زیارت عاشورا میں تولا و تبری کی تجلیاں

زیارت عاشورا میں تولا و تبری کی تجلیاں

امام حسین علیہ السلام کی مشہور و معروف زیارتوں میں سے ایک زیارت ہے جسے ہم ’’زیارت عاشورا ‘‘کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

اوراس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ معصوم سےصادر ہے،اورصحیح السند ہے۔جس کے مطالب عظیم اورجس کی تعلمیات مردہ دلوں کو حیات نو بخشتی ہیں ۔

جس میں رسولﷺ اورآل رسول علیہم السلام کا چاہنے والا کلیم کربلاامام حسین علیہ السلام سےتجدید عہد بجا لاتاہےجو حسین کے چاہنے والوں سے محبت یعنی تولا اوران کے دشمنوں سے نفرت یعنی تبرا کا حسین امتزاج ہے،

امام حسین علیہ السلام کی ذات محتاج تعارف نہیں ہے جنہوں نے سنت پیغمبرﷺ کوزندہ کرنےاوردین کو بچانے کے لئےاپنا سب کچھ لٹاکر بھی اس قدر مطمئن تھے کہ عصرعاشور قرآ ن انہیں نفس مطمئنہ کہہ کر پکاررہاتھا ﴿يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ﴿٢٧﴾ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً﴾(سورہ فجر/۲۸۔۲۷)۔

اگرکلیم کربلا اوران کے باوفااصحاب کی قربانیاں نہ ہوتیں توانبیاء ما سبق کی محنتوں اوران کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ دین اسلام بھی نیست ونابود ہوجاتا اس لئے کہ شام کےایوانوں سے یہ آواز بلندرہی تھی’’لعبت هاشم بالملك فلا خبر جاء ولا وحى نزل‘‘کوئی نبی نہیں آیا، کوئی وحی نہیں بلکہ یہ بنی ہاشم نے حکومت پانے کے لئے ڈھونگ رچایا تھا۔

(معاذ اللہ)کلیم کربلا اوران کے باوفااصحاب و انصار کی قربانیوں نے یزید کے چہرے سے نقاب اسلام نوچ کر پھینک دیا،شاید یہی وجہ ہے کہ تمام ائمہ کے مقابلے قتیل نینوا کی زیارت کی تاکید روایات اسلامی میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام کے ایک صحابی ’’علقمہ‘‘نے امام سے سوال کیا  ’’اگرمیں امام حسین علیہ السلام کی زیارت دور سے کرنے کا ارادہ کروں تو کون سا عمل انجام دوں ؟

‘‘امام نے جواب میں فرمایا :’’جس طرح تم ان کی خدمت میں حاضر ہوکر سلام کرتے ہو اسی طرح دور سے زیارت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ حضورقلب اورخضوع وخشوع کے ساتھ ان کے روضے کی طرح رخ کرو،زیرآسمان کھڑے ہوجاؤ اورپھر انہیں اس طرح سلام کرو:’’السلام علیک یا اباعبداللہ۔۔۔۔۔‘‘

اورپھرامام نے پوری زیارت عاشورہ انہیں تعلیم فرمایا۔‘‘یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ اس کی سند ’’ابن قولویہ قمی رحمۃ اللہ علیہ‘‘نے ’’کامل الزیارات‘‘نامی کتاب میں  ذکر کیا ہےاورزیارت عاشورا کے سلسلہ سے علماء و مراجعین کرام کی تاکید اس کی سند کے معتبر ہونے میں چارچاند لگادیتی ہے۔

آیت اللہ بہجت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :’’خود زیارت عاشورا کی تعلیمات اوراس کے مطالب اس کی عظمت پر گواہ ہیں اوریہ بات کہنے میں مجھے ذرہ برابرشک نہیں ہے کہ یہ حدیث قدسی ہے۔لہذا علماء وطلاب اورمومنین کرام کو اس کی تلاوت کا پابندہونا چاہئے۔‘‘(طوباي كربلا، سفينه النجاه مباحثي در خصوص حضرت اباعبدالله الحسين(ع)( در بيانات عارف واصل مرحوم «ميرزامحمد‌اسماعيل دولابي)

زیارت عاشورا اور تبرا

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ’’زیارت عاشورا سے تبرا کا تعلق کیا ہے؟‘‘کیا کسی پر لعن و طعن کرنا اسلامی نکتۂ نظر سے جائز ہے ؟

جواب دینے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم تولا و تبرا کے معنی کو سمجھ لیں ۔تاکہ بات آسانی سے واضح ہوجائے ۔بچپن میں ہم پڑھاکرتے تھے فروع دین یعنی دین کی شاخیں دس ہیں ،جس میں نویں تولا اوردسویں تبرا ہے ۔ تولا یعنی ’’خدا، رسول اوران کے اہل بیت سے محبت کرنا۔‘‘تبرا یعنی ’’خدا رسول اوراہل بیت کے دشمنوں سے اظہار بیزاری کرنا۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ تولا اورتبرا اورلعن و طعن کا مسئلہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ قرآن بھی اصل لعن کو بیان کرتاہے،ارشاد خدا وند عالم ہے:’’إِنَّ الَّذِینَ یُؤذُونَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِی الدُّنْیا وَ الاخِرَتِ وَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذاباً مُهِینا‘‘(احزاب/۵۷)وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو اذیتیں پہنچاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے نہایت رسوا کن عذاب ہے۔

ایک دوسرے مقام پر ارشادہوتاہے:﴿بَرَاءَۃٌ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖٓ اِلَى الَّذِيْنَ عٰہَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ﴾

اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے (اعلان) بیزاری ہے ان مشرکوں کی طرف جن سے تمہارا معاہدہ تھا۔ (سورہ توبہ /۱)

اسی اعلان بیزاری کی بنا پر اس کو ’’سورۂ برائت‘‘ بھی کہاگیا ہے۔ قرآن کے ۲۰ سوروں میں ۲۷ مرتبہ لفظ برائت یا اس کے مشتقات بروئے کار لائے گئے ہیں۔(مصطفوی؛ عبدالباقی، المعجم المفهرس لالفاظ القرآن الکریم، ذیل ’’برء‘‘)

ایک اورمقام پر شرک سے بیزاری کے سلسلہ میں ارشاد ہوتاہے:﴿أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّـهِ آلِهَةً أُخْرَىٰ  قُل لَّا أَشْهَدُ  قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ﴾

کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ کہہ دیجئے: میں تو ایسی گواہی نہیں دیتا، کہہ دیجئے: معبود تو صرف وہی ایک ہے اور جو شرک تم کرتے ہو میں اس سے بیزار ہوں۔(سورۂ انعام/۱۹) اسی طرح اوربھی بہت سی آیات قرآن مجید میں ذکر ہیں۔

اہم یہ ہے کہ ہم لعن کے معنی سے آشنائی حاصل کریں ،ان کے مصادیق کیا ہیں انہیں پہچانیں ،تبرا کا طریقہ کیا ہونا چاہئے،اوران سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم تبرا منطقی اورعقلی بنیاد پرکریں تا کہ دوسروں کے مقدسات کی توہین نہ ہو اور کسی کے جذبات واحساسات کو ٹھیس نہ پہنچے۔

قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں بعض گروہ پر لعنت کی گئی ہے :

۱۔ حق کو چھپانے والےپر

۲۔ مومنین کوقتل کرنے والےپر

۳۔ عہد وپیمان کو توڑدینے اورفساد برپا کرنے والوں پر

۴۔ خدا اوراس کے رسول کو اذیت پہنچانے والے ۔

اور شاید یہی وجہ تھی کہ زیارت عاشورا میں خاص افراد اورخاص گروہ پر لعنت کی گئی ہے جوخدا اوراس کے رسول کو اذیت پہنچانے والے تھے ۔ان کی اولادوں کو قتل کرنے والے تھے اورنہ صرف یہ کہ جو لوگ کربلا میں موجود تھے وہی قابل برائت ہیں بلکہ جنہوں نے سنا اورآوازاحتجاج بلند نہیں کیا ان سب پر معصوم نے لعنت کیا ہے۔زیارت عاشورا میںمعصوم آواز دیتے ہیں :

خدایا:لعنت ہو ان لوگوں پرجنہوں نے محمد وآل محمدعلیہم السلام پرظلم کی بنیادڈالی۔

خدایا!جس وقت پہلے والے نے محمدوآل محمدعلیہم السلام پر ظلم ڈھایااوراس کی اتباع چندلوگوں نے کی،تجھ سے میری یہی دعاہے کہ ان سب پرلعنت کر۔

بارالٰہا!جوبھی امام حسینؑ سے جنگ کے لئےآیاان سب پرلعنت کر!

خدایا! سارے ظالموں پرلعنت کر!

بارالٰہا!

خاندانِ’’بنی امیہ‘‘روزعاشوراکوروزِعیداورخوشی کادن قراردیتے ہیں،وہی خاندان کہ جس پرپیغمبراسلامﷺ نے بارہالعنت کی ہے۔تواس پر لعنت کر۔

بارالٰہا!

توابوسفیان،معاویہ اوریزیدپرلعنت کر،ایسی لعنت جوجاویدانہ اورہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔

’’آل زیاد‘‘اور’’آل مروان‘‘نے برسہابرس روز عاشوراکوقتل امام حسین پرجشن منایاہے اورخوشی کااظہارکیاہےلہٰذاخدایاتوبھی ان پردردناک عذاب نازل کرجوان کے فعل سے کئی گنازیادہ ہو!

بارالٰہا!

آج اوراپنی پوری زندگی میں تجھ سےدوچیزوں کے ذریعہ تقرب حاصل کرتاہوں:

اول:بنی امیہ اوراس کے پیروکاروں سے بیزاری اوراظہارنفرت۔

دوم:پیغمبراکرمﷺاوران کے خاندان سے دوستی اورمحبت۔

پروردگارا! تیراشکربجالاتاہوں کہ تونے میرے دل کوغم حسین میں اندوہ ناک اورغمگین کیااوران کی مظلومیت میں میری آنکھوں سے اشک جاری کئے۔

تجھ سے میری التجاہےکہ روزقیامت ہمیں شفاعتِ حسین نصیب فرما،مجھے امام حسینؑ اوران کے باوفااصحاب کی راہ میں ثابت قدم قراردےتاکہ میں ہمیشہ ان کی راہوں پرگامزن رہوں،میری خواہش ہے کہ ان لوگوں کی راہوں پرگامزن رہوں جنہوں نے امام حسینؑ پراپنی جان قربان کردی۔

تحریر: مولانا زین العابدین جونپوری (زین علوی)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سه × 1 =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More