اہل قبلہ

0 28

اہل قبلہ سے مراد وہ تمام مسلمان ہیں جو کعبہ کو اپنا قبلہ سمجھتے ہیں اور اس اصطلاح کا استعمال اس وقت استعمال ہوتی ہے جب مسلمانوں میں سے کسی کی طرف کفر کی نسبت دی جاتی ہے اور انکی تکفیر ہوتی ہے۔

اہل قبلہ ہر وہ شخص ہے جو اسلام سے منسوب ہے۔[1] اور چونکہ اسلامی تمام فرقے کعبہ کو اپنا قبلہ سمجھتی ہیں اس لئے وہ سب اہل قبلہ شمار ہوتے ہیں۔[2] چودہویں صدی ہجری کے شیعہ مفسر محمدجواد مغنیہ کا کہنا ہے کہ اہل قبلہ کی اصطلاح، اہل قرآن، اہل شہادتین اور مسلمان کے معنی میں ہی ہے اور ان سے مراد وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالی، ان کے رسولؐ اور ان کی سنت پر ایمان رکھتے ہیں اور قبلہ رخ ہوکر نماز پڑھتے ہیں۔[3] اسی طرح ملا علی قاری نامی اہل سنت کے عالم دین کا کہنا ہے کہ اہل قبلہ سے مراد وہ شخص ہے جو اسلام کی ضروریات میں سے کسی ایک بھی انکار نہ کرتا ہو؛ اسی لئے انکا کہنا ہے کہ اہل سنت کے علماء کے نظرئے کے مطابق جو شخص ضروریات دین میں سے کسی ایک کا انکار کرے؛ جیسے کائنات کا قدیم ہونے یا حشر کا انکار کرے تو وہ اہل قبلہ شمار نہیں ہوگا اگرچہ ساری عمر عبادت میں مشغول رہا ہو۔[4]

شیعہ اور اہل سنت علما کے مطابق اہل قبلہ کی جان، مال اور عزت محترم ہے[5] اسی طرح کسی مسلمان کی تکفیر کرنا اور اسے کافر قرار دینا،[6] اور ان کے اسراء کو قتل کرنا جائز نہیں ہے[7] اور ان کی میتوں پر نماز جنازہ پڑھنا واجب ہے۔[8]
ملاعلی قاری کا کہنا ہے کہ ابوحنیفہ اور محمد بن ادریس شافعی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتے تھے۔[9] ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اہل سنت کے اکثر فقہاء اور مفتی اہلِ قبلہ کی تکفیر نہیں کرتے ہیں۔[10]

مزید  رجب

اس کے باوجود بعض اسلامی فرقے، دوسرے فرقوں کے ماننے والوں کی تکفیر اور ان کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں۔[11] وہابیت کے بانی محمد بن عبدالوہاب ہر اس شخص کے قتل کو واجب سمجھتا ہے جو انبیاءؐ، فرشتے اور اولیاء الہی کو اپنا شفیع اور اللہ کی تقرب کے لئے وسیلہ قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ وہ توحید ربوبیت کا اقرار کرچکے ہوں۔[12]

فقہ میں اہل قبلہ کی اصطلاح، میت کے احکام[13] اور جہاد کے احکام[14] میں بیان ہوئی ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ جنگ جمل سے پہلے اہل قبلہ سے جنگ کرنے کے احکام و نہیں جانتے تھے اور اس جنگ میں انہوں نے امام علیؑ سے سیکھا۔[15]

ناصبی، خوارج اور وہ مسلمان جو دین کی ضروریات کا انکار کرتے ہیں اگرچہ کعبہ کو اپنا قبلہ سمجھتے ہیں اس کے باوجود ان پر کفر[16] اور نجاست[17] کا حکم لگایا گیا ہے۔

حوالہ جات

  1. نراقی، رسائل و مسائل، ۱۴۲۲ق، ج۲، ص۳۳۵.
  2. دہخدا، لغت‌نامہ، ذیل واژہ.
  3. مغنیہ، تفسیرالکاشف، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۲۳۱.
  4. قاری، شرح کتاب الفقہ الاکبر، ۱۴۲۸ق، ص۲۵۸.
  5. رستمی، «ممنوعییت تکفیر اہل قبلہ از نگاہ فقیہان و متکلمان تشیع و تسنن»، ص۷۱.
  6. برای نمونہ نگاہ کنید بہ: قاری، شرح کتاب الفقہ الاکبر، ص۲۵۸؛ تفتازانی، شرح المقاصد، ۱۴۰۹ق، ج۵، ص۲۲۸.
  7. منتظری، دارسات فی ولایۃ الفقیہ و فقہ الدولۃ الاسلامیہ، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۲۹۶.
  8. طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۳۲۸.
  9. قاری، شرح کتاب الفقہ الاکبر، ۱۴۲۸ق، ص۲۵۷.
  10. قاری، شرح کتاب الفقہ الاکبر، ۱۴۲۸ق، ص۲۵۸.
  11. رستمی، «ممنوعییت تکفیر اہل قبلہ از نگاہ فقیہان و متکلمان تشیع و تسنن»، ص۷۱.
  12. محمد بن عبدالوہاب، کشف الشبہات، ۱۴۱۸ق، ص۷.
  13. طوسی، الاستبصار، ۱۳۹۰ق، ج۱، ص۴۶۸.
  14. مستدرک وسائل الشیعہ، ج۱۱، ص۵۵.
  15. جمعی از محققان، جہاد در آینہ روایات، ۱۴۲۸ق، ج۱، ص۱۸۸.
  16. نراقی، رسائل و مسائل، ۱۴۲۲ق، ج۲، ص۳۳۶.
  17. محقق کرکی، جامع المقاصد، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۱۶۴.

مآخذ

  • تفتازانی، سعدالدین، شرح المقاصد، تحقیق عبدالرحمن عمیرہ، قم، الشریف الرضی، ۱۴۰۹ھ۔
  • جمعی از محققان در پژوہشگاہ تحقیقات اسلامی، جہاد در آینہ روایات، قم، انتشارات زمزم ہدایت، ۱۴۲۸ھ۔
  • رستمی، عباسعلی، «ممنوعییت تکفیر اہل قبلہ از نگاہ فقیہان و متکلمان تشیع و تسنن»، پژوہش‌ہای اعتقادی کلامی، شمارہ ۳۰، تابستان ۱۳۹۷ش.
  • قاری، ملاعلی بن سلطان، شرح کتاب الفقہ الاکبر، علی محمد دندل، بیروت، دارالکتب العلمیہ منشورات محمدعلی بیضون، ۱۴۲۸ق/۲۰۰۷م.
  • طوسی، محمد بن حسن، الاستبصار فیما اختلف من الاخبار، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۹۰ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ھ۔
  • کرکی، علی بن حسین، جامع المقاصد فی شرح القواعد، قم، مؤسسہ آل البیت علیہم‌السلام، ۱۴۱۴ھ۔
  • محمد بن عبدالوہاب، کشف الشبہات، عربستان، وزارۃ الشؤون الاسلامیہ و الاوقاف و الدعوۃ و الارشاد المللکۃ العربیۃ السعودیۃ، ۱۴۱۸ھ۔
  • مغنیہ، محمدجواد، تفسیرالکاشف، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۴۲۴ھ۔
  • منتظری، حسینعلی، دارسات فی ولایۃ الفقیہ و فقہ الدولۃ الاسلامیہ، قم، نشر تفکر، ۱۴۰۹ھ۔
  • نراقی، احمد بن محمد، رسائل و مسائل، قم، کنگرہ نراقیین ملا مہدی و ملا احمد، ۱۴۲۲ھ۔
مزید  22 جولائی
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.