اقتصادنا (کتاب)

0 12
اقتصادنا
اقتصادنا.jpg
مؤلف: سید محمد باقر صدر
زبان: عربی
موضوع: اسلامی اقتصاد
ناشر: دار التعارف
محل نشر: بیروت

اِقْتصادُنا، سید محمد باقر صدر کی اسلامی اقتصاد کے بارے میں لکھی ہوئی کتاب ہے۔ اس کتاب کو لکھنے کا ہدف، اسلامی اقتصاد کے مبانی اور اس کا دوسرے اقتصادی بڑے مکاتب سے فرق کو بیان کرنا تھا۔ اس کتاب میں مارکسیزم اور سرمایہ داری نظام کو بیان کرنے کے بعد ان کو نقد کیا ہے اور پھر اسلامی اقتصادی نظام کو بیان کیا ہے۔ اسلامی اقتصاد میں شہید صدر کا سب سے اہم نظریہ، منطقۃ الفراغ، بھی اسی کتاب میں ذکر ہوا ہے۔ اس کتاب کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے اور اردو میں بھی اس کا ترجمہ موجود ہے۔

مصنف

سید محمد باقر صدر ۲۵ ذی‌القعدہ ۱۳۵۳ھ کو کاظمین میں پیدا ہوئے اور سنہ۱۴۰۰ھ کو اپنی بہن بنت الہدی صدر کے ہمراہ بعثی حکومت کے ہاتھوں اسیر ہوئے اور پھر شہید ہوئے۔[1]
آپ دینی مرجعیت کے علاوہ عراق کے شیعوں کے لئے ایک سیاسی مرجع بھی تھے اور آپ نے ہی حزب الدعوۃ الاسلامیۃ کی بنیاد رکھی۔[2]

سیدمحمدباقر صدر، علم اصول، فقہ، فلسفہ سیاست، اور معرفت‌ شناسی میں صاحب نظر تھے۔ حق الطاعہ،[3] منطقۃ الفراغ[4] اور توالد ذاتی معرفت[5] آپ کے مشہور نظریات میں سے ہیں۔ فلسفتنا، اقتصادنا، دروسٌ فی علم الاصول اور الاُسُسُ المنطقیہ للاستقراء آپ کی اہم کتابوں میں سے ہیں۔[6]

کتاب کا ہدف

شہید صدر نے کتاب کی پہلی ایڈیشن کے دیباچے میں اسے اسلامی اقتصادیات میں غور و فکر کی ایک ابتدائی کاوش قرار دیا ہے جس میں اسلامی اقتصادیات کو منظم طور پر بیان کیا ہے۔ آپ کے کہنے کے مطابق اس کتاب کو لکھنے کا ہدف یہ تھا کہ اسلامی اقتصادی کے بنیادی نظریات اور مبانی بیان کئے جائیں، اور دوسرے بڑے اقتصادی نظام کے ساتھ باہمی فرق کو بیان کریں اور اسلامی اقتصاد کو اسلام کے دوسرے اجزاء کے ساتھ بیان کریں۔[7]

مزید  سورہ لیل

کتاب کا علمی مقام

اقتصادنا لکھے ہوئے آدھی صدی گزرنے کے بعد بھی یہ کتاب اسلامی اقتصادیات میں اہم کتاب سمجھی جاتی ہے اور دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں اسلامی اقتصادیات میں اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اسلامی دنیا میں یہ کتاب صرف شیعوں سے خاص نہیں بلکہ بلکہ سنی ممالک جیسے مصر کی یونیورسٹیوں میں بھی پڑھایی جاتی ہے۔
[8]
ڈاکٹر محمد مبارک لکھتے ہیں: کہ اقتصادنا، میں اسلامی اقتصادی نظریے کو اسلامی احکام میں تحقیق کرتے ہوئے فقہی کی اصالت کو محفوظ رکھتے ہوئے علم اقتصاد کی اصطلاحات کے ساتھ بیان کیا ہے۔[9]

ڈھانچہ

اقتصادنا کے «کتاب» کے نام سے دو حصے ہیں:

پہلی کتاب کے تین باب ہیں:

