2022 - 09 - 27 ساعت :
امام حسین علیه السلام

حضرت امام حسین علیہ السلام کے ذاتی کمالات

2020-12-02 04

وہ منفردصفات کمالات جن سے ابو الاحرارامام حسین کی شخصیت کو متصف کیا گیا درج ذیل ہیں :

١۔قوت ارادہ

ابو الشہدا کی ذات میں قوت ارادہ ،عزم محکم و مصمم تھا،یہ مظہر آپ کو اپنے جد محترم رسول اسلام سے میراث میں ملا تھا جنھوں نے تاریخ بدل دی ،زندگی کے مفہوم کو بدل دیا،تنہا ان طوفانوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے جو آپ کو کلمہ لاالٰہ الّا اللّٰہ کی تبلیغ کرنے سے روکتے تھے ، آپ نے ان کی پروا کئے بغیر اپنے چچا ابو طالب مو من قریش سے کہا :”خدا کی قسم اگر یہ مجھے دین اسلام کی تبلیغ سے روکنے کے لئے داہنے ہاتھ پر سورج اور با ئیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں گے تو بھی میں اسلام کی تبلیغ کرنے سے باز نہیں آؤ نگا جب تک کہ مجھے موت نہ آئے یا اللہ کے دین کو غلبہ حاصل نہ ہو جائے ۔۔۔”۔

پیغمبر اسلام ۖ نے اس خدا ئی ارادہ سے شرک کا قلع و قمع کردیااور وقوع پذیر ہونے والی چیزوں پر غالب آگئے ،اسی طرح آپ کے عظیم نواسے امام حسین نے اموی حکومت کے سامنے کسی تردد کے بغیر یزید کی بیعت نہ کر نے کا اعلان فر مادیا،کلمہ حق کو بلند کرنے کیلئے اپنے بہت کم ناصرو مددگار کے ساتھ 

…………..

١۔الاصابہ ،جلد ١،صفحہ ١٨٧۔حیاة الامام الحسین ، جلد ١،صفحہ ٤٢٩۔

میدان جہاد میں قدم رکھااور کلمہ ٔ باطل کو نیست و نابود کر دیا جبکہ امویوں نے بہت زیادہ لشکر جمع کیا تھا وہ بھی امام کو اپنے مقصد سے نہیں رو ک سکا،اور آپ نے اس زندئہ جا وید کلمہ کے ذریعہ اعلان فر مایا : ”میں موت کوسعادت کے علاوہ اور کچھ نہیں دیکھتا ،اور ظالموں کے ساتھ زند گی بسر کرنا ذلت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔۔۔ ” ۔(اور آپ ہی کا فرمان ہے ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے )۔

آپ پرچم اسلام کو بلند کر نے کیلئے اپنے اہل بیت خاندان عصمت و طہارت اور اصحاب کے ساتھ میدان میں تشریف لائے اور پرچم اسلام کو بلند کرنے کی کوشش فرمائی ،امت اسلامیہ کی سب سے عظیم نصرت اور فتح دلائی یہاں تک کہ خود امام شہید ہوگئے ،آپ ارادہ میں سب سے زیادہ قوی تھے آپ پختہ ارادہ کے مالک تھے اور کسی طرح کے ایسے مصائب اور سختیوں کے سامنے نہیں جھکے جن سے عقلیں مدہوش اورصاحبانِ عقل حیرت زدہ ہوجاتے ہیں ۔

٢۔ظلم و ستم (و حق تلفی) سے منع کرنا

امام حسین کی ایک صفت ظلم و ستم سے منع کر نا تھی اسی وجہ سے آپ کو (ابو الضیم ) کا لقب دیا گیا، آپ کا یہ لقب لوگوں میں سب سے زیادہ مشہورو منتشر ہوا،آپ اس صفت کی سب سے اعلیٰ مثال تھے یعنی آپ ہی نے انسانی کرامت کا نعرہ لگایا،اور انسانیت کو عزت و شرف کا طریقہ دیا،آپ بنی امیہ کے بندروں کے سامنے نہیں جھکے اور نیزوں کے سایہ میں موت کی نیند سوگئے ،عبد العزیز بن نباتہ سعدی کا کہنا ہے :

والحسینُ الذی رأ ی الموت ف العز 

حیاةً وَالعیشَ ف الذلِّ قتلا

”یعنی حسین وہ ہیں جنھوں نے عزت کی موت کو زندگی اورذلت کی زندگی سے بہتر سمجھا ہے ”۔

مشہور و معروف مورّخ یعقوبی نے آپ کوشدید العزّت کی صفت سے متصف کیا ہے (١)۔

ابن ابی الحدید کا کہنا ہے :سید اہل اباء حضرت ابا عبد اللہ الحسین جنھوں نے لوگوں کو حمیت و غیرت کی تعلیم اور دنیوی ذلت کی زند گی کے مقابلہ میں تلواروں سے کٹ کر مرجانے کا درس دیا انھیں اور آپ کے اصحاب کو امان نامہ دیا گیا لیکن آپ نے ذلت اختیار نہیں فر ما ئی ،امام کو اس بات کا اندیشہ لا حق ہوا کہ ابن زیاد

…………..

