صفين كى جانب روانگي

0 6

صفين كى جانب روانگي

روانگى كے بعد اميرالمومنين حضرت على (ع) بھى بدھ كے دن بتاريخ 5 شوال 36ھ اپنے لشكر عظيم كے ہمراہ جس كى تعداد ( قراول لشكر) كے ساتھ نوے ہزار سپاہيوں پر مشتمل تھى   نُخيلہ سےصفين كى جانب روانہ ہوئے_

راستے ميں مختلف حادثات بھى پيش آئے جن ميں سے يہاں صرف دو واقعات كا ذكر كيا جاتا ہے_

:1 اميرالمومنين حضرت على (ع) جس وقت شہر ” رقہ” ميں داخل ہوئے تو آپ نے وہاں كے لوگوں سے فرمايا كہ دريا پر پل باندھيں تا كہ سپاہ آرام سے دريا پار كرسكے ليكن وہ لوگ چونكہ آپ كى حكومت كے مخالف تھے اسے لئے انہوں نے اس كام كو انجام دينے سے انكار كيا يہى نہيں بلكہ وہ جہاز جو وہاں اس وقت لنگر انداز تھے وہ انھيں بھى اپنے ساتھ لے گئے تا كہ لشكر اسلام كے ہاتھ نہ لگ جائيں اور ہ انھيں اپنے استعمال ميں لائيں يہ كيفيت ديكھ كر حضرت على (ع) نے اپنے عساكر كو حكم ديا كہ وہ پل مَنبج سے گذريں ( جو لشكر گاہ سے نسبتاً دور تھا) اس اقدام كے بعد آپ (ع) نے مالك اشتر كو وہيں قيام كرنے كا حكم ديا اور خود اس جانب روانہ ہوگئے_

حضرت على (ع) كے ساتھ اہل رقہ نے جو سلوك كيا اس سے مالك اشتر خوش تو نہ تھے چنانچہ انہوں نے وہاں كے لوگوں سے كہا كہ خدا كى قسم اگر تم نے پل نہ باندھا اور حضرت على (ع) كو واپس نہ آنے ديا تو يں تم سب كو تہ و تيغ كردوں گا، تمہارے مال كو ضبط كرلوں گا اور زمين ويران كرڈالوںگا_

يہ سن كر وہ لوگ ايك دوسرے كا منھ تكنے لگے اور آپس ميں كہنے لگے كہ اشتر جو كہتے ہيں وہ كر گذرتے ہيں حضرت على (ع) نے انھيں يہاں اسى مقصد كے لئے رہنے كا حكم ديا ہے چنانچہ وہ فورا ہى پل باندھنے كيلئے تيار ہوگئے اور تھوڑے عرصے ميں ہى انہوں نے دريا پر پل باندھ ديا اور لشكر اسلام اس پر سے گذر گيا جب لشكر اسلام فرات كے ساحل پر اتر گيا بض افراد نے يہ تجويز پيش كى كہ اتمام حجت كے طور پر معاويہ كو خط لكھا جائے اور اس كو يہ دعوت دى جائے كہ تم سے جو لغزشيں سرزد ہوئي ہيں وہ ان سے اَب باز رہے حضرت على (ع) نے ان كى اس تجويز كو قبول كرليا اور كتنى ہى مرتبہ نصيحت آميز خط لكھئےحضرت على (ع ) نے مذكورہ خط ميں اس امر كى جانب بھى اشارہ فرمايا كہ ( اے معاويہ) مقام خلافت كے لئے وہ شخص سب سے زيادہ سزاوار ہے جو دوسروں كے مقابل رسول خدا (ص) كے سب سے زيادہ نزديك ہو وہ كتاب خدا اور احكام اسلام كو دوسرں كى نسبت زيادہ بہتر سمجھتا ہو دين اسلام قبول كرنے ميں وہ سب پر سبقت لے گيا ہو اور جس نے سب سے زيادہ اور بہتر طريقے پر جہاد كيا ہو ميں تمھيں كتاب خدا و سنت رسول (ص) كى جانب آنے اور امت مسلمہ كى خون ريزى سے اجتناب كى دعوت ديتا ہوں_

حضرت على (ع) كے خط كى جواب ميں معاويہ نے صرف ايك ہى شعر لكھا اور اس ميں اس نے تہديد آميز رويہ اختيار كيا شعر كا مضمون يہ ہے كہ ميرے اور تمہارے درميان جنگ اور شمشير كے علاوہ كوئي اور چيز فيصلہ نہيں كر سكتي

مزید  خوارج كے ساتھ جنگ كى ضرورت
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.