود اس سرداب میں پنہاں ہے اسی مقام سے ظہور کرے گا نیز گھڑسواروں کی ایک جماعت یہاں کھڑے ہیں اور مہدی کے باہر آنے کے منتظر ہیں ۔ [21]

علامہ سید مرتضی عسکری اس سرداب غیبت کے متعلق کہتے ہیں : مصری عالم دین شیخ محمود ابوریہ کہ جو کتاب عبدالله سبا کے مطالعے کے بعد شیعہ ہوا تو اس نے مجھے مصر سے خط میں لکھا :تم شیعہ حضرات ہر جمعہ کے عصر کے وقت گھوڑوں پر سوار ہاتھوں میں شمشیر سونتے ہوئے سرداب غیبت کے دروازے کے سامنے کھڑے ہوتے ہو کہتے ہو : یابن الحسن! ظہور کرو اور خروج کرو۔میں نے اسکے جواب میں لکھا : میں بغداد میں پیدا ہوا ہوں اور ایک مدت تک سامرا میں مقیم رہا ہوں میں نے تو وہاں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی ۔ایسی کوئی بات سچائی پر مبنی نہیں ہے ۔

آیت اللہ لطف اللہ صافی گلپائگانی نیز اسکے بارے میں لکھتے ہیں ؛این افتراپردازی اور بہتان ابن خلدون اور ابن حجر جیسے اہل سنت کی جانب سے جعل کردہ ہیں اور شیعہ دشمنی ،اہل بیت سے انحراف بنی امیہ اور خاندان رسالت کی طرف جھکاؤ کی بنیاد پر ہیں .یہ اور انکے بعد آنے والے مصنفین شیعہ کتب سے انکے عقائد اور شیعہ نظریات بیان کرنے کی بجائے جعل اور افترا پرادازی کا سہارا لیتے ہیں یا اپنے سے پہلے مؤلفین کی دروغگوئیوں کو شیعوں کی نسبت ملاک اور معیار قرار دیتے ہیں اس طرح خود اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں ۔
شیعوں میں کسی نے بھی یہ نہیں کہا :امام مہدی سامرا کی سرداب میں غائب ہے بلکہ تمام شیعہ تالیفات اور کتب اس واقعے کی تکذیب کرتی ہیں ۔

بلکہ شیعہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ قیام امام زمان (عج) مکہ میں کعبہ کے پاس سے ہو گا۔ [22]

مربوط روابط

  • غیبت صغرا
  • غیبت کبرا
  • مسجد سہلہ
  • مسجد جمکران

حوالہ جات


  1. ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۳۹۔
  2. نوری، کشف الاستتار، مکتبۃ نینوی الحدیثہ، ص۱۴.
  3. نوری، کشف الاستتار، مکتبۃ نینوی الحدیثہ، ص۱۴؛ امین، اعیان الشیعہ، ۱۴۰۳ق، ج۲، ص۵۰۷۔
  4. «مقام امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف در سرداب مقدس سامرا»، پایگاہ اطلاع‌رسانی حوزہ۔
  5. حسینی جلالی، مزارات اہل بیت(ع) و تاریخہا، ۱۴۱۵ق، ص۱۴۱۔
  6. قمی، ہدیة الزائرین، ۱۳۸۳ش، ص۹۷۔
  7. برای نمونه نگاه کنید به:‌ حموی، معجم البلدان، ۱۹۹۵م، ج۳، ص۱۷۳؛ ابن حجر، الصواعق المحرقه، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۴۸۲؛ ابن تیمیه، منهاج السنه، ۱۴۰۶ق، ج۱، ص۴۴.
  8. ابن‌خلدون، تاریخ ابن‌خلدون، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۳۹؛ ابن‌حجر، الصواعق المحرقه، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۴۸۳.
  9. محلاتی، مآثر الکبرا فی تاریخ سامراء، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۲۳.
  10. صافی گلپایگانی، نوید امن و امان، ۱۳۹۰ش، ص۱۱۶.
  11. صافی گلپایگانی، نوید امن و امان، ۱۳۹۰ش، ص۱۱۷.
  12. صدر، المهدی(عج)، ۱۳۹۸ق، ص۱۶۴-۱۶۵.
  13. نوری، کشف الاستار، مکتبة‌ نینوی الحدیثه، ص۱۴.
  14. امین، اعیان الشیعه، ۱۴۰۳ق، ج۲، ص۵۰۷.
  15. مؤسسه فرهنگی انتظار نور، گفتمان مهدویت، ۱۳۸۷ش، ص۹۵.
  16. خسروشاهی، مصلح جهانی از دیدگاه شیعه و اهل سنت، ۱۳۸۶ش، مقدمه، ص۱۷.
  17. امینی، دادگستر جهان، ۱۳۸۰ش، ص۲۰۴.
  18. حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم(عج)، ص۱۴۶.
  19. أعیان الشیعہ، محسن الأمین، ج۲، ص:۵۰۷
  20. کشف الاستار، محدث نوری، ص۴۳
  21. سیر اعلام النبلاء، ج ۱۳، ص۱۱۹؛ابن خلدون، مقدمہ این خلدون، ص۲۰۷-۲۰۸؛ المہدّیۃ فی الاسلام، ص۱۳۰و۱۲۹؛ الصراع بین الاسلام والوثنیہ، ص۴۲
  22. نعمانی، الغیبہ، ص۳۱۳، ۳۱۵.

منابع

  • امین، سید محسن، أعیان الشیعہ، دارالتعارف، بیروت، ۱۴۰۳ق.
  • مصطفی قبادی، موعود، آبان ۱۳۸۷، شماره ۹۳.
  • لغتنامہ دہخدا.
  • علامہ مجلسی، بحارالانوار، چاپ اسلامیہ.
  • نوری، میرزاحسین، کشف الأستار، نشر مؤسسہ نور، بیروت، ۱۴۰۸ق.
  • تاریخ ابن خلدون، شرکت انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۷۵ش.
  • ابن خلدون، عبدالرحمن بن محمد، مقدمہ ابن خلدون، کوشش: مصطفی شیخ مصطفی، دمشق، مؤسسہ الرسالہ ناشرون، ۱۴۲۸ق/۲۰۰۷م.
  • شمس الدین ذہبی، سیر اعلام النبلاء، بیروت، دارالفکر، ۱۴۱۷ق.
  • حسین، جاسم، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم(عج)، ترجمہ سیدمحمدتقی آیت اللہی، تہران: امیرکبیر، ۱۳۸۶ش.
  • نعمانی، محمد بن ابراہیم، الغیبہ، نشر صدوق، تہران، ۱۳۹۷ق.
تبصرے
Loading...