١۔تاریخ یعقوبی، جلد ٢،صفحہ ٢٩٣۔

آپ کو قتل نہ کر کے ایک طرح کی ذلت سے دوچار کردے جس کی بنا پر جان فدا کرنے کو ترجیح دی ۔

ابو یزید یحییٰ بن زید علوی کا کہنا ہے :میرے والد ابو تمام نے محمد بن حمید طائی کے سلسلہ میں کہا ہے کہ انھوں نے تمام اشعار امام حسین کی شان میں کہے ہیں :

وقد کان فوت الموت سھلاً فردّہ 

الیہ ِ الحفاظ المُرُّ وَالخُلُقُ الْوَعْرُ

وَنَفْسُ تعافُ الضَّیْمَ حتیّٰ کأنّہُ 

ھُو الکُفرُ یومَ الرَّوْعِ أَو دُونَہ الکُفرُ

فَأَثبت فی مستنقعِ الموتِ رِجْلَہُ

وَقَالَ لَھَا مِنْ تَحْتِ أَخمصکِ الحشْرُ

تردّیٰ ثِیَابَ الموْتِ حُمْراً فَمَا اَتیٰ 

لَھَااللَّیْلُ اِلَّاوھی من سُنْدُسٍ خُضْرُ (١ )

”آپ کے لئے مارے جانے سے بچنا آسان تھا لیکن آپ نے اس سے انکار کردیا ۔

آپ نے نہایت مشکل کے ساتھ دین اسلام کی حفاظت کی ،اور خوش اخلاقی کے ساتھ بچایا ۔

آپ کا نفس ذلت قبول کرنے پرآمادہ نہ ہوا آپ کے نزدیک ذلت قبول کرناکفر یا کفر کی منزل میں تھا ”۔

آپ نے خندہ پیشانی سے شہادت کا استقبال کیا۔

آپ نے سرخ موت کا لباس پہنا جبکہ یہ لباس بعد میں سبز رنگ میں تبدیل ہوگیا ” ۔

”ابوالاحرار”سرور آزادگان نے لوگوں کو ظلم کی مخالفت اور قربانی پیش کر نے کی تعلیم دی مصعب بن زبیر کا کہنا ہے کہ امام نے ذلت کی زندگی پر عزت کی موت اختیار فر ما ئی ۔(٢)اس کے بعد یہ مثال بیان کی :

واِنَّ الاُلیٰ بالطَّفِّ من آل ھاشم 

تاسوافسنّوالِلکِرامِ التَّآسیا

”کربلا میں بنی ہاشم نے فدا کاری کی اور نیک صفت افراد کیلئے فدا کاری کی رسم رائج کی ”۔

روز عاشورہ آپ کی تقریریں اتنی حیرت انگیز تھیں جن کی مثال عزت و بلندی نفس اور دشمن کا منھ توڑجواب دینے کے متعلق عربی ادب میں نہیں ملتی:”آگاہ ہوجائو بیشک ولد الزنا ابن ولد الزنا نے مجھے شہادت 

…………..

١۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد ٣، صفحہ ٢٤٩۔

٢۔تاریخ طبری ،جلد ٦،صفحہ ٢٧٣۔

اور ذلت کے مابین لا کر کھڑا کردیا ،ہم ذلت سے دور ہیں ،اللہ ،اس کا رسول اور مو منین ذلت سے انکار کرتے ہیں ،ان کی پاک و پاکیزہ آغوش ،ان کی غیرت و حمیت کمینوں کی اطاعت کو بزرگوں کی شہادت پر ترجیح دینے سے انکار کر تی ہے ”۔

آپ روز عاشورہ اموی لشکر کے بھیڑیا صفت درندوں کے درمیان ایک کوہ ہمالیہ کی مانند کھڑے ہوئے تھے اور آپ نے ان کے درمیان عزت و شرافت ،کرامت و بزرگی ،ظلم و ستم کی مخالفت سے متعلق عظیم الشان خطبے ارشاد فرمائے :”واللّٰہ لا اعطیکم بیدی اِعطائَ الذَّلِیْلِ،ولااَفِرُّ فِرارالعبیدِ،اِنی عذت بربی وربِّکُمْ اَنْ ترجُمُوْنَ۔۔۔”۔

امام کی زبان سے یہ روشن و منور کلمات اس وقت جاری ہوئے جب آپ کرامت و بلندی کی آخری حدوں پر فا ئز تھے جس کا تصور بھی ممکن نہیں ہے اور ان کلمات کو تاریخ اسلام نے ہر دور کے لئے ایک زندہ و پا ئندہ شجاعت اور بہا دری کے کارناموں کے طور پر اپنے دامن میں محفوظ رکھاہے ۔

شعرائے اہل بیت نے اس واقعہ کی منظر کشی کے سلسلہ میں مسابقہ کیا لہٰذا ان کے کہے ہوئے اشعار، عربی ادب کے مدوّن مصادرمیں بہت قیمتی ذخیرہ ہیں، سید حیدر حلی نے اس دا ئمی واقعہ کی منظر کشی کرتے ہوئے اپنے جد کا یوںمرثیہ پڑھا:

طَمَعَتْ اَنْ تَسُوْمَہُ الْقَوْمُ ضَیْماً 

وابیٰ اللّٰہُ وَالحُسَامُ الصَّنِیْعُ

کیفَ یلویْ علیٰ الدَّنِیَّةِ جِیِّداً 

لِسَوَ ی اللّٰہِ مَا لَوَا ہُ الخُضُوْعُ 

وَلَدَیْہِ جَأْ شُ اَرَدُّ مِنَ الدِّرْعِ

لِظَمأ ی الْقَنَا وَ ھُنَّ شُرُوْعُ

وَبِہِ یَرْجِعُ الْحِفَاظُ لِصَدْرٍ

ضَاقَتِ الْاَرْضُ وَھَِ فِیْہِ تَضِیْعُ 

فَاَبیٰ اَنْ یَعِیْشَ اِلَّا عَزِیْزاً 

فَتَجَلّیَ الْکِفَاحُ وَھُوَ صَرِیْعُ(١)

”ستم پیشہ لوگ چا ہتے تھے کہ حسین اپنی غیرت کا سودا کر لیں جبکہ خدا اور شمشیر حسینی کا یہ منشأ نہیں تھا

بھلا حسین کس طرح ذلت قبول کر لیتے جبکہ آپ غیر خدا کے سامنے کبھی نہیں جھکے تھے۔ 

آپ کے پاس سپر سے زیادہ مضبوط ہمتِ قلبی تھی وہ ابتدا سے ہی اس طرح جنگ کرتے تھے جس 

…………..