  • پہلی فصل: مارکسیزم کی معرفی اور نقد؛
  • دوسری فصل: سرمایہ داری کی معرفی اور نقد
  • تیسری فصل: اسلامی اقتصاد کے اصلی اصول[10]

دوسری کتاب میں مندرجہ ذیل ابواب ہیں:

  • پہلی فصل: اقتصادی مکتب تک رسائی کے مراحل؛
  • دوسری فصل: پیداوار سے پہلے تقسیم کا نظریہ؛
  • تیسری فصل: پیداوار کے بعد تقسیم کا نظریہ؛
  • چوتھی فصل: پیدار کا نظریہ؛
  • پانچویں فصل: اسلامی اقتصاد میں حکومت کی ذمہ داری؛
  • چھٹی فصل: پیوست‌ہا[11]

اہم مطالب

سیدمحمدباقر صدر نے اقتصادنا میں اقتصادی مکتب اور علم اقتصاد کو ایک دوسرے سے جدا کرتے ہوئے کہا ہے کہ: علم اقتصاد معاشرے میں اقتصادی موارد کو کشف کرتا ہے اور ان کے عوامل اور آپس کے رابطے کو بیان کرتا ہے جبکہ اقتصادی مکتب لوگوں کی اقتصادی زندگی کو عادلانہ طریقے سے نظم دینے کو بیان کرتا ہے۔[12]

ان کے عقیدے کے مطابق، اسلام میں اقتصادی مکتب کا ذکر ہوا ہے لیکن علم اقتصاد کا تذکرہ نہیں ہوا ہے۔ لہذا اسلامی اقتصاد اقتصادی زندگی کو نظم دینے کا عادلانہ طریقہ بیان کرتا ہے اور علمی اکتشافات کے پیچھے نہیں ہے؛ مثال کے طور پر، اسلام، حجاز میں ربا کے عناصر اور علتوں کے پیچھے نہیں تھا؛ بلکہ اسے ممنوع کیا اور مضاربہ کے نام پر ایک اور سیسٹم کی بنیاد رکھا۔[13]

مزید  اجفر

منطقۃ الفراغ

منطقۃ الفراغ کا نظریہ ان نظریات میں سے ایک اہم نظریہ ہے جو اقتصادنا میں بیان ہوا ہے اور شہید صدر کی ایجادات میں سے ہے۔ اس نظریے کے تحت، اسلام، اسلامی حکومت کو اس وقت اجازہ دیتا ہے کہ وہ زمانے کی ضرورت کے پیش نظر قانون بنائے۔ شہید صدر نے اس طرح سے قانون بنانے کو منطقۃ الفراغ نام دیا ہے اور پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے آنے والے بعض احکام بھی اسی میں سے ہیں؛ پیغمبر ہونے کے ناطے نہیں تاکہ وہ اللہ کا حکم ہو۔[14]

اقتصادنا کا فارسی ترجمہ

کتاب کے مآخذ

شہید صدر نے یہ طے نہیں کیا تھا کہ اقتصادنا میں صرف اپنے فقہی نظریات بیان کرے؛ اسی لیے کتاب میں سب انہی کے نظریات نہیں۔ ان کے کہنے کے مطابق کتاب میں موجود نظریات کو تین مآخذ سے اخذ کیا ہے:

  1. فقہا کے نظریات:کتاب میں موجود اکثر فقہی احکام ایک یا چند فقہاء کے ہیں۔
  2. مصنف کے نظریات: وہ فقہی نظریات جیسے مصنف درست سمجھے۔
  3. وہ فقہی نظریات جن پر علمی حوالے سے غور و فکر کے بعد انہیں مان لیا ہے؛ اگرچہ ممکن ہے کہ مصنف بعض وجوہات کی بنا پر انہیں نہ مان لے۔[15]

اشاعت اور ترجمہ

اقتصادنا متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہے اور کئی بار چھپ چکی ہے جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:

  • اقتصادنا، طبع پژوہشگاہ علمی‌ تخصصصی شہید صدر، قم؛
  • اقتصادنا، طباعت دار الفکر بیروت؛
  • اردو میں بھی یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل، اقتصادنا کے نام سے چھپ چکی ہے اور حال ہی میں محمد علی فاونڈیشن اسلام آباد نے بھی چھپوایا ہے۔

