امام زمانہ (علیہ السلام) کی حیات طیبہ کے طویل ہونے کے اسباب

0 0

180x480 Banner

خلاصہ: بعض لوگوں کے لئے یہ سوال پیش آتا ہے کہ کیا کوئی شخص اتنا طویل عرصہ زندہ رہ سکتا ہے، اس مقالہ میں دلائل پیش کیے گئے ہیں کہ ایسا ہونا بالکل ممکن ہے، ایسا پہلے تاریخ میں بھی گزر چکا ہے، اسباب کے ضوابط کے لحاظ سے بھی ثابت کیا جاسکتا ہے، چاہے ظاہری اسباب اور چاہے باطنی اور معنوی اور غیبی امور کے ضوابط کے تحت۔

امام زمانہ (علیہ السلام) کی حیات طیبہ کے طویل ہونے کے اسباب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ایک سوال جو گزشتہ دور سے اب تک ذہنوں میں پیدا ہوتا چلا آرہا ہے یہ ہے کہ امام زمانہ (علیہ السلام) کی حیات طیبہ کے طویل ہونے کا راز کیا ہے؟ کیا یہ بات دنیا کے طبعی ضوابط کے مطابق ہے یا غیبی اور اعجازی پہلو کی حامل ہے؟ کیا ممکن ہے کہ اس دنیا میں کوئی شخص طویل عمر گزارے جبکہ اس کی طراوت و تازگی باقی رہے؟
اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے چند اصول پر توجہ کرنا ضروری ہے:
۱۔ عمر کا طولانی ہونا، ایک بڑے عنوان جس کا نام “حیات” ہے اس کی فروعات میں سے ہے۔ حیات کی حقیقت ابھی تک انسان کے لئے مجہول ہے اور شاید انسان ہرگز اس کے راز کو نہ سمجھ پائے۔ جو انسان اتنا عاجز ہے اور حیات کے موضوع کو بخوبی نہیں جانتا اور اس کی صفات سے مکمل واقف نہیں تو کیسے عمر کے طولانی ہونے کو ناممکن سمجھتے ہوئے اسے شک کی نظر سے دیکھ سکتا ہے؟
اگر بڑھاپے کو حیات پر اثرانداز ہونا یا اسے طبعی قانون سمجھا جائے جو زندہ مخلوق کو خواہ ناخواہ بوسیدگی اور موت تک پہنچا دیتا ہے، اس کے باوجود اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس چیز میں تبدیلی اور تاخیر ناممکن ہے۔ اسی لیے سائنس نے بڑھاپے کی تاخیر کے لئے کچھ اہم قدم اٹھائے ہیں اور ابھی بھی اس مہم پر کوشش ہورہی ہے۔ انیسویں سدی کی آخر میں علمی پیشرفت کی وجہ سے زندگی کے طویل ہونے کی زیادہ امید پیدا ہوگئی اور شاید عنقریب مستقبل میں یہ خوبصورت خواب حقیقت کا لباس پہن لے۔[1] سائنس نے بڑھاپے میں تاخیر ڈالنے کے لئے خوراک اور بڑھاپے کے درمیان باہمی تعلق کے سلسلے میں کچھ کامیابیاں اور جدید تجربات حاصل کیے ہیں۔ بنابریں کہا جاسکتا ہے کہ حضرت مہدی موعود (علیہ السلام) کی عمر کے طولانی ہونے کے بارے میں کسی قسم کا تعجب باقی نہیں رہتا اور اس کے علمی اور نظریاتی امکان میں کوئی شک نہیں ہے۔ آپ الہی عطاکردہ علم کے ذریعے کھانے پینے والی چیزوں کے رازوں سے آگاہ ہیں اور بعید نہیں ہے کہ طبعی اور سائنسی طریقوں کے ذریعے ہی طویل عرصہ دنیا میں زندہ رہ سکیں اور بوسیدگی اور بڑھاپے کے اثرات آپ میں نمودار نہ ہوں۔
۳۔ بنیادی طور پر، ہر چیز میں استثنا کا پایا جانا اس کائنات کے طبعی امور میں سے ہے جو واضح اور ناقابل انکار بات ہے۔ کئی درخت پائے جاتے ہیں جو قدیم عمر کے حامل ہیں، تو کیا حرج ہے کہ انسانوں میں بھی ایک انسان اور حجت الہی کی بقا کے لئے تاکہ وہ عدل کو جاری کرے اور ظلم کو مٹائے، استثنا پائی جاتی ہو اور اسے طبعی علل اور ظاہری اسباب سے بالاتر سمجھا جائے کہ جس کے سامنے طبعی اصول تبدیلی کے قابل ہوں اور اسے ان پر فوقیت حاصل ہو، یہ ممکن بات ہے اگرچہ عادی اور معمول کے مطابق نہ ہو۔ مرحوم علامہ طباطبائی فرماتے ہیں: “امام غائب کی زندگی کے طریقے کو خرق عادت (خلاف عادت) کے طور پر (قبول کیا جاسکتا ہے)۔ البتہ خرق عادت کا محال سے فرق ہے اور علمی طریقے سے خرق عادت کی ہرگز نفی نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ ہرگز یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ جو علل و اسباب اس کائنات میں کارفرما ہیں، صرف انہی کا وجود ہے جنہیں ہم نے دیکھا ہے اور ہم جانتے ہیں اور دیگر اسباب جنہیں ہم نہیں جانتے یا ان کے اعمال اور اثرات نہیں دیکھے یا نہیں سمجھے، ان کا کوئی وجود نہیں ہے، لہذا ممکن ہے کہ کسی یا بعض انسانوں میں ایسے علل و اسباب پائے جاتے ہوں جو باعث بنیں کہ ان کے لئے بہت طویل، ہزار یا کئی ہزار سال کی عمر کو فراہم کردیں۔[2]
۴۔ تاریخی لحاظ سے بہت سارے معمرین اور طویل عمر والے افراد گزرے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک، اپنے زمانے کے افراد کی عادی عمر سے کئی گنا زیادہ زندہ رہا ہے۔ سب سے زیادہ واضح اور معتبر، حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں۔ قرآن نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ آنحضرت ۹۵۰ سال صرف نبی تھے۔[3] اور یقیناً آپ کی عمر اس سے زیادہ تھی، حضرت خضر اس سلسلے کا دوسرا مصداق ہیں۔[4] انہی نمونوں کے ہی پیش نظر حجت خدا کی طویل عمر کو مانا جاسکتا ہے اور اس کے امکان کی دلیل یہ ہے کہ طویل عمر والے افراد کا وجود پایا گیا ہے جن کی عمر ہزاروں سال تک بتائی گئی ہے۔[5]
۵۔ ان سب باتوں کے علاوہ اگر غیب پر ایمان کے لحاظ سے اس سلسلے میں سوچا جائے تو تمام اعتراضات کا جواب مل جائے گا۔ طبعی علل و اسباب کا اثرانداز ہونا، اللہ تعالی کے قبضہ قدرت میں ہے: “لا موثر فی الوجود الا اللہ”۔ اور خدا ہی ہے جو اگر چاہے تو شیشہ کو پتھر کے پاس محفوظ رکھے تو وہ اپنی حجت اور عالم خلقت کے ذخیرہ کو کیوں تحفظ نہ دے سکے۔
مرحوم شیخ طوسی کا کہنا ہے: “آیت “يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ”[6] کے مطابق جب بھی مصلحت کسی اور وقت تک تاخیر کرنے میں ہو تو آنحضرت کی عمر مبارک کا جاری رہنا ضروری ہوجاتا ہے اور یہ بات، ضروری وقت کے آخر تک جاری رہے گی اور اس کا راز اسی کے پاس ہے جس کے پاس مفاتیح غیب اور ام الکتاب ہے”۔[7]
جو پروردگار حضرت یونس (علیہ السلام) کے بارے میں جب وہ مچھلی کے شکم میں تھے، فرماتا ہے: “فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ ۔ لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ”[8] ” پھر اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے۔ تو روزِ قیامت تک اسی کے شکم میں رہ جاتے”، وہی پروردگار اپنی مطلقہ قدرت و مشیت کے تحت، امام زمانہ (علیہ السلام) کے زندہ رہنے کے لئے بھی مقدمات و اسباب کو اس دنیا میں فراہم کرسکتا ہے تا کہ آنحضرت کو متعین دن تک زندہ رکھے۔ اس ضابطہ کے پیش نظر، امام زمانہ (علیہ السلام) کی عمر کے طویل ہونے میں، مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق معجزہ کا پہلو پایا جاتا ہے۔ اور معجزہ کا قانون، اس دنیا کے طبعی قوانین پر غالب ہے اور اس کے متعدد نمونے موجود ہیں:
دریا حضرت موسی (علیہ السلام) کے لئے شکافتہ کیا گیا۔[9]
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے آگ گلزار ہوگئی۔[10]
حضرت عیسی (علیہ السلام) کے بارے میں رومیوں کے لئے کام مشتبہ ہوگیا اور انہوں نے سمجھا کہ انہوں نے آنحضرت کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ایسا نہیں تھا۔[11]
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریش کے گھیرے سے نکل آئے جبکہ وہ لوگ گھنٹوں سے آنحضرت کی گھات میں تھے۔[12]
مذکورہ نمونے اور دیگر نمونے ایسے مقامات ہیں جو طبعی قوانین کے معطل ہوجانے کی نشاندہی کرتے ہیں جو اللہ تعالی کی قدرت اور لطف و کرم سے رونما ہوئے ہیں، حجت الہی کا تحفظ بھی اتنی طویل مدت میں اسی ضابطہ اور عقیدے کے مصادیق میں سے ہے۔ بنابریں امام زمانہ (علیہ السلام) کی عمر کا طویل ہونا کسی قسم کا محال نہیں ہے اور طبعی، غیبی اور معنوی دلائل کے ذریعہ قابل قبول ہے اور ثابت کیا جاسکتے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ:
[1] امام مهدی حماسه ای از نور, شهید صدر, ترجمه کتابخانه بزرگ اسلامی، ص30.
[2] شیعه در اسلام, علامہ طباطبایی، ص151, انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی.
[3] سوره عنکبوت, آیه 14.
[4] کمال الدین, ج2، 385.
[5] کتاب الغیبة, شیخ طوسی ، ص113 ـ 125۔ کنز الفوائد, کراجکی، ص140.
[6] سوره (رعد), آیت 39. اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹادیتا ہے یا برقرار رکھتا ہے کہ اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔
[7] (کتاب الغیبة), شیخ طوسی، ص۴۲۸۔
[8] سورہ صافات، آیت ۱۴۳، ۱۴۴۔
[9] سورہ بقرہ، آیت ۵۰ کے مطابق۔
[10] سورہ انبیاء ، آیت ۶۹ کے مطابق۔
[11] سورہ نساء، آیت ۱۵۷ کے مطابق۔
[12] سورہ انفال، آیت ۳۰ کے مطابق۔

مزید  امام مہدی (عج) کی ولادت ظہور کے زمانہ میں کیوں نہیں؟

120x240 Banner - 2

300x250 Banner

تبصرے
Loading...