١۔دیوان سید حیدر،صفحہ ٨٧۔

طرح پیاسا پانی کی طرف دوڑ کر جا رہا ہو ۔

زمین کے تنگ ہونے کے باوجود آپ کا سینہ کشادہ تھا۔ 

آپ عزت کی زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے جس کی وجہ سے آپ نے راہ حق میں جان پیش کر دی ”

نفس کے کسی چیز کے انکار کر نے کی اس سے اچھی نقشہ کشی نہیں کی جاسکتی جو نقشہ کشی سید حیدر نے اموی حکومت کے امام حسین کی اہانت ،ان کو اپنے ظلم و جورکے سامنے جھکانے کے سلسلہ میں کی ہے لیکن یہ خدا کی مرضی نہیں تھی بلکہ خدا یہی چا ہتا تھا کہ آپ کوایسی عظیم عزت سے نوازے جو آپ کو نبوت سے وراثت میں ملی تھی اور آپ اسی بلند مقام اور مرتبہ پر باقی رہیںاسی لئے آپ نے اللہ کے علاوہ کسی کے سامنے سر نہیںجھکایاتوپھرآپ بنی امیہ کے کمینوں کے سامنے کیسے سر جھکاتے ؟اور ان کی حکومت وسلطنت آپ کے عزم محکم کوکیسے ڈگمگا سکتی تھی ۔آپ کا بہترین شعر ہے : 

وَبِہِ یَرْجِعُ الْحِفَاظُ لِصَدْرٍ

ضَاقَتِ الْاَرْضُ وَھَِ فِیْہِ تَضِیْعُ 

شاعر کی اس تعبیر سے بڑھ کر کیا کو ئی اور تعبیر امام کی غیرت کو بیان کر سکتی ہے ؟اس شاعر نے تمام توانائیوں کو امام کے سینہ سے مختص کیا ہے زمین وسیع ہونے کے باوجود امام کے عزم و ارادہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی، اس شعر میں الفاظ بھی زیبا ہیں اور طبیعت انسا نی پر بھی بار نہیں ہیں ۔

مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ کیجئے جن میں امام حسین کے انکار کی توصیف کی گئی ہے سید حیدر کہتے ہیں :

لقد ماتَ لکنْ مِیتَةُ ھاشمِیَّةً 

لَھُمْ عُرِفَتْ تحتَ القنَا المُتَفَصِّدِ

کَرِیْمُ اَبِیْ شَمَّ الدَّنِیَّةِ اَنْفُہُ 

فَاَشْمَمَہُ شَوْکَ الْوَسِیْجِ الْمُسَدَّدِ

وَقَالَ قِفِیْ یَا نَفْسُ وَقْفَةَ وَارِد 

حِیاضَ الرَّدیٰ لَا وَقْفَةَ الْمُتَرَدِّدِ

رأی اَنَّ ظَھَرَ الذُلِّ اَخْشَنُ مَرْکَباً

مِنَ الْمَوْتِ حیثُ المَوتُ مِنْہُ بِمَرْصَدِ

فَاَثَرَ اَنْ یسعیٰ علیٰ جَمْرَةِ الوَغیٰ 

بِرِجلٍ ولَا یُعْطِ المُقَادَةَ عَنْ یَد( ١ ) 

” امام حسین مارے تو گئے لیکن ہا شمی انداز میں ،ان کا تعارف ہی نیزہ و شمشیر کوچلانے سے پسینہ میں شرابور ہوجانے سے ہوا ۔آپ کریم تھے اسی لئے آپ نے ذلت قبول کرنے سے انکار کردیا۔ 

…………..

١۔دیوان سید حید ر،صفحہ ٧١۔

اسی لئے آپ کو مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔

آپ نے اپنے نفس سے مخاطب ہو کر فرمایااے نفس وا دی ہلاکت میں جانے سے رُک جا البتہ شک کرنے والے کے مانند مت رُک۔ 

آپ نے مشاہدہ کیا کہ مو ت کے مقابلہ میں ذلت قبول کرنازیادہ سخت ہے جبکہ موت آپ کے انتظار میں تھی ۔

اس وقت آپ نے خاردار راہوں میں پیدل چلنا گوارا کیالیکن اپنا اختیار ظالم کے ہاتھ میں دینا پسند نہیں کیا ”۔

ہم نے ان اشعار سے زیادہ دقیق اور اچھے اشعار کا مطالعہ نہیں کیا،یہ اشعار امام کی غیرت اور عظمت نفس کو خو بصورت انداز میں بیان کر تے ہیں امام نے ذلت کی زندگی کے مقابلہ میں تلواروں کے سایہ میں جان دینے کو ترجیح دی اور اس سلسلہ میں آپ نے اپنے خاندان کے اُن شہداء کا راستہ اختیار فرمایاجو آپ سے پہلے جنگ کے میدانوں میں جا چکے تھے ۔

سید حیدر نے امام حسین کے انکار کی صفت کا یوں نقشہ کھینچا ہے کہ آپ نے پستی ،ظلم و ستم اور دوسروں کی حق تلفی کا انکار کیا ،تیروں اور تلواروں میں ستون کے مانند کھڑے ہوگئے ، کیونکہ ایسا کرنے میں غیرت و شرف و بزرگی محفوظ تھی اور اسی عمدہ صفت کا سہارا لیتے ہوئے سید حیدر نے امام کے انکار کی نقشہ کشی کی ہے ، وہ غیرت جو آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہو ئی تھی جیسا کہ دوسرے شاعروں میں بھی بھری ہو ئی تھی اور یہ بات یقینی ہے کہ آپ نے اس سلسلہ میں تکلف سے کام نہیں لیا بلکہ حقیقت بیان کی ہے ۔

سید حیدر نے درج ذیل دوسرے اشعار میں امام حسین کے اس انکار اور آپ کی بلندی ٔذات کو بیان کیا ہے اور شاید یہ امام کے سلسلہ میں کہا گیا بہترین مرثیہ ہو :