حوالہ جات

  1. حسینی حائری، سید کاظم، زندگی و افکار شہید صدر، ص۳۵.
  2. فضل اللہ، «شہیدصدر در بستر اندیشہ وعمل»، ص۱۳و۱۴.
  3. اسلامی، «مکتب اصولی شہید آیت اللہ صدر»، ص۱۵۳؛ لاریجانی، «نظریہ حق الطاعہ»، ص۱۲.
  4. حسینی حائری، «اقتصاد اسلامی و روش کشف آن از دیدگاہ شہید صدر رحمہ اللہ»، ص۲۹.
  5. خسروپناہ، «منطق استقراء از دیدگاہ شہید صدر»، ص۲۹.
  6. صدر، مباحث الاصول، مقدمۂ حسینی حائری، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۶۷تا۶۹.
  7. صدر، اقتصادنا، ۱۴۲۴ق، ص۴۳، ۴۴.
  8. «تأملی بر اقتصاد اسلامی در اندیشہ شہید محمد باقر صدر؛ مرجع اقتصاد اسلامی در اندیشہ شہید محمد باقر صدر»، پگاہ حوزہ، ۱ اردیبہشت ۱۳۸۶، ش۲۰۵.
  9. صدر، اقتصاد ما، مقدمہ ناشر، ج۱، ۱۳۹۳ش، ص۱۰.
  10. مراجعہ کریں: صدر، اقتصادنا، ۱۴۲۴ق.
  11. مراجعہ کریں: صدر، اقتصادنا، ۱۴۲۴ق.
  12. حسینی حائری، «اقتصاد اسلامی و روش کشف آن از دیدگاہ شہید صدر رحمہ اللہ»، ص۲۲-۲۴.
  13. حسینی حائری، «اقتصاد اسلامی و روش کشف آن از دیدگاہ شہید صدر رحمہ اللہ»، ص۲۲و۲۳.
  14. شہید صدر، اقتصادنا، ۱۴۲۴ق، ص۴۴۳، ۴۴۴؛ شہید صدر، اقتصاد ما، ترجمہ سیدابوالقاسم ژرفا، ۱۳۹۳ش، ج۲، ص۴۱، ۴۲.
  15. صدر، اقتصاد ما، ج۲، ۱۳۹۳ش، ص۹، ۱۰.

مزید  آل ابی رافع

مآخذ

  • اسلامی، رضا، «مکتب اصولی شہید آیت اللہ صدر»، پژوہش و حوزہ، ش۲۷و۲۸، ۱۳۸۵ش.
  • «تأملی بر اقتصاد اسلامی در اندیشه شہید محمد باقر صدر: مرجع اقتصاد اسلامی در اندیشه شہید محمد باقر صدر»، پگاه حوزه، ۱ اردیبهشت ۱۳۸۶، ش۲۰۵.
  • حسینی حائری، سید کاظم، «اقتصاد اسلامی و روش کشف آن از دیدگاہ شہید صدر رحمہ اللہ»، ترجمہ احمد علی یوسفی، اقتصاد اسلامی، ش۱، ۱۳۸۰ش.
  • حسینی حائری، سید کاظم، زندگی و افکار شہید صدر، ترجمہ حسن طارمی، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، چاپ اول، ۱۳۷۵ش.
  • خسرو پناہ، عبد الحسین، «منطق استقراء از دیدگاہ شہید صدر»، ذہن، ش۱، ۱۳۸۳ش.
  • صدر، سید محمد باقر، اقتصادنا، مرکز الابحاث و الدراسات التخصصیہ للامام الشہید الصدر، قم، چاپ اول، ۱۴۲۴ق.
  • صدر، سید محمد باقر، اقتصاد ما، ج۲، ترجمہ سید ابو القاسم حسینی ژرفا، قم، پژوہشگاہ علمی‌ تخصصصی شہید صدر، ۱۳۹۳ش.
  • صدر، سید محمد باقر، اقتصاد ما، ج۱، ترجمہ سید محمد مہدی برہانی، قم، پژوہشگاہ علمی‌ تخصصصی شہید صدر، ۱۳۹۳ش
  • لاریجانی، صادق، «نظریہ حق الطاعہ»، پژوہش‌ہای اصولی، ش۱، ۱۳۸۱ش.
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.