دعا کی قبولیت میں یقین کی اہمیت

دعا کی قبولیت میں یقین کی اہمیت

دعا کی قبولیت میں یقین کی اہمیت 

دعا کی قبولیت میں دو چیزیں بنیادی تاثیر کی حامل ہیں :

١۔موانع برطرف کرنا یعنی قلبی رکاوٹوں کو دور کرنا اور دل سے باطنی تاریکی کے پردوںکو ختم کرنا ۔

٢۔مقتضی کو موجود ہونا یعنی باطنی نورانیت و پاکیزگی پیدا کرنا۔ 

انسان کی دعا کا تیر نشانہ پر لگے اس کے لئے ان دوچیزوں کی ضرورت ہے لہذاان دونوں چیزوں کو پیدا کرے تاکہ اضطرار کی نوبت نہ آئے۔

اس بنا پر پہلے تودل سے تاریکیوں کے پردے برطرف کر دیئے جائیں اور ثانیاًاس کی جگہ پر انوار الٰہی کو جاگزیںکریں۔ اور ”یقین ”یہ کام انجام دیتا ہے یعنی یہ دل سے ظلمت وتاریکی اور شک کو دور کرتا ہے اور دل کے اندر پاکیزگی اور نورا نیت بھی پیدا کرتا ہے۔

 وہ تمام ا فرا د صحیح معارف اور عقاید میں یقین کی منزل پر پہنچے جو پاکیزہ اور نورا نی قلب کے مالک تھے اس لئے کہ یقین پیدا ہونے کا لازمہ قلب میں نورانیت کاپیدا ہونا ہے اور نور یقین جیسا کوئی نور نہیں ہے ۔

حضرت امام محمد با قر علیہ السلا م فرما تے ہیں ۔

لا نور کنور الیقین

کوئی بھی نور ،یقین کے نور جیسا نہیں ہے ۔

واضح ہے کہ جب دل میں یقین پیدا ہو جائے اور قلب منور ہو جائے تواس سے تاریکیاں دور ہو جا تی ہیں کیونکہ نور و ظلمت کا ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔

لہذا یقین پیدا کر نے سے ان تما م تاریکیوںکو دور کیا جاسکتاہے جو دعا کی قبو لیت میں مانع ہیں اور پاکیزگی ونورانیت کو بھی پیدا کیا جا سکتا ہے جو دعا کی قبولیت کے لئے ضروری ہیں

منبع: وبسایت زائرین ،  کتاب صحیفه مهدیه:  .42

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More