وَسامتہُ یرکبُ احدَی اثنتینْ 

وقد صرَّتِ الحربُ اسنانھا

فَاِمَّا یُریٰ مُذْعِناًاَوْ تموتَ 

نَفسُ ابی العزُّ اِذْعَانَھَا

فقالَ لھا اعْتَصِمِیْ بِالاِبَائْ

فَنَفْسُ الاَبِیَّ ومَا زَانَھَا

اِذَا لَمْ تَجِدْ غَیْرَ لِبْسِ الھَوَان

فَبِالْمَوْتِ تَنْزِعُ جُثْمَانَھَا

رَأَ القَتْلَ صَبْراً شَعَارَالکِرَامْ 

وَفَخراً یَزِیْنُ لَھَا شَانَھَا

فَشَمَّرَ لِلْحَرْبِ فِیْ مَعْرَکٍ 

بِہِ عَرَکَ الْمَوْتُ فُرْسَانَھَا ( ١)

”اس وقت آپ نے خار دار راہوں میںپیدل چلنا پسند کیالیکن اپنا اختیار ظالم کے ہاتھوں دینا پسند نہیں کیا۔

جنگ کے میدان میں امام حسین نے محسوس کیا کہ یاذلت محسوس کر نا پڑے گی یا عزت کے ساتھ جام شہا دت نوش کرنا پڑے گا۔

اس وقت آپ نے عزت و غیرت کا دامن تھا منے کا فیصلہ کیا ۔

کیونکہ غیرت مند انسان کو جب ذلت کا سامنا کر ناپڑجائے تو وہ اپنے لئے موت اختیار کرلیتا ہے آپ نے شہادت کو بزرگوں کی عادت اور اپنے لئے فخر محسوس کیا۔

اسی لئے آپ نے جنگ کیلئے کمر کس لی موت اور گھوڑے سواروںکے سامنے سخت جان ہوگئے”۔

امام کی شان میں سید حیدر کے مرثیے امت عربی کی میراث میں بڑے ہی مشہور و معروف ہیں،ان میں نئی افکار کو ڈھالا گیا ہے ،ان کے اجزاء کو بڑی ہی دقت نظری کے ساتھ مرتب و منظم کیا گیا ہے جس سے ان کو چار چاند لگ گئے اور (ان کے ہم عصرلوگوں کا کہنا ہے )قصیدہ کے ہر شعر میں مخصوص طور پر امام کا تذکرہ کیا گیا ہے ،عام لوگ ان اشعار کی اصلاح نہیں کر سکتے اور ان اشعار کا ہر کلمہ کمال اور انتہاء تک پہنچا ہوا ہے ۔

3۔ شجاعت

بڑے بڑے صاحبان ِ فکر و نظرنے پور ی تاریخ میں ایسا شجاع اور ایسا بہادر انسان نہیںدیکھا ،امام حسین کی ذات با برکت تھی کربلا کے دن آپ نے وہ مو قف اختیار فر مایاجس سے سب متحیر ہو گئے ، عقلیں مدہوش ہو کر رہ گئیں ،نسلیں آپ کی شجاعت اور محکم عزم کے متعلق متعجب ہوکر گفتگو کرنے لگیں ،لوگ آپ کی شجاعت کو آپ کے والد بزرگوار کی شجاعت پر فوقیت دینے لگے جس کے پوری دنیاکی ہر زبان میں چرچے تھے ۔

…………..

١۔دیوان سید حیدر،صفحہ ٧١۔

آپ کے ڈر پوک دشمن آپ کی شجاعت سے مبہوت ہو کر رہ گئے ،آپ ان ہوش اڑا دینے والی ذلت و خواری کے سامنے نہیں جھکے جن کی طرف سے مسلسل آپ پر حملے کئے جارہے تھے ،اور جتنی مصیبتیں بڑھتی جا رہی تھیں اتنا ہی آپ مسکرا رہے تھے ، جب آپ کے اصحاب اور اہل بیت کا خاتمہ ہوگیا اور (روایات کے مطابق )تیس ہزار کے لشکر نے آپ پر حملہ کیا تو آ پ نے تن تنہا ان پرایسا حملہ کیا،جس سے ان کے دلوں پر آپ کا خوف اور رعب طاری ہو گیا ،وہ آپ کے سامنے سے اس طرح بھاگے جارہے تھے جس طرح شیرِ غضبناک(روایات کی تعبیر کے مطابق) کے سامنے بکری بھاگتی ہوئی دکھا ئی دیتی ہے ،آپ ہر طرف سے آنے والے تیروں کے سامنے جبل راسخ کی طرح کھڑے ہو گئے آپ کے وقار میں کو ئی کمی نہیں آئی ،آپ کا امر محکم و پا ئیدار اور مو ت کمزور ہو کر رہ گئی ۔

سید حیدرکہتے ہیں :

فَتَلقّی الجُمُوْعُ فَرداً ولٰکِنْ 

کُلُّ عُضْوٍ فِی الرَّوعِ مِنْہُ جُمُوْعُ

رُمْحُہُ مِنْ بِنَائِہِ وَکَاَنَّ مِنْ 

عَزْمِہِ حَدَّ سَیْفِہِ مَطْبُوْعُ

زَوَّ جَ السَّیْفَ بِالنُّفُوْسِ وَلٰکِنْ

مَھْرُھَالْمَوْتُ والخِضآبُ النَّجِیْعُ

”امام حسین نے گرچہ دشمنوں کی جماعت کا تنہا مقابلہ کیالیکن ہیبت کے لحاظ سے آپ کے بدن کا ہرحصہ کئی جماعتوں کے مانند تھا ۔

آپ کی انگلیوں کاپور پورنیزے کا کام کرتا تھااپنی بلند ہمت کی بنا پر آپ کو تلواروں کا مقابلہ کرنے کی عادت پڑگئی تھی ۔

آپ نے اپنی تلوار کے ذریعہ دشمنوں کی صفوں میں تباہی مچا دی ”۔

دوسرے اشعار میں سید حیدر کہتے ہیں :

رَکِیْن وَلِلْاَرْضِ تَحْتَ الْکُماة 

رَجِیْفْ یُزَلْزِلُ ثَھْلَانَھَا

اَقَرُّ عَلیٰ الارضِ مِنْ ظَھرِھَا

اِذَامَلْمَلَ الرُّعْبُ اَقْرَانَھَا

تَزِیْدُ الطَّلَاقَةُ فِیْ وَجْھِہِ 

اِذَاغَیَّرَالْخَوْفُ اَلْوَانَھَا

”حالانکہ زمین مسلسل تھر ا رہی تھی لیکن آپ مضبوطی کے ساتھ پُر سکون تھے ۔

شدید خوف کے مقامات پر بھی آپ کا چہرہ کھِلا ہوا تھا ”۔

جب ظلم و ستم و حق تلفی سے روکنے والے زخمی ہو کر زمین پر گرے اور خون بہہ جانے کی وجہ سے آپ پر غش طاری ہو گیا تو پورا لشکر آپ کے رعب و دبدبہ کی وجہ سے آپ کے پاس نہ آسکا ۔اس سلسلہ میں سید حیدر کہتے ہیں :

عفیراًمتی عا ینتہ الکُماة

یَخْتَطِفُ الرُّعْبُ اَلوانَھَا

فَما أَجَلَتِ الْحَرْبُ عَنْ مِثْلِہ

صَرِیْعاً یُجَبِّنُ شُجْعَانَھَا

”آپ زمین کربلا پر خاک آلود پڑے ہوئے تھے پھر بھی بڑے بڑے بہا در آپ کے نزدیک ہونے سے ڈر رہے تھے ”۔

آپ نے اپنے اہل بیت اور اصحاب کے لئے اس عظیم روح کے ذریعہ ایسی غذا کا انتظام کیا کہ وہ شوق اور اخلاص کے ساتھ مرنے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت کر نے لگے اور انھوں نے اپنے دل میں کسی کے ڈر اور خوف کا احساس نہیں کیاخود ان کے دشمنوں نے ان کی پا ئیداری اور خوف نہ کھانے کی شہادت دی اور کربلا کے میدان میںعمر بن سعد کے ساتھ جس ایک شخص نے یہ منظر دیکھا اس سے کہا گیا وائے ہو تم پر تم نے ذریت رسول ۖکو قتل کر دیا؟

تو اس نے یوں جواب دیا:وہ سخت چٹان تھے ،جو ہم نے دیکھا اگر تم اس کا مشاہدہ کر تے تو جو کچھ ہم نے انجام دیا وہی تم انجام دیتے ،انھوں نے بھوکے شیر کی طرح ہاتھوں میں تلواریں لئے ہوئے لوگوں پر حملہ کیا تو وہ دا ئیں اور با ئیں طرف بھا گنے لگے ،موت کے گھاٹ اترنے لگے ،نہ انھوں نے امان قبول کی نہ مال کی طرف راغب ہوئے اُن کے اور موت کے درمیان نہ کو ئی فاصلہ باقی رہ گیا تھا اور نہ حکومت پر قبضہ کرنے میںکو ئی دیر تھی اگر ہم ایک لمحہ کیلئے بھی رُک جا تے ،اگر ہم ان سے رو گردانی کربھی لیتے تو بھی یہ لشکر والے اس میں مبتلا ہو جا تے۔(١)

بعض شعراء نے اس شاذ و نادر محکم و پا ئیداری کی یوں نقشہ کشی کی ہے :

فَلَوْوَقَفَتْ صُمُّ الْجِبَالِ مَکَانَھُمْ

لَمَادَتْ عَلیٰ سَھْلٍ وَدَکَّتْ عَلیٰ وَعْرِ

فَمِنْ قَائمٍ یَسْتَعْرِضُ النَّبْلُ وَجْھَہُ

وَمِنْ مُقْدِمٍ یَرْمِی الأَسِنَّةِ بِالصَّدْرٍِ

…………..

١۔شرح نہج البلاغہ، جلد ٣،صفحہ ٢٦٣۔

لشکر یزید کی جگہ اگر پہاڑ بھی ہوتے تو وہ بھی آپ کی بہادری کی وجہ سے ریزہ ریزہ ہو جاتے۔ 

آپ جب کھڑے ہوجاتے تھے تو سامنے سے تیر آنے لگتے تھے اور جب کبھی آگے بڑھنے لگتے تھے توآپ کے سینہ میں نیزے آکے لگنے لگتے تھے”۔

اور سید حیدر کا یہ شعر کتنا اچھا ہے :

دَکُّوا رُبَاھاً ثُمَّ قَالُوا لَھَا

وَقَدْ جَثَوا۔نَحْنُ مَکَانَ الرُّبَا!

”انھوں نے ٹیلوں کو ریزہ ریزہ کردیا ہے پھر جب اس پر بیٹھ گئے تو کہنے لگے ہم ٹیلے ہیں ”۔ 

امام حسین نے فطرت بشری کی نادر استقامت و پا ئیداری کے ساتھ چیلنج پیش کرتے ہوئے موت کی کو ئی پروا نہ کی اور جب آپ پر دشمنوں کے تیروں کی بارش ہو رہی تھی تو اپنے اصحاب سے فرمایا:”قُوموُارحِمَکُم اللّٰہُ الیٰ المَوْتِ الَّذِیْ لَابُدَّ مِنْہُ فَاِنَّ ھٰذِہِ السّھَامَ رُسُلُ الْقَوْمِ اِلَیْکُمْ۔۔۔”۔ 

”تم پر خدا کی رحمت ہو اس مو ت کی جانب آگے بڑھوجس سے راہ فرار نہیں کیونکہ یہ تیر دشمنوں کی جانب سے تمہارے لئے موت کا پیغام ہیں ”۔

حضرت امام حسین کااپنے اصحاب کو موت کی دعوت دینا گویا لذیذ چیز کی دعوت دینا تھا ،جس کی لذت آپ کے نزدیک حق تھی ،چونکہ آپ باطل کو نیست و نابود کرکے ان کے سامنے پروردگار کی دلیل پیش کرنا چاہتے تھے جو ان کی تخلیق کرنے والاہے ۔(١)

٤۔صراحت

حضرت امام حسین کی ایک صفت کلام میں صاف گوئی سے کام لینا تھی ،سلوک میں صراحت سے کام لینا ، اپنی پوری زند گی کے کسی لمحہ میں بھی نہ کسی کے سامنے جھکے اور نہ ہی کسی کو دھوکہ دیا،نہ سست راستہ اختیار کیا،آپ نے ہمیشہ ایسا واضح راستہ اختیار فر مایاجو آپ کے زندہ ضمیر کے ساتھ منسلک تھااور خود کو ان تمام چیزوں سے دور رکھا جن کا آپ کے دین اور خلق میں کوئی مقام نہیں تھا ،یہ آپ کے واضح راستہ کا ہی اثر

…………..

١۔الامام حسین، صفحہ ١٠١۔

تھا کہ یثرب کے حاکم یزید نے آپ کو رات کی تا ریکی میں بلایا،آپ کو معاویہ کے ہلاک ہونے کی خبر دی اور آپ سے رات کے گُھپ اندھیرے میںیزید کے لئے بیعت طلب کی تو آپ نے یہ فرماتے ہوئے انکار کردیا :”اے امیر ،ہم اہل بیت نبوت ہیں ، ہم معدن رسالت ہیں ،اللہ نے ہم ہی سے دنیا کا آغاز کیا اور ہم پر ہی اس کا خاتمہ ہوگا،یزید فاسق و فاجر ہے ،شارب الخمر ہے ،نفس محترم کا قاتل ہے وہ متجا ہر بالفسق ہے اور میرا جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا ”۔

ان کلمات کے ذریعہ آپ کی صاف گو ئی ،بلندی ٔ مقام اور حق کی راہ میںٹکرانے کی طاقت کشف ہو ئی ۔

آپ کی ذات میںاسی صاف گو ئی کی عادت کے موجودہونے کایہ اثر تھا کہ جب آپ عراق کی طرف جارہے تھے تو راستہ میں آپ کو مسلم بن عقیل کے انتقال اور ان کو اہل کوفہ کے رسوا و ذلیل کرنے کی دردناک خبر ملی تو آپ نے ان افرادسے جنھوںنے حق کی حمایت کا راستہ اختیار نہ کرکے عفو کا راستہ اختیار کیا فرمایا:”ہمارے شیعوں کو رسوا و ذلیل کیا تم میں سے جو جانا چاہے وہ چلا جائے ، تم پر کو ئی زبردستی نہیں ہے۔۔۔”۔

لالچی افراد آپ سے جدا ہو گئے ،صرف آپ کے ساتھ آپ کے منتخب اصحاب اور اہل بیت علیہم السلام (١) باقی رہ گئے ،آپ نے ان مشکل حالات میںدنیا پرست افراد سے اجتناب کیا جن میں آپ کو ناصر و مدد گار کی ضرورت تھی ، آپ نے سخت لمحات میں مکر و فریب سے اجتناب کیا آپ کا عقیدہ تھا کہ خدا پر ایمان رکھنے والے افراد کے لئے ایسا کرنا زیب نہیں دیتا۔

اسی صاف گوئی و صراحت کا اثر تھا کہ آپ نے محرم الحرام کی شب عاشورہ میں اپنے اہل بیت اور اصحاب کو جمع کر کے ان سے فرمایا کہ میں کل قتل کر دیا جائونگا اور جو میرے ساتھ ہیں وہ بھی کل قتل کردئے جائیںگے،آپ نے صاف طور پر ان کے سامنے اپناامر بیان فر ماتے ہوئے کہا کہ تم رات کی تاریکی میںمجھ سے جدا ہوجا ئو ،تو اس عظیم خاندان نے آپ سے الگ ہونے سے منع کر دیا اور آپ کے سامنے شہادت 

پرمصر ہوئے ۔

…………..

١۔انساب الاشراف، جلد ١،صفحہ ٢٤٠۔

حکومتیں ختم ہو گئیں بادشاہ اس دنیا سے چلے گئے لیکن یہ بلند اخلاق باقی رہنے کے حقدارہیں جو کائنات میں ہمیشہ باقی رہیں گے ،کیونکہ یہ بلند و بالا اور اہم نمونے ہیں جن کے بغیر انسان کریم و شفیق نہیں ہو سکتا ۔

٥۔ حق کے سلسلہ میں استقامت

امام حسین کی اہم اور نمایاں صفت حق کے سلسلہ میں استقامت و پا ئیداری تھی ،آپ نے حق کی خاطر اس مشکل راستہ کو طے کیا،باطل کے قلعوں کو مسمار اور ظلم و جور کو نیست و نابود کر دیا ۔

آپ نے اپنے تمام مفاہیم میں حق کی بنیاد رکھی ،تیربرستے ہوئے میدان کو سر کیا،تاکہ اسلامی وطن میں حق کا بول بالا ہو،سخت دلی کے موج مارنے والے سمندر سے امت کو نجات دی جائے جس کے اطراف میں باطل قواعدو ضوابط معین کئے گئے تھے ،ظلم کا صفایا ہو،سرکشی کے آشیانہ کی فضا میں باطل کے اڈّے، ظلم کے ٹھکانے اور سرکشی کے آشیانے وجود میں آگئے تھے، امام نے ان سب سے روگردانی کی ہے ۔

امام نے امت کو باطل خرافات اور گمرا ہی میں غرق ہوتے دیکھا ،آپ کی زند گی میں کو ئی بھی مفہوم حق کے مفہوم سے زیادہ نمایاں شمار نہیں کیا جاتا تھا ،آپ حق کا پرچم بلند کر نے کے لئے قربانی اور فدیہ کے میدان میں تشریف لائے ،آپ نے اپنے اصحاب سے ملاقات کرتے وقت اس نورانی مقصد کا یوں اعلان فرمایا:

”کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ نہ حق پر عمل کیا جا رہا ہے اورنہ ہی باطل سے منع کیا جا رہا ہے، جس سے مومن اللہ سے ملاقات کر نے کے لئے راغب ہو ۔۔۔”۔

امام حسین کی شخصیت میں حق کا عنصر مو جود تھا ،اور نبی اکرم ۖنے آپ کی ذات میں اس کریم صفت کا مشاہدہ فرمایا تھا ، (مو رخین کے بقول )آپ ۖہمیشہ امام کے گلوئے مبارک کے بوسے لیا کرتے تھے جس سے کلمة اللہ ادا ہوااور وہ حسین جس نے ہمیشہ کلمہ ٔ حق کہا اور زمین پر عدل و حق کے چشمے بہائے ۔

٦۔ صبر

سید الشہدا کی ایک منفر د خاصیت دنیاکے مصائب اور گردش ایام پر صبر کرنا ہے ،آپ نے صبر کی مٹھاس اپنے بچپن سے چکھی ،اپنے جد اور مادر گرامی کی مصیبتیں برداشت کیں ،اپنے پدر بزرگوار پرآنے والی سخت مصیبتوںکا مشاہدہ کیا،اپنے برادر بزرگوار کے دور میں صبر کا گھونٹ پیا ،ان کے لشکر کے ذریعہ آپ کو رسوا و ذلیل اورآپ سے غداری کرتے دیکھا یہاں تک کہ آپ صلح کرنے پر مجبور ہوگئے لیکن آپ اپنے برادر بزرگوار کے تمام آلام و مصائب میں شریک رہے ،یہاں تک کہ معاویہ نے امام حسن کو زہر ہلاہل دیدیا، آپ اپنے بھا ئی کا جنازہ اپنے جد کے پہلو میں دفن کرنے کے لئے لے کر چلے تو بنی امیہ نے آپ کا راستہ روکا اور امام حسن کے جنازہ کو ان کے جد کے پہلو میں دفن نہیں ہونے دیایہ آپ کے لئے سب سے بڑی مصیبت تھی ۔

آپ کے لئے سب سے عظیم مصیبت جس پر آپ نے صبر کیا وہ اسلام کے اصول و قوانین پرعمل نہ کرنا تھانیز آپ کے لئے ایک بڑی مصیبت یہ تھی کہ آپ دیکھ رہے تھے کہ آپ کے جدبزرگوار کی طرف جھوٹی حدیثیں منسوب کی جا رہی ہیں جن کی بنا پر شریعت ا لٰہی مسخ ہو رہی تھی آپ نے اس المیہ کا بھی مشاہدہ کیا کہ آپ کے پدر بزرگوار پر منبروں سے سب و شتم کیاجارہا ہے نیز باغی” زیاد”شیعوں اور آپ کے چاہنے والوں کو موت کے گھاٹ اتار رہاتھاچنانچہ آپ نے ان تمام مصائب و آلام پر صبر کیا ۔

جس سب سے سخت مصیبت پر آپ نے صبر کیا وہ دس محرم الحرام تھی مصیبتیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں بلکہ مصیبتیں آپ کا طواف کر رہی تھیں آپ اپنی اولاد اور اہل بیت کے روشن و منورستاروں کے سامنے کھڑے تھے ،جب ان کی طرف تلواریں اور نیزے بڑھ رہے تھے تو آپ ان سے مخاطب ہو کر ان کو صبر اور استقامت کی تلقین کر رہے تھے :”اے میرے اہل بیت !صبر کرو ،اے میرے چچا کے بیٹوں! صبر کرو اس دن سے زیادہ سخت دن نہیں آئے گا ”۔

آپ نے اپنی حقیقی بہن عقیلہ بنی ہاشم کو دیکھا کہ میرے خطبہ کے بعد ان کا دل رنج و غم سے بیٹھا جارہا ہے تو آپ جلدی سے ان کے پاس آئے اور جو اللہ نے آپ کی قسمت میں لکھ دیا تھا اس پر ہمیشہ صبرو رضا سے پیش آنے کا حکم دیا ۔

سب سے زیادہ خوفناک اور غم انگیز چیز جس پر امام نے صبر کیا وہ بچوں اور اہل وعیال کا پیاس سے بلبلانا تھا ،جوپیاس کی شدت سے فریاد کر رہے تھے، آپ ان کو صبرو استقامت کی تلقین کررہے تھے اور ان کو یہ خبر دے رہے تھے کہ ان تمام مصائب و آلام کو سہنے کے بعد ان کا مستقبل روشن و منور ہو جا ئے گا ۔

آپ نے اس وقت بھی صبر کا مظاہرہ کیا جب تمام اعداء ایک دم ٹوٹ پڑے تھے اور چاروں طرف سے آپ کو نیزے و تلوار مار رہے تھے اور آپ کا جسم اطہرپیاس کی شدت سے بے تاب ہو رہا تھا ۔

عاشور کے دن آپ کے صبرو استقامت کو انسانیت نے نہ پہچانا ۔

اربلی کا کہنا ہے :”امام حسین کی شجاعت کو نمونہ کے طور پر بیان کیا جا تا ہے اورجنگ و جدل میں آپ کے صبرکو گذشتہ اور آنے والی نسلیں سمجھنے سے عا جز ہیں ”۔(١)

بیشک وہ کو نسا انسان ہے جو ایک مصیبت پڑنے پر صبر ،عزم اور قوت نفس کے دامن کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑتا اور اپنے کمزور نفس کے سامنے تسلیم ہو جاتا ہے لیکن امام حسین نے مصیبتوں میں کسی سے کو ئی مدد نہیں ما نگی، آپ نے انتہا ئی صبر سے کام لیا اگرامام پر پڑنے والی مصیبتوں میں سے اگر کو ئی مصیبت کسی دوسرے شخص پر پڑتی تو وہ انسان کتنا بھی صبر کرتا پھر بھی اس کی طاقتیں جواب دے جاتیںلیکن امام کی پیشانی پر بل تک نہ آیا۔

مو رخین کا کہنا ہے :آپ اس عمل میں منفرد تھے، آپ پرپڑنے والی کو ئی بھی مصیبت آپ کے عزم میں کو ئی رکاوٹ نہ لا سکی ،آپ کا فرزند ارجمند آپ کی زندگی میں مارا گیا لیکن آپ نے اس پر ذرا بھی رنجیدگی کا اظہار نہیں کیا آپ سے اس سلسلہ میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:”بیشک ہم اہل بیت اللہ سے سوال کرتے ہیں تو وہ ہم کو عطا کرتا ہے اور جب وہ ہم سے ہماری محبوب چیز کو لینا چا ہتا ہے تو ہم اس پر راضی رہتے ہیں ”۔(٢)

آپ ہمیشہ اللہ کی قضا و قدر پر راضی رہے اور اس کے حکم کے سامنے تسلیم رہے ،یہی اسلام کا جوہر اور ایمان کی انتہا ہے ۔

٧۔حلم

امام حسین کی بلند صفت اور آپ کے نمایاں خصوصیات میں سے ایک صفت حلم و بردباری ہے چنانچہ(راویوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ )برائی کرنے والے کا اس کی برائی سے اور گناہگار کا اس کے 

…………..

١۔کشف الغمہ ،جلد ٢،صفحہ ٢٢٩۔

٢۔الاصابہ، جلد ٢،صفحہ ٢٢٢۔

گناہ سے موازنہ نہیں کیاجا سکتا ،آپ سب کے ساتھ نیکی سے پیش آتے ان کو امر بالمعروف کیا کرتے تھے، حلم کے سلسلہ میں آپ کی شان آپ کے جد رسولۖ اللہ کے مثل تھی جن کے اخلاق و فضا ئل تمام انسانوں کے لئے تھے،چنانچہ آپ اس صفت کے ذریعہ مشہور و معروف ہوئے اور آپ کے بعض اصحاب نے اس صفت کو عروج پر پہنچایا،جو آپ کے ساتھ برا ئی سے پیش آتا آپ اس پر صلہ ٔ رحم کرتے اور احسان فر ماتے ۔

مو رخین کا کہنا ہے: آپ کے بعض مو الی ایسی جنایت کرتے تھے جو تادیب کا سبب ہو تی تھی تو امام ان کو تا دیب کرنے کا حکم دیتے تھے ،ایک غلام نے آپ سے عرض کیا :اے میرے مولا و سردار خدا فر ماتا ہے :(والکاظمین الغیظ )امام حسین نے اپنی فیاضی پر مسکراتے ہوئے فر ما یا :خَلُّواعنہ ،فقد کظمت غیظی ۔۔۔”۔”اس کو آزاد کردو میں نے اپنے غصہ کو پی لیا ہے ”۔

غلام نے جلدی سے کہا :(والعافین عن الناس )۔”اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں”

”قد عفوت عنک ”،(میں نے تجھے معاف کردیا )۔

غلام نے مزید احسان کی خو اہش کرتے ہوئے کہا:(واللّٰہُ یُحِبُّ المحسنین )(١)”اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ”

”انت حرّلوجہ اللّٰہ ِ۔۔۔”۔”تو خدا کی راہ میں آزاد ہے ”

پھر آپ نے اس کو ایسا انعام و اکرام دیاتا کہ وہ لوگوں سے سوال نہ کر سکے ۔

یہ آپ کا ایسا خُلق عظیم ہے جو کبھی آپ سے جدا نہیں ہو ا اور آپ ہمیشہ حلم سے پیش آتے رہے۔

٨۔تواضع

امام حسین بہت زیادہ متواضع تھے اور انانیت اور تکبر آپ کے پاس تک نہیں پھٹکتا تھا ،یہ صفت آپ کو اپنے جد بزرگوار رسول اسلام ۖ سے میراث میں ملی تھی جنھوں نے زمین پرفضائل اور بلند اخلاق کے اصول قائم کئے ۔راویوں نے آپ کے بلند اخلاق اور تواضع کے متعلق متعددواقعات بیان کئے ہیں ،ہم ان میں سے ذیل میں چند واقعات بیان کر رہے ہیں :

…………..

١۔سورئہ آل عمران، آیت ١٣٤۔

١۔آپ کا مسکینوں کے پاس سے گذر ہوا جو کھانا کھا رہے تھے، انھوں نے آپ کو کھانا کھانے کے لئے کہا تو آپ اپنے مرکب سے اتر گئے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا،پھر ان سے فرمایا:”میں نے تمہاری دعوت قبول کی تو تم میری دعوت قبول کر و” انھوں نے آپ کے کلام پر لبیک کہا اور آپ کے ساتھ آپ کے گھر تک آئے آپ نے اپنی زوجہ رباب سے فرمایا:”جو کچھ گھر میں موجود ہے وہ لا کر دیدو”۔ انھوں نے جو کچھ گھر میں رقم تھی وہ لا کر آپ کے حوالہ کر دی اور آپ نے وہ رقم ان سب کو دیدی۔(١)

٢۔ ایک مرتبہ آپ ان فقیروں کے پاس سے گذرے جو صدقہ کا کھانا کھا رہے تھے ،آپ نے ان کو سلام کیا تو انھوں نے آ پ کو کھانے کی دعوت دی توآپ ان کے پاس بیٹھ گئے اور ان سے فرمایا:”اگر یہ صدقہ نہ ہوتا تو میں آپ لوگوں کے ساتھ کھاتا ”پھر آپ ان کو اپنے گھر تک لے کر آئے ان کو کھانا کھلایا ، کپڑا دیا اور ان کو درہم دینے کا حکم دیا ۔(٢)

اس سلسلہ میں آپ نے اپنے جد رسول اللہ ۖ کی اقتدا فر ما ئی ،ان کی ہدایات پر عمل پیرا ہوئے، (مو رخین کا کہنا ہے کہ )آپ غریبوں کے ساتھ مل جُل کر رہتے اور ان کے ساتھ اٹھتے اور بیٹھتے تھے ہمیشہ ان پر احسان فر ماتے ان سے نیکی سے پیش آتے تھے یہاں تک کہ فقیر اپنے فقر سے بغاوت نہ کرتا اور مالدار اپنی دولت میں بخل نہیں کرتا تھا ۔

…………..

١۔تاریخ ابن عساکر، جلد ١٣،صفحہ ٥٤۔

٢۔اعیان الشیعہ ،جلد ٤،صفحہ ١١٠۔

 

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت