امام مھدي (عليہ السلام) کي عالمگير عظيم حکومت

0 0

ہر حکومت کے قيام کے بعد اس کي تشويش ، عوام کے درميان اس کي مقبوليت کے بارے ميں ہوتي ہے – اس لحاظ سے کہ عام انسانوں کي حکومتيں ، صرف فرد يا کسي خاص گروہ کے مفادات کو مد نظر قرار ديتي ہيں اور عوام کي حقيقي مصلحت اور فائدے کو سمجھنے ميں ناتوان ہوتي ہيں اس لئے خطا اور غلطي سے محفوظ نہيں رہ پاتيں اور  عام طور پر مقبول بھي نہيں ہوپاتيں  ليکن ايسي حکومت جو مقبول عام ہو وہ صرف حضرت امام زمانہ (عج) کي الہي حکومت ہے کہ جس کا رہبر، خدا کي جانب سے معين ہوتا ہے – اس طرح سے کہ اہل زمين اور اہل آسمان بھي اس حکومت سے راضي رہيں گے – پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ہيں تمہيں بشارت ديتا ہوں  امام مہدي (عج) کي ، جن کي حکومت سے اہل زمين اور اہل آسمان راضي ہوں گے (1)  

علامہ طباطبائي صاحب تفسير الميزان، پيغمبر خدا کے اس بيان کي توضيح مين لکھتے ہيں:‏ کيسے ممکن ہے کہ کوئي مہدي (عج)  کي حکومت سے خوش نہ ہو جبکہ ساري اقوام عالم پر يہ واضح ہو جائيگا کہ مادي و معنوي تمام پہلوۆں ميں انسان کي سعادت و خوشبختي صرف امام زمانہ (عج) کي الہي حکومت کے زير سايہ ہي ممکن ہے –

امام کے ظہور کے ساتھ ہي نہ صرف عدل و انصاف کا قيام عمل ميں آئيگا بلکہ زمين، انواع و اقسام کي برکتوں سے سرشار ہوجائے گي – جيسا کہ حضرت علي (ع) فرماتے ہيں: جب ميرا قائم قيام کريگا تو اس کي عدالت و ولايت کے واسطے سے آسمان کو جس طرح سے پاني برسانا چاہيے پاني برسائے گا اور زمين بھي سبزہ زار ہو جا‏ئے گي اور بندوں کے دلوں سے سب کينے نکل جائيں گے – (2 )

مزید  حضرت امام مہدی(عجل) کی شکل اورآپ کی صفات حمیدہ

ان روايتوں سے يہ نتيجہ اخذ کيا جا سکتا ہے کہ حکومت مہدي (عج) ميں عدالت ہمہگير اور عالمي ہوگي اور آسمان و زمين کے خزانوں اور چيزوں سے سبھي يکساں فائدہ حاصل کريں گے جيسا کہ سيد الشہدا حضرت امام حسين (ع) اپنے ايک اہم خطاب مين فرماتے ہيں: جب ہمارا قائم قيام کريگا تو عدل وانصاف پھيل جائيگا اور اس کي وسعت اتني ہوگي کہ اس ميں کافر فاجر سب شامل ہوجائيں گے (3)  –

امام مہدي کي حکومت کي ديگر علامات مين سے ايک، بيت المال اور عام مشترکہ اموال کي برابر اور صحيح تقسيم کا ہونا ہے جيسا کہ امام باقر (ع) نے فرمايا ہے – جب ہمارا قائم قيام کريگا تو بيت المال کو مساوي تقسيم کريگا اور عوام کے ساتھ عدل وانصاف سے پيش آئيگا پس جو بھي اسکي اطاعت کريگا گويا اس نے خدا کي اطاعت کي ہے اور اس کے حکم سے عدولي خدا کے حکم سے عدولي اور سرکشي کےمترادف ہوگي۔(4)

واضح ہےکہ حضرت مہدي(عج) کي عدل و انصاف کي وسعت ، خود ان کي حکومت کي تقويت اور پايندگي کے لئے حالات فراہم کريگي اور عوام کے دلوں کو جیت لے گي – عدل و انصاف اور امن و سلامتي کا قيام، زمين کے باشندوں کي ديرينہ آرزو اور انبياء کرام کي دعوت کا سرچشمہ رہي ہے اور آخر کار امام عصر (ع) اس آرزو کو باذن خدا، عملي شکل ديں گے اور انسانوں ميں سے ہر کوئي کسي تفريق يا امتياز کے بغير امام زمانہ کے عدل و انصاف اور امن کي چاشني سے محظوظ ہوگا –

مزید  مسلمانوں کا حضرت مہدی (علیہ السلام) کے ظہور پر اتفاق

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منابع:

(1) -بحارالانوار ، ج 1 ص 591
(2)   تحف العقول – ص 110
(3) بحارالانوار  ج 27 ص 90
(4) بحارالانوار- ج 52  ص350

تبصرے
Loading...