حضرت على (ع) ميدان كارزار ميں

0 18

حضرت على (ع) ميدان كارزار ميں

اميرالمومنين حضرت على كمانڈر انچيف كے فرائض انجام دينے كے علاوہ بہت سے مواقع پر بالخصوص حساس ترين لمحات ميں خود بھى ميدان كارزار ميں پہنچ جاتے اور دشمن كے حملوں كا مقابل كرتے اگرچہ آپ كے اصحاب و فرزند آپ (ع) كے دشمن كے درميان حائل ہوجاتے اور آپكى پورى حفاظت كرتے اور ان كى يہ خبرگيرى آپكے ليئے جنگ كرنے ميں مانع ہوتي_

بطور مثال ايك موقع پر ميان كارزار ميں بنى اميہ كے ” احمر” نامى غلام جو بڑا جرى و دلاور شخص تھا آگے بڑھا _جس وقت حضرت على (ع) كى نگاہ اس پر گئي تو آپ بھى اسكى طرف بڑھے اسى اثناء ميں حضرت على (ع) كا غلام جس كا نام ” كيسان” تھا آگے بڑھ آيا _ دونوں كے درميان كچھ دير تك نبرد آزمائي ہوتى رہى _ بالاخر وہ احمر كے ہاتھوں ماراگيا اب احمر حضرت على (ع) كى جانب بڑھا تا كہ آپ كو شہيد كردے_ حضرت على (ع) نے اس سے قبل كہ دشمن وار كرے ہاتھ بڑھا كر اس كا گريبان پكڑا اور اسے گھوڑے پر سے كھينچ ليا_ اور اسے سر سے اوپر اٹھا كر زمين پر دے مارا كہ اس كے شانہ و بازو ٹوٹ كر الگ ہوگئے اور ايك طرف كھڑے ہوگئے_ اتنے ميں فرزندان على (ع) (حضرت امام حسين (ع) اور حضرت محمد حنفيہ) وہاں پہنچ گئے اور تلوار كے وارسے اسے ہلاك كرديا_

راوى مزيد بيان كرتا ہے كہ : احمر كے قتل كے بعد شاميوں نے جب حضرت على (ع) كو اكيلا ديكھا تو وہ آپ (ع) كى طرف بڑھے اور جان لينے كا ارادہ كيا اگرچہ وہ حضرت على (ع) كى جانب بڑھتے رہے مگر آپ(ع) كى رفتار ميں ذرا بھى فرق نہ آيا اور پہلے كى طرح آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے رہے ، حالانكہ اپنے لشكر كى طرف پلٹنے كا ارادہ نہيں تھا_

يہ كيفيت ديكھ كر حضرت امام حسن (ع) نے اپنے والد محترم سے عرض كى كيا حرج ہے كہ آپ (ع) اپنىرفتار تيز كرديں اور اپنے ان دوستوں سے آن مليں جو دشمن كے روبرو كھڑے ہيں اس پر حضرت على (ع) نے جواب ديا كے اے ميرے فرزند تيرے والد كا اس جہان سے كوچ كرنے كے لئے خاص وقت معين ہے اس ميں ذرا بھى پس و پيش نہيں ہوسكتى _ تيرے والد كو اس بات كا ذرا بھى غم نہيں كہ موت كو اپنى آغوش ميں لے لے يا موت خود ہى آكر گلے لگ جائے
ايك موقع پر سعيد بن قيس ميدان كارزار ميں موجود تھا اس نے بھى ايك مرتبہ حضرت على (ع) كى خدمت ميں عرض كيا : يا اميرالمومنين آپ دشمن كى صف كے نزديك حد سے زيادہ آگے آجاتے ہيں كيا آپ كو اس بات كا ذرا بھى خوف نہيں كہ دشمن آپ پر وار كر سكتا ہے اس پر آپ (ع) نے فرمايا تھا كہ خداوند تعالى سے بڑھ كر كوئي كسى كا نگہبان نہيں اگر كوئي كنويں ميں گرجائے يا اس پر ديوار گر رہى ہو يا كوئي اور بلا نازل ہو رہى ہو تو خدا كے علاوہ اس كى كوئي حفاظت كرنے والا نہيں اور جب موت آجاتى ہے تو تمام تدابير بيكار ہوجاتى ہيں 

مزید  آخرس سعى و كوشش
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.