بلاغات النساء

0 29

بلاغات النساء

بلاغات النساء
کتاب بلاغات النساء.gif
بلاغات النساء
مؤلف: احمد بن ابی طاہر معرف بہ ابن طیفور
موضوع: نامدار خواتین کے کلام
ناشر: شریف رضی
محل نشر: قم

بلاغاتُ النّساء اہل سنت مورخ ابن طَیفور(۲۰۴-۲۸۰ھ) کی عربی زبان میں لکھی گئی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تاریخ اسلام کی پہلی تین صدیوں کے مشہور خواتین کے فصیح و بلیغ اشعار اور کلام جمع کئے گئے ہیں۔ یہ کتاب بحارالانوار اور الغدیر کے منابع میں سے ہے اور علامہ مجلسی نے حضرت زہرا(س) اور کوفہ و شام میں اہل بیت کے مستورات کے خطبات کو بھی اسی کتاب سے نقل کئے ہیں۔

بلاغات النساء کتاب “المنثور و المنظوم” کی گیارہویں جلد ہے جو مستقل طور پر بھی نشر ہوئی ہے۔

مؤلف

احمد بن ابی‌طاہر خراسانی(۲۰۴-۲۸۰ھ) جو ابن طَیفور کے نام سے معروف اہل سنت کے مورخ اور قلم کار ہیں۔ خیرالدین رِزِکْلی کے مطابق ابن طیفور اصل میں مرو سے تھا لیکن بغداد میں مقیم تھے۔[1] ان کی طرف تقریبا 50 کتابوں کی نسبت دی جاتی ہے جن میں “تاریخ بغداد” اور “المنثور و المنظوم”(14 جلدوں میں) قابل ذکر ہیں۔[2]

اہمیت اور اعتبار

کتاب بلاغات النساء کتاب “المنثور و المنظوم” کی گیارہویں جلد کا ایک حصہ ہے جو مستقل طور پر نشر ہوئی ہے۔[3] اگرچہ اس کتاب کے مؤلف کا تعلق اہل سنت مذہب سے ہے لیکن شیعہ علماء نے بھی اس کتاب سے استناد کئے ہیں۔[4] آقا بزرگ تہرانی کے مطابق علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں مدینے میں حضرت زہرا(س) کا خطبہ اور کوفہ و شام میں اہل بیت کے دیگر مستورات کے خطبات کو اسی کتاب سے نقل کئے ہیں۔[5]

مزید  شرح لمعہ دمشقیہ (کتاب)

اس کتاب کا ادبی پہلو مختلف مورخین کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔[6] اسی طرح کہا جاتا ہے کہ اس کتاب میں مسلمان خواتین کی آزادی اور سماجی مسائل سے ان کی آگاہی کی عکاسی کی گئی ہے۔[7]

محتوا

حوالہ جات

  1. زرکلی، الاعلام، ۱۹۸۹م، ج۱، ص۱۴۱۔
  2. زرکلی، الاعلام، ۱۹۸۹م، ج۱، ص۱۴۱۔
  3. زرکلی، الاعلام، ۱۹۸۹م، ج۱، ص۱۴۱۔
  4. نمونہ کے لئے مراجعہ کریں: علامہ امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ق، ج۱۰، ص۲۳۸۔
  5. آقابزرگ تہرانی، الذریعہ، ۱۴۰۳ق، ج۳، ص۱۴۲۔
  6. ملاحظہ کریں: ارناؤوط، «کتاب من التراث، سمات الأدب النسائی فی «بلاغات النساء» لاحمد بن طیفور»، ص۱۰۴۔
  7. «بلاغات النساء».

مآخذ

  • ابن طیفور، احمد بن ابی‌طاIر، بلاغات النساء، قم، الشریف الرضی، بی‌تا۔
  • ارناؤوط، عبداللطیف، «کتاب من التراث، سمات الأدب النسائی فی «بلاغات النساء» لاحمد بن طیفور»، التراث العربی، العدد ۵۰، رجب ۱۴۱۳ھ۔
  • ًآقابزرگ تہرانی، محمدمحسن، الذریعہ فی تصانیف الشیعہ، تصحیح:‌ احمد بن محمد حسینی، بیروت، دارالاضواء، ۱۴۰۳ھ۔
  • «بلاغات النساء»، پایگاہ اطلاع رسانی دفتر حضرت آیۃ اللہ العظمی مکارم شیرازی، مشاہدہ ۲۸ تیر ۱۳۹۹ش۔
  • زرکلی، خیرالدین، الاعلام قاموس تراجم الاشہر الرجال و النساء من العرب و المستعربین و المستشرقین، بیروت، دارالملایین، ۱۹۸۹ء۔
  • علامہ امینی، عبدالحسین، الغدیر، قم، مرکز الغدیر، ۱۴۱۶ھ۔

http://ur.wikishia.net/view/%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%BA%D8%A7%D8%AA_%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%B3%D8%A7%D8%A1